تازہ ترین
ایگزٹ پول 2019: جنوبی ہند میں کس ریاست میں کس کومل سکتی ہیں کتنی سیٹیں

خبراردو: بھارت کی سیاست میں جنوبی ہند کی ریاستیں بھی اہم رول ادا کرتی ہے۔جنوبی ہندمیں پانچ ریاستیں ہیں جن میں آندھراپردیش۔ تلنگانہ ۔ کرناٹک۔ تمل ناڈو اور کیرالاشامل ہے۔ تمل ناڈو میں 38، آندھراپردیش میں 25، تلنگانہ میں 17،کرناٹک میں 28 اورکیرالا میں 20 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ آندھراپردیش میں خصوصی درجہ کے مطالبہ کو لیکرووٹ ڈالے گئے ہیں۔
وہیں تلنگانہ میں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ نے غیرکانگریس اور غیربی جے پی والے تیسرے محاذ تشکیل دینے پرروزدیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیاہے۔ یہاں مہنگائی، بے روزگاری، اور کسانوں کے مسائل پر انتخابات ہوئے ۔جبکہ پڑوسی ریاست وہیں کرناٹک میں خشک سالی، بے روزگاری اور کسانوں کے مسائل انتخابات اثراندازہوئے۔اسطرح تمل ناڈو کے 38 سیٹوں پرپہلی بارکرونانندھی اورجےلیلیتا کے بغیرانتخابات ہوئے ہیں۔ یہاں ڈی ایم کے، سی پی آئی، سی پی ایم سمیت دیگرپانچ علاقائی پارٹیوں نے کانگریس کے اتحادکیاہے۔ وہیں اے آئی اے ڈی ایم کے نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی ہے۔ وہیں کیرالا میں لفٹ ڈیموکرٹیک فرنٹ ،کانگریس کی قیادت والےیونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے علاوہ این ڈی اے کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہوا۔
جنوبی ہند کی 128 سیٹوں پرہوئے لوک سبھا انتخابات میں تمام پارٹیوں نے زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی ۔17ویں لوک سبھا انتخابات کو لے کراس بار آندھراپردیش میں چندرابابونائیڈو کی قیادت میں تلگودیشم اور جگن موہن ریڈی کی وائی ایس آرکانگریس کے درمیان کڑی ٹکر ہوئی ہے۔ وہیں بی جے پی اورکانگریس نے بھی آندھراپردیش میں مقابلہ کیاہے۔
جبکہ تلنگانہ میں ٹی آرایس۔ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ ہواہے۔ وہیں حیدرآباد کی ایک سیٹ پرمجلس اتحادالمسلمین نے بھی اپنا امیدواراتارا ہے۔ اسی طرح کرناٹک میں جے ڈی ایس ۔ کانگریس اتحاد کا بی جے پی سے مقابلہ ہواہے۔ وہیں تاملناڈو میں ڈی ایم کے، سی پی آئی، سی پی ایم سمیت دیگرپانچ علاقائی پارٹیوں نے کانگریس کی قیادت میں انتخابات میں حصہ لیاہے۔ جبکہ کیرالا میں لفٹ ڈیموکرٹیک فرنٹ یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اور بی جے پی کے انتخابی جنگ ہوئی ہے ۔ وہیں تاملناڈو میں ڈی ایم کے سربراہ اسٹالن کے علاوہ
یہ ہیں جنوبی ہند کی ہاٹ سیٹیں اوربڑے چہرے
اس الیکشن میں جنوبی ہند سے کئی اہم سیاسی لیڈروں کی قسمت داؤ پرہے۔ جن میں سے سب سے بڑا نام کانگریس صدراہل گاندھی کاہے جو کیرالا کی وائناڈ کی سیٹ سے اپنی قسمت آزمارہے ہیں ۔ وہیں کرناٹک سے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوگوڑ حلقہ پارلیمان تمکورسے اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ جبکہ حیدرآباد سے مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسدالدین اویسی انتخابی جنگ لڑرہے ہیں۔
وہیں آندھراپردیش میں وزیراعلیٰ این چندرابابونائیڈو کے فرزند نارا لوکیش نائیڈو انتخابی میدان میں ہے۔ وہیں تلنگانہ میں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ کی بیٹی کے کویتاراؤ حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد سےاپنی قسمت آرمارہی ہیں۔جبکہ تمل ناڈو میں ڈی ایم کےبانی سی این انادورائی، سابق مرکزی وزیر آروینکٹ رامن اور فلم اداکار وجئنتی مالابالی کے علاوہ ٹی آربالو نے انتخابات میں حصہ لیاہے۔وہیں تاملناڈو میں فلم اسٹاکمل ہاسن کی پارٹی کے امیدواروں نے بھی اپنی قسمت آزمائی ہے۔
کس ریاست میں کس کو کتنی سیٹں ملیں گی۔
تمل ناڈو
کْل سیٹیں : 38
اے آئی اے ڈی ایم کے واتحاد : 14سے 16سیٹیں
ڈی ایم کے واتحاد : 22 سے 24 سیٹیں
کرناٹک
کْل سیٹیں : 28
بی جے پی : 21 سے 23
کانگریس اورجے ڈی ایس : 05 سے 07
آندھراپردیش
کْل سیٹیں : 25
ٹی ڈی پی : 10 سے 12
کانگریس : 0
وائی ایس آر کانگریس : 13 سے 14
بی جے پی : 01
تلنگانہ
کْل سیٹیں : 17
ٹی آرایس : 11 سے 13
بی جے پی : 01 سے 02
کانگریس : 01 سے 02
مجلس اتحادالمسلمین : 01
کیرالا
ایل ڈی ایف : 11 سے 13
یوڈی ایف : 07 سے 09 (کانگریس04 سے 07، آئی یو ایم ایل 01 سے 03
نیوز 18 اپسوس ایگزٹ پول
دنیا
ایران آبنائے ہرمز میں شپنگ کنٹرول سسٹم کا اعلان کرے گا: رکن پارلیمنٹ
تہران، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کرے گا۔
علاقائی کشیدگی اور سمندری سلامتی سے متعلق جاری تنازعات کے درمیان، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ معلومات مشترک کی ہیں۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ‘ایکس’ پر لکھا، “ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارتی سلامتی کی ضمانت کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے سے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کر لیا ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف انہی تجارتی جہازوں اور فریقین کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت ہوگی جو ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے فیس (ٹیکس) بھی نافذ کرے گا۔
یواین آئی۔م س
جموں و کشمیر
پہلگام سڑک حادثے میں گجرات کے دو سیاح ہلاک، تین زخمی
سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے میں آرو ویلی روڈ پر ہفتہ کے روز ایک سیاحتی ٹیکسی حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو سیاح ہلاک جبکہ ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق سیاحتی ٹیکسی بے قابو ہو کر سڑک سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت باوِن بھاوسر اور نینا کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں گجرات کے رہائشی تھے۔
زخمیوں میں اوِن بھاوسر، اشوک نینا، دونوں ساکنان گجرات اور ڈرائیور رئیس احمد بٹ، ساکن رنگورڈ پہلگام شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہلگام میں ایف آئی آر نمبر 41/2026 درج کر لی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے 72 کروڑ روپے کے گندے پانی کے منصوبوں کی منظوری دے دی
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی تخمینی لاگت بالترتیب 37.96 کروڑ روپے اور 34.43 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دونوں شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گندے پانی کے انتظام کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ یہ بات ایک سرکاری ترجمان نے ہفتہ کو بتائی۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ان منصوبوں سے سیوریج کے سائنسی طریقے سے ٹھیک کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، آبی ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے گا اور بارہمولہ و راجوری کے رہائشیوں کی صحت، صفائی اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے سوچھ بھارت مشن (اربن) 2.0 کے کیپیکس جزو کے تحت میونسپل کونسل بارہمولہ اور میونسپل کونسل راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) تیار کی ہیں۔
ان ڈی پی آرز کا تکنیکی جائزہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر نے لیا ہے۔ ان منصوبوں پر سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، جو ایک ہی مرحلے میں حیاتیاتی طریقے سے گندے پانی کے مؤثر علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
یہ منصوبے بارہمولہ اور راجوری میں صفائی کی سہولیات کو بہتر بنانے اور پائیدار گندے پانی کے علاج کے نظام قائم کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے ہیں۔ دونوں منصوبوں کو 18 ماہ کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا3 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا3 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان4 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا6 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
تازہ ترین6 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان3 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا7 days agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا






































































































