تازہ ترین
کرناٹک کا ناٹک ختم، کانگریس جے ڈی ایس کی حکومت گرگئی، بی جے پی کو مل گئی اکثریت

خبراردو: کرناٹک میں 21 روزسے چل رہی زبردست رسہ کشی کے بعد کانگریس اورجے ڈی ایس اتحاد کی حکومت گرگئی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کواکثریت مل گئی ہے۔
کرناٹک کی سیاسی رسہ کشی گزشتہ 21 دن سے جاری تھی، لیکن آج کرناٹک کا ناٹک ختم ہوگیا۔ کانگریس – جے ڈی ایس اتحاد کی حکومت گرگئی ہے ۔ کمارا سوامی فلورٹیسٹ میں ناکام ثابت ہوئے۔ زبردست رسہ کشی کے بعد کانگریس اورجے ڈی ایس اتحاد کی حکومت گر گئی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کواکثریت مل گئی ہے۔ اب سب کی نظریں گورنر پرمرکوز ہیں۔ کمارا سوامی فلورٹیسٹ کے دوران اکثریت ثابت نہیں کرسکے۔ انہیں صرف 99 ووٹ ملے تو وہیں بی جے پی کو 105 ووٹ ملے۔
فلورٹیسٹ سے قبل اسمبلی میں اعتماد کی ووٹنگ پرچرچا کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا تھا کہ خوشی سے اپنے عہدے کی قربانی دینے کے لئے تیارہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلورٹیسٹ کی کارروائی کو طویل کھینچنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اسمبلی اسپیکراورریاست کی عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ کمارا سوامی نے کہا کہ یہ بھی چرچا چل رہی ہے کہ میں نے کیوں استعفیٰ نہیں دیا اورکرسی پرکیوں بنا ہوا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2018 میں اسمبلی الیکشن کے نتائج آئے تھے، وہ سیاست چھوڑنے کی سوچ رہے تھے۔ کمارا سوامی نے کہا کہ میں سیاست میں اچانک اورغیرمتوقع طورپرآیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 21 دنوں سے یہ رسہ کشی جاری تھی۔ ہربارنئی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے، لیکن ایچ ڈی کمارا سوامی حکومت کا فلورٹیسٹ نہیں ہوپاتا۔ باربار ٹلنے کے بعد منگل کو کانگریس – جے ڈی ایس حکومت کا فلورٹیسٹ ہوا، جس کے نتیجے میں اتحاد حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل پیرکوبھی دیررات جنتا دل سیکولر- کانگریس اراکین اسمبلی کے ساتھ بی جے پی اراکین اسمبلی کا ٹکراو ہوتا رہا۔ بی جے پی اراکین اسمبلی عدم اعتماد کی تجویزپرووٹنگ کولےکراڑے رہے۔ اس کے بعد اسپیکر کےآررمیش کمارنےکمارا سوامی حکومت کوہرحالت میں منگل کی شام 6 بجے تک اکثریت ثابت کرنےکوکہا ہے۔ فلورٹیسٹ کےلئےایوان کی کارروائی جاری ہے۔ اس دوران کانگریس لیڈرڈی کےشیوکمارباغی اراکین اسمبلی پربھڑکتے ہوئے نظرآئے۔
وزیراعلیٰ کمارا سوامی نےکہا کہ وزیراعلیٰ کی پوزیشن مستقل نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے فلورٹیسٹ سے قبل کہا کہ میں خوشی سے وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑنےکےلئےتیارہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چینل آئی ایم اے معاملے بریانی کی کہانی کے بارے میں چرچا کررہے تھے۔ کمارا سوامی نے کہا کہ میں میڈیا سے کہہ رہا ہوں کہ اس ملک کو برباد مت کیجئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف تنقید مت کریں۔ اگرمیں کوئی غلطی کرتا ہوں تومیرے کان کھینچیں۔ اگر اچھا کام ہوتواس کی تعریف کریں۔ برائےمہربانی اسے سمجھیں۔ میری حکومت بےشرم نہیں ہے، ہم نےایسا کیا کیا ہے جو آپ ہمیں ایسے ناموں سے بلا رہے ہیں۔ کیا میں ان لوگوں کے لئے جانبداررہا، جنہوں نے میرے لئے ووٹ نہیں کیا۔
پیرکودن سے رات تک چلنے والی اراکین اسمبلی کے ٹکراو کے درمیان اسپیکرنے سخت پھٹکارلگائی۔ اسپیکرکے آررمیش کمارنے کہا ‘میں رات 12 بجے تک ایوان میں بیٹھنے کو تیارہوں۔ آپ یہ کیا کررہے ہی۔ دنیا دیکھ رہی ہے، ہمیں اپنے ہدف تک پہنچنا چاہئے’۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھےاس موڑپرمت لے جائیں، جہاں مجھے آپ سے بغیرپوچھے فیصلہ لینا پڑے۔ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
الیکٹرانک میڈیا یہ بھول گیا کہ آئی ایم اے معاملوں میں اب تک کیا ہوا ہے۔ میڈیا اوربی جے پی کے سی ٹی روی کا کہنا ہے کہ روشن بیگ کو حراست میں لینے کے لئے ریاستی مشینری کا غلط استعمال کیا گیا۔ ہماری ایس آئی ٹی نے منصورخان کا پتہ لگایا اوراسے واپس لایا گیا۔ وہ دہلی لایا گیا۔ ای ڈی نے ایس آئی ٹی کواس سے باہرکرتے ہوئے اسے گرفتارکرلیا۔
تجزیہ
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر: اسباب، تباہ کاریاں اور مستقبل کا لائحہ عمل
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
اکیسویں صدی میں کرہ ارض کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین ترین چیلنج ‘موسمیاتی تبدیلی’ (کلائمیٹ چینج) اور ‘عالمی حدت’ (گلوبل وارمنگ) ہے حالیہ برسوں میں اس کے اثرات محض سائنسی رپورٹس اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ انسانی زندگیوں، معیشتوں اور ماحولیاتی نظاموں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال یورپ میں آنے والی حالیہ شدید ترین ہیٹ ویو ہے، جس نے ماضی کے تمام ریکارڈز کو توڑ دیے ہیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس، ڈنمارک اور سلوواکیہ جیسے ممالک، جو تاریخی طور پر معتدل یا سرد موسم کے لیے جانے جاتے تھے، اس وقت تپتے ہوئے صحراؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانا اور رات کے وقت بھی گرمی کی شدت برقرار رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زمین کا موسمیاتی نظام مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
مغربی یورپ سے شروع ہونے والا یہ شدید موسمی نظام اب مشرق کی طرف پھیل چکا ہے اور اس کی شدت میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں اس ہیٹ ویو نے جو تباہی مچائی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: جرمنی، جو اپنی صنعتی ترقی اور بہترین انفراسٹرکچر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، اس وقت شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
جرمن قومی موسمیاتی سروس (ڈی ڈبلیو ڈی) کے مطابق ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت 36ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے جبکہ کئی مقامات پر اس کے 42ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کے قوی امکانات ہیں۔
فرانس کی سرحد کے قریب واقع شہر ساربروکن میں درجہ حرارت 41.3 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو جرمنی کی تاریخ کے گرم ترین درجہ حرارت کے بالکل قریب ہے۔ جرمن حکام نے تقریباً پورے ملک کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے۔ شہروں میں پانی کی کھپت میں بے پناہ اضافے کے باعث عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی بچائیں تاکہ پانی کی فراہمی کا نظام مفلوج نہ ہو۔
اٹلی بھی اس ہیٹ ویو کی زد میں بری طرح آچکا ہے۔ روم، میلان اور فلورنس جیسے تاریخی شہروں میں درجہ حرارت مسلسل 40ڈگری سینٹی گریڈسے اوپر برقرار ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔
اس ہیٹ ویو کی سب سے حیران کن اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اس نے اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) کو بھی نہیں بخشا۔ ڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق اوڈینس (Odense) کے شمالی علاقے میں درجہ حرارت 36.6 سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ 1874ء میں جب سے ڈنمارک میں موسم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے، گزشتہ 150 سے زائد سالوں میں یہ وہاں کا گرم ترین دن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گرمی کی لہریں اب قطب شمالی کے قریبی علاقوں تک کا رخ کر رہی ہیں۔
فرانس اس ہیٹ ویو کا ابتدائی ہدف بنا جہاں درجہ حرارت 40ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرنے کے باعث درجنوں افراد، بالخصوص نوجوان اور بوڑھے، لقمہ اجل بن گئے۔ فرانسیسی حکومت کو ہنگامی اقدامات کے تحت اسکولوں کو معطل کرنا پڑا، بیرونی تقریبات ملتوی کرنی پڑیں اور پبلک مقامات پر الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرنی پڑی کیونکہ الکحل جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) کو تیز کرتی ہے۔
موسمیاتی نظام جیسے ہی مشرق کی طرف منتقل ہوا، اس نے نئے ریکارڈ بنانا شروع کر دیے۔ سلوواکیہ میں جمعہ کی رات تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی، جہاں درجہ حرارت 26.3سے نیچے نہیں گرا۔ رات کے وقت اس قدر زیادہ درجہ حرارت انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے اور آرام کرنے کا موقع نہیں دیتا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین کے مطابق اب یہ لہر پولینڈ کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مزید ریکارڈ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔
سائنسدانوں اور ماہرینِ موسمیات کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یورپ میں آنے والی یہ حالیہ گرمی کی لہر کوئی قدرتی واقعہ نہیں ہے۔ عالمی ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق انسانوں کی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر اس نوعیت کی شدید ہیٹ ویو کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔’
صنعتی انقلاب کے بعد سے انسانوں نے فوسل فیول (کوئلہ، تیل، اور گیس) کے بے تحاشہ استعمال، جنگلات کی کٹائی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے ذریعے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ زمین نے سورج کی گرمی کو اپنے اندر قید کرنا شروع کر دیا ہے۔
سائنسی ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیوں نے اس ہفتے رات کے وقت کے درجہ حرارت کو دو دہائیوں (20 سال) پہلے کے مقابلے میں 100گنا زیادہ شدید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب راتیں بھی ٹھنڈی نہیں رہیں، جو کہ گلوبل وارمنگ کا ایک بھیانک رخ ہے۔
شدید گرمی کی یہ لہر محض تھرمامیٹر کے پارہ بڑھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے اثرات انسانی زندگی اور ملکی نظام کے ہر شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کرنے کے لیے بنا ہے۔ جب درجہ حرارت مسلسل چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہتا ہے تو انسانی جسم کا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کا نظام فیل ہو جاتا ہے۔
فرانس سمیت دیگر ممالک میں درجنوں اموات ہو چکی ہیں۔ بوڑھے، بچے اور وہ لوگ جو دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس کا سب سے پہلا شکار بنتے ہیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ نیند کی کمی اور مسلسل شدید گرمی کے ماحول میں رہنے سے انسانی رویوں میں چڑچڑاپن اور ذہنی تناؤ بڑھ جاتا ہے۔
یورپی ممالک کا بنیادی ڈھانچہ تاریخی طور پر سرد موسم کے لحاظ سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ گھروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ایئر کنڈیشننگ (اے سی)کا نظام اس سطح پر موجود نہیں ہے جیسا کہ ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ میں ہوتا ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے لوہے کی پٹریوں کے پھیلنے اور مڑنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے یا سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ فرانس اور جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دریاؤں کا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ دریاؤں کا پانی پہلے ہی گرم ہونے کی وجہ سے ان پاور پلانٹس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایئر کنڈیشنرز اور پنکھوں کے استعمال کی وجہ سے بجلی کی طلب ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
کئی ممالک میں بیرونی کاموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تعمیراتی کام روک دیے گئے ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے۔ اس سے روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ سیاحت، جو کہ اٹلی اور فرانس کی معیشت کا ایک بڑا ستون ہے، اس ہیٹ ویو کے باعث بری طرح متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سیاح شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔
ڈونر ویٹر کے ماہرِ موسمیات کارسٹن برانڈٹ سمیت دیگر عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال عارضی نہیں ہے۔
اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا توجو ہیٹ ویو پہلے صدی میں ایک بار آتی تھی، وہ اب ہر دو سے تین سال بعد آیا کرے گی۔یورپ کا موسم بتدریج نیم صحرائی (Semi-arid) شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں گرمیاں طویل اور خشک، جبکہ سردیاں انتہائی مختصر ہوں گی اورزراعت کا نظام تباہ ہو جائے گا، کیونکہ فصلوں کو اگنے کے لیے معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس عالمی تباہی سے نمٹنے کے لیے دنیا کو ہنگامی بنیادوں پر دوہرا لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔فوسل فیول کا استعمال فوری طور پر ترک کر کے شمسی اور ہائیڈروجن توانائی کی طرف منتقلی۔ جنگلات کا تحفظ اور شجرکاری مہم۔ یورپی شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو گرم موسم کے مطابق ڈھالنا۔ عمارتوں کو ‘گرین روفس’ (Green Roofs) اور انسولیشن کے ذریعے ٹھنڈا رکھنا۔
جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک میں ریکارڈ توڑنے والی یہ ہیٹ ویو قدرت کی طرف سے ایک انتباہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال میں موجود ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ اگر اب بھی دنیا کے امیر اور صنعتی ممالک نے پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) پر عمل کرتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے اضافے کو محدود کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ اب وقت تقریروں کا نہیں بلکہ عملی اور انقلابی اقدامات کا ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان
کھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
نئی دہلی، 2 کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کرناٹک سے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا رکن کے طور پر حلف لیا راجیہ سبھا کے چیئرمین اور نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا حلف برداری کے بعد مسٹر کھرگے نے کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر دوبارہ حلف لینا ان کے لیے فخر اور بڑی ذمہ داری کا موضوع ہے انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر اس باوقار ایوان کی خدمت جاری رکھنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ مسٹر کھرگے نے راجیہ سبھا کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کے تعاون اور حمایت کے لیے تشکر کا اظہار کیا۔
انہوں نے کانگریس لیڈر محترمہ سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس ممبرانِ پارلیمنٹ، پارٹی قیادت، کارکنوں اور حامیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اٹوٹ یقین اور حوصلہ افزائی نے عوامی زندگی اور پارلیمانی سفر میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ مسٹر کھرگے نے تمام سیاسی جماعتوں کے ایوان کے رہنماؤں، خاص طور پر انڈیا اتحاد اور اپوزیشن کے بھرپور تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے مانسون سیشن میں اپوزیشن پہلے سے زیادہ تال میل کے ساتھ حکومت کو جوابدہ بنانے کا کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن عوام کے سلگتے ہوئے مسائل، خواہشات اور آواز کو پوری ایمانداری، مضبوطی اور عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا، “عوام کی آواز کو بلند کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور میں اسے پوری وفاداری کے ساتھ نبھاتا رہوں گا۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
زمین گھپلے کے مبینہ معاملے پر کانگریس کا مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس نے پیر کو مدھیہ پردیش حکومت پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیرِ اعلیٰ موہن یادو ذاتی فائدے کے لیے کیے گئے ایک بڑے زمین گھپلے کے “ماسٹر مائنڈ” تھے اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ دہرایا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے وزیرِ اعلیٰ پر مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔ مسٹر رمیش نے کہا، “اس میں کوئی شک نہیں کہ مدھیہ پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ذاتی فائدے کے لیے کیے گئے اس بڑے زمین گھپلے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس وزیرِ اعلیٰ کے خلاف اپنی مہم اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک انہیں جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ مسٹر رمیش نے لکھا، “انڈین نیشنل کانگریس ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، کیونکہ ان کا احتساب کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔”
کانگریس مبینہ زمین گھپلے پر مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت پر مسلسل حملے کر رہی ہے، اور ریاستی انتظامیہ پر غیر قانونی زمین کے لین دین اور اقتدار کے غلط استعمال میں سہولت فراہم کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے برقرار رکھا ہے کہ اس کی انتظامیہ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم ہے۔ مسٹر رمیش کے تازہ ترین ریمارکس کانگریس کے وسیع تر سیاسی حملے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اہم سیاسی مصروفیات سے پہلے بدعنوانی کے الزامات پر ریاستی حکومت کو گھیرنا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف







































































































