جموں و کشمیر
پہلگام میں26معصومین کی ہلاکت میں ملوث تینوںپاکستانی دہشت گردی ہلاک: امت شاہ کااعلان

سیکورٹی فورسزکی کامیابی140کروڑبھارتیوں کیلئے باعث فخر
ملناہارﺅ ن سری نگر جائے انکاﺅنٹر سے برآمد ’ وہی کارتوس ہیں جو پہلگام میں فائر ہوئے تھے‘: وزیر داخلہ
کہاسلیمان عرف فیصل اکتوبر 2024 میں گگن گیر گاندربل میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں بھی ملوث تھا
سری نگر:جے کے این ایس : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ سرینگر کے نواحی علاقے ہارون کے مضافاتی جنگلات میں پیر کے روز مارے گئے 3 دہشت گرد وہی ہیں جنہوں نے 22 اپریل کو پہلگام میں اندھا دھند فائرنگ کر کے26 معصوم شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔’آپریشن مہادیو کو سیکورٹی فورسزکی ایک بڑی کامیابی‘قرار دیتے ہوئے امت شاہ نے کہاکہ منگل کی صبح 4بجکر46منٹ پر انہیں فون پر 6ماہرین نے تصدیق کی کہ ’یہ وہی کارتوس ہیں جو پہلگام میں فائر ہوئے تھے۔‘جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ بیان لوک سبھا میں ’آپریشن سندور‘ پر جاری بحث کے دوران دیا، جہاں انہوں نے ’آپریشن مہادیو‘ کی تفصیلات شیئر کیں اور بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی شناخت کےلئے مخصوص تکنیکی عمل سے کام لیا تاکہ اس بات کی مکمل تصدیق ہو سکے کہ مارے گئے افراد وہی تھے جو پہلگام دہشت گرد حملے میں ملوث تھے۔انکاﺅنٹر کے دوران ہلاک کئے گئے دہشت گردوں کی شناخت ،امت شاہ کے مطابق سلیمان عرف فیصل، افغان، اور فیصل جٹ کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ تینوں دہشت گرد مبینہ طور پر پاکستان سے آئے تھے اور انہوں نے کشمیر میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ بن کر کئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مطابق سلیمان اکتوبر 2024 میں گگن گیر (ضلع گاندربل) میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں بھی ملوث تھا۔ لوک سبھا میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا’بائیسران وادی میں ہمارے شہریوں کو جن تین دہشت گردوں نے مارا تھا، وہ یہی تین تھے جو کل (ہاروَن سرینگر میں) مارے گئے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ آپریشن (آپریشن مہادیو) بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی تھی، اور انہوں نے اس کامیابی پر سبھی فورسز کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہاکہمعصوم شہریوں کو ان کے خاندانوں کے سامنے صرف مذہب پوچھ کر قتل کیا گیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ میں اس بربریت کی مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔امت شاہ نے بتایا کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے اگلے ہی دن 23 اپریل کو سرینگر میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پہلگام حملے میں ملوث دہشتگردوں کو کسی بھی صورت میں بھارت سے نکلنے نہ دیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ آپریشن مہادیو 22 مئی 2025 سے شروع ہوا، لیکن ایک لحاظ سے یہ اسی دن شروع ہو گیا تھا جب حملہ ہوا تھا۔ حملہ دن ایک بجے ہوا اور میں شام ساڑھے 5 بجے سرینگر پہنچ گیا تھا۔آپریشن مہادیو کیسے شروع ہوا۔امت شاہ نے بتایا کہ 22 مئی کو انٹیلی جنس بیورو کو اطلاع ملی تھی کہ دہشت گرد داچھی گام میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لیے انٹیلی جنس اور فوج نے سگنل پکڑنے والے اعلیٰ قسم آلات کے ذریعے مسلسل دو ماہ تک یعنی 22 مئی سے 22 جولائی تک کوششیں جاری رکھیں۔انہوں نے کہاکہہمارے اہلکار سرد پہاڑی علاقوں میں پیدل گشت کر رہے تھے سگنل پکڑنے کی کوشش کرتے رہے۔22 جولائی کو پختہ اطلاع ملی، جس کے بعد فوج کی 4 پیرا یونٹ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیر لیا۔ آپریشن کی تفصیل دیتے ہوئے امت شاہ نے کہاکہ آپریشن مہایو کے دوران وہاں افرادی قوت بھیجی گئی اور ا ±ن ہی 3 دہشت گردوں کو مارا گیا جنہوں نے پہلگام میں ہمارے معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا۔سری نگرکے مضافاتی جنگلاتی علاقے ملنارلدواس ہارون میں پیر کے روز ہلاک کئے گئے دہشت گردوںکے بارے میں امت شاہ نے بتایا کہ ان دہشت گردوں کو کھانا فراہم کرنے والے افراد پہلے ہی این آئی اے کی حراست میں تھے، اور لاشوں کی شناخت بھی ان ہی افراد نے کی۔ تاہم حکومت نے جلدبازی نہیں کی اور مزید تصدیق کا عمل جاری رکھا۔انہوں نے بتایا کہ پہلگام میں برآمد ہونے والے کارتوسوں کی فارنسک رپورٹ پہلے ہی چندی گڑھ کی لیبارٹری میں تیار کی گئی تھی۔پیرکو مارے گئے دہشت گردوں سے3 رائفلیں برآمد ہوئیں، جن میں ایک امریکی M9 رائفل اور2 اے کے 47 شامل تھیں۔ یہ ہتھیار خصوصی پرواز کے ذریعے راتوں رات چندی گڑھ ایف ایس ایل پہنچائے گئے، جہاں ان سے گولیاں فائر کی گئیں اور کارتوسوں کا موازنہ کیا گیا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ منگل کی صبح 4بجکر46منٹ پر انہیں فون پر چھ ماہرین نے تصدیق کی کہ ’یہ وہی کارتوس ہیں جو پہلگام میں فائر ہوئے تھے۔‘’آپریشن مہادیو کو سیکورٹی فورسزکی ایک بڑی کامیابی‘قرار دیتے ہوئے امت شاہ نے کہاکہ140 کروڑ بھارتی شہریوں کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔امیت شاہ نے بتایا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد انہوں نے متاثرہ کنبوں سے ملاقات کی تھی، اور ایک خاتون کو دیکھا تھا جو شادی کے صرف 6 دن بعد بیوہ ہو چکی تھی۔ امیت شاہ کے مطابق میں وہ منظر کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں آج تمام خاندانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ مودی جی نے دہشت گرد بھیجنے والوں کو بھی ختم کیا اور ہماری فورسز نے قاتلوں کو بھی انجام تک پہنچایا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
جموں و کشمیر
کانگریس کا بڑا اعلان: 5 جولائی سے جموں و کشمیر میں عوامی مہم کا آغاز
جموں، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والی 5 جولائی سے پورے مرکز زیرِ انتظام علاقے میں ایک وسیع عوامی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ مہم طلبا، نوجوانوں، کسانوں اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے ملک بھر میں چلائے جانے والے احتجاجی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ فیصلہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی سکریٹری دیویا مدیرنا اور جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا کی صدارت میں منعقدہ شہری اور دیہی کانگریس کمیٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں لیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں ضلع کانگریس کمیٹی (دیہی جموں) کے صدر نیرج کندن، پی سی سی ہیڈکوارٹر انچارج وید مہاجن سمیت بلاک صدور اور سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔
اس عوامی مہم کی سب سے اہم خصوصیت ‘طلبا کی گونج’ پروگرام ہے، جو نوجوانوں اور طلبا کے مسائل کو اٹھانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر کوششوں کا حصہ ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ کانگریس کی سکریٹری دیویا مدیرنا نے کہا”کانگریس ان لاکھوں طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جن کا مستقبل امتحانی تنازعات کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے۔ نیٹ پیپر لیک ملک کے نوجوانوں کی امیدوں کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ ہے اور ہماری یہ مہم بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرے گی۔”
اس موقع پر جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا نے جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کو دہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ (دوہری حکمرانی) نے جوابدہی کو ختم کر دیا ہے اور عوامی فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اس وقت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، کسانوں کی بدحالی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہیں، اور 5 جولائی کی مہم حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر نیرج کندن نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے نوجوان نسل کا بھروسہ توڑا ہے اور کانگریس انصاف کے حصول تک پرامن اور جمہوری طریقے سے آواز اٹھاتی رہے گی۔ پارٹی قیادت نے تمام سطحوں کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ زمینی سطح پر عوام کو متحرک کریں اور 5 جولائی کے احتجاجی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں ایس او جی اور این ایس جی کی مشترکہ ‘موک ڈرل’
جموں، امرناتھ کی سالانہ یاترا کے لیے کیے گئے وسیع حفاظتی انتظامات کے تحت، جموں کے ‘اسپیشل آپریشنز گروپ’ نے ‘نیشنل سیکیورٹی گارڈز’ کے ساتھ مل کر یہاں کے تاریخی رگھوناتھ مندر میں دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ ‘موک ڈرل’ (مستعدی کی مشق) کا انعقاد کیا۔ امرناتھ جی کی سالانہ یاترا تین جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، جہاں عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواس سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جائے گا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس مشترکہ موک ڈرل کے دوران ایک انتہائی حساس اور فرضی دہشت گردانہ حملے کا منظرنامہ تیار کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق، اس مشق کا اہم مقصد ‘اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز’ کی جانچ کرنا اور کسی بھی ناگہانی سیکیورٹی ایمرجنسی کی صورت میں ایجنسیوں کے درمیان فوری اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔یہ ڈرل ان مشترکہ حفاظتی تیاریوں کا حصہ ہے جو جموں بھر کے تمام اہم سرکاری اداروں، تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔ اس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ خطرات کے خلاف حفاظتی نظام کو مزید فول پروف بنانا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف







































































































