دنیا
نائیجیریا کی ریاست سوکوتو میں کشتی الٹی، 40 سے زائد افراد لاپتہ

ابوجہ، نائیجیریا کی شمال مغربی ریاست سوکوتو میں کشتی الٹنے کے واقعے کے بعد 40 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق کم از کم 10 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (نیما) نے اپنی ریسکیو ٹیم کو اس حادثے کے بعد جاری امدادی کارروائیوں کے لئے تعینات کردیا ہے۔
نیما کے مطابق جس وقت یہ حادثہ پیش آیا کشتی میں 50 سے زائد مسافر موجود تھے جو گورونیو مارکیٹ جا رہے تھے۔ نیما کے سوکوتو آپریشنز آفس نے اس افسوسناک حادثے کے بعد فوری طور پر ریسکیو ٹیم تعینات کی۔نیما کی ڈائریکٹر جنرل زبیدہ عمر نے ایک بیان میں کہا کہ جیسے ہی اطلاع ملی کہ گورونیو مارکیٹ جانے والی کشتی الٹ گئی ہے، ایجنسی نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔ اب تک تقریباً 10 افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 40 سے زائد مسافر تاحال لاپتہ ہیں۔
مقامی حکام کا خیال ہے کہ یہ حادثہ زیادہ مسافروں کو سوار کرنے کی وجہ سے پیش آیا۔ سوکوتو میں عام طور پر اس طرح کے مسئلے پیش آتے رہتے ہیں ۔ یہاں اکثر کشتیاں گنجائش سے زیادہ بھردی جاتی ہیں۔ مارچ سے اکتوبر کے برساتی موسم کے دوران دریا اور جھیلیں لبریز ہو جاتی ہیں جوآبی آمدورفت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہیں۔
یہ سوکوتو ریاست میں پیش آنے والا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ اگست 2024 میں 16 کسان اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب وہ اپنی کشتی پر کھیتوں کی طرف جا رہے تھے اور کشتی الٹ گئی۔
حال ہی میں نائجر ریاست میں بھی ایک کشتی کے حادثے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے تھے، جبکہ دو دن بعد جیگاوا ریاست میں ایک اور حادثے میں چھ لڑکیاں ڈوب گئی تھیں۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
دنیا
وینزوئیلا میں ہلاکت خیز زلزلے کے بعد اموات کی تعداد 1700 ، ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ
کراکس، جنوبی امریکی ملک وینزوئیلا میں آنے والے ہولناک اور تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 1700 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 5 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
حکام کے مطابق زلزلے کے باعث 15 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور پچاس ہزار کے قریب افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید ہولناک اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زلزلے کی شدت اور تباہی کو دیکھتے ہوئے اموات کی مجموعی تعداد 10 ہزار سے لے کر 1 لاکھ کے درمیان تک جا سکتی ہے۔ اس ہلاکت خیز زلزلے سے اب تک 774 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو کر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور ملبہ ہٹانے کا کام چوبیس گھنٹے جاری ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے دوران ایک معجزہ بھی دیکھنے میں آیا جہاں زلزلے کے 106 گھنٹوں بعد ایک 21 سالہ نوجوان کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا۔ اس بڑی انسانی تباہی کے بعد بین الاقوامی برادری بھی متحرک ہو گئی ہے۔
یورپی یونین نے زلزلہ متاثرین کے لیے 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی ہنگامی امداد جاری کر دی ہے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ تباہی کا پیمانہ بہت بڑا ہے اور زلزلے سے متاثرہ تقریباً 18 لاکھ افراد کو اس وقت فوری انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کے دباؤ سے لبنان میں اسرائیلی فوجی حکمت عملی تبدیل ہوئی: یسرائیل کاٹز
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنانی محاذ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر ڈالے گئے دباؤ کے باعث اسرائیل کو اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی، جس سے حزب اللہ کو فائدہ پہنچا۔یسرائیل کاٹز نے عسکری امور کے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے لبنان اور ایران کے معاملات کو آپس میں جوڑا، جو امریکہ کے مفاد میں تھا، تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل کو اپنے فوجی منصوبوں میں تبدیلی کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کر رہی تھی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات اور لبنانی محاذ کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے بعد بیروت میں عمارتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روک دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اگر دونوں محاذوں کو ایک دوسرے سے نہ جوڑا جاتا تو حزب اللہ مکمل طور پر کمزور ہو جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد اسرائیل نے نئی حکمت عملی اختیار کی، جس کے تحت وسیع فوجی کارروائیوں کے بجائے جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
یسرائیل کاٹز کے مطابق امریکی مؤقف میں تبدیلی ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے بعد آئی، جس میں وہ خود شریک نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم پر دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں لبنان سے متعلق نئی پالیسی اختیار کی گئی۔
یسرائیل کاٹز نے مزید دعویٰ کیا کہ اس پالیسی کی وجہ سے جنوبی لبنان کے شہریوں کو اپنے علاقوں میں واپس آنے کی اجازت ملی، جبکہ حزب اللہ کو بھی خطے میں اپنی موجودگی اور تعیناتی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صرف ایران ہٹائے گا، فرانس کا مؤقف مسترد
تہران، ایران نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں فرانس کی شرکت سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ذمہ داری صرف ایران ادا کرے گا اور یہ اقدام امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہوگا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام صرف ایران انجام دے گا، جیسا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس اور پیچیدہ ہے، اس لیے فرانس کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی “اشتعال انگیزیوں” سے حالات کو مزید پیچیدہ نہ بنائے۔
ایرانی ردعمل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اور سلطنت عمان اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے تعاون کریں گے تاکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کی جا سکے اور عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
میکرون نے پیرس میں سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ دونوں ممالک نے شراکت داروں کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد آبنائے ہرمز میں نئے انتظامات زیر غور ہیں اور اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی اور جہاز رانی کے انتظامات کی ذمہ داری کس کے پاس ہوگی۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ایک ایرانی تکنیکی وفد رواں ہفتے قطر کا دورہ کرے گا، جہاں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں فریقوں کے درمیان تکنیکی رابطوں کا حصہ ہے اور اس کا امریکی حکام کے ممکنہ دورۂ دوحہ سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے مزید واضح کیا کہ ایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر مکمل عمل درآمد آئندہ مرحلے کی بات چیت سے پہلے ضروری ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
جموں و کشمیر6 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا7 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر4 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ




































































































