تازہ ترین
گیلانی کا خط خان تک کیسے پہنچا ؟

خبراردو ڈیسک:
بزرگ حریت پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی جو کہ کئی سالوں سے گھر میں نظر بند ہیں ۔جبکہ ۵ اگست کے بعد سے ان کے علاوہ دیگر حریت پسند لیڈران کی نظر بندی سخت کی گئی ہے ۔
لیکن دوسری جانب گزشتہ ہفتے ان کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط ارسال کئے جانے کا خلاصہ ہوا ہے ۔ یہ خبر سب سے پہلے ترکی کی ایک نیوز ایجنسی کی جانب سے شائع کی گئی تھی ۔ اور اب ایک اخبار میں شائع ہوئی خبر کے مطابق جموں کشمیر پولیس مرکزی سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس کا پتہ لگا رہی ہے کہ آیا اگر خط پاکستان پہنچاہے تو کیسے پہنچا۔
اور اب اگلے کچھ دنوں میں اس میں باضابطہ تحقیقات شروع کی جائے گی۔
رپورٹ میں سینئر سرکار ی افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ” اگر سید علی گیلانی نے خط لکھا تو وہ کس نے اسکے گھر سے باہر لایا اگر وہ کڑی سیکورٹی میں نظر بند ہیں “۔
وہیں انہوں نے مزید کہا کہ ” کیا یہ خط کسی عسکریت پسند نے لائن آف کنٹرول کے زریعے یا پھر کسی انٹرنیشنل راستے کے زریعے پاکستان پہنچایا گیا “۔
واضح رہے ۱۲ نومبر کو اس خط کی خبر ترکی کی ایک نیوز ایجنسی نے شائع کی ۔
خبروں کے مطابق گیلانی نے خط میں لکھا ہے کہ “بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کر کے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے ، لیکن کشمیری اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوئے.
انھوں نےعمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اٹھانے کو قابل تحسین قرار دیا۔ ،انھوں نے 1988، 2008، 2010 اور 2016 کو جدوجہد کے تاریخی سال قرار دیا۔
سید علی گیلانی نے خط میں خان سے اپیل کی کہ وہ تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کریں کیونکہ بھارت نے یک طرفہ طوپر خود ان معاہدوں کو ختم کیا ہے جبکہ ایل او سی کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے یہ میراآپ سے آخری رابطہ ہو ، جو علالت اور زائد عمر کے باعث دوبارہ نہ ہوسکے، اس موڑ پر آپ سے رابطہ نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ قومی اورذاتی فریضہ بھی ہے.
آپ کو بتادیں خط کے بعد عمران خان نے کشمیر کی صورتحال پر ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی ،جس میں آگے کا لائحہ عمل طے دینا تھا ۔
دوسری جانب سے خبر کے منظر عام پر آنے سے سیکورٹی ایجنسیوں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے ۔ انتظامیہ یہ دعوی کر رہی تھی کہ وادی میں انٹرنٹ بند رکھنا صرف یہاں پاکستان کے حامی اور عسکریت پسندوں کے سرحد پار والوں سے روابط کو ختم کروانا ہے ، جس سے وادی میں حالات پرامن بنے رہے ۔
لیکن اس خبر کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں کی چوکسی پر سوالیہ نشان لگا ہے.
ہندوستان
ای ڈی نے 142 کروڑ روپے کے سرحد پار ڈرگ منی لانڈرنگ کیس میں کی چھاپہ ماری
نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ایک ٹیم پیر کو منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں میزورم-میانمار سرحد، تریپورہ-بنگلہ دیش سرحد اور مغربی بنگال میں چار مقامات پر ے چھاپے ماررہی ہے ای ڈی کا یہ کیس نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)، اگرتلہ زونل یونٹ کی جانب سے درج کیے گئے ایک کیس پر مبنی ہے اس میں 21 اگست 2025 کو تریپورہ میں 49.101 کلوگرام میتھمفیٹامائن اور 40 گرام ہیروئن ضبط کی گئی تھی۔ تریپورہ میں جن مقامات پر تلاشی لی جا رہی ہے، وہ بنگلہ دیش کی سرحد سے صرف 200 میٹر دور ہیں، جبکہ میزورم میں تلاشی والی جگہ میانمار کی سرحد سے تقریباً 500 میٹر دور ہے۔
تحقیقات میں ایک منظم سرحد پار سنڈیکیٹ کا پتہ چلا ہے، جو میزورم کے چمفائی-زوکھاوتھر سیکٹر کے ذریعے میانمار سے میتھمفیٹامائن لاتا تھا اور تریپورہ میں اسے لینے والوں تک پہنچاتا تھا۔ جرم سے ہونے والی آمدنی کو کئی بینک کھاتوں اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے ادھر سے ادھر کیا جاتا تھا۔ ای ڈی کے مطابق اب تک جرم سے ہونے والی 142 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کا پتہ چلا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
تجزیہ
ہندوستان موسمیاتی بحران کی زد میں: ایک جانب سیلاب، دوسری جانب جان لیوا گرمی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ‘کلائمیٹ وِپ لیش’ یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔
ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔
مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔
2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔
کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔
شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔
شدید گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ، کسان اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گرمی کی لہروں کے دوران بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ سسٹمز کے استعمال سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔
ماضی میں موسم نسبتاً قابلِ پیش گوئی تھا۔ گرمی کے بعد بارش آتی تھی اور بارش کا ایک متعین دورانیہ ہوتا تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ کہیں بارش حد سے زیادہ ہے، کہیں بالکل نہیں۔ کہیں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہے، تو کہیں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج کر رہی ہیں۔
یہ تبدیلیاں عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو شدید بارشوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار گرمی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔
ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں شدید بارش کے دوران سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں آبی گزرگاہوں، نالوں اور قدرتی ذخائر کو نظر انداز کرنے کے باعث بارش کا پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی لہروں کے دوران شہروں میں ‘ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ’ پیدا ہوتا ہے، جہاں کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت مزید بڑھا دیتے ہیں۔
موسمیاتی شدت کے صحت پر اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ گرمی کی لہروں سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب اور بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بچوں، بزرگوں اور کمزور معاشی طبقوں کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہوگی۔
سیلاب، گرمی اور موسمیاتی بے ترتیبی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ فصلوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں کمی ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
موجودہ صورتحال حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
آبی ذخائر کا بہتر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی مزاحم فصلوں کی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔
2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی علاقوں میں سیلاب اور شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسم کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔
اگرچہ ہندوستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن آبادی، زراعت اور معیشت کے اعتبار سے ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ماہرین، صنعت اور عوام مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی کم کر سکیں۔
موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔
(یواین آئی)
ہندوستان
انڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
نئی دہلی، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس اور مختلف قومی مسائل پر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے مقصد سے اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے لیڈروں کی اہم میٹنگ پیر کی دوپہر یہاں کانسٹی ٹیوشن کلب میں شروع ہو گئی میٹنگ میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تیجشوی یادو، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رکن پارلیمنٹ پی سنتوش کمار، ریولوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) کے این کے پریم چندرن، سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی لیڈر محترمہ سپریا سولے سمیت کئی اہم لیڈر موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق میٹنگ میں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، مختلف قومی مسائل، انتخابی تیاریوں اور اتحاد کی حلیف جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ میٹنگ میں حالیہ سیاسی پیش رفت اور مرکزی حکومت سے جڑے کئی امور پر بھی غور و خوض ہونے کا امکان ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا2 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا4 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا



































































































