ہندوستان
بہرائچ میں سڑک حادثہ، چار افراد ہلاک
بہرائچ، اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کے مٹیرا علاقے میں کمبائن مشین کی ٹکر سے کار سوار چار افراد ہلاک جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔
پولیس ذرائع نے پیر کو بتایا کہ نانپارا-بہرائچ روڈ پر اتوار دیر رات یہ حادثہ ڈیہوا پیٹرول پمپ کے سامنے پیش آیا۔ نانپارا سے بہرائچ کی جانب جا رہی ٹاٹا پنچ کار میں چھ افراد سوار تھے۔ اسی دوران مٹیرا کی طرف سے بہرائچ جا رہی ایک نامعلوم کمبائن مشین نے کار کو زور دار ٹکر مار دی۔
ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار کے پرخچے اڑ گئے اور اس میں سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی تھانہ مٹیرا اور تھانہ نانپارا کی پولیس موقع پر پہنچی اور مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو باہر نکال کر ضلع اسپتال بہرائچ پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد چار افراد کو مردہ قرار دے دیا جبکہ دو کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔
مہلوکین کی شناخت انل کمار (40) ولد سریش ساکن مکیریا تھانہ رام گاؤں بہرائچ، الطاف احمد (38) ولد عبدالقادر ساکن حمزاپورا تھانہ درگاہ شریف بہرائچ، انل کمار (42) ولد شیام نارائن ساکن میٹوکہا تھانہ رام گاؤں بہرائچ، اور مہندر پال (45) ولد رادھے شیام ساکن فتح پوروا محمدپور تھانہ رام گاؤں بہرائچ کے طور پر ہوئی ہے۔ جبکہ زخمیوں میں شیوم سریواستو (30) ولد وید پرکاش ساکن چترشالہ روڈ تھانہ کوتوالی نگر بہرائچ اور اشونی کمار (30) ولد رام کمل ساکن برہمنی پورہ تھانہ کوتوالی نگر بہرائچ شامل ہیں۔ دونوں کا ضلع اسپتال میں علاج جاری ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ بہرائچ وشوجیت سریواستو موقع پر پہنچے اور جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نانپارا کی طرف سے ایک ٹاٹا پنچ گاڑی آ رہی تھی، جس میں چھ لوگ سوار تھے۔ نانپارا کے قریب مٹیرا کی طرف سے بہرائچ جا رہی ایک نامعلوم کمبائن مشین نے کار کو زور دار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں چار افراد کی موت ہوگئی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
نئی دہلی، ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کے سلسلے میں فیصلہ سنانے والی نام نہاد ثالثی عدالت (کورٹ آف آربیٹریشن) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
ہندوستان نے اس سلسلے میں اپنے پہلے کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اس نام نہاد عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے، اس لیے اس کی طرف سے سنائے گئے فیصلے غیر قانونی ہیں۔ ہندوستان نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا اس کا فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس نام نہاد عدالت کے فیصلے سے متعلق میڈیا کے سوالات کے جواب میں ہفتہ کو کہا کہ غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی نام نہاد کورٹ آف آربیٹریشن نے 15 مئی کو ایک “فیصلہ” دیا ہے، جسے اس نے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح کے مسائل پر پہلے جاری کیے گئے فیصلے کے ضمیمے کے طور پر “زیادہ سے زیادہ آبی ذخائر” (میکسیمم ریزروائر) سے متعلق بتایا ہے۔
انہوں نے کہا، “ہندوستان اس نام نہاد فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے اس نے غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی ثالثی عدالت کے تمام سابقہ اعلانات کو مضبوطی سے مسترد کیا ہے۔ ہندوستان نے کبھی بھی اس نام نہاد عدالت کے قیام کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کے ذریعہ جاری کی گئی کوئی بھی کارروائی یا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ ہندوستان کا سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ اب بھی نافذ ہے۔” ہندوستان نے گزشتہ سال مئی میں پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس معاہدے کو ‘معطل’ کر دیا تھا۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو مکمل اور معتبر طریقے سے ختم نہیں کر دیتا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
فوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
نئی دہلی، فوجی سربراہ جنرل اوپیندر دیویدی نے پاکستان کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے طے کرنا ہوگا کہ وہ عالمی نقشہ پر اپنی پہچان برقرار رکھنا چاہتا ہے یا دہشت گردوں کوپناہ دینے اور ہندوستان کے خلاف عداوت پرمبنی حرکتیں جاری رکھ کر خود کو تاریخ سے مٹانے کا خطرہ مول لینا چاہتا ہے۔
ہفتہ کو یہاں مانک شا سینٹر میں منعقدہ ایک مکالماتی سیشن میں یہ پوچھے جانے پر کہ اگر آپریشن سندور جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے تو ہندوستانی فوج کیسا جواب دے گی، تو جنرل دیویدی نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا، “اگر آپ نے پہلے میری باتیں سنی ہیں، تو میں نے کہا ہے کہ پاکستان اگر دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور ہندوستان کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں، تو اسے طے کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیائی نقشے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔”
آرمی چیف کے اس تبصرے کو ہندوستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے ایک سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کا صبر محدود ہے اور مستقبل میں کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
جنرل دیویدی نے گزشتہ سال نومبر میں ‘چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، “آپریشن سندور محض ایک ٹریلر تھا، جو 88 گھنٹے میں ختم ہوا۔ ہم مستقبل میں کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ اگر پاکستان موقع دے گا، تو ہم اسے یہ سکھائیں گے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ داری سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔”
آپریشن سندور کے وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) رہے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے اس آپریشن کی پہلی سالگرہ پر کہا تھا کہ ہندوستان کی فوجی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد اسے ہندوستان کے سامنے جنگ بندی کی التجا کرنی پڑی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
مودی پیپر لیک معاملے میں دھرمیندر پردھان کو ہٹائیں یا ذمہ داری لیں : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ پیپر لیک معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں نہیں ہٹایا جاتا تو مسٹر مودی کو خود اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا، “میڈیکل داخلہ امتحان کا پیپر لیک ہونے کی وجہ سے 22 لاکھ بچوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، لیکن مسٹر مودی ایک لفظ بھی نہیں بول رہے ہیں۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان جی کو ابھی ہٹائیے یا ذمہ داری خود لیجیے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپر لیک کے اس واقعے سے ملک کے 22 لاکھ طلبہ کی دو سال کی محنت برباد ہو گئی اور پورا ملک جانتا ہے کہ نیٹ امتحان سے پہلے واٹس ایپ پر سوالنامہ بانٹا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم نے اس معاملے سے خود کو الگ بتاتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو بھی نظر انداز کیا تھا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو نظریاتی اور اقتصادی مفادات کی ملی بھگت سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں تقرریوں میں میرٹ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے۔
مسٹر گاندھی نے دعویٰ کیا کہ بار بار پیپر لیک کے واقعات سے کروڑوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوا ہے اور اس پورے معاملے میں وزیر اعظم کو مداخلت کر کے وزیر تعلیم کو عہدے سے ہٹانا چاہیے۔
اس سے پہلے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی معاملے میں جوابدہی طے کرنے اور وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا





































































































