دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ: امریکہ کے موجودہ صدر نے اگر صدارتی انتخاب کے نتائج تسلیم کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟

اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب 2020 میں جو بائیڈن کی فتح کے خلاف قانونی جنگ ’صرف شروعات ہے۔‘ وائٹ ہاؤس میں پریس سیکریٹری کے مطابق ’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔ یہ ختم نہیں ہوا۔‘ انھوں نے بغیر شواہد کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تاحال منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں مل سکے اور یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ نتائج پر اثر ڈالا گیا۔ رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ نے صدارتی دوڑ میں ہار تسلیم نہیں کی۔
کیا امریکہ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟
امریکہ کی 244 سالہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک صدر نے الیکشن ہارنے کے بعد وائٹ ہاؤس نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔ امریکہ کی جمہوریت اسی اصول پر قائم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں اقتدار ایک فرد سے دوسرے فرد تک قانون کے تحت اور پُرامن انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کیوں ہوئی؟ صدر ٹرمپ کے ساتھ گزرا وہ دن جب وہ انتخاب ہارے
جو بائیڈن: وہ سیاستدان جنھیں قسمت کبھی عام سا نہیں رہنے دیتی امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیرس کون ہیں؟ اسی وجہ سے صدر ٹرمپ کے اعلان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مبصرین اب ایسے حالات پیدا ہونے سے متعلق اپنی رائے دے رہے ہیں جس کا گمان پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
’الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور‘
7 نومبر کو جب بڑے امریکی ذرائع ابلاغ نے جو بائیڈن کی متوقع فتح کی خبریں دیں تو اس وقت ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی کے قریب گالف کھیلتے نظر آئے۔
ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے بیان جاری کیا کہ یہ الیکشن ابھی اختتام سے بہت دور ہے۔
جب بائیڈن کی متوقع فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بائیڈن جھوٹ بول کر خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں ان کے دوست ان کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ سچ سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتے۔‘
اس میں کہا گیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘ انھوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے نتائج کی مخالفت کریں گے اور مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کے عمل میں بدعنوانی کا دعویٰ دائر کریں گے۔
امریکی آئین کے مطابق یہ واضح ہے کہ موجودہ صدارتی دور 20 جنوری کی شام کو اختتام پذیر ہوجائے گا۔
جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق 270 سے زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ جیت لیے ہیں۔ تو اگلے چار برسوں تک انھیں صدر رہنے کا حق ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس قانونی حق اور وسائل ہیں کہ وہ ووٹنگ کے نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں انھیں عدالتوں میں شواہد کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ’الیکشن میں فراڈ ہوا‘ ہے لیکن اب تک انھوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ دعویٰ کیا ہے۔
اگر وہ 20 جنوری تک ایسا نہ کرسکے تو نئے صدر کا اعلان ہوجائے گا اور ٹرمپ کو دفتر چھوڑنا ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے اعتراضات کی بنیاد پر ’شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘
انھوں نے بارہا کہا تھا کہ الیکشن حکام جو مرضی کہیں وہ صدر کے منصب پر قائم رہیں گے۔ انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں اگر الیکشن ’چوری کیا گیا ہو۔‘
تو اس سب کے پیش نظر ملک میں اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایسے حالات میں کیا ہوگا اگر ٹرمپ صدر برقرار رہنے کا خود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں۔
اس ممکنہ صورتحال کے مفروضے پر جو بائیڈن سے بھی پوچھا گیا تھا۔
11 جون کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کامیڈین ٹریور نواح نے بائیڈن سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ہاں میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔
’مجھے یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں فوج انھیں دفتر میں رہنے سے روکے گی اور آسانی سے انھیں وائٹ ہاؤس نے نکال دے گی۔‘
بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ووٹرز نے کرنا ہے، نہ کہ امیدواروں نے کہ انتخاب کے نتائج کیا ہوں گے۔ انھوں نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی عوام اس انتخاب کے نتائج طے کرے گی۔ امریکہ کی حکومت اس قابل ہے کہ وائٹ ہاؤس میں موجود کسی گھس بیٹھیے کو باہر نکال سکے۔‘
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کام امریکی مارشلز یا سیکرٹ سروس کے پاس جائے کہ وہ ٹرمپ کو صدارتی رہائش گاہ سے باہر لے آئیں۔
سیکرٹ سروس ایک سویلین ادارہ ہے جو صدر کو سکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت اسے تمام سابق صدور کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور وہ 20 جنوری کے بعد بھی ٹرمپ کو سکیورٹی فراہم کریں گے۔
اگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جانے سے انکار کیا تو یہ کام سیکرٹ سروس کو دیا جاسکتا ہے
جب سے بائیڈن نو منتخب صدر بنے ہیں، سیکرٹ سروس نے ان کی سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے۔ حکام کے مطابق اب ان کی سکیورٹی کسی صدر جتنی ہی ہے، اس بات سے قطعہ نظر کے ٹرمپ نے زور دیا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار الیکشن ہار چکے ہیں۔
ایسے حالات جن کے بارے میں کبھی سوچا نہ گیا ہو
سب سے پیچیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوسکتی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے انکار کردیتے ہیں اور یہ رویہ جاری رکھتے ہیں۔
بی بی سی نے ماہرین سے دریافت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ٹرمپ نے اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے ریاستی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا تو پھر کیا ہوگا۔
پروفیسر ڈکوٹا روڈسل امریکہ میں قومی سلامتی کی پالیسی اور قانون سازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اقتدار میں رہنے کے لیے اگر ایک صدر بظاہر شکست کے بعد بھی اپنی طاقتوں کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس سے اہم (جمہوری) روایات تباہ ہوجائیں گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ایسا ہونا ’ناقابل فہم نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اس سے ملک، سول ملٹری تعلقات کے اہم اصولوں اور عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی رائے میں ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ صدارت سے جڑے رہیں گے اور انھیں سکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہوگی۔
’فوجی اہلکار آئین سے وفاداری کا حلف لیتے ہیں، نہ کہ کسی سیاستدان سے وفاداری کا جو اُس وقت اقتدار میں ہو۔ ملک میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز فوجی اہلکار، جوائنٹ چیفس آف سٹاف چیئرمین جنرل مارک ملی نے بارہا کہا ہے کہ امریکی انتخاب میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔‘
پروفیسر روڈسل واحد فرد نہیں جو ان مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کیشا بلین، جو یونیورسٹی آف پٹسبرگ کی پروفیسر اور سماجی جدوجہد کی خاطر ہونے والے مظاہروں پر نظر رکھتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’صرف یہ بات کہ ہم اس چیز پر غور کر رہے ہیں کہ آیا فوج انتخاب میں مداخلت کرے گی، اس سے ملک کی افسوسناک صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘
’چار سال قبل اکثر امریکی اس بات پر غور نہیں کر رہے تھے۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ٹرمپ نے کیسے پورٹ لینڈ اور واشنگٹن میں مظاہروں کے دوران وفاقی اہلکاروں کو تعینات کیا۔ یہ ایک سنجیدہ مقاملہ ہے۔
’مجھے نہیں لگتا کہ یہ صورتحال ہوگی لیکن رواں سال جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے تناظر میں ہم اس کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے۔‘
نسلی تعصب کے خلاف مظاہروں کے دوران ٹرمپ نے مظاہرین کو روکنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر غور کیا تھا۔
جون 5 کو نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ جنرل ملی نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ وہ 1807 میں بغاوت روکنے کے لیے بننے والے ایکٹ کا استعمال نہ کریں جس سے پورے ملک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ’یہ وہ حد ہے جو کئی امریکی فوجی عبور کرنا نہیں چاہتے، اگر صدر اس کا حکم دے تب بھی نہیں۔‘
آخر میں ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے دستوں کو استعمال کرنے کا حکم دیا۔ صدر یا ریاست کے گورنر ان دستوں کو حالات کے تناظر میں استعمال کر سکتے ہیں۔
مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔’
یاد رہے کہ مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گرجا گھر کو جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد بدامنی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔
لیکن بعد میں مارک ملی نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ‘یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔۔۔ مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے یہ ایسی غلطی ہے جس سے میں نے سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔’
واشنگٹن اور پورٹ لینڈ سمیت دیگر امریکی شہروں میں مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر فوجی سکیورٹی فورسز کو استعمال کیا گیا تھا جو محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کو جوابدہ ہوتی ہیں۔
کچھ لوگوں نے الیکشن سے قبل یہ قیاس آرائی کی تھی کہ ٹرمپ ان اہلکاروں کو ممکنہ طور پر اپنی مرضی سے تعینات کر سکتے ہیں۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ فوج صدر کا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے ان کا ساتھ نہیں دے گی، تو یہ تصور کرنا مشکل ہوگا کہ ٹرمپ اقتدار میں رہنے کے لیے کون سی کامیاب چال چل سکتے ہیں۔
کیا پُر تشدد واقعات پیش آسکتے ہیں؟
پروفیسر روڈسل موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
سیاسی امور کے اس ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’میں نے اس بارے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ ایک صدارتی حکمنامہ استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے حامیوں کے زیر اثر محکمۂ قانون ایک حکم جاری کر سکتا ہے۔ اس سے عندیہ ملے گا کہ انتظامیہ ٹرمپ کو اس متنازع انتخاب کا فاتح سمجھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ ’بالکل غلط اور ناقابل منظور ہوگا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’20 جنوری کی شام کے بعد بھی اگر فوج کو حکم دیا جاتا ہے کہ صدر کو سیلوٹ کریں تو اس سے فوج ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہوجائے گی۔‘
ماہرین کے مطابق صدر کے اعلان نے شہروں میں پُرتشدد واقعات کے امکان بڑھا دیے ہیں
پروفیسر روڈسِل نے کہا کہ ’ملک کے نصف شہری اور دنیا بھر میں کئی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ غیر سیاسی امریکی فوج کسی ایک فریق کے حق میں جانبدار ہوگئی ہے۔ فوج کو کبھی بھی ایسا حکم نہیں ملنا چاہیے۔‘
سیاسی جماعتوں کے آپسی تنازعات کی وجہ سے مسلح افواج کی خود مختاری بھی خطرے میں محسوس ہو رہی ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے کئی علاقوں میں پُرتشدد واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
کیشا بلین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسی صورتحال جس میں صدارتی امیدوار نتائج میں اپنی ہار تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو ملک میں شدید انتشار پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
ان کے مطابق صدر کے بیانیے نے مظاہروں اور پُرتشدد واقعات کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔
گذشتہ مہینوں کے دوران امریکی شہروں میں کئی پُرتشدد واقعات سامنے آئے۔ مسلح مظاہرین نے صدر کے حق میں اظہار خیال کیا جبکہ نسلی تعصب کی مخالفت میں بھی احتجاج دیکھے گئے۔ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں تشدد کی فضا پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
دنیا
یو اے ای سمیت خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں، پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ
تہران، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایران کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور حالیہ ایرانی تجویز پر ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے اپنے اپنے کمنٹس دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے بنیادی مطالبات میں بیرونی ممالک میں منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری اور ملک پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتا ہے، اور اب امریکہ بھی یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ وہ کھلی دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے جائز حقوق کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایران کی تمام تر توجہ جنگ کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید انکشاف کیا کہ ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے ہی عمان میں ایک اہم ملاقات کی ہے، جس کے دوران دونوں ٹیموں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میکنزم کو فعال بنانے کے لیے تہران اس وقت عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
یو اے ای اسرائیلی سازشوں سے دور رہے، بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی تعلقات پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران خطے میں ہونی والی تمام اسرائیلی سرگرمیوں کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ تہران، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین قائم ہونے والے تعلقات اور ہر قسم کے روابط سے پوری طرح باخبر ہے۔
انہوں نے ابوظبی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امارات کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں میں الجھنے سے باز رہنا چاہیے، اور یہ حقیقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ایران کے صبر کی ایک حد ہے۔ تاہم، ایرانی عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام تر شدید تحفظات کے باوجود تہران نے ابوظبی کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور دوستی کے دروازے مستقل طور پر بند نہیں کیے۔
دوسری جانب، محسن رضائی نے امریکہ کو کڑے لہجے میں متبادل پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرے، ورنہ بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو براہِ راست ایک جنگی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس جارحیت کا مقابلہ کرنا تہران کا قانونی اور دفاعی حق ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ ایران کی یہ بحری ناکہ بندی جتنی زیادہ طول پکڑے گی، اس کا خمیازہ اور نقصان دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اتنا ہی زیادہ اٹھانا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ اس وقت ایک طرف جہاں ہماری مسلح افواج کی انگلی ٹریگر پر ہے، تو دوسری طرف اسی کے ساتھ سفارت کاری کا عمل بھی متوازی طور پر جاری ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
نیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ مؤقف اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں حماس کے عسکری ونگ، عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف عز الدین الحداد کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حکومت کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں اور یرغمالیوں کے اغوا کے پیچھے موجود ہر ماسٹر مائنڈ کو چن چن کر ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اسرائیلی افواج موجودہ وقت میں غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے آپریشنز کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں اسرائیلی فوج کی ایک نئی نام نہاد “اورنج لائن” کی جانب پیش قدمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس اب ان کی گرفت میں ہے اور ان کا اصل ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ مستقبل میں کبھی اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، جس میں فرانس پریس ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے، نیتن یاہو نے اس کے ذمہ داروں کے تعاقب کا عزم کیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر ایک شدید اور ہولناک جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں پٹی کے صحت کے حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک تقریباً 72,763 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اس سے باہر حماس کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں حماس کے متعدد قائدین کا تعاقب کر کے انہیں جاں بحق کیا، جن میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار تھے (جنہوں نے محمد الضیف کے بعد القسام بریگیڈز کی کمان سنبھالی تھی)۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران کے دورے کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی ثالثی کے تحت طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جو گزشتہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں نام نہاد “ییلو لائن” تک پیچھے ہٹ جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے بھی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم، امریکی سرپرستی میں ہونے والے اس معاہدے کے باوجود غزہ میں پُرتشدد کارروائیاں تھم نہیں سکیں اور پٹی کے صحت کے حکام کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 871 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی اپنے 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
جموں و کشمیر7 days agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر






































































































