تازہ ترین
غلامی کے خلاف مہم چلانے والے ’نیویارک ٹائمز‘ کا مالک خود غلاموں کا مالک نکلا

حال ہی میں اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس سے انکشاف ہوا کہ نیو یارک ٹائمز کے مالکان بھی غلام رکھتے اور ان کی خرید و فروخت کرتے تھے
خبراردو:-
واشنگٹن: چند ہفتے قبل امریکہ میں ہونے والے فسادات میں ایک سیاہ فام افریقی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد اخبار”دی نیویارک ٹائمز” نے تمام وفاقی رہ نماؤں اور سابقہ امریکی صدور کے جن کے پاس غلام تھے کے خلاف ایک جنگی مہم چلائی تھی۔ اخبار نے غلام رکھنے والے سابق امریکی صدور کے ملک بھر میں موجود مجسمے مسمار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب پرتشدد مظاہروں میں مظاہرین نے کئی سابق امریکی صدور کے مجسمیں اور ان کی یادگاریں مسمار مسمار کر دی تھیں۔
لیکن حال ہی میں اخبار’نیویارک پوسٹ’ میں تفصیلی تحقیقاتی مضمون شائع ہوا ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے انکشاف کیا ہے کہ “نیو یارک ٹائمز” کے مالکان بھی غلام رکھتے اور ان کی خریدو فروخت کرتے تھے۔ اس خاندان نے امریکی کنفیڈریشن کی حمایت کی تھی اور امریکہ میں ہونے والی خانہ جنگی میں بھی حصہ لیا تھا۔
نیو یارک پوسٹ کے مطابق اوکس سلزبرجر خاندان جو نیو یارک ٹائمز کا مالک تھا اس کے اپنے غلام تھے۔ انیسوی صد میںیہ خاندان امریکہ کی کنفیڈریشن کا بھی حامی اور ہمدرد سمجھا جاتا تھا۔
نیویارک پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ اوکس سلزبرجر کنبہ کا غلامی اور کنفیڈریسی کا رشتہ ایڈلوف اوکس اور اس کی والدہ برتھا لاوی اوکس سے تھا۔ 1893 میں اخبار خریدنے کے بعد اوکس نے نیو یارک ٹائمز پر خاندانی ملکیت کا آغاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی والدہ کے گھر میں غلام تھے اور انہوں نے خانہ جنگی میں حصہ لیا تھا۔
جرمنی سے تعلق رکھنے والے یہودی تارکین وطن برتھا لاوی اوکس (والدہ) خانہ جنگی سے قبل کئی سالوں سے مسیسیپی کے نچیز میں اپنے چچا جان مائر کے ساتھ مقیم تھیں۔ نیویارک پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ تقریبا 70 سال قبل جمع ہونے والے خاندانی شجرےسے انکشاف ہوتا ہے کہ مائر نے لیوی سے اپنی کنیت بدل لی تھی۔انیسٹری ڈاٹ کام پر شائع 1860 کے غلام مردم شماری کے شیڈول کے مطابق مائر کے پاس پانچ غلام تھے۔
ان غلاموں کے نام شامل نہیں تھے لیکن مردم شماری میں بتایا گیا ہے کہ تین خواتین اور دو مرد جن کی عمریں 23 سے 70 سال کے درمیان تھے اس خاندان کے گھر میں غلام تھے۔ مورخ اور مصنف رابرٹ روزن نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ مایر خاندان کے لیے اس خاندانی دولت اور اس حقیقت کی نظر میں غلام رکھنا معمولی بات ہوگی کیونکہ مائر اور اس کی اہلیہ کے 14 بچے تھے۔
اسی عرصے کے دوران برٹا لیوی اوکس کنفیڈریسی میں اسٹیورٹ گرلز کلاس بنیں اور سنہ 8 190 میں ان کی وفات کے بعد کنفیڈریسی کا جھنڈا اس کے تابوت کے پار رکھ دیا گیا تھا۔
(العربیہ ڈاٹ نیٹ)
جموں و کشمیر
ریٹائرڈ انجینئر کے خلاف تاریخِ پیدائش میں رد و بدل اور ثبوت مٹانے کے الزام میں چارج شیٹ داخل
سری نگر، جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کر کے نامناسب فائدہ اٹھانے اور ثبوت مٹانے کے معاملے میں جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اُس وقت کے اور ریٹائرڈ انچارج سپرنٹنڈنٹ انجینئر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ حکام نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
سپرنٹنڈنگ انجینئر کے خلاف سال 2015 میں دفعہ 420، 467، 468، 471 اور 201 رنویر پینل کوڈ (آر پی سی) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
ای او ڈبلیو حکام کے مطابق جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اُس وقت کے آئی / سی سپرنٹنڈنگ انجینئر کے سروس ریکارڈ میں تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کے الزامات پر مشتمل ایک تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کرائم برانچ کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ میں تحقیقات شروع کی گئی تھی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزم نے ناجائز سروس فوائد حاصل کرنے کے لیے 28-10-1955 سے 28-10-1958 تک سرکاری سروس ریکارڈ میں اپنی تاریخِ پیدائش میں دھوکہ دہی سے ہیرا پھیری کی۔ حکام نے بتایا کہ ملزم نے ثبوت چھپانے کے لیے اپنی اصل سروس بک بھی تباہ کر دی، جس کے باعث دفعہ 201 آر پی سی کا اطلاق ہوا۔ جانچ میں الزامات درست پائے گئے، جس کے بعد عدالتی فیصلے کے لیے چارج شیٹ عدالت میں جمع کی گئی۔
یوین آئی۔الف الف
دنیا
نیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ مؤقف اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں حماس کے عسکری ونگ، عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف عز الدین الحداد کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حکومت کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں اور یرغمالیوں کے اغوا کے پیچھے موجود ہر ماسٹر مائنڈ کو چن چن کر ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اسرائیلی افواج موجودہ وقت میں غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے آپریشنز کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں اسرائیلی فوج کی ایک نئی نام نہاد “اورنج لائن” کی جانب پیش قدمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس اب ان کی گرفت میں ہے اور ان کا اصل ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ مستقبل میں کبھی اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، جس میں فرانس پریس ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے، نیتن یاہو نے اس کے ذمہ داروں کے تعاقب کا عزم کیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر ایک شدید اور ہولناک جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں پٹی کے صحت کے حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک تقریباً 72,763 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اس سے باہر حماس کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں حماس کے متعدد قائدین کا تعاقب کر کے انہیں جاں بحق کیا، جن میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار تھے (جنہوں نے محمد الضیف کے بعد القسام بریگیڈز کی کمان سنبھالی تھی)۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران کے دورے کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی ثالثی کے تحت طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جو گزشتہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں نام نہاد “ییلو لائن” تک پیچھے ہٹ جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے بھی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم، امریکی سرپرستی میں ہونے والے اس معاہدے کے باوجود غزہ میں پُرتشدد کارروائیاں تھم نہیں سکیں اور پٹی کے صحت کے حکام کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 871 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی اپنے 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکانات میں اضافہ، اسرائیل کو صدر ٹرمپ کے ’گرین سگنل‘ کا انتظار
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے مابین جاری مذاکرات میں تعطل کے بعد، گزشتہ دو روز کے دوران اس بات کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں کہ امریکہ ایک بار پھر ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا متبادل راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، اسی تناظر میں حال ہی میں امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے اور گولہ بارود کی اضافی فراہمی کے عمل میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب، ایک اور اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کی منتظر ہے تاکہ دوبارہ حملوں کا آغاز کیا جا سکے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اہلکار کا کہنا ہے کہ جیسے ہی واشنگٹن سے اجازت نامہ حاصل ہوگا، اسرائیل اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران کے خلاف فوجی مہم شروع کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ممکنہ اہداف کی جو فہرست تیار کی گئی ہے، اس میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے؛ جبکہ اس کے برعکس، وائٹ ہاؤس نے 28 فروری کو شروع ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران ان تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی سخت ہدایت جاری کی تھی۔
اسی دوران، متعدد امریکی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ فوجی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق، اگر صدر دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کا حتمی فیصلہ کرتے ہیں، تو پینٹاگون نے اس کے لیے ممکنہ اہداف کی فہرست اور عسکری منصوبے پہلے سے ہی مکمل کر رکھے ہیں۔ یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایرانی معاملے پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
معروف امریکی ویب سائٹ ”اکسیوس” کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا ہے جو آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ اس گفتگو میں خاص طور پر ایران کے معاملے اور ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری طرف، پاکستان بھی اس بحران کو ٹالنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسلام آباد گزشتہ کئی ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطے بحال کرانے کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ میز پر لا کر جنگ کے مستقل خاتمے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا







































































































