دنیا
ایران-امریکہ مذاکرات میں ممکنہ خرابی کے درمیان عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ
ماسکو ، تجارتی اعداد و شمار کے مطابق ، برینٹ کروڈ کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب بڑھ رہی ہیں ، جبکہ یورپی گیس کی قیمتیں تقریبا 10فیصد بڑھ کر 515 ڈالر فی ہزار مکعب میٹر سے اوپر ہو گئی ہیں ، ایسے میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ خرابی کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں ۔
برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت 6.3 فیصد بڑھ گئی ، جو فی بیرل 96 ڈالر سے تجاوز کر گئی ۔
لندن میں مقیم آئی سی ای ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق ، یورپی گیس کی قیمتیں تقریبا 10فیصد بڑھ رہی ہیں ، جو 515 ڈالر فی ہزار مکعب میٹر سے تجاوز کر رہی ہیں ۔
ٹی ٹی ایف انڈیکس (نیدرلینڈز میں واقع یورپ کا سب سے بڑا مرکز) پر مئی کا فیوچر 21:59 جی ایم ٹی تک 518 ڈالر فی ہزار مکعب میٹر پر تجارت کر رہا تھا ، جو پچھلے تجارتی دن کی تصفیہ قیمت 472.7 ڈالر فی ہزار مکعب میٹر سے 9.6 فیصد زیادہ ہے ۔
اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کے نمائندے ایران پر بات چیت کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے 24 گھنٹوں میں دوبارہ شروع ہو جائیں گے ۔ آئی آر این اے نے بعد میں اطلاع دی کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔
مزید برآں ، پیر کی رات ، یو ایس سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی تجارتی جہاز کے قبضے کی تصدیق کی ۔
یو این آئی۔ ایم جے۔
دنیا
واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں، ایران نے مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر دیا
تہران، ایران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں، واشنگٹن سے فی الحال بات چیت کا ارادہ نہیں ہے۔
ترجمان نے کہا موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے، امریکہ ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہوں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ کی غلطیوں کا تسلسل خطے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، غلط پالیسیوں سے کبھی مثبت نتائج نہیں نکل سکتے، امریکہ کی روش خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے رہی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اقدامات خطے میں استحکام کی بجائے بحران بڑھا رہے ہیں، امریکہ میڈیا کے ذریعے متضاد بیانات دے رہا ہے جب کہ ہم نے ایک ہی مؤقف رکھا ہے، ہماری شرائط لاجک پر مبنی ہیں اور کچھ میڈیا ایسا دعویٰ کر رہا ہے جس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں کر سکتا، وہ اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر انحصار کر رہا ہے، ماضی میں بھی امریکہ نے معاہدوں کے منافی اقدامات کیے۔ امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری میں ان کی دل چسپی نہیں ہے، ایسے میں ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات کسی ملک کی بدمعاشی پر قربان نہیں کر سکتے، پاکستان کو بطور ثالث امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کر دیا، پاکستان نے امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایران پر جارحیت کے لیے امریکہ نے پڑوسی ممالک کے اڈے استعمال کیے۔ انھوں نے کہا ایران نے 10 نکاتی تجویز پیش کی تھی جس پر اسلام آباد ٹاکس میں غور کیا گیا، امریکہ نے لبنان میں جنگ بندی کو سیز فائر معاہدے کا حصہ ماننے سے انکار کیا، امریکہ نے بحری ناکہ بندی نافذ کر کے کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، ایرانی جہاز پر حملہ جنگ بندی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس نے مذاکراتی عمل کی 2 بار خلاف ورزی کی، لبنان میں جنگ بندی کی بنیاد پر ہی ہم نے آبنائے ہرمز کو کھولا تھا، لیکن ہم نے امریکی بددیانتی کے کئی اقدامات دیکھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق امریکہ نے میڈیا میں بہت باتیں کیں، جب کہ مذاکراتی دور میں اس نے افزودہ یورینیم کی منتقلی سے متعلق بات ہی نہیں کی تھی۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن ایران کی سائنسی میدان میں ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایران کی عوام کا بھی سائنسی میدان میں ترقی حق ہے، ایران کی ترقی روکنے کے لیے دشمن نے ہماری یونیورسٹیوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ زیادہ دور نہیں
واشنگٹن، فاکس نیوز سنڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کرس رائٹ نے کہا کہ عوامی سطح پر باتیں سامنے آنے کے باوجود ایرانیوں سے مذاکرات جاری ہیں میرے خیال میں یہ مذاکرات درحقیقت اچھی پیشرفت ہیں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ تخلیقی مذاکرات کار ہیں جو مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالتے ہیں ٹرمپ غیریقینی صورتحال کو بھی ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس تنازع کا ایک اچھا اختتام ہو گا۔
کرس رائٹ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد بحری جہازرانی کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلیے اپنا وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے بڑی شرط رکھ دی۔
ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تاحال اسلام آباد میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکا کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد حالیہ دنوں میں ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلان
تہران، امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر چڑھ کر قبضہ کر لیا ہے، ایرانی فوج نے اسے ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے جب انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے لیے اپنی ٹیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کارروائی کرتے ہوئے ایرانی پرچم والے مال بردار بحری جہاز ’’توسکا‘‘ کو قبضے میں لیا،
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا یہ کارروائی یو ایس ایس سپروئنس نے بحیرہ عرب میں کی، ایک بحری جہاز ’ایم وی توسکا‘ بندر عباس کی جانب جا رہا تھا، متعدد وارننگز کے باوجود جہاز نے حکم نہ مانا، 6 گھنٹے بعد جہاز کے انجن روم خالی کرانے کا حکم دیا گیا۔ سینٹکام کے مطابق فائرنگ کے بعد جہاز کا انجن ناکارہ بنا دیا گیا، فائرنگ سے جہاز کی حرکت مکمل طور پر روک دی گئی، اور 31 ویں میرین یونٹ نے جہاز پر قبضہ کر لیا، تعاون نہ کرنے پر بحری جہاز کو امریکہ نے تحویل میں لیا۔
سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پیشہ ورانہ اور متناسب انداز میں کی گئی۔ امریکی فوج نے ایرانی بحری جہازوں پر چڑھ کر انھیں ضبط کرنے کی تیاری کر لی، وال اسٹریٹ جرنل ایرانی فوجی ہیڈکوارٹرز نے رد عمل میں کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر کے امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ نے نیوی گیشن سسٹم کو غیر فعال کر کے اہلکاروں کو جہاز میں اتارا، خلیج عمان میں اس بحری قزاقی کا جلد جواب دیں گے۔
اس سے قبل ابتدائی بیان میں ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی امریکی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے، امریکی افواج نے بحیرہ عمان میں ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کی، تاہم ایرانی بحریہ کی بروقت کارروائی سے امریکی فوج کو پسپائی ہوئی، امریکی فوج موقع سے واپس چلی گئی۔ تاہم ایرانی فورسزکے بیان میں کسی بحری جہاز کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ دوسری طرف ایک ایرانی ذریعے نے الجزیرہ کو بتایا کہ ایران اس مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ اسے امریکا نے دھوکا دیا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک درحقیقت ایک اور کشیدگی کے دہانے پر ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر7 days agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا7 days agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا7 days agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وفد کی پیشگی شرائط منظور کرلیں تو دوپہر کو امریکی حکام سے مذاکرات ہوں گے: ایرانی میڈیا
دنیا1 week agoڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت میں کمی: ڈیموکریٹ کملا ہیرس نے 2028ء کا صدارتی انتخاب لڑنے کا عندیہ دیدیا
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ





































































































