تازہ ترین
کورونا وائرس کی قہر سامانیاں : فار مسٹ،16سالہ طالبہ سمیت13افرادجاں بحق

جموں وکشمیر میں کورونا ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر619تک پہنچ گئی،وادی میں ہلاکتیں 574ہوگئیں
خبراردو:-
سرینگر: کورونا وائرس سے متاثر فار مسٹ اور16سالہ طالبہ سمیت13مزید مریض مختلف اسپتالوں میں دوران علاج زندگی کی جنگ ہار گئے۔اس طرح جموں وکشمیر میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر619ہوگئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق سنیچر کے روز مختلف اسپتالوں میں زیر علاج 13کورونا وائرس مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔ہلاک شدگان میں کرالہ گنڈ کپوارہ کا 79سالہ شہری، بمنہ سرینگر کا75سالہ شہری،عشمقام اننت ناگ کا56سالہ شہری،دیو سر کولگام کی 16سالہ لڑکی،سوپور بارہمولہ کا 73سالہ شہری،علمگری بازار سرینگر کا 62سالہ شہری،خواجہ باغ بارہمولہ کا68سالہ شہری،بمنہ سرینگر کی63سالہ خاتون،چھانہ پورہ سرینگر کا40سالہ شہری،کشتواڑ کی60سالہ شہری،مرڈ جموں کا70سالہ شہری،سانبہ کا70سالہ شہری اور پونچھ کا45سالہ شہری شامل ہے۔حکام کے مطابق عشمقام اننت ناگ کا شہری جو پیشہ سے فارمسٹ ہے اور ایس ڈی ایچ سیر اننت ناگ میں تعینات تھا،کو19اگست کے روز صورہ میڈیکل انسٹی چیٹ میں داخل کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کرالہ گنڈ کپوارہ کے مریض کو21اگست،بمنہ سرینگر کے 75سالہ شہری کو5اگست کو،دیو سر کولگام کی16سالہ لڑکی کو 2اگست،سوپور کے مریض کو9اگست،علمگری بازار سرینگر کے مریض کو6اگست اور خواجہ باغ بارہمولہ کے مریض کو7اگست کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔حکام کے مطابق یہ سبھی مریض کورونا پازیٹیو ہونے کیساتھ ساتھدیگر امراض میں بھی مبتلاء تھے۔حکام کے مطابق علمگری بازار اورخواجہ باغ بارہمولہ کے مریضوں کے ٹیسٹ بعد ازاں نگیٹیو بھی آئے تھے۔
بمنہ سرینگر کے مریضہ کو جے وی سی سکمز بمنہ سرینگر 10اگست کو داخل کیا گیا تھا اور سنیچر کے روز انتقال کیا گیا تھا۔ چھانہ پورہ کے مریض کو صدر اسپتال سرینگر میں داخل کیا گیا تھا،جہاں وہ سنیچر کی صبح انتقال کرگیا۔کشتواڑ کا 60سالہ شہری کو جی ایم سی جموں میں داخل کیا گیا تھا کہ جموں کے شہری کو بھی اسی اسپتال میں داخل کیا گیا۔اس کے علاوہ جی ایم سی جموں میں سانبہ کے45سالہ شہری اور پونچھ کے شہری کو بھی داخل کیا گیا۔چاروں مریض سنیچر کے روز ہی کورونا کی جنگ ہار گئے۔جموں وکشمیر میں 13افراد کے جاں بحق ہونے کیساتھ اموات کی تعداد بڑھ کر619تک پہنچ گئی۔وادی کشمیر میں ہلاکتوں کی574اور صوبہ جموں میں یہ تعداد45ہوگئی۔
جموں و کشمیر
ڈوڈہ کے بھلیسہ میں بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب، شاہراہوں پر ٹریفک معطل
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں بدھ کے روز بیک وقت دو مقامات پر بادل پھٹنے کے نتیجے میں اچانک سیلابی صورتحال اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جس کے باعث علاقے میں گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، بھلیسہ کے علاقے ‘کالال گیسر’ میں رات بھر جاری رہنے والی موسلا دھار بارش کے بعد دو مختلف مقامات پر بادل پھٹے۔ اس ناگہانی آفت کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور بڑے پیمانے پر ملبہ سڑکوں پر آ گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملبے اور مٹی کے بہاؤ کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکوں پر آمد و رفت مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔
موسم سازگار ہوتے ہی سڑکوں سے ملبہ ہٹانے اور ٹریفک کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے گا۔سکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ مقامی شہریوں اور مسافروں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر غیر ضروری سفر اور بالخصوص حساس علاقوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔راحت کی بات یہ ہے کہ اس اچانک آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اب تک کسی جانی نقصان، کسی کے زخمی ہونے یا کسی بڑے مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔مقامی انتظامیہ الرٹ پر ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
یواین آئی۔م ا ع
ہندوستان
کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کمی
نئی دہلی، بین الاقوامی بازار میں قیمتوں میں کمی کے بعد سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بدھ سے تجارتی صارفین کے لیے رسوئی گیس (ایل پی جی) سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے قومی دارالحکومت نئی دہلی میں آج سے 19 کلوگرام کے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 2,930 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون میں اس کی قیمت 3,113.50 روپے تھی۔ اس طرح اس کی قیمت میں 183.50 روپے کی کمی کی گئی ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کی شرح مختلف ہے، جو کمپنیوں کی لاگت اور مقامی عوامل کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔
ادھر گھریلو استعمال کے لیے 14.2 کلوگرام والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ نئی دہلی میں اس کی قیمت بدستور 942 روپے برقرار ہے۔
اس سے قبل یکم جون کو کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔ نئی دہلی میں اس وقت فی سلنڈر 42 روپے کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ 7 جون کو گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 29 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔
مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔ تاہم عام صارفین کو ریلیف دینے کے لیے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں نسبتاً کم اضافہ کیا گیا تھا۔ اب بین الاقوامی بازار میں قیمتوں میں کمی کے بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر سستا کر دیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
وزیر اعظم نے ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ اور ‘ڈاکٹرز ڈے’ پر مبارکباد دی، ‘وکست بھارت’ کی تعمیر میں ان کے کردار کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ اور ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ کے موقع پر ملک کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور ڈاکٹروں کو مبارکباد دی اور ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ان کے تعاون کی ستائش کرتے ہوئے ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے کی سمت میں ان کے اہم کردار کا ذکر کیا وزیر اعظم نے ‘ایکس’ پر الگ الگ پوسٹس میں، ان شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کے عزم اور مہارت کی تعریف کی اور انہیں ہندوستان کی معیشت اور عوامی صحت کو مضبوط کرنے والا اہم ستون قرار دیا۔ ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ پر پوری سی اے برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ شفافیت اور پیشہ ورانہ عمدگی کے تئیں ان کی عہدبستگی نے انہیں ہندوستان کی اقتصادی ترقی میں قابل اعتماد شراکت دار بنایا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری سی اے برادری کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ کی مبارکباد۔ وہ طویل عرصے سے ہندوستان کے اقتصادی سفر میں قابل اعتماد شراکت دار رہے ہیں۔ شفافیت اور پیشہ ورانہ عمدگی کے تئیں اپنے عزم سے وہ ہمارے مالیاتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، کاروباروں کی مدد کرتے ہیں، انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیتے ہیں اور سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
مسٹر مودی نے ملک کی ترقی میں ان کے وسیع تعاون پر کہا کہ ان کی مہارت اقتصادی ترقی اور قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہم جیسے جیسے ‘وکست بھارت’ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کی کوششیں ایسا ماحول بنانے میں مدد کرتی ہیں جہاں کاروبار فروغ پا سکیں اور سب کے لیے مواقع کا دائرہ وسیع ہو سکے۔
واضح رہے کہ 1949 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت ‘دی انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا’ (آئی سی اے آئی) اپنے قیام کی یاد میں یکم جولائی کو ‘چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ڈے’ مناتا ہے۔ مالیاتی رپورٹنگ، آڈیٹنگ، ٹیکسیشن، کارپوریٹ گورننس اور ریگولیٹری تعمیل میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، جو انہیں ہندوستان کے کاروباری اور اقتصادی نظام کا اٹوٹ حصہ بناتا ہے۔
مسٹر مودی نے ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ پر ڈاکٹروں کی انتھک خدمات، ہمدردی اور عزم کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز ڈے پر ہمارے سرگرم ڈاکٹروں کو مبارکباد، جن کی سخت محنت، ہمدردی اور لگن ہندوستان کے حفظان صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ان کی انتھک کوششوں نے، جو اکثر مشکل ترین حالات میں ہوتی ہیں، لاتعداد لوگوں کا اعتماد اور شکریہ حاصل کیا ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کے ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کی توسیع پر بھی بات کی اور طبی تعلیم کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں، ہندوستان نے ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ میڈیکل کالجوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سیٹوں میں کافی توسیع ہوئی ہے۔ یہ بے مثال ترقی مستقبل کے ڈاکٹروں کے لیے بڑے مواقع پیدا کر رہی ہے، ایک مضبوط ہیلتھ کیئر ورک فورس تیار کر رہی ہے اور یہ یقینی بنا رہی ہے کہ معیاری طبی دیکھ بھال ملک کے ہر کونے تک پہنچے۔
ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف میں طبی برادری کے کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے نتائج کو بہتر بنانے اور معیاری علاج تک رسائی کو بڑھانے میں ڈاکٹر ہمیشہ مرکز میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیسے جیسے ‘وکست بھارت’ کی تعمیر کی سمت میں کام کر رہے ہیں، ہمارے ڈاکٹر بیماریوں سے بچاؤ والی صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دینے، طبی تحقیق کو آگے بڑھانے، جدت طرازی کو اپنانے اور سب کے لیے سستی اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ہندوستان میں ہر سال یکم جولائی کو ‘نیشنل ڈاکٹرز ڈے’ طبی پیشہ ور افراد کے تعاون کو عزت دینے اور معروف طبیب اور مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر بدھان چندر رائے کے یوم پیدائش اور برسی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن عوامی صحت کے تحفظ میں ڈاکٹروں کی انمول خدمات کا اعتراف کرتا ہے اور خاص طور پر بحران کے وقت ان کے عزم کی ستائش کرتا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت 2047 تک ہندوستان کو ‘وکست بھارت’ میں تبدیل کرنے کے اپنے وژن کے اہم اجزاء کے طور پر صحت کی دیکھ بھال کی توسیع، طبی تعلیم کی اصلاحات، اقتصادی ترقی اور پیشہ ورانہ عمدگی پر مسلسل زور دے رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
ہندوستان2 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر7 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا6 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا6 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت






































































































