تازہ ترین
’انڈین الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے طریقے میں سقم ہے‘

انڈیا کی ریاستوں گجرات اور ہماچل پردیش میں دو ہفتوں کے وقفے سے انتخابات کرانے کے فیصلے پر تنازع کے تناظر میں سابق الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی نے تجویز دی ہے کہ الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں ایک بڑا سقم موجود ہے جس کو دور کیا جانا چاہیے۔
انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ہماچل پردیش کے ساتھ گجرات کے ریاستی انتخابات کی تاریخون کا اعلان نہ کرنے کا مقصد حکمراں بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچانا ہے ۔دونوں ریاستوں میں اسمبلی کی مدت جنوری میں دو ہفتے کے وقفے سے پوری ہو رہی ہے۔ انتخابی کمیشن روایتی طور پر ان حالات میں انتخابات کا اعلان ایک ساتھ کرتا رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے شہاب الدین قریشی نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اس فیصلے کے پیچھے حکمران جماعت کو سیاسی فائدہ دینے کی سوچ کارفرما ہے۔
گجرات کے مسلمانوں میں اعتماد کی واپسی
گجرات فسادات: ’ریاستی حکومت ہرجانہ دینے کی پابند نہیں‘
کیا گجرات سبزی خور ریاست بن گئی ہے؟
انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا گزشتہ 70 برس سے ایک خودمختار اور آزاد ادارہ ہے کہا کہ گجرات اور ہماچل پردیش میں دو ہفتوں کے وقفے سے انتخابات کرانے کا فیصلہ خالصتاً انتظامی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے کوئی ایسے حقائق ہوں گے جن کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
سابق الیکشن کمشنر آف انڈیا نے کہا کہ عمومی طور پر جن ریاستوں میں چھ مہینے کے اندر اندر انتخابات ہونے والے ہوں ان ریاستوں کے انتخابات کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گجرات اور ہماچل میں تو انتخابات دو ہفتوں کے قلیل وقفے میں ہونے ہیں۔
شہاب الدین قریشی نے مزید کہا کہ گجرات کی ریاست نے درخواست کی تھی کہ کیونکہ ریاست میں حالیہ مہنیوں میں سیلاب آیا تھا اور اس کی بحالی کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا تو اس لیے انھیں چند دن اور دے دیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بھی گجرات میں انتخابات کو چند دن بعد کرانے کی یہ ہی وجہ بیان کی ہے۔
خیال رہے کہ ہماچل اور گجرات میں آٹھ نومبر کو انتخابات ہونے تھے لیکن گجرات میں انتخابات کو انیس دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ملک کے موجودہ الیکشن کمشنر نریندر مودی کے تحت ریاست گجرات میں مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں لیکن اس وجہ سے ان کو متنازع بنانا درست نہیں ہے۔
انڈیا میں الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے اپنی تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر کو حکومت تعینات کرتی ہے جو کہ اس طریقہ کار میں ایک بڑا سقم ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا کا الیکشن کمیشن دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور الیکشن کمیشن ہے جس پر کسی طرح بھی انگلیاں نہیں اٹھنی چاہیں۔
انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے متعدد ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی ہوتی ہے جس میں قائد حزب اختلاف اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ یا چیف جسٹس بھی شامل ہوتے ہیں جو الیکشن کمشنر کا انتخاب کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض ملکوں میں تو اس کے لیے پوری پارلیمان اپنا کردار ادا کرتی ہے اور پارلیمانی سکرینگ ہوتی ہے جسے براہ راست نشر بھی کیا جاتا ہے۔
شہاب الدین قریشی نے کہا کہ صرف یہ امید کہ الیکشن کمشنر مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گا کوئی حکمت عملی نہیں اس کے لیے قانون اور طریقہ کار کو بہتر کیا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہندوستان
مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یہاں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سے گھریلو معیشت پر پڑنے والے اثرات پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے میٹنگ کی صدارت کی۔ ملک میں اقتصادی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی کی ترجیحات سے جڑے کئی موضوعات پر بحث کی۔ ساتھ ہی، اصلاحات کے عمل کو مزید رفتار دینے اور ‘ایز آف لیونگ’ (زندگی کو سہل بنانے) اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (کاروبار کی آسانی) کو یقینی بنانے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔” میٹمگ میں ممتاز ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے ہندوستانی معیشت و سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات پر خاص طور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ جیسے مسائل پر بھی گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔
اس میٹنگ کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک میں اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور وسیع تر اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جمعہ کو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد بڑھانے کے لیے سرکاری سکیورٹیز (جی-سیک) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے ہونے والی سود کی آمدنی یا سرمائے کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سال کی مدت کی سرکاری سکیورٹیز کے نئے ایشوز کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے اہل سکیورٹیز کی مدت کے ساورن گرین بانڈز میں سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ریزرو بینک نے کل ہی اپنے دو ماہی اقتصادی جائزے میں عالمی جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مانسون کے خدشات کے درمیان رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے تخمینے کو کم کر کے 6.6 فیصد، اور خردہ افراط زر کے تخمینے کو بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اپریل کے پالیسی جائزے کے وقت آر بی آئی نے رواں مالی سال کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد اور افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔
اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا7 days agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر4 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا5 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا5 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب




































































































