تازہ ترین
ایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی
تہران، ایران کی حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم تہران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز ہے۔
منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا ”ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں” لیکن ایرانی حکام اب بھی سفارتی راستے اور ملکی مفادات پر مبنی حل کے لیے پرعزم ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق انہوں نے اشارہ دیا کہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی معاہدہ ”انتہائی نازک صورتحال” میں داخل ہو چکا ہے، جس سے دوبارہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اب فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر زیادہ سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے پر برہم ہیں جبکہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات بھی مذاکرات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ادھر پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق سب سے بڑا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر ہے، جہاں امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے اور اندرون ملک افزودگی مکمل طور پر روک دے۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ ان حساس معاملات پر بات چیت بعد کے مرحلے میں ہونی چاہیے۔
اس دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج تک لے جاتے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران تمام آپشنز کے لیے تیار ہے اور مخالفین حیران رہ جائیں گے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ، ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روک دے گا
واشنگٹن، 1 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران یورینیم افزودگی مکمل طور پر روک دے گا اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں بھی ترک کر دے گا۔
امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایران کے ایٹمی فضلے کو حاصل کر لے گا اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے تیزی سے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی بھی اقدام میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے حوالے سے جاری ناکہ بندی کے باوجود واشنگٹن محتاط انداز میں آگے بڑھے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی عہدیداروں کے ساتھ براہ راست رابطے بھی کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے معاملے میں ”بڑی فوجی کامیابی” حاصل کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایران کے حوالے سے کسی قسم کا دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہے اور واشنگٹن ”مکمل فتح” حاصل کرے گا۔
امریکی صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ ایران کا معاملہ حل ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکہ پر اعتماد نہیں، لیکن مذاکرات ممکن ہیں: مسعود پزشکیان
تہران، مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ پر اعتماد نہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ مذاکرات کو اب بھی ممکن سمجھتا ہے۔
ایرانی صدارتی میڈیا آفس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ تہران سفارتی راستے کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اگرچہ واشنگٹن پر اعتماد کا فقدان موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کو میدانِ جنگ میں اپنی مسلح افواج کی حاصل کردہ کامیابیوں کو سفارتی میدان میں بھی مستحکم کرنا ہوگا۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کے اسپیکر اور سینیئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے تہران کی 14 نکاتی تجویز میں شامل شرائط قبول نہ کیں تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ امریکی تجویز پر ایرانی ردعمل کو مسترد کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے گزشتہ شام کہا تھا کہ 8 اپریل سے نافذ نازک جنگ بندی اب ”وینٹی لیٹر پر” ہے۔
ایران نے اپنے جواب میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی تجویز میں ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت شامل تھی جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ اور 30 روز کے اندر جوہری مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کرنا تھا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سب سے بڑا اختلاف اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر برقرار ہے۔ امریکہ اصرار کر رہا ہے کہ ایران یہ مواد ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایران نے ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کے حق پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ افزودگی کی سطح پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٰیواین آئی۔ م س
ہندوستان
آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی بالواسطہ حمایت کرنے والے ممالک خود احتسابی کریں: وزارت خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی بالواسطہ مدد کرنے کے حوالے سے چین کا حالیہ اعتراف، ہندوستان کے دعووں اور حقائق کی تصدیق کرتا ہے ہندوستان نے مزید کہا کہ پاکستان کی پراکسی حمایت کرنے والے ممالک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ دہشت گرد ٹھکانوں کو بچانے کی ان کی کوششیں ان کی ساکھ اور عالمی حیثیت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران چین کے اس اعتراف سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ متعلقہ رپورٹس سے ہندوستان کے موقف کی توثیق ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جو ممالک خود کو ذمہ دار ریاستیں سمجھتے ہیں، انہیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کے تحفظ کی حمایت سے ان کی عالمی ساکھ کس طرح متاثر ہوتی ہے۔
ترجمان نے کہا، “ہم نے ایسی رپورٹس دیکھی ہیں جو پہلے سے معلوم حقائق کی تصدیق کرتی ہیں۔ آپریشن سندور، پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں ایک درست، ٹارگٹڈ اور متوازن کارروائی تھی، جس کا مقصد پاکستان سے چلنے والے اور اس کی پشت پناہی سے سپانسر شدہ دہشت گرد ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔ وہ اقوام جو خود کو ذمہ دار سمجھتی ہیں، انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے ڈھانچے کی حفاظت کی کوششوں کی حمایت ان کے وقار اور عالمی مقام کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے آپریشن سندور کے بعد کہا تھا کہ چین اور ترکیہ جیسے ممالک نے اس آپریشن کے دوران پاکستان کی بالواسطہ حمایت کی تھی۔ حال ہی میں چینی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا4 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا4 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان5 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا










































































































