ہندوستان
کاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
نئی دہلی، سوشل میڈیا کے پیٹ سے حال ہی میں پیدا ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کنوینر ابھجیت دیپکے نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی پارٹی کسی پہلے سے طے شدہ سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ حکومت سے ناراض لوگوں کی آواز بن کر ابھری ہے اور چند ہی دنوں میں لاکھوں لوگ اس سے جڑ چکے ہیں۔
مسٹر دیپکے اور سی جے پی کی اپیل پر ہفتہ کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے جمع ہو کر کچھ آل انڈیا امتحانات میں پرچے لیک ہونے کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مسٹر دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے اقتدار پر قابض بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عوام کو ہندو مسلم مسائل میں الجھا کر رکھا ہے، جبکہ اصل سوال روزگار، روزی روٹی اور عام لوگوں کے مسائل کا ہے۔ انہوں نے کہا، “گزشتہ 10-12 سالوں سے ہمیں ہندو مسلم میں الجھا کر رکھا گیا۔ کیا ہندو مسلم سے نوکریاں مل رہی ہیں کیا ہندو مسلم کی سیاست سے لوگوں کے گھر اچھی طرح چل رہے ہیں؟ آخر ہندو مسلم کی سیاست سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے”
مسٹر دیپکے نے مظاہرین سے تحریک کو پرامن رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کئی طاقتیں اس تحریک کو ناکام دیکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، “گزشتہ پانچ دنوں سے میں مسلسل گزارش کر رہا ہوں کہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پرامن رہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس تحریک کو ناکام نہ ہونے دیں۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے خلاف بولنے والے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں میں خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔
مسٹر دیپکے نے کہا، “جب میں امریکہ سے ہندوستان لوٹ رہا تھا، تب میری ماں رو رہی تھیں۔ انہیں ڈر تھا کہ حکومت مجھے جیل میں ڈال دے گی۔ یہ صرف میری ماں کا ڈر نہیں ہے، بلکہ ہر اس ماں کا ڈر ہے جس کا بیٹا حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ وہ خوف کی سیاست سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ مسٹر دیپکے نے کہا کہ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوئے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے، لیکن کارروائی کرنے کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، “ہم گزشتہ ایک ماہ سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں لیکن یہ لوگ توجہ ہٹانے میں لگے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کیے جا رہے ہیں اور پوسٹس ہٹوائی جا رہی ہیں۔ آپ ہماری پوسٹ تو ڈیلیٹ کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں اس جگہ سے مٹا نہیں سکتے۔” اسی دوران، سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “لوگ پوچھتے ہیں کہ تحریک، دھرنا مظاہرہ اور جلوس نکالنے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم زندہ ہیں۔”
اس پارٹی نے اپنا نام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک تبصرے سے لیا ہے جس میں انہوں نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران عدالت اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے یا آر ٹی آئی کارکن بن کر دوسروں پر حملہ کرنے والوں کو ‘کاکروچ’ کا نام دیا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یہاں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سے گھریلو معیشت پر پڑنے والے اثرات پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے میٹنگ کی صدارت کی۔ ملک میں اقتصادی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی کی ترجیحات سے جڑے کئی موضوعات پر بحث کی۔ ساتھ ہی، اصلاحات کے عمل کو مزید رفتار دینے اور ‘ایز آف لیونگ’ (زندگی کو سہل بنانے) اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (کاروبار کی آسانی) کو یقینی بنانے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔” میٹمگ میں ممتاز ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے ہندوستانی معیشت و سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات پر خاص طور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ جیسے مسائل پر بھی گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔
اس میٹنگ کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک میں اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور وسیع تر اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جمعہ کو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد بڑھانے کے لیے سرکاری سکیورٹیز (جی-سیک) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے ہونے والی سود کی آمدنی یا سرمائے کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سال کی مدت کی سرکاری سکیورٹیز کے نئے ایشوز کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے اہل سکیورٹیز کی مدت کے ساورن گرین بانڈز میں سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ریزرو بینک نے کل ہی اپنے دو ماہی اقتصادی جائزے میں عالمی جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مانسون کے خدشات کے درمیان رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے تخمینے کو کم کر کے 6.6 فیصد، اور خردہ افراط زر کے تخمینے کو بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اپریل کے پالیسی جائزے کے وقت آر بی آئی نے رواں مالی سال کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد اور افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔
اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں، اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ سرحدوں کی نگرانی کے لیے حکومت کے ‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔
مسٹر شاہ نے جمعہ کو تریپورہ میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی لنکامورا سرحدی چوکی کا معائنہ کرنے کے بعد جوانوں کے ساتھ بات چیت کی۔ انہوں نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اگرتلا میں شجرکاری مہم کے تحت ‘اگر’ کا پودا لگایا۔ سرحدوں پر کئی طرح کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں جہاں سرحد پر بی ایس ایف اور سشستر سیما بل تعینات ہیں، وہاں ‘اسمارٹ بارڈر’ تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چار نکاتی حفاظتی حکمتِ عملی کے تحت، مقامی انتظامیہ، ٹیکنالوجی اور جوانوں کی محنت کو ساتھ لیتے ہوئے سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمارٹ بارڈر کے تصور پر بحث آخری مرحلے میں ہے اور اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک ساتھ ملک کی مختلف سرحدوں پر سات یا آٹھ مقامات پر اس پائلٹ پروجیکٹ کو شروع کریں گے۔
پائلٹ پروجیکٹ میں جو بھی ابتدائی مسائل آئیں گے انہیں دور کر کے پوری سرحد کو اسمارٹ بارڈر بنانے کی سمت میں ہم آگے بڑھیں گے۔ اس کانسیپٹ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ایس پی، گاؤں کے پٹواری اور سرپنچ کا بھی کردار ہوگا۔ جب تک سرحدی علاقوں کی مقامی انتظامیہ کو ہم اس میں شامل نہیں کرتے، تب تک ہم سرحد کو ناقابلِ تسخیر نہیں بنا سکتے۔ اگر ہم تنہائی میں سرحد کی سکیورٹی کا تصور کرتے ہیں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ تریپورہ فرنٹیر ملک کی سرحد کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر باڑ کی جدید کاری کے لیے 15 سال سے پرانی تقریباً 650 کلومیٹر کی باڑ میں سے 119 کلومیٹر نئی باڑ کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کی سہولیات کے لیے سرحدی چوکیوں میں بجلی کی فراہمی، گرین انرجی کے اقدامات، جوانوں کے لیے محفوظ پینے کا پانی وغیرہ جیسے پروجیکٹوں کا کام مکمل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تریپورہ تین طرف سے سرحدوں سے گھرا ہوا ایک حساس ریاست ہے۔ انہوں نے ملک کو 2047 تک مکمل طور پر ترقی یافتہ بنانے کے لیے سب سے پہلے اسے محفوظ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ملک کو اسمگلنگ، انسانی تریفکنگ (انسانی اسمگلنگ) اور ملک کے نوجوانوں کو نشے سے محفوظ کرنا ہوگا۔ ہر چیز کے لیے سکیورٹی کا انتظام ہو، ایسا اسمارٹ سکیورٹی گرڈ بنانے کا کام حکومت نے ہاتھ میں لیا ہے۔” مسٹر شاہ نے کہا کہ باڑ کی سکیورٹی کے پورے تصور اور کام کے کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے معاشرے کو متاثر کرنے والی ہر برائی سے ملک اور سرحدوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سرحدی سکیورٹی کی اسمارٹ فینسنگ اور چار نکاتی سکیورٹی گرڈ کے تصور کو آنے والے دنوں میں سرحد کی حفاظت کرنے والی ہر مرکزی مسلح پولیس فورس کے کام کا کلچر بنانے کی شروعات کی گئی ہے۔”
مرکزی وزیر داخلہ نے ماحولیات کے تحفظ میں پولیس فورسز کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 سے لے کر آج تک تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز کے جوانوں نے تقریباً 7.5 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے ہیں۔ اس سال بھی 40 سے 60 لاکھ درخت لگائیں گے اور لگائے ہوئے درختوں میں سے جو درخت زندہ نہیں رہ سکے، ان تمام درختوں کو دوبارہ لگانے کا کام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے لیے دو کروڑ درخت لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے بی ایس ایف کی 37 ویں کور میں جوانوں کی رہائش گاہوں کا ای-افتتاح اور 97 ویں کور میں کوارٹر گارڈ کمپلیکس کا ای-
سنگِ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی سہولیات بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
شجرکاری مہم کے تحت آج ایک دن میں مرکزی مسلح پولیس فورسز، آسام رائفلز، نیشنل سکیورٹی گارڈ، دہلی پولیس، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور انٹر اسٹیٹ کونسل سیکرٹریٹ سمیت وزارتِ داخلہ کے تمام دفاتر نے ملک بھر میں 5 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے۔ اس موقع پر تریپورہ کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مانک ساہا، مرکزی ہوم سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، سکریٹری بارڈر مینجمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل بارڈر سکیورٹی فورس سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoامرناتھ یاترا: اعلیٰ سطح کی چوکسی اور ہم آہنگی برقرار رکھیں، جموں کے ایس ایس پی کی پولیس کو ہدایت
دنیا1 week agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا6 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز کے قریب دشمن کے ڈرونز گرانے کے لیے بڑا انتظام
دنیا1 week agoایران کے شہید رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی: برطانوی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع






































































































