جموں و کشمیر
کشمیر میں مٹی کے برتن ایک بار پھر گھروں کی زینت بن رہے ہیں

سری نگر، دنیا کے طول و عرض میں مشہور کشمیر کی روایتی دستکاریاں نہ صرف مقامی لوگوں کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیبی تاریخ کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ انہی روایتی ہنر مندیوں میں ایک اہم ہنر مٹی کے برتن سازی ہے، جو دور جدید کے سخت ترین چلینجوں کے باوجود بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ وادی کے شہر و دیہات میں مٹی کے برتن ایک بار پھر گھروں کی زینت بن رہے ہیں۔
کشمیر میں مٹی کی برتن سازی کا ہنر ہزاروں سال پرانا ہے اور آج بھی وادی کے دیہات میں اس کے ہنر کے کاریگر موجود ہیں۔
مٹی کو گوندھ کر مختلف اشکال دینا، انہیں چاک پر گھمانا، پھر تپتی آگ میں پکانا اور آخر میں استعمال کے قابل بنانا، یہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف محنت طلب ہے بلکہ فنکاری کا اعلیٰ نمونہ بھی ہے۔
کاریگروں کا ماننا ہے کہ کشمیر کی مٹی میں ایک خاص نرمی اور لچک ہے، جو برتنوں کو مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔
وادی کے دیہی علاقوں میں مٹی کے برتن روزمرہ زندگی میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔
چاہے وہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مٹکے ہوں، دہی جمانے کے لیے بڑے پیالے، یا روایتی کشمیری چائے (نون چائے اور قہوہ) کے لیے استعمال ہونے والے چھوٹے کپ، سب کچھ مٹی کے برتنوں سے ہی جڑا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق مٹی کے برتن پانی کو ٹھنڈا رکھنے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں اور اس میں کھانا پکانے سے ذائقہ بھی نکھر کر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی گھرانوں میں یہ برتن اب بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات جدید دور میں اسٹیل، پلاسٹک اور شیشے کے برتنوں کی دستیابی کے باوجود شہری علاقوں میں بھی مٹی کے برتنوں کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔
قصبہ بیروہ کے ایک کاریگر غلام نبی کمار نے یو این آئی کو بتایا: ‘اب ایک بار پھر دیہات کے ساتھ ساتھ شہروں اور قصبوں کے لوگ بھی خصوصی طور پر کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن خریدتے ہیں کیونکہ ان میں تیار ہونے والا کھانا صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘مٹی کے برتن ہر لحاظ سے مفید ہیں جہاں صحت کے لئے فائد بخش ہیں وہیں سستے بھی ہیں جنہیں ہر کوئی خرید سکتا ہے اور اس کے علاوہ خوبصورت بھی ہیں کیونکہ ہم بھی اب مانگ اور چلینج کے مطابق مختلف ڈیزائںوں کے برتن تیار کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم مٹی کی ایسی چیزیں بھی بناتے ہیں جن کو گھروں میں آرائش و زیبائش کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور ان کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس سے مقامی ہنر کو دوام ملتا ہے اور روز گار کا موقعہ بھی بن جاتا ہے’۔
کشمیر میں مٹی کے برتن صرف استعمال کی چیز نہیں بلکہ فن اور ثقافت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ۔ شادی بیاہ کے مواقع پر بھی ان برتنوں کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے، جہاں دہی، مٹھائیاں اور دیگر اشیاء انہی برتنوں میں رکھ کر پیش کی جاتی ہیں۔
وسطی ضلع بڈگام کے معروف قصبہ چرار شریف کے کمار محلہ سے تعلق رکھنے والے کاریگر مشتاق احمد کمار نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ وہ اس پیشے سے کئی دہائیوں سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے باپ دادا بھی یہی کام کرتے تھے اور میں خود گزشتہ 35 برسوں سے مٹی کے برتن سازی کے ساتھ جڑا ہوا ہوں’۔
مشتاق احمد نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران لوگوں نے دوبارہ مٹی کے برتنوں کا استعمال شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘معدے کی بیماریاں عام ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز بھی عوام کو مٹی کے برتنوں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ انسانی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں’۔
ان کا کہنا ہے کہ وادی کے دیہی علاقوں میں یہ روایت آج بھی قائم ہے، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ شہری علاقوں کے لوگ بھی ایک بار پھر ان برتنوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ چرار شریف قصبے میں کمار محلہ کے بیشتر خاندان اسی کاروبار سے وابستہ ہیں اور آج بھی تقریباً پچاس فیصد لوگ اپنی روزی روٹی اسی پیشے سے کما رہے ہیں۔
مشتاق احمد کے بقول، ‘چرار شریف کی سیر و تفریح پر آنے والے سیاح بھی مٹی کے برتن خریدتے ہیں، جو ہمارے لیے نیک شگون ہے’۔
تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروبار رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو رہا ہے کیونکہ نئی نسل اس ہنر سے جڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی پود اب تعلیم یافتہ ہے اور وہ اس کاروبار کو اپنا مستقبل نہیں سمجھتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانا اور پانی پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ مٹی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کھانے میں موجود زہریلے اثرات کو کم کرتی ہے اور جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے۔ کئی ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ پلاسٹک کے برتن انسانی صحت کے لیے مضر ہیں جبکہ مٹی کے برتن محفوظ ہوتے ہیں۔
کاریگروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اور سماجی تنظیمیں ان کے ہنر کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کریں، جیسے آن لائن مارکیٹنگ یا ای-کامرس پلیٹ فارمز پر ان برتنوں کی فروخت کیا جائے، تو اس ہنر کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ کچھ نوجوان اب اس روایت کو جدید ڈیزائن اور اسٹائل کے ساتھ ملا کر مارکیٹ میں لا رہے ہیں، جو عوام میں بے حد پسند کیے جا رہے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ۔ ایف اے
جموں و کشمیر
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سری نگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں تعینات رہے ایک سابق سینئر کلرک کے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں کئی غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا ہے۔
سری نگر کے فردوس آباد بٹمالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ان غیر منقولہ جائیدادوں کی ضبطی سری نگر انسداد بدعنوانی بیورو میں سال 2025 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بھٹ پر اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹمالو میں ایک رہائشی مکان، نمبل نوگام میں ان کی بیوی اور بیٹی کے نام پر تین پلاٹ اور جانچ میں ضبط کیا گیا تقریباً 1266 گرام سونے کے زیورات شامل ہیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، جانچ کے دوران بھٹ کو گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ عدالت کے حکم پر ضمانت پر باہر ہے۔ بیورو نے بتایا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر رکھے تھے۔ مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی قیادت میں دو ٹیموں نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بٹمالو اور نوگام میں ان جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں پر اس سلسلے کے معلوماتی بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور انسداد بدعنوانی بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو نہ تو خریدیں اور نہ ہی ان سے جڑا کوئی مالی لین دین کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا ہندو مذہب – سناتن دھرم کو سب سے پرانے زندہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور یہ ایسا مذہب ہے، جس نے کبھی بھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا اور ہمیشہ تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو بنائے رکھا، جس سے قدیم ہندوستان میں مختلف مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا مسٹر سنہا نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ‘بین المذاہب مذاکرے’ (انٹرفیتھ ڈائیلاگ) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے باہمی احترام میں رچی بسی قدیم تہذیب کے طور پر ہندوستان کے ورثے کو اجاگر کیا، جہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں، پھلتے پھولتے ہیں اور دنیا کو امن کا سبق سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندو مذہب یا سناتن دھرم دنیا کا سب سے پرانا زندہ مذہب، ہندو مذہب – سناتن دھرم، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے تنوع اور بقائے باہمی کو اپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایک ایسی بنیاد رکھی، جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور پارسی مذہب کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔” انہوں نے کہا کہ “تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی دنیا میں، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اصل روح ایک رہنما روشنی کا کام کر سکتی ہے۔ آج بھلے ہی دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہو، لیکن ہندوستانی فکر میں ان دوریوں کو پر کرنے کی منفرد طاقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحرک فکر ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کو ایک خاندان کے طور پر مل کر رہنا چاہئے۔ نوجوان نسل کو اس نقطہ نظر کو آگے بڑھانا چاہئے اور دنیا کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ باہمی احترام کے ذریعے امن ممکن ہے۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ “دانشورانہ، روحانی اور ثقافتی اصطلاحات میں میں اسے ‘ہندوستانیت’ کہتا ہوں، یہ وہ بنیادی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سچائی کی تلاش، تنوع میں اکائی، دنیا کو ایک خاندان ماننے کا تصور اور ایک مشترکہ ثقافتی شعور کا نقطہ نظر دیا۔” انہوں نے کہا کہ “پانچ ہزار سال سے بھی پرانی علمی روایت کے علامت ہمارے قدیم گرنتھ، وید اور اپنشدوں نے ہمیشہ ہم آہنگی سے رہنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مل کر رہنا چاہئے۔ یہی ابدی اصول ہے۔” انہوں نے ذکر کیا کہ جب 12ویں اور 13ویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور کئی صوفی سنت اور اسلامی اسکالرز یہاں آئے۔ انہوں نے محبت، روحانیت، ہمدردی اور برابری میں رچی بسی ایک انوکھی ہندوستانی ثقافت کو پایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ “صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مذہب اور جین مذہب کے نقطہ نظر سے متاثر تھے اور انہوں نے ہندوستانی گرنتھوں سے بقائے باہمی کے اصول سیکھے۔ اس کے علاوہ، سنسکرت علم کے کئی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی سے اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ اپنے عقیدے کو اپنے ساتھ لائیں، اپنی روایتوں کو لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت ہے۔ یہی ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا1 week agoاسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف




































































































