تازہ ترین
نواب ملک کے ذریعے این سی بی کی ایک اور جعلسازی کا انکشاف

ممبئی2 جنوری(یواین آئی) کچھ عرصہ کے تعطل کے بعد ان سی بی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے آج ایک بار پھر نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) کی ایک اور جعلسازی کومیڈیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ انہو ں نے دو آڈیوکلپ پیش کیا ہے جس میں سے ایک میں میڈی نامی ایک پنچ گواہ کو این سی بی کا کرن بابونامی ایک آفیسر ایک پرانے کیس میں بیک ڈیٹ جواب درج کرنے کے لئے طلب کرتاہے۔
جبکہ دوسری آڈیو کلپ میں پنچ گواہ این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کو کرن بابو کے ذریعے طلب کئے جانے کی اطلاع دیتا ہے جس پر وانکھیڈے پنچ گواہ کو بلاخوف کرنا بابو کے کہنے کے مطابق عمل کرنے کی کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں۔ یہ آڈیوکلپس پیش کرتے ہوئے نواب ملک نے این سی بی پر نہایت سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور کہا ہے کہ این سی بی ہنوزجعلسازی میں مصروف ہے۔
اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب ملک نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ این سی بی کے متنازعہ آفیسر سمیر وانکھیڈے پر این سی بی کے ہی کچھ سینئر افسران نے جعلسازی اور غلط طریقے سے لوگوں کو پھنسانے کی رپورٹ دی ہے اس کے باوجود ریاستی بی جے پی کا ایک بڑا لیڈر وانکھیڈے کی مدت کار میں اضافہ کے لئے مرکزی وزارت داخلہ کے یہاں کوششیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سمیروانکھیڈے کے مدت کار میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں وصولی کے اس کھیل میں کون کون شامل ہیں؟ اس کو بے نقاب کرنے کا مزیدموقع ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ میرے داماد سمیرخان کی ضمانت کے خلاف این سی بی نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی ہے۔ یہ این سی بی کی شہرت حاصل کرنے کا کھیل ہے۔ جبکہ اصل ملزم کرن سجلانی ہے، اس کے علاوہ بھی ۶ ملزمین اس معاملے میں ہیں۔ کرن سجلانی کے قبضے سے برآمدگی بھی بتائی گئی تھی۔ این سی بی نے اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی۔ فرنیچروالا کے خلاف بھی اپیل نہیں کی لیکن سمیر خان کے خلاف اپیل داخل کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ این سی بی مجھے ڈرانے کی کوشش کررہی ہے لیکن نواب ملک ڈرنے والوں میں سے نہیں ہے۔ قانون کو بالائے طاق رکھ کر کارروائی کرنے والوں کے خلاف میری لڑائی جاری رہے گی۔ہم عدالتی لڑائی لڑیں گے۔ اس مقدمے کو ختم کرنے کے لئے ہم نے عدالت میں درخواست داخل کی ہے۔
نواب ملک نے کہا کہ ہائی کورٹ میں داخل کاغذات میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں 84کلوگرام پازیٹو آیا ہے جبکہ اسی ایجنسی نے نچلی عدالت میں ایک کلو101گرام ہونے کا تحریری طور پر دیا ہے۔ لیکن جج صاحب نے ایجنسی کے دعوے کو خارج کردیا تھا اور صرف60گرام تسلیم کیا تھا۔ نواب ملک نے کہا کہ این سی بی نے جعلسازی کی تمام حدوں کو پار کردیا ہے۔ اگر این سی بی ایک پروفیشنل ایجنسی ہے تو صرف سمیر خان کے خلاف ہی اس نے اپیل کیوں کی؟ ہم این سی بی کی جانب سے اس کے جواب کے منتظر ہیں۔
نواب ملک نے کہا کہ این سی بی آفیسر کے اہلِ خانہ عدالت میں میرے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ داخل کیا ہے۔ مجھے عدالت نے بولنے سے روک دیا۔ عدالت کا احترام کرتے ہوئے میری جانب سے یہ واضح طور پر دریافت کیا گیا کہ اگر این سی بی یا دیگر کوئی ایجنسی کچھ غلط کرتی ہے تو کیا مجھے اس کے خلاف بولنے کا حق ہے؟ جس پر عدالت نے مجھے بولنے کی اجازت دیدی۔
اس لئے نئی جعلسازیوں کو بے نقاب کرنے پر مجھ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اب یہ نیا معاملہ پنچ نامہ تبدیل کرنے کا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس معاملے میں این سی بی کے ڈی جی کرن بابو وسمیر وانکھیڈے پر کیا کرتے ہیں؟ نواب ملک نے الزام لگایا کہ اسمگلروں کے ذریعے پی آر ایجنسی کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ڈرگ پیڈلر لاکھوں روپئے پی آر ایجنسی پر خرچ کرکے خبریں پلانٹ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمیر خان کو ضمانت دیتے ہوئے اپنے حکم نامے میں جسٹس جوگلے نے واضح طور پر کہا ہے کہ جعلسازی کرکے لوگوں کوپھنسایا گیا ہے۔اس کے باوجود سمیر وانکھیڈے کے پرانا پنچنامہ تبدیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔این سی بی کے افسران جیسے ہی مشکلات میں پھنستے نظر آنے لگے، پنچ نامہ تبدیل کیا جارہا ہے۔
نواب ملک نے کہا کہ ہم این سی بی کی جعلسازی عدالت اور عوام کے سامنے بے نقاب کرتے رہیں گے۔ جس طرح کی جعلسازی ہوئی ہے وہ ہتک عزت کے مقدمے میں بھی ثابت کریں گے اور آنے والے دنوں میں این سی بی کی مزید کئی جعلسازیوں کو سامنے لائیں گے
دنیا
قطر میں منجمد 12ارب ڈالرز کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز جاری کیے جائیں گے: ایرانی صدر
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالرز کے اثاثے جَلد جاری کر دیے جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
ادھر خلیجی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو مذاکرات مکمل طور پر روک دیے جائیں گے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو کل دوحہ میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے مختصر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی موجودہ قیمت ایران جنگ سے پہلے کی قیمت سے بھی کم سطح پر ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف






































































































