جموں و کشمیر
سکمز اور جی ایم سی میں کینسر کیسز میں نمایاں اضافہ، 2025 میں مجموعی طور پر 4,529 نئے مریض رجسٹرڈ
جموں، جموں و کشمیر میں کینسر میں مسلسل اضافے اور اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹس میں عملے کی قلت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ جموں اور کشمیر، دونوں خطوں میں قائم اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹس کو مرحلہ وار مکمل طور پر فعال بنایا جا رہا ہے اور مطلوبہ عملے کی باقاعدہ تقرری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ایم ایل اے شیخ احسن احمد پردیسی نے اپنے سوال میں نشاندہی کی تھی کہ ریاستی کینسر انسٹی ٹیوٹ بغیر متعلقہ میڈیکل، نیم طبی اور ٹیکنیکل عملے کی تخلیق کے قائم کیا گیا، جس کے سبب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور علاج میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جواب میں محکمہ صحت نے بتایا کہ اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ جموں کو 4 فروری 2023 سے مرحلہ وار فعال کیا گیا ہے اور اس کے لیے ضروری عملے کی منظوری حکومت نے 5 مئی 2021 کے آرڈر کے ذریعے پہلے ہی دے رکھی ہے۔
اسی طرح ایس کے آئی ایم ایس صورہ میں قائم 100 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ کینسر انسٹی ٹیوٹ مرکزی فنڈنگ کے تحت 5 دسمبر 2020 کو کمیشن کیا گیا تھا، تاہم انفراسٹرکچر کی توسیع اب بھی جاری ہے۔ فی الحال انسٹی ٹیوٹ کا تقریباً 80 فیصد حصہ مین ہسپتال کے دستیاب عملے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جبکہ مستقل ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اور ٹیکنیکل اسٹاف کی نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز زیر غور ہے۔
حکومت کے مطابق کینسر کیسز میں اضافہ بہتر تشخیص اور تشخیصی سہولیات کی وسعت کا نتیجہ ہے، جسے براہ راست بیماری میں اضافے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ ایس کے آئی ایم ایس میں پیٹ اسکین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو 2024 میں 1410 سے بڑھ کر 2025 میں 2250 ہوگئی۔ حکومت نے کہا کہ جی ایم سی جموں میں پیٹ اسکین کی رپورٹ زیادہ سے زیادہ تین سے چار دن میں فراہم کی جاتی ہے، اور جہاں سہولیات دستیاب نہیں، وہاں مریضوں کو باقاعدہ ریفرل پروٹوکول کے تحت متعلقہ اسپتالوں بھیجا جاتا ہے۔
سرجریوں، پیٹ اسکین، ایم آر آئی اور دیگر اہم ٹیسٹوں میں تاخیر سے متعلق سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ مریضوں کے بڑھتے دباؤ کے پیش نظر سہولیات میں توسیع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ جی ایم سی سری نگر کے لیے ایک نئی پیٹ سکین مشین کی خریداری کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، جس پر 16 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ حکومت کے مطابق اس نئے قدم سے مریضوں کو وقت پر تشخیص اور علاج میں کافی سہولت ملے گی۔
محکمہ صحت نے یقین دلایا کہ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں انسٹی ٹیوٹس میں عملے کی فراہمی، جدید مشینری کی دستیابی، اور ٹریٹمنٹ سہولیات کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کیا جا سکے۔
یو این آئی، ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
راجوری میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے گمبھیر مغلاں کے جنگلات میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
ہندوستان فوج کی وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تقریباً صبح 11:30 بجے، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ آپریشن کے دوران راجوری کے گمبھیر مغلاں علاقے میں دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
پوسٹ میں کہا گیاکہ ’’چوکنا دستوں نے فوری اور منظم کارروائی کرتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا اور علاقے کا مؤثر محاصرہ کر لیا گیا ہے، جبکہ آپریشن ابھی جاری ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ایل جی سنہا نے شوپیان پدیاترا کے دوران منشیات کے نیٹ ورک سے روابط پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا
سرینگر، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی زندگی سے وابستہ کوئی بھی شخص اگر منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا پایا گیا یا اس کی حمایت کرتا ملا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سنہا نے یہ بات شوپیان ضلع میں ’نشہ مکت جموں کشمیر پدیاترا‘ میں شرکت کے دوران کہی، جہاں لوگوں نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے نارکو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا عہد کیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اجتماعی عزم ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ہر گلی اور کوچے سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ کسی بھی منشیات فروش کو بخشا نہ جائے۔ جو تحریک 43 دن قبل جموں سے شروع ہوئی تھی، وہ اب ایک طاقتور عوامی تحریک بن چکی ہے اور معاشرے کے ہر طبقے میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لاکھوں لوگ ایک ہی مقصد کے تحت متحد ہیں اور اس جنت نظیر سرزمین سے منشیات پر مبنی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’اب عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ یہ کوئی دور کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے دروازے پر کھڑا ایک چیلنج ہے، جس کا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ ’’منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو ترقی کی راہ سے ہٹا رہا ہے۔ دہشت گرد گروہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم سے ہتھیار خریدتے ہیں اور انہی ہتھیاروں سے عام کشمیریوں کا خون بہایا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’آج میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ خواہ کوئی سرکاری افسر ہو یا عوامی زندگی سے وابستہ شخص، اگر وہ کسی بھی طرح منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا پایا گیا یا اس کی مدد کرتا ملا تو اسے سخت قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر اس زہر کا ذرا سا بھی اثر ہمارے نظام میں پایا گیا تو اسے بے رحمی سے ختم کر دیا جائے گا۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں انسدادِ تجاوزات مہم کی ایم ایل اے شیخ خورشید کی مخالفت
سری نگر، ضلع کپواڑہ کے کنڈی خاص علاقے میں محکمہ جنگلات کی جانب سے جمعہ کو چلائی گئی انسدادِ تجاوزات مہم اس وقت احتجاج کا سبب بن گئی جب ایم ایل اے شیخ خورشید احمد موقع پر پہنچ گئے اور انہدامی و بے دخلی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تجاوزات ہٹانے کے نام پر ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مقامی افراد نے ایم ایل اے لنگیٹ شیخ خورشید کو اس مہم کے بارے میں اطلاع دی، جس کے بعد وہ اپنے والد کے حالیہ انتقال کے باعث گھر پر جاری تعزیتی اجتماع چھوڑ کر فوری طور پر کنڈی خاص روانہ ہو گئے۔ موقع پر پہنچ کر شیخ خورشید نے انہدامی کارروائی کی سخت مخالفت کی اور حکام کو بے دخلی مہم آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی۔
بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے الزام لگایا کہ نام نہاد انسدادِ تجاوزات مہم کو ایک مخصوص برادری سے تعلق رکھنے والے غریب اور کمزور خاندانوں کو ہراساں کرنے اور بے دخل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
شیخ خورشید نے کہا کہ متاثرہ خاندان اصل میں کمکڑی لشدت کے مہاجر ہیں، جو کئی دہائیاں قبل سرحد پار گولہ باری کے باعث بے گھر ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر بار کھونے اور برسوں مشکلات میں زندگی گزارنے کے باوجود انہیں آج تک نہ مناسب معاوضہ ملا اور نہ ہی مکمل بازآبادکاری فراہم کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ خاندان تقریباً چار دہائیوں سے کنڈی خاص میں انتہائی دشوار حالات میں رہ رہے ہیں، لیکن اب ایک بار پھر انہیں بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، “دہائیوں تک بے گھری، غربت اور نظراندازی جھیلنے کے بعد انہیں دوبارہ بے گھر ہونے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔”
عوامی اتحاد پارٹی نے کہا کہ موقع پر موجود مقامی لوگوں نے ایم ایل اے لنگیٹ کی مداخلت کو سراہا، خاص طور پر اس بات کو کہ انہوں نے اپنے گھر میں جاری تعزیتی اجتماع چھوڑ کر ذاتی طور پر علاقے میں پہنچ کر بے دخلی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر3 days agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز سے مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی
دنیا4 days agoصدارت کے بعد اسرائیل کا وزیراعظم بن سکتا ہوں: ٹرمپ کی گفتگو وائرل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: پولیس افسر نے مبینہ طور پر بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی ماری
ہندوستان6 days agoملک میں بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، عام آدمی پر پڑے گا اثر: راہل گاندھی
ہندوستان1 week agoفوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، دہشت گردی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیژل کی قیمت چار دن میں دوسری بار بڑھانے پر جواب دیں مودی:کھرگے
دنیا3 days agoٹرمپ کا ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان، ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف
ہندوستان1 week agoہندوستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا
دنیا1 week agoتائیوان نے آزادی کا اعلان کیا تو کشیدگی بڑھے گی، ٹرمپ
دنیا3 days agoکیوبا نے مارکو روبیو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا دیا
دنیا3 days agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ


































































































