دنیا
صدر ایردوآن اور دیگر عالمی رہنما جی 20 سمٹ میں شرکت کرنے کے لیے جوہانسبرگ میں

جوہانسبرگ، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور دیگر عالمی رہنما تاریخی ٹی20 سربراہی اجلاس کے لیے جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ پہنچ گئے ہیں، یہ اجلاس 22 تا 23 نومبر کو ہو رہا ہے ایردوآن او آر ٹمبو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے، جہاں انہیں جنوبی افریقہ کی وزیرِ انسانی آبادکاریاں تھےمبیسلے سیمیلانی، جنوبی افریقہ میں ترکیہ کی سفیر کیزبان نیلوانا دراما یلدرِمگیچ، اور دیگر حکام نے استقبال کیا۔
صدر کے ہمراہ خاتونِ اول امینہ ایردوآن، وزیرِ خارجہ خاقان فیدان، وزیر خزانہ و مالیات مہمت شِمشیک، صدارتی چیف آف اسٹاف حسن دوآن، کمیونیکیشنز ڈائریکٹر برہاندین دُران، خارجہ پالیسی اور سلامتی کے سینئر مشیر عاکف چاعتائے کلِچ، اک پارٹی کے نائب صدر اور ترجمان عمر چیلک اور دیگر سینئر حکام بھی موجود ہیں۔
جوہانسبرگ ایکسپو سینٹر میں ہونے والے اجلاس کے دوران،صدر ایردوان کی ہفتے کو دو سیشنز میں شرکت متوقع ہے، آپ کئی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے اور سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعزازی عشائیے میں شریک ہوں گے۔
اختتام الہفتہ ہونے والے اجلاس میں دنیا کی 18 امیر اور اعلیٰ ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندہ ٹیمیں شرکت کریں گی — یہ اجلاس امریکہ کی عدم شراکت سے ہو رہا ہے جس نے جنوبی افریقہ کی میزبانی کو “شرمناک” قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور جی۔20 بانی رکن امریکہ کی طرف سے بائیکاٹ کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دعوے کی بنیاد پر کیا تھا کہ اکثریتی سیاہ فام جنوبی افریقہ اپنی سفید فام اقلیت پر ظلم کر رہا ہے۔
جنوبی افریقہ کے وزیرِ خارجہ رونالڈ لامولا نے کہا ہے کہ”ہم موجودہ ممالک کو قائل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہمیں قائدین کا ایک اعلامیہ اپنانا چاہیے کیونکہ یہ ادارہ کسی غیر حاضر فرد کی وجہ سے روندا نہیں سکتا۔”
جی۔20 میں توسیع کے بعد اب یہ 21 ارکان پر مشتمل ہے — 19 ممالک کے علاوہ یورپی یونین اور افریقی یونین — اور اس کا مقصد امیر اور غریب ممالک کو یکجا کر کے مسائل، خاص طور پر عالمی معیشت سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے رہنما روایتی طور پر بطور مہمان اجلاس میں شرکت کرتے ہیں، اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹِریش بھی جوہانسبرگ پہنچ چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات مکمل
تہران، سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تکنیکی مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں اور اب دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی امور اور پابندیوں پر ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 4 ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایران پر پابندیوں کے خاتمے اور جوہری امور پر الگ ورکنگ گروپس کام کریں گے۔ ان کے علاوہ تعمیر نو، اقتصادی ترقی اور مانیٹرنگ کیلیے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔
اس حوالے سے ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین ورکنگ گروپس قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سربراہ ایران تکنیکی ٹیم کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ اعلیٰ سطح کمیٹی کی نگرانی میں ہوگا۔ اس اعلیٰ سطح کمیٹی میں ایران، امریکا، پاکستان اور قطر شامل ہوں گے۔
یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کی دھمکیوں کا سلسلہ نہ رک سکا، اس بار معاہدے کی پاسداری بہانہ بن گئی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو ایسے اقدامات کروں گا جس کا تصور بھی محال ہوگا۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، دیکھتے ہیں معاملات کس ڈگر پر چلتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا ایران جوہری معاملے پر شفافیت یقینی بنانے پر آمادہ ہو چکا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق معائنوں کی اجازت دینے پر بھی رضامند ہے۔
انھوں نے کہا آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہے اور خطے کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور لیڈر شپ سب ختم ہوچکی ہے، اگر ایران معاہدے پر قائم نہیں رہا تو وہی کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دہرایا کہ اُن کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، اُن کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، اُن کے تمام رہنما مارے جا چکے ہیں، اُن کا پورا ملک تباہ حالی کا شکار ہے، اُن کی معیشت مفلوج ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا اور آپ کو نیویارک ٹائمز کو پتہ ہے جو جعلی خبریں پھیلاتا ہے، اس نے کہا ’’ارے، حالات تو تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے 4 ماہ پہلے تھے!‘‘ نہیں چار ماہ پہلے ان کے پاس بحریہ تھی، 159 بحری جہاز تھے، جو اب نہیں ہیں، ان کی پوری بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کے 250 طیارے تباہ ہو چکے ہیں، ان کے تمام طیارے اور ریڈار کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا اگر ایران اپنے معاہدے پر عمل نہیں کرتا یا وہ مناسب رویہ نہیں اپناتے تو میں وہ سب کچھ کروں گا جو مجھے کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے حوالے سے کہا کہ مستعفی برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر مسائل پر قابو نہیں پا سکے، اسٹارمر کو توانائی، امیگریشن بحران اور جرائم کی بڑھتی وارداتوں کا سامنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد انھوں نے اسٹارمر کی مدد کی پیشکش قبول نہیں کی، ایران جنگ کے دوران اٹلی کا رویہ بھی انتہائی برا رہا، یورپ کے تحفظ کے لیے ہم نے کھربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
باقر قالیباف نے امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں آنے سے انکار کیوں کیا تھا
عمان، باقر قالیباف نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں مذاکرات کے دوران امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ فریم قبول نہیں کیا اور ٹرمپ کے بیان کے بعد مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا تھا۔
ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بتایا کہ انہوں نے مذاکرات میں شرکت کی تھی، تاہم امریکی وفد کے ساتھ ایک فریم میں آنے یا مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ باقر قالیباف کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی وفد نے مذاکرات جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ دھمکیوں اور طاقت کی زبان کے ماحول میں ایران کبھی مذاکرات نہیں کرتا۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان پر احتجاجاً مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان کے بقول انھوں نے جے ڈی وینس کو یاد دلایا کہ مفاہمتی یادداشت میں دھمکیوں سے گریز کی شق موجود تھی۔ باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایرانی وفد امریکی ٹیم کے ساتھ دوبارہ نہیں بیٹھا، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالثوں نے مذاکراتی عمل جاری رکھا، جب کہ ثالث ممالک کو واضح کر دیا گیا تھا کہ امریکی وفد کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر باقر قالیباف نے اسرائیل کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی حکومت مذاکراتی عمل کی شدید مخالفت کرتی ہے اور مذاکراتی راستے میں اپنی تباہی دیکھتی ہے۔ ایرانی اسپیکر کے بقول اسرائیل کسی صورت کسی معاہدے کا پابند نہیں ہونا چاہتا اور مذاکراتی عمل کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار اسرائیل کو سخت زبان استعمال کر کے روکنے کی کوشش کی اور کئی بار اسرائیل کو حکم دیا اور اپنی مخصوص لغت بھی استعمال کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان5 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
ہندوستان1 week agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا6 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا6 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان
ہندوستان6 days ago’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
تجزیہ1 week agoسبز توانائی اور موسمیاتی بحران
دنیا7 days agoامریکہ ایران معاہدے پر الیکٹرانک دستخط ٹرمپ وینس نے کئے
دنیا6 days agoچین کا مشرق وسطیٰ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی پر زور




































































































