تازہ ترین
ڈلگیٹ سرینگر میں گوشت اور مرغ فروشوں کا بائیکاٹ

گراں فروشی کے خلاف عوامی مہم
علاقے میں دکانیں بند،سرکاری نرخنامے کے تحت ہی قیمتیں ادا کریں گے: سیول سوسائٹی
سرینگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں گراں فروشی کے خلاف عوامی سطح پر ایک مہم شروع ہو ئی ہے،جس کے تحت گوشت اور مرغ فروشوں کے خلاف بائیکاٹ کا آغاز ہوا۔
ڈلگیٹ سرینگر نے اس حوالے سے ایک مثال قائم کی ہے،جہاں کی سیول سوسائٹی نے اس عزم کا اعا دہ کیا ہے کہ وہ سر کاری نرخنامے کے تحت ہی گوشت اور مرغ کی قیمتیں ادا کریں گے،جسکی وجہ سے علاقے میں گوشت اور مر غ فروشوں کی دکانوں پر تالے ہیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق گوشت اور مرغ کی بے لگام قیمتوں اور ازخود قیمتوں میں اضافے کے خلاف سرینگر میں شہریوں نے ایک بیداری مہم شروع کی ہے۔اس مہم کا آغاز ڈلگیٹ سرینگر سے ہوا ہے،جہاں کی ’سینٹرل کارڈنیشن کمیٹی‘ نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ گوشت اور مرغ کی قیمتیں سر کاری نرخنامے کے مطابق ہی ادا کریں گے۔
علاقہ مکین کے ذی حس طبقے نے یہ کمیٹی تشکیل دی ہے،جس کا واحد مقصد گراں فروشی کا قلع قمع اور سماجی برائیوں کا خاتمہ ہے۔مذکورہ کمیٹی کے صدر شوکت احمد اور جنرل سیکریٹری مزمل مقبول نے بتایا ’کچھ دن پہلے ایک سینٹرل کارڈنیشن کمیٹی ڈلگیٹ کی تشکیل ہوئی ہے اور اِس کمیٹی کا اولین مقصد ہمارے علاقہ ڈلگیٹ اور علاقہ کی عوام کی بہبودی اور اُن کے مسائل کا ترجیحی بُنیاد پر حل یقینی بنانا ہے‘۔
ان کا کہناتھا ’اس وقت جہا ں ایک طرف جس مہلک بیماری(کورونا وائرس) نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اورپوری دُنیا کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ غریب جو کچھ دن میں کماتا ہے،اس پر گزارا کرتا تھا، لیکن وہ آج کل فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ہے، مشکل سے لوگوں کا گزارہ ہو پا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ہماری وادی میں بشمول ہمارے علاقہ کے کچھ خودغر ض دکاندار صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں‘ان کا کہناتھا ’ہونا تو چاہیے تھا کہ آج کے اس مشکل وقت میں ہم ایک دوسرے کے کام آتے اور ایک دوسرے کا سہارا بنتے،جہاں تک مقامی انتظامیہ کا تعلق ہے اُنھوں نے بھی کھانے کی خوردنی کے لئے ایک مقررہ ریٹ لسٹ تیارکی تھی لیکن اس کے باوجود یہاں کے دُکاندار صارفین کو اپنے من چاہا داموں پر سامان بھیجتے رہتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا ’ماہِ صیام کے مقدس مہینے اور عیدالفطر کے مُتبرک موقعے پر کچھ گراں فروش دُکانداروں جیسے دودھ والے، مُرغ فروش، سبزی فروش، قصاب وغیرہ نے بازار میں لوٹ کھسوٹ مچادی‘۔ان کا کہناتھا کہ ان عوام دشمن عناصرکو ہم نے پہلے بھی کئی بار آگاہ کیا تھا، مگر یہ لوگ پھر بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آتے، چیزوں کے دام آسمان تک بڑھانے میں کوئی کثر اور کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے‘۔
مذکورہ کمیٹی کے صدر شوکت احمد اور جنرل سیکریٹری مزمل مقبول نے مزید بتایا کہ ایسے عناصر سماج کے مجرم کہلائے جاتے ہیں جو مُصیبت کے ان ایام میں بھی امیر غریب کا امتیاز بالائے تاق رکھ کر اپنی من مانی سے اونچے دام بڑھاکر عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کردیتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’اس ضمن میں سینٹرل کارڈنیشن کمیٹی اور علاقہ ڈلگیٹ کی تمام مساجد کے ذی عزت ممبران و عہدیداران نے متفق ہوکربا اتفاق رائے یہ فیصلہ لیا کہ علاقہ ڈلگیٹ بے راہ روی، نشیلی ادویات، گراں فروشی اور کئی دیگر سماجی برائیوں کو ختم کرنے کیلئے ہر ممکنہ کوشش کرے گی اور ایسے عناصر کے خلاف ایک زوردار مہم کی شروعات ہوگی ہے‘۔
ان کا کہناتھا کہ اس مہم میں کمیٹی ضلع انتظامیہ اور علاقہ کی پولیس کو بھی ساتھ لے کر چل رہی ہے جبکہ وادی کشمیر کے دوسرے علاقوں میں اِن کے خلاف عوام نے مہم شروع کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اِس ضمن میں کمیٹی نے کچھ دن پہلے سرفہرست علاقہ ڈلگیٹ کے قصابوں کو سرکارکی طے شُدہ ریٹ لِسٹ کے مُطابق گوشت فروخت کرنے پرآمادہ کرنے کی کوشش کی، مگر یہ قصاب پھر بھی اپنی ضِد چھوڑنے پر تیار نہیں، کمیٹی نے یہ فیصلہ طے پایا کہ جب تک کہ یہ قصاب کمیٹی کے فیصلے پر اپنی مہر نہ لگا دیں، تب تک یہ قصاب اپنی دُکانیں بند رکھیں گے، یاپھر گوشت کے علاوہ کوئی اور اشیاء فروخت کرسکتے ہی، تاہم اِن خودغرض عناصر نے دُکانیں بند رکھنے کو ترجیح دے کر اپنی من مانی کو ترک کرنے سے انکار کر دیا‘۔
ان کا کہناتھا کہ اسطرح ثابت کرنا چاہتے ہے کہ انہیں عوام کو پریشان کرنے میں کوئی حرج نہیں، علاقہ مکین نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے وہ اب پوری طرح سے ایسے قصابوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں گے۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل کارڈنیشن کمیٹی ڈلگیٹ علاقہ کی مساجد اور محلہ ء کمیٹی سے التماس کرتی ہے کہ وہ جمعہ کی نماز کے خُطبے میں علاقہ ڈلگیٹ کی عوام سے فی الحال گوشت کابائیکاٹ کرنے کی اپیل کریں،جب تک یہ قصاب گوشت کو سرکار کی طے شُدہ قیمت 440 روپے فی کلو پرفروخت نہ کریں اور کمیٹی آپ سب کو یقین دلاتی ہے کہ کمیٹی بہت جلد ان قصاب کو مقررہ قیمت پر گوشت فروخت کرنے کے لئے راضی کرے گی۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی






































































































