تازہ ترین
کل ہندوستان میں جزوی سورج گرہن:پی ایس آئی

2022 کا پہلا جزوی سورج گرہن منگل کو ہندوستان میں نظر آئے گا پیر کو ایک ریلیز میں، این سری رگھونندن کمار، ڈائریکٹر، پلینٹری سوسائٹی آف انڈیا (پی ایس آئی ) نے کہا کہ 15 دنوں سے بھی کم عرصے میں، 8 نومبر کو ایک اور چاند گرہن نظر آئے گا، جو مکمل چاند گرہن ہوگا انہوں نے بتایا کہ ملک میں کل شام 4.16 بجے سے شروع ہونے والا سورج گرہن سب سے پہلے جموں و کشمیر کے لہہ میں نظر آئے گا جب کہ ہندوستان کے مغربی حصے کے لوگ شام 4.30 بجے سے اس گرہن کو دیکھ سکیں گے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ یہ ملک کے مشرقی اور وسطی حصوں میں شام 4.40 بجے سے نظر آئے گا اور کنیا کماری میں یہ آخری بار شام 5.33 بجے دیکھا جائے گا اور شام 06.00 بجے تک نظر آئے گا۔
یہ گرہن پوری دنیا کے لیے جزوی چاند گرہن ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 82 فیصد گرہن ہوگا اور زمین پر کسی بھی جگہ سے مکمل سورج گرہن یا سورج گرہن نظر نہیں آئے گا۔
ہندوستان میں پہلا سورج گرہن 21 جون 2020 کو ہوا اور اگلا سورج گرہن 2 اگست 2027 کو تقریباً پورے ہندوستان میں نظر آئے گا۔
پی ایس آئی ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ گرہن آئس لینڈ میں دوپہر 02:28 پر شروع ہوگا اور یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے گزرنے کے بعد شام 06:32 پر ہندوستان میں ختم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ گرہن پوری دنیا میں ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 02.28 سے شام 06.32 بجے کے درمیان ہوگا اور چاند گرہن کا سب سے بڑا حصہ شام 4.30 بجے نظر آئے گا۔
مسٹر کمار نے کہا کہ ہندوستان میں سورج گرہن مقام کے لحاظ سے 2 فیصد سے 55 فیصد کے درمیان ہوگا۔ مثال کے طور پر، جموں میں تقریباً 53 فیصد، دوارکا میں 33 فیصد، بھوپال میں 32 فیصد، اور گوہاٹی میں 30 فیصد، جبکہ کنیا کماری میں سب سے کم 2 فیصد دیکھا جائے گا۔
مسٹر کمار نے کہا کہ دو تیلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سورج گرہن شام 4.50 بجے سے شام 05.10 بجے تک نظر آئے گا اور غروب آفتاب تک نظر آئے گا۔ تیلگو ریاستوں میں سورج گرہن 16 فیصد سے 19 فیصد کے درمیان نظر آئے گا۔
دنیا
امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانہ تعمیر کرنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے
یروشلم، امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں نیا اور مستقل سفارت خانہ تعمیر کرنے کے لیے باضابطہ معاہدے پر دستخط کر دیے بدھ کے روز ہونے والی ایک تقریب کے دوران اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈئین سار اور اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کے معاہدے کو حاضرین کے سامنے پیش کیا اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اسرائیلی وزارتِ خارجہ میں منعقدہ دستخطی تقریب کے دوران کہا کہ امریکہ یروشلم کو یہودی عوام کا ازلی، مقامی اور ہمیشہ کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ یروشلم کی سرزمین پر اپنا پرچم نصب کرے گا اور یہاں ایک نیا، مستقل سفارتی کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکزی مرکز ہوگا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ نے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان “ناقابلِ شکست اتحاد” کی عکاسی کرتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق امریکی سفارت خانہ جنوبی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع ایلنبی کمپاؤنڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے سفارت خانے کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام “ایک گہری تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے”۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سب سے زیادہ متنازع شہروں میں سے ایک ہے، جہاں فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2017 میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکہ کے سفارتی مشن کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ
نیویارک، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کو اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر کو قتل کی کھلی دھمکی پر وارننگ دی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب اور سفیر امیر سعید ایروانی نے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی دھمکی کوئی معمولی یا زبانی کلامی بات نہیں بلکہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں ایرانی سفیر نے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے اراکین کی توجہ اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاٹز کے اس حالیہ عوامی بیان کی طرف مبذول کروائی، جس میں انہوں نے اعلانیہ کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو “موت کے لیے نشان زد” کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سفیر نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ دھمکی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ ایران کے اعلیٰ ریاستی حکام کو نشانہ بنانے کی ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کی ایک دانستہ اور منظم پالیسی کا حصہ ہے، جسے اسرائیلی حکومت ایران کے خلاف اپنی غیر قانونی جارحیت کے تناظر میں آگے بڑھا رہی ہے۔
دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے چند اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سب سے پہلے فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور امریکی فوجی مداخلت جیسے بنیادی اسباب کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 8 اپریل کی جامع جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔
ایران کسی بھی جارحیت کی صورت میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے اور اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل پرعزم ہے۔
انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کی پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی ہے، اگر واشنگٹن سفارتی حل چاہتا ہے تو اسے دھمکیوں کی زبان بند کر کے باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرنی ہو گی کیونکہ ایران دباؤ میں آکر کبھی مذاکرات نہیں کرے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
دوحہ میں امریکہ ایران بالواسطہ مذاکرات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
تہران، العربیہ کے مطابق دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔
ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے سہ فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا۔
مذاکرات میں لبنان، آبنائے ہرمز اور مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے امور زیرِ بحث آئے۔ ایران نے اسرائیل پر لبنان میں اپنی موجودگی کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تہران نے دیگر معاملات سے پہلے مفاہمت کی یادداشت کی 5 شقوں پر مقررہ وقت کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی اور انھیں مرکزی بینک کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
ایران نے کوآرڈینیشن کی صورت میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اپنی خودمختاری پر زور دیا۔ تہران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی پابندی اور آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوحہ میں 3 تکنیکی ٹیموں نے بحری سیکیورٹی اور جوہری معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران نے منجمد فنڈز کے اجرا کے بدلے مزید تعاون پر آمادگی ظاہر کی، جب کہ یہ فنڈز غذائی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس دوران پاکستان اور قطر نے دونوں فریقوں پر عارضی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے زور دیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا7 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا7 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف






































































































