جموں و کشمیر
منوج سنہا نے واک تھون ‘واک فار وائلڈ لائف’ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا

سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتے کے روز یہاں گالف کورس سے نشاط باغ سری نگر تک وائلڈ لائف ویک 2023 کے ایک حصے کے طور پر واک تھون ‘واک فار وائلڈ لائف’ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کی طرف سے منعقدہ اس 5 کلو میٹر طویل واک تھون میں نامور شہریوں، وائلڈ لائف پروٹیکشن اور ایکو کلب کے ممبران، رضا کاروں، این سی سی کیڈٹس اور طلبا کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
اس کا مقصد وائلڈ لائف تحفظ کے بارے میں جانکاری کو عام کرنا تھا۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونین ٹریٹری انتظامیہ جنگلی حیات اور بھر پور و منفرد ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ماحولیاتی سالمیت کو مضبوط کرنا، اپنے دریائوں، جھیلوں کی اصل شان کو بحال کرنا اور اپنے جنگلوں کو سمگلروں اور شکاریوں سے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ ہر شہری اور ہر نوجوان کو وائلڈ لائف ماحولیات کا دوست بننا چاہئے اور پائیدار طرز زندگی کو اپنانے کے لئے معاشرے میں بیداری پھیلانی چاپئے’۔
اپنے خطاب کے دوران منوج سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جنگلی حیات کی رہائش گاہوں کی مربوط ترقی اور ماحولیاتی سیاحت اورگرین معیشت کو فروغ دینے کے لئے یونین ٹریٹری انتظامیہ کی کاوشوں کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ترال میں قائم ہانگل بریڈنگ سینٹر جو سال 2008 سے بند پڑا تھا کو اس سال بحال کرکے مکمل کیا گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ہانگل کی آبادی میں اضافہ درج ہوا ہے اور سال 2022 میں مزید 2 رام سر سائٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سال گذشتہ یہاں زائد از 13 لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کو دیکھا گیا۔
انہوں نے محکمہ وائلڈ لائف کی طرف سے انسانی جانوں کے تحفظ، ان کے املاک اور مویشیوں کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدام کی سراہنا کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر ایک مختصر فلم ‘جے اینڈ کے: وائلڈ لائف کرانیکلر’ اور محکمہ وائلڈ لائف کا ایک پوسٹر بھی جاری کیا۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر نوکری پانے کے معاملے میں چار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ
سرینگر، جموں و کشمیر پولیس کی اقتصادی جرائم کے ونگ (ای او ڈبلیو) نے جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر محکمہ صحت میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کے الزام میں چار لوگوں کے خلاف فردِ جرم داخل کی ہے۔ حکام نے جمعرات کو بتایا کہ بھرتی گھوٹالے کا انکشاف ہونے کے تقریباً 12 برس بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اقتصادی جرائم کے ونگ کے مطابق ملزمان کے خلاف رنبیر تعزیرات ہند (آر پی سی) کی دفعہ 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی) اور 471 (جعلی دستاویز کا استعمال) کے تحت فردِ جرم داخل کی گئی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ یہ معاملہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ چار امیدواروں نے سروس سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (ایس ایس آر بی) کے ذریعے محکمہ صحت میں مختلف عہدوں پر تقرری فرضی تعلیمی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر حاصل کی تھی۔ ای او ڈبلیو کے مطابق، دستاویزات کی تصدیق کے دوران ملزمان کی طرف سے پیش کردہ سرٹیفکیٹس جعلی پائے گئے اور انتخاب کے وقت فراہم کیے گئے ریکارڈ سے ان کا میل نہیں ہوا۔ اس کے بعد چاروں کی تقرریاں منسوخ کر دی گئیں۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے جعلی سرٹیفکیٹس کا استعمال کر کے دھوکہ دہی سے سرکاری نوکری حاصل کی اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے امرناتھ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا
سری نگر، کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وی کے بردی نے شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر بدھ کو پہلگام میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق آئی جی پی نے ضلع اننت ناگ میں یاترا کے راستے پر سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا اور سکیورٹی گرڈ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے یاترا کے آغاز سے قبل مضبوط تیاری، باہمی تال میل کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر زور دیا۔
اس دوران پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ایکس رے اسکریننگ پوائنٹ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے یاتریوں اور ان کے سامان کی جانچ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنانے کی خاطر باریک بینی سے جانچ کرنے، تمام ایجنسیوں کے درمیان مؤثر رابطہ برقرار رکھنے اور معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی۔
مسٹر بردی نے ننوان بیس کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکیورٹی کے مجموعی انتظامات، اہلکاروں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام، داخلی کنٹرول کے اقدامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور یاترا کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں ان کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی ستائش کی۔
کثیر سطحی سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے مسٹر بردی نے افسران کو ہائی الرٹ رہنے، مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط کرنے اور تمام حفاظتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سالانہ یاترا کو پُرامن اور محفوظ انداز میں مکمل کرانے کے لیے فعال پولیسنگ، مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی پر زور دیا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے ‘میول اکاؤنٹس’ چلانے والوں کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے سوپور سب ڈویژن میں سائبر ٹھگوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے میول اکاؤنٹس (رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے بینک اکاؤنٹس) کے آپریشن اور فروغ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی سائبر جرائم پیشہ عناصر کے مالیاتی نیٹ ورک کو توڑنے اور شہریوں کو آن لائن مالیاتی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے جاری مہم کا حصہ ہے۔پولیس نے بتایا کہ میول اکاؤنٹس ایسے بینک کھاتے ہوتے ہیں جو دانستہ یا نادانستہ طور پر سائبر مجرموں کے اختیار میں دے دیے جاتے ہیں، تاکہ مختلف آن لائن فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کی منتقلی اور لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔ ان جرائم میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی، ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ، او ٹی پی فراڈ، یو پی آئی فراڈ، ملازمت کا جھانسہ دے کر لوٹ مار، فشنگ حملے اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اکاؤنٹس کا استعمال دھوکہ بازوں کی شناخت چھپانے اور غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقوم کو مختلف کھاتوں میں منتقل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے تفتیشی اداروں کے لیے اصل مجرموں تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے۔
سوپور کے سائبر پولیس اسٹیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ہے، جبکہ تفتیشی افسران اس نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی شناخت اور فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کے بہاؤ کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔
دریں اثنا، سوپور پولیس نے عوامی مفاد میں ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کسی دوسرے شخص کے استعمال کے لیے ہرگز نہ دیں، اور نہ ہی اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ کی معلومات، یو پی آئی آئی ڈی، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر کریں۔
پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اپنے بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل مالیاتی سہولت کو سائبر فراڈ کی رقوم وصول کرنے یا منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے دینا ایک سنگین جرم ہے، جس پر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔پولیس نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہر قسم کے مشتبہ مالیاتی لین دین یا سائبر دھوکہ دہی کی کوشش کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن کو دیں، تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان1 week agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
ہندوستان3 days agoکھرگے نے راجیہ سبھا رکن کے طور پر پھر سے حلف لیا
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان1 week agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا7 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days ago“لیفٹیننٹ گورنر کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ
دنیا7 days agoایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
ہندوستان5 days agoآپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
دنیا1 week agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا1 week agoتہران کی سڑکوں پر رہبر شہید کے جنازے کی تیاری ، بینرز آویزاں
دنیا7 days agoامن کے فروغ کیلئے پاکستان کی کوششیں تہذیبی و ثقافتی روایات کی عکاس ہیں: ایرانی صدر
ہندوستان1 week agoاجین زمین گھپلہ میں وائٹ پیپر جاری کرکے معاملہ کی جانچ کرائے حکومت







































































































