جموں و کشمیر
جموں وکشمیرمیںراجیہ سبھا کی 4نشستوں اور اسمبلی کی2خالی سیٹوں کیلئے ضمنی انتخابات

سیاسی پارٹیاں متحرک: انتخابی شطرنج کے کھیل میں 3 اہم کھلاڑی
حکمران اتحادکا پلڑا بھاری،3 ،ایک کی اُمید:اپوزیشن بھاجپا کیلئے ایک ،ایک کی گنجائش!
سری نگر :جے کے این ایس : الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق، جموں و کشمیر سے پارلیمان کے ایوان بالایعنی راجیہ سبھا کیلئے4 ممبران منتخب کرنے کے لئے2سالہ انتخابات24 اکتوبر 2025 کو ہوں گے۔تاہم، بڈگام اور نگروٹا اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات کےلئے نوٹیفکیشن ،الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے اس ماہ (اکتوبر) کے آخر میں بہار اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے ساتھ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔جے کے این ایس کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اعلانات نے پہلے ہی جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان تازہ ترین اطلاعات کے درمیان کہ انڈین نیشنل کانگریس کمیٹی کے خصوصی مبصر ڈگ وجئے سنگھ نیشنل کانفرنس کی قیادت کے ساتھ الیکشن انتظام پر بات چیت شروع کریں گے۔یہ سوال ابھی تک الجھا ہوا ہے کیونکہ یہاں تک کہ علاقائی رہنماو ¿ں کو بھی ابھی تک کوئی واضح خیال نہیں ہے۔اس طرح، حتمی حکمت عملی تیار کرنے کے عمل کو ابھی رفتار حاصل نہیں ہوئی ہے کیونکہ اتحادی شراکت دار، کانگریس اور نیشنل کانفرنس، اہم انتخابات کےلئے اپنے انتظامات کو تجدید اور احیا کرنے کےلئے گرم جوشی کے عمل میں ہیں ۔جموں وکشمیرکے انتخابی شطرنج کے کھیل میں 3 اہم کھلاڑی ہوں گے – نیشنل کانفرنس، بھارتیہ جنتا پارٹی، اور کانگریس، نیشنل کانفرنس کے اتحادی ہونے کی وجہ سے۔کلیدی کھلاڑی نیشنل کانفرنس، جس کا راجیہ سبھا انتخابات کے معاملے میں واضح غلبہ ہے اور 3 سیٹیں جیتنے کےلئے اس کی اپنی طاقت ہے، پہلے ہی اپنا موقف صاف کر چکی ہے۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق راجیہ سبھا کیلئے4 ممبران کو منتخب کرنے کیلئے انتخابات کا نوٹیفکیشن6اکتوبر 2025 کو جاری کیا جائے گا، کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 اکتوبر اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال14 اکتوبر 2025 کو ہوگی۔امیدواروں کو واپس لینے کی آخری تاریخ 16 اکتوبر 2025 ہے اور پولنگ 24 اکتوبر کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی بھی اسی دن یعنی24 اکتوبر کو شام 5 بجے ہوگی۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے شیڈول کے مطابق انتخابی عمل28 اکتوبر 2025 سے پہلے مکمل ہو جانا چاہیے۔جموں و کشمیر مقننہ(قانون سازاسمبلی) میں سیٹوں کے حساب وکتاب کو دیکھیں تو این سی،کانگریس کا اتحاد آرام سے3 سیٹیں جیتنے کے لیے تیار ہے، جب کہ2سیٹوں (ایک ساتھ) کےلئے علیحدہ نوٹیفکیشن کےخلاف ہونے والے الیکشن کی صورت میں بی جے پی ایک سیٹ جیت سکتی ہے۔نیشنل کانفرنس کے اسمبلی میں41ارکان ہیں، اور5 آزاد ایم ایل اے بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی سے وابستہ ممبراسمبلی (فی الحال پی ایس اے کے تحت حراست میں ہے) اگرچہ حال ہی میں این سی سے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا ہے، پھر بھی بدلے ہوئے حالات میں، دوبارہ اتحاد کی صفوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ کسی بھی صورت میں یہ بی جے پی کو ووٹ دینے والی نہیں ہے۔ سی پی آئی ایم ایم ایل اے اور 6کانگریس ایم ایل اے اس اتحاد کا حصہ ہیں۔اگر کانگریس کو مقابلہ کرنے کے لیے ایک سیٹ مل جاتی ہے، تو پی ڈی پی کے 3ممبران اسمبلی بھی کانگریس کے امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں، کیونکہ موخر الذکر (پی ڈی پی) بھی انڈیا بلاک کا حصہ ہے۔بی جے پی کے پاس صرف 28ارکان اسمبلی ہیں جبکہ2 سیٹیں خالی ہیں۔بڈگام اورنگروٹہ خالی نشستوں کیلئے ضمنی انتخابات کے بارے میں نوٹیفکیشن ابھی جاری ہونا باقی ہے۔28 ستمبر کو، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بہار اسمبلی انتخابات اور دیگر ریاستوں (اور یونین ٹریٹڑیوں) کے8 اسمبلی حلقوں بشمول جموں وکشمیرکے بڈگام اور نگروٹا حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے مرکزی مبصرین ،جنرل، پولیس، اور اخراجات کے مبصرین کو تعینات کیا تھا۔مبصرین کی تعیناتی نے بالآخر 90 رکنی جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 2خالی نشستوں پر طویل عرصے سے زیر التواءضمنی انتخابات کے وقت اور شیڈول کے بارے میں قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا۔نگروٹا سیٹ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد31 اکتوبر 2024 کو بی جے پی کے رکن اسمبلی اور اس کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا کے افسوسناک اور اچانک انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ انتخابی نتائج کا اعلان 8 اکتوبر 2024 کو ہواتھا۔بڈگام سیٹ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے21 اکتوبر 2024 کو خالی کیا تھا۔ انہوں نے2سیٹوں ، بڈگام اور گاندربل سے الیکشن لڑا تھا۔ بعد میں، عمر عبداللہنے بڈگام سیٹ خالی کر دی اور گاندربل سیٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جو کہ اس کے خاندان کا گڑھ ہے۔اگرچہ بی جے پی کا گڑھ سمجھی جانے والی نگروٹا سیٹ کے لیے ان اسمبلی حلقوں کے لیے کسی بھی پارٹی نے ابھی تک کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے، دیویانی رانا، آنجہانی دیویندر رانا کی بیٹی، کو بی جے پی کی ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سری نگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں تعینات رہے ایک سابق سینئر کلرک کے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں کئی غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا ہے۔
سری نگر کے فردوس آباد بٹمالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ان غیر منقولہ جائیدادوں کی ضبطی سری نگر انسداد بدعنوانی بیورو میں سال 2025 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بھٹ پر اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹمالو میں ایک رہائشی مکان، نمبل نوگام میں ان کی بیوی اور بیٹی کے نام پر تین پلاٹ اور جانچ میں ضبط کیا گیا تقریباً 1266 گرام سونے کے زیورات شامل ہیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، جانچ کے دوران بھٹ کو گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ عدالت کے حکم پر ضمانت پر باہر ہے۔ بیورو نے بتایا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر رکھے تھے۔ مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی قیادت میں دو ٹیموں نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بٹمالو اور نوگام میں ان جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں پر اس سلسلے کے معلوماتی بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور انسداد بدعنوانی بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو نہ تو خریدیں اور نہ ہی ان سے جڑا کوئی مالی لین دین کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا ہندو مذہب – سناتن دھرم کو سب سے پرانے زندہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور یہ ایسا مذہب ہے، جس نے کبھی بھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا اور ہمیشہ تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو بنائے رکھا، جس سے قدیم ہندوستان میں مختلف مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا مسٹر سنہا نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ‘بین المذاہب مذاکرے’ (انٹرفیتھ ڈائیلاگ) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے باہمی احترام میں رچی بسی قدیم تہذیب کے طور پر ہندوستان کے ورثے کو اجاگر کیا، جہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں، پھلتے پھولتے ہیں اور دنیا کو امن کا سبق سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندو مذہب یا سناتن دھرم دنیا کا سب سے پرانا زندہ مذہب، ہندو مذہب – سناتن دھرم، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے تنوع اور بقائے باہمی کو اپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایک ایسی بنیاد رکھی، جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور پارسی مذہب کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔” انہوں نے کہا کہ “تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی دنیا میں، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اصل روح ایک رہنما روشنی کا کام کر سکتی ہے۔ آج بھلے ہی دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہو، لیکن ہندوستانی فکر میں ان دوریوں کو پر کرنے کی منفرد طاقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحرک فکر ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کو ایک خاندان کے طور پر مل کر رہنا چاہئے۔ نوجوان نسل کو اس نقطہ نظر کو آگے بڑھانا چاہئے اور دنیا کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ باہمی احترام کے ذریعے امن ممکن ہے۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ “دانشورانہ، روحانی اور ثقافتی اصطلاحات میں میں اسے ‘ہندوستانیت’ کہتا ہوں، یہ وہ بنیادی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سچائی کی تلاش، تنوع میں اکائی، دنیا کو ایک خاندان ماننے کا تصور اور ایک مشترکہ ثقافتی شعور کا نقطہ نظر دیا۔” انہوں نے کہا کہ “پانچ ہزار سال سے بھی پرانی علمی روایت کے علامت ہمارے قدیم گرنتھ، وید اور اپنشدوں نے ہمیشہ ہم آہنگی سے رہنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مل کر رہنا چاہئے۔ یہی ابدی اصول ہے۔” انہوں نے ذکر کیا کہ جب 12ویں اور 13ویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور کئی صوفی سنت اور اسلامی اسکالرز یہاں آئے۔ انہوں نے محبت، روحانیت، ہمدردی اور برابری میں رچی بسی ایک انوکھی ہندوستانی ثقافت کو پایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ “صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مذہب اور جین مذہب کے نقطہ نظر سے متاثر تھے اور انہوں نے ہندوستانی گرنتھوں سے بقائے باہمی کے اصول سیکھے۔ اس کے علاوہ، سنسکرت علم کے کئی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی سے اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ اپنے عقیدے کو اپنے ساتھ لائیں، اپنی روایتوں کو لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت ہے۔ یہی ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
تازہ ترین5 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان3 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
تازہ ترین5 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر3 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا5 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا1 week agoاسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان




































































































