دنیا
جاپان نے سفارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ افسران کو چین بھیجا

ٹوکیو/بیجنگ، جاپان نے چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی دو طرفہ کشیدگی کے درمیان اپنے وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کو چین بھیجا ہے تاکہ تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔ یہ قدم ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان سیاسی اختلافات کے بعد اٹھایا گیا، جن کی وجہ سے دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان مختصر فوجی اور سفارتی جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔
جاپانی میڈیا نے پیر کو کہا کہ جاپانی وزارتِ خارجہ کے ایشیائی و بحرالکاہلی امور کے بیورو کے ڈائریکٹر جنرل ماساکی کنائی کی چینی وزارتِ خارجہ کے ایشیائی امور کے محکمے کے سربراہ لیو جن سونگ سے ملاقات کی امید ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کچھ عرصے سے فوجی اور سفارتی تنازعات میں الجھے ہوئے تھے۔
ان واقعات میں تائیوان کے قرب و جوار کے ایک جزیرے کے پاس مشتبہ چینی ڈرون کی موجودگی کے بعد جاپان کی جانب سے اپنے یوناگونی جزیرے کے قریب لڑاکا طیاروں کی تعیناتی، جاپان کے سینکاکو جزائر کے ارد گرد چینی کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے جہازوں کی مسلسل دراندازی اور جاپان میں مقیم ایک چینی سفارتکار کی جانب سے وزیرِ اعظم سینے تاکائچی کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے انہیں پرتشدد دھمکی دینا شامل ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا سفارتی تنازع شروع ہو گیا۔
مسٹر کنائی کے دورے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری مِنورُو کیہارا نے چین پر تنقید کرتے ہوئے یہ اعادہ کیا کہ بیجنگ کے حالیہ اقدامات گزشتہ ماہ کے آخر میں صدر شی جن پنگ اور محترمہ تاکائچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اتفاقِ رائے کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیانات ایک مستحکم اور تعمیری تعلقات قائم کرنے کے لیے غیر موزوں ہیں۔
حالیہ دنوں میں چین۔جاپان تعلقات میں شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب وزیرِ اعظم تاکائچی نے اس ہفتے کے آغاز میں ارکانِ پارلیمان سے کہا کہ تائیوان پر چین کے کسی بھی فرضی حملے کی صورت میں جاپان کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اس بیان سے بیجنگ میں شدید ردّعمل پیدا ہوا، جس کے جواب میں چین نے اپنے سمندری گشت اور اشتعال انگیز سیاسی بیانات میں اضافہ کر دیا۔
یہ سفارتی مشن ممکنہ دو طرفہ رابطوں کی تمہید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وزیرِ اعظم تاکائچی اور چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ دونوں اس ہفتے کے آخر میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے جی-20 اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں، جہاں وہ براہِ راست اعلیٰ سطحی گفتگو کے ذریعے کشیدگی میں کمی لا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا اجرت آمد و رفت برقرار رہے گی:عُمان
مسقط، عمان کے وزیرِ خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا اجرت آمد و رفت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
البوسعیدی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ مفاہمت نامے بالخصوص آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات قالیباف اور عراقچی کے عمان پہنچنے کے بعد عمل میں آئی، جہاں وہ اس تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے کے انتظام و انصرام کا جائزہ لینے آئے تھے۔ البوسعیدی نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ نقل و حرکت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔”
عمان کا یہ بیان سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگرنسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد، اتوار کے روز قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ فریقین نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمت نامے کے فریم ورک کے تحت، لبنان میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کے فیصلے پر قائم رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں ثالث ممالک کی مدد سے ایک “تنازعات سے بچاؤ کا سیل” قائم کیا جائے گا جس میں امریکہ، ایران اور لبنان شامل ہوں گے۔ امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے دور رہتے ہوئے ڈیجیٹل طور پر اس مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل، اس کے جوہری پروگرام اور دیگر دیرینہ حل طلب مسائل سمیت تمام تنازعات کو نمٹانے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس 14 نکات پر مشتمل مفاہمت نامے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کشیدگی کے فوری اور مستقل خاتمے، ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کو ہٹانے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزر گاہ کی ضمانت دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یورپ کے بیشتر علاقے سخت گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں 18 افراد ہلاک
بروسیلز، یورپ کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی زد میں ہیں، فرانس میں سخت گرمی کے باعث 5 افراد ہلاک ہوگئے جن میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں جب کہ نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وسطی فرانس کے شہر پواتیے میں گرمی کا 78 سالہ ریکاڈ ٹوٹ گیا جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ مغربی فرانس کے علاقے بوردو میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جس نےگزشتہ سال اگست میں قائم ہونے والا ریکارڈ توڑ دیا۔
فرانس میں شدید گرمی کے باعث کئی اسکول بندکر دیےگئے یا ان کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی گئی، متعدد ٹرین سروسز بھی بند کردی گئیں۔ فرانس کے جنوب مشرقی شہر کارپانترا میں سخت گرمی میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں دو بچے بے ہوش گئے، بچوں کی عمریں 2 اور 4 سال تھیں، امدادی کارکنوں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہےکہ بچوں کی موت کی اصل وجہ کا تعین ابھی ہونا باقی ہے، تاہم شدید گرمی کو سب سے بڑا سبب سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ فرانس کے مختلف علاقوں میں تین بزرگ افراد بھی گرمی کی شدت سے جان کی بازی ہار گئے، جب کہ سوئمنگ پول اور دیگر پانی والی جگہوں پر نہاتے ہوئے 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ حکام نے لوگوں کو ہدایت دی ہےکہ صرف نگرانی والے مقامات پر ہی تیراکی کریں۔ دوسری جانب برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہےکہ اس ہفتے جون کے مہینے کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔انگلینڈ اور ویلز میں شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی گئی ہے اور درجہ حرارت 38 درجےکو چھونےکا خدشہ ہے۔
ریڈ وارننگ کا مطلب ہے کہ یہ گرمی جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ بجلی، روڈ اور ریلوے نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ اسپین، اٹلی اور بیلجیئم میں بھی شدید گرمی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کیلئے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی
تہران، سوئٹزر لینڈ مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کیلئے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اقدام کا مقصدکسی بھی قسم کے تصادم یا کشیدگی سے بچناہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی۔
اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کی ضمانت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی اٹھالی ہے جس کے بعد2 ماہ تک ایران امریکا سمیت دنیا بھر میں اپنی پیٹرولیم مصنوعات فروخت کر سکے گا۔
ایران نے پابندیاں اٹھنے اور کچھ ایرانی اثاثے بحال ہونے کی تصدیق کر دی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل خریداری پر پابندی تاحال برقرار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا6 days agoچین کا مشرق وسطیٰ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی پر زور





































































































