ہندوستان
ڈی یو ایس یو انتخابات: 17 سال بعد خاتون امیدوار میدان میں، این ایس یو آئی بمقابلہ اے بی وی پی

نئی دہلی، دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈی یو ایس یو) انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور تمام طلبہ تنظیموں نے اس انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے اس سال دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات میں خاصا جوش و خروش ہے اور بدھ کو نامزدگی کی آخری تاریخ تک مرکزی پینل کے مختلف عہدوں کے لئے 82 طلبہ نے کاغذات نامزدگی داخل کیے، جن میں سے جانچ کے بعد 74 نامزدگیاں درست پائی گئیں۔گزشتہ طلبہ یونین انتخابات میں صدر کے عہدے پر نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے جیت حاصل کی تھی۔ غور طلب ہے کہ اس انتخابات میں اصل مقابلہ این ایس یو آئی اور اے بی وی پی کے درمیان ہے۔
این ایس یو آئی نے موجودہ انتخابات میں صدر کے عہدے کے لئے خواتین کارڈ کھیلتے ہوئے بدھسٹ اسٹڈیز کی طالبہ جوسلین نندیتا چودھری کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دوسری طرف، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے بھی طلبہ یونین انتخابات کے لئے اپنے مرکزی پینل کا اعلان کر دیا ہے اور آرین مان کو صدر کے عہدے کا امیدوار بنایا ہے۔
آرین نے ہنس راج کالج سے گریجویشن کیا ہے اور اس وقت دہلی یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ایم اے کر رہے ہیں۔ آرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ طلبہ یونین کا انتخاب جیتتے ہیں تو ہر کالج میں مینٹل ہیلتھ کونسلر کی تقرری کرنا چاہیں گے تاکہ ہر طالب علم کو کیمپس میں ہی صحت سے متعلق مسائل کا حل مل سکے۔
لیکن آرین کی راہ اتنی آسان نہیں ۔ پچھلے انتخاب میں صدر کا عہدہ جیتنے والی این ایس یو آئی نے اس بار 17 سال بعد کسی خاتون کو امیدوار بنا کر مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
این ایس یو آئی کی صدر عہدے کی امیدوار 23 سالہ جوسلین نندیتا چودھری راجستھان کے جودھپور ضلع کے پل گاؤں سے تعلق رکھتی ہیں اور دہلی یونیورسٹی میں بدھسٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجویشن کر رہی ہیں۔ وہ 2019 سے این ایس یو آئی کی سرگرم رکن ہیں اور مسلسل خواتین کے حقوق، یونیورسٹی کی سیکورٹی اور طلبہ نمائندگی کے لئے کام کرتی رہی ہیں۔ این ایس یو آئی نے بتایا کہ ان کی نامزدگی خواتین قیادت کو نئی سمت دینے اور 17 سال بعد ڈی یو ایس یو میں خاتون صدر بننے کے امکان کو مضبوط کرتی ہے اور وہ کسان خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
صدر کے عہدے کے لئے اے بی وی پی کے امیدوار آرین مان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں اپنے پہلے دن سے ہی انہیں طلبہ کے مسائل کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اے بی وی پی سے جڑنے کے بعد وہ فیس میں اضافے کی مخالفت، بنیادی سہولیات کی ترقی وغیرہ کے لئے مسلسل سرگرم رہے ہیں۔
وہیں این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم دہلی یونیورسٹی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے ہے۔ یہ مہم ان ضروری مسائل کو اجاگر کرتی ہے جنہیں موجودہ انتظامیہ جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے۔ یونیورسٹی میں انفرااسٹرکچر کا فقدان، غیر محفوظ کیمپس، خواتین کے لیے ماہانہ چھٹی کا مطالبہ، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد اور نااہل آر ایس ایس حامی اساتذہ کی تقرری کی مخالفت کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پورے ملک کی نظر دہلی یونیورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات پر رہتی ہے۔
حتیٰ کہ سیاسی جماعتیں بھی ان انتخابات پر کڑی نظر رکھتی ہیں۔ صدر کے عہدے کے لئے سب سے زیادہ 24 طلبہ نے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ اس عہدے کے لئے تین نامزدگیاں مسترد کر دی گئیں اور 21 کو منظور کر لیا گیا۔
ان انتخابات میں تقریباً 2.75 لاکھ طلبہ ووٹ ڈالیں گے۔
یو این آئی۔ اے ایم
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سرکار کو ایندھن کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس لینی چاہئیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں کے تعلق سے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت عوام سے راحت چھین کر وصولی کی سیاست کر رہی ہے مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ خام تیل (کروڈ آئل) کی بین الاقوامی قیمتوں میں بھاری گراوٹ کے باوجود حکومت پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے دام کم نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مغربی ایشیا میں جنگ کے دوران خام تیل 138 ڈالر فی بیرل تھا، تب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں موجودہ قیمتوں سے کم تھیں، جبکہ اب خام تیل کی قیمت تقریباً 70.71 ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود صارفین کو راحت نہیں دی جا رہی ہے۔
کانگریس صدر نے سوال کیا کہ جنگ کا حوالہ دے کر بڑھائے گئے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کے دام اب معمول کے مطابق سپلائی ہونے کے باوجود واپس کیوں نہیں لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ گھریلو ایل پی جی، پانچ کلو گرام والے چھوٹے سلنڈر اور سی این جی کی قیمتوں میں کٹوتی کرنے سے حکومت کیوں بچ رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب خام تیل مہنگا تھا تب بھی عوام پر بوجھ ڈالا گیا اور اب خام تیل سستا ہونے کے باوجود عام لوگوں کو راحت نہیں دی جا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے لیے عوام صرف ٹیکس اور وصولی کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں ۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
رام مندر ٹرسٹ نے عقیدت مندوں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کیا: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر سے متعلق معاملات میں شروع سے ہی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن اب چڑھاوا اور چندہ کی چوری کا انکشاف ہونے سے کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شری رام جنم بھومی مندر کی تعمیر کے لیے تشکیل دیے گئے ٹرسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ لوگوں کو شامل کیا گیا۔ ٹرسٹ نے مالیاتی جانچ پڑتال کے لیے ایجنسیاں مقرر کی تھیں، جنہوں نے کئی تجاویز دیں، لیکن ٹرسٹ نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مبینہ چوری کے معاملات سامنے آنے لگے اور مندر کے کیش کاؤنٹنگ ایجنٹ مہیپال سنگھ نے کئی حقائق عام کیے تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے بعد جیسے جیسے مزید انکشافات ہونے لگے، مندر کے احاطے سے سی سی ٹی وی کیمرے ہٹا دیے گئے اور ان کی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر دی گئی۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی رپورٹ کے بعد کچھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، لیکن اس میں صرف چھوٹے ملازمین کے نام شامل کیے گئے۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انل مشرا کے استعفیٰ کی خبریں ہیں، حالانکہ بعد میں کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ شری رام جنم بھومی پر تعمیراتی کام شروع ہونے کے ساتھ ہی زمین کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات لگے تھے۔ حکومت نے انکوائری کرانے کی بات کہی تھی، لیکن اس انکوائری کا نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔ اس کے بعد مندر کی تعمیر میں بدعنوانی اور اب چڑھاوا چوری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں چمپت رائے نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئی قابلِ ذکر گڑبڑ نہیں ہوئی ہے، لیکن جیسے جیسے معاملہ کھلتا گیا، ٹرسٹ کے ہی ایک سینئر رکن نے اسے بدعنوانی نہیں بلکہ ‘ڈاکہ’ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کروڑوں ہندستانیوں نے بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر کے لیے عقیدت اور یقین کے ساتھ عطیہ دیا، لیکن ٹرسٹ سے جڑے لوگوں نے عقیدت مندوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا اور جم کر لوٹ کی۔
کانگریس نے کہا کہ وہ پہلے سے ہی ٹرسٹ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتی رہی ہے، لیکن اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ پارٹی نے پوچھا کہ اتنے بڑے معاملے پر مسٹر مودی خاموش کیوں ہیں اور پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرا کر خاطیوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoاسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان4 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ



































































































