اہم خبریں
بھارت: مسلمان ہندو عورتوں کو مہندی نہ لگائیں، کرانتی سینا کا حکم

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت والی ریاست اترپردیش میں فرقہ وارانہ لحاظ سے حساس ضلع مظفر نگر میں گزشتہ دنوں ایک شدت پسند ہندو تنظیم کرانتی سینا کے کارکنوں نے مختلف بازاروں میں مارچ کیا اور دکانداروں کو حکم دیا کہ ہندو خواتین کو مہندی لگانے کے لیے اپنے یہاں کسی مسلمان کو ملازمت پر نہ رکھیں اور اگر ایسا کوئی مسلمان ہو تو اسے فوراً نکال دیں۔
کرانتی سینا کے جنرل سکریٹری منوج سینی کا کہنا تھا،”دراصل یہ مسلم نوجوان مہندی لگانے کے آڑ میں ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر محبت کے دام میں پھنسا لیتے ہیں۔ یہ دراصل ‘لو جہاد‘ کو فروغ دے رہے ہیں۔” انہوں نے ہندو لڑکیوں اور عورتوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ کسی مسلمان سے مہندی نہ لگوائیں۔
معاملہ کیا تھا؟
یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب علی شان جعفری نامی ایک مقامی صحافی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ مظفر نگر کی مرکزی مارکیٹ میں دکانوں کی ‘چیکنگ‘ کر رہے ہیں۔
کرانتی سینا سے وابستہ یہ لوگ دکانداروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے یہاں کسی مسلمان کو نہ تو مہندی لگانے کے لیے رکھیں اور نہ ہی ہیئر ڈریسر کے طور پر۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک دکاندار ان ہندو کارکنوں سے پوچھ رہا ہے، ”ہم کسی کو مذہب کی بنیاد پر ملازمت پر کیسے رکھ سکتے ہیں؟”
مسلمانوں کے خلاف زیادتی کا سلسلہ جاری
حالیہ عرصے میں اتر پردیش سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔
مظفر نگر کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 51 افراد کے خلاف کیس درج کر لیا۔ ان میں گیارہ نامزد اور چالیس نامعلوم افراد ہیں۔
مظفر نگر (شہر) کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ارپِت وجیہ ورگیہ نے کہا کہ پولیس بازاروں میں مسلسل گشت کر رہی ہے،”امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔‘‘
ایس پی وجیہ ورگیہ نے بتایا،”ایک مہندی اسٹال کے مالک پرکاش چندرا نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس نے ہندوؤں کے تہوار تیج پر مہندی لگانے کا ایک اسٹال لگایا تھا۔ ایک گروپ ان کی دکان پر آیا اور پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں چندرا نے انہیں بتایا کہ تیج کا تہوار آنے والا ہے اور اس موقع پر عورتیں مہندی لگواتی ہیں۔ اس پر وہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے چندرا کی تمام چیزیں پھینک دیں، اسٹال کو توڑ دیا اور کہا کہ مہندی لگانے کا کوئی اسٹال نہیں لگایا جائے گا۔”
پرکاش چندرا نے پولیس میں درج اپنی شکایت میں مزید کہا،”جب میں وہاں سے جانے لگا تو انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر ان لوگوں کی اجازت کے بغیر اسٹال لگایا تو وہ جان سے مار ڈالیں گے۔ ان لوگوں نے مجھے گالیاں بھی دیں اور دھکے بھی دیے۔”
گوکہ اس واقعے کو تین دن گزر چکے ہیں اور پولیس نے شکایت بھی درج کرلی ہے تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ایس پی وجے ورگیہ کا کہنا تھا، ”انکوائری ہو رہی ہے اور اس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔”
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے
اترپردیش کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس طرح کے واقعات پر اکثر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔
گزشتہ دنوں کانپور کا ایک واقعہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے جس میں ایک مسلم رکشہ ڈرائیور کو بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے بعض شدت پسند ہندو پیٹ رہے ہیں اور اسے ‘جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ اس کی پانچ سالہ بچی بھی ساتھ میں ہے جو گڑگڑا رہی ہے اور لوگوں سے اپنے والد کو نہیں مارنے کے لیے کہہ رہی ہے۔
حالانکہ پولیس نے بعد میں اس 35 سالہ شخص کو بچا لیا تاہم بعض افراد پولیس کی موجود گی میں بھی اسے مارتے رہے۔
آرایس ایس کی سرپرستی
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرانتی سینا دراصل ہندو قوم پرست جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سینکڑوں ذیلی تنظیموں میں سے ایک ہے، جو پورے بھارت میں آر ایس ایس کے نظریا ت کو عملی طورپر نافذ کرنے میں سرگرم ہیں۔
ان میں یوپی کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کی قائم کردہ ہندو یووا واہنی، بجرنگ دل،وشو ہندو پریشد، ون واسی کلیان آشرم، ابھینو بھارت، سری رام سینے، راجپوت کرنی سینا وغیرہ شامل ہیں۔ سن 2014 میں بی جے پی کے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ان تنظیموں کی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں اور ان کے کارکنان زیادہ بے خوف ہو گئے ہیں۔
گوکہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کا ڈی این اے ایک ہی ہے تاہم گؤ کشی، لو جہاد، تبدیلی مذہب وغیرہ کے نام پر بالخصوص مسلمانوں کے خلاف زیادتی کے واقعات بھی مسلسل ہوتے رہتے ہیں۔ آر ایس ایس ان معاملات کو نظر انداز کرتی رہتی ہے۔
صحافی اسمرتی کوپیکر نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے،”چونکہ دائیں بازو کی بیشتر ہندو تنظیمیں کسی نہ کسی صورت میں آر ایس ایس سے تعلق رکھتی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی خود بھی آر ایس ایس کے کارکن رہ چکے ہیں لہذا یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ پولیس شدت پسندہندو عناصر کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔بالخصوص اس صورت میں جبکہ مبینہ ‘ملک مخالفین‘ کو گولی مارنے کا سرعام اعلان کرنے والے انوراگ ٹھاکر جیسے لیڈروں کو مودی حکومت میں کابینہ درجے کے وزیر کا عہدہ ملا ہو۔‘‘
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
ہندوستان1 week agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ





































































































