دنیا
بنگلہ دیش عام انتخابات: نتائج کے ابتدائی رجحانات میں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کے تاریخی عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے ساتھ انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔
بنگلہ دیش میں جمعرات کے روز شام 4.30 بجے ووٹنگ مراکز کے دروازے بند ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کیا گیا، جس میں طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں از سرو نو قائم ہونے والے 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان براہ راست مقابلہ دیکھا جارہا ہے۔
حکام نے کہا کہ ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے، حالانکہ صورتحال مزید رجحانات دستیاب ہونے پر ہی واضح ہوگی۔
اگرچہ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر “بدعنوانی” کا الزام لگایا، جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے اخباری نمائندوں کو بتایا، “خواہ دوسرے لوگ نتائج کو قبول کریں یا نہ کریں، ہم اسے قبول کریں گے، ان شاء اللہ”۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جیت کی امید کر رہے تھے۔
ٹیلی ویژن پر معروف چہرہ رومین فرحانہ، جنہوں نے بی این پی چھوڑ کر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، وہ برہمن باڑیا-2 حلقہ سے آگے چل رہی ہیں۔ دیر شام 8:30 بجے تک، رومین فرحانہ کو 12 پولنگ مراکز سے 9,648 ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جب کہ ان کے قریبی حریف، بی این پی-اتحاد کے امیدوار مولانا جنید الحبیب کو 6,745 ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔
پارلیمانی حلقہ صنم گنج-2 سے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیدوار ششیر منیر نے شکست تسلیم کرتے ہوئے فیس بک پوسٹ میں کہا، “میرے حلقے سے جیتنے پر بی این پی کے امیدوار جناب ناصر الدین چودھری کو مبارکباد۔”
جمعرات کی صبح ووٹنگ کے سست آغاز کے بعد، بڑی تعداد امنڈنے والے ووٹروں نے دارالحکومت ڈھاکہ اور اس کے مضافات کے پولنگ سٹیشنوں میں زبر دست جوش خروش کا مظاہرہ کیا۔
حکام نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے، تاہم، ابھی ووٹنگ کے حتمی فیصد کا اعلان ہونا باقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوپہر 2 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 48 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ پلٹ گیا تھا، جس کے بعد یہ پہلے انتخابات تھے۔
کمیشن کے سینئر سیکرٹری اختر احمد نے ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعلان میں تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ابھی تک ملک بھر کے 6,620 پولنگ مراکز سے ووٹر ٹرن آؤٹ کا ڈیٹا موصول نہیں ہوا ہے۔
پولنگ ختم ہونے کے بعد شروع ہونے والی گنتی میں، انتخابی کارکنوں کو بڑی محنت کے ساتھ پورے ملک میں پھیلے ہوئے مراکز پر سیاہ اور سفید کاغذ کے بیلٹ کے ڈھیروں سے چھانٹتے ہوئے دیکھا گیا، جنہوں نے ہر ایک بیلٹ کا دستی معائنہ کیا تاکہ گنتی میں شامل کرنے سے پہلے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ درست ووٹ ہے یا نہیں۔
173 ملین سے زیادہ آبادی والے ملک میں تقریباً 127 ملین افراد نے ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن میں 50 لاکھ نئے ووٹر شامل ہیں۔ ووٹر آبادی کا تقریباً 44 فیصد، یعنی 56 ملین افراد کی عمریں 18 سے 37 سال کے درمیان ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی کے رہنما طارق رحمان کو وزارت عظمیٰ کے لیے سب سے آگے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے خیال میں جماعت اسلامی کے زیرقیادت اتحاد، جس کی سربراہی پارٹی کے سربراہ شفیق الرحمٰن کر رہے ہیں اور جس میں 2024 کی بغاوت کے بعد طلبہ رہنماؤں کے ذریعہ تشکیل کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، وہ پریشان کن صورتحال پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ پولیس اور فوجی تعینات کیے گئے تھے۔
طارق رحمان نے “بے ضابطگیوں” کی اطلاعات کے درمیان نتائج کے بروقت اعلان پر زور دیا ہے، جب کہ جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے ملک کے مختلف حصوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔
عام انتخابات کے حتمی نتائج جمعہ کے روز آنے کی توقع تھے۔
دنیا
ایران نے امریکی منصوبہ مسترد کر دیا، کہا اس میں ضرورت سے زیادہ مطالبات کے آگے جھکنا شامل ہے
ماسکو، ایران نے امریکہ کو دیے گئے اپنے جواب میں امریکی امن منصوبے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس کا مطلب امریکی حکومت کے حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے جھکنا ہوگا۔ پریس ٹی وی کی ایک رپورٹ میں یہ معلومات دی گئی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے نے پہلے بتایا تھا کہ امریکی پیغام پر ایران کا ردعمل جنگ کے خاتمے اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی سلامتی کو یقینی بنانے پر مرکوز تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے حل کے لیے امریکی تجویز پر ایران کے ردعمل کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔
پریس ٹی وی کے مطابق، ایران کے جوابی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کو اسلامی جمہوریہ کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔
مئی کے آغاز میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ تہران کو اسلامی جمہوریہ کی نئی 14 نکاتی تجویز کے سلسلے میں پاکستان کے ذریعے امریکہ سے جواب موصول ہوا ہے۔ ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے اتوار کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی تجاویز کے متن میں، جسے تہران نے واشنگٹن کو بھیج کر جواب دیا تھا، میں پابندیاں اٹھانے، آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول اور بیرونی ممالک میں ایرانی اثاثوں کی رہائی لے التزام شامل ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف پر حملے شروع کیے، جن میں 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ واشنگٹن اور تہران نے 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد میں بعد کی بات چیت بے نتیجہ رہی، اگرچہ دوبارہ دشمنی شروع ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، تاہم امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی۔ ثالث ایک نئے دور کی مذاکراتی کوششوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز پر ایران کے ردعمل کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ یہ معلومات بی بی سی میں شائع ایک رپورٹ میں دی گئی ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے بھیجے گئے تہران کی تجاویزمیں (جس میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے) تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کو روکنا اور ایران پر مزید کسی حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کو سہل بنانے کی غرض سے کیا گیا جنگ بندی معاہدہ، وقفے وقفے سے فائرنگ کے باوجود، بڑی حد تک برقرار رہا ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے دہرایا کہ ایران میں جنگ “جلد ہی ختم ہو جائے گی”۔
لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کو ختم ماننے سے پہلے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو “تباہ” کیا جانا چاہیے۔
سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، “ابھی بھی ایسے افزودگی کے مقامات ہیں جنہیں تباہ کیا جانا باقی ہے۔”
اتوار کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے تہران کی تجویز کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، لیکن کہا، “ہم دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور اگر بات چیت یا معاہدے کی بات اٹھتی ہے تو اس کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا نہیں ہے۔”
ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر پوسٹ کیا: “میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد ‘نمائندوں’ کا جواب پڑھا ہے۔ مجھے یہ پسند نہیں آیا—بالکل ناقابلِ قبول۔”
امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی امریکی یادداشت میں ایرانی جوہری افزودگی پر پابندی، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمد و رفت بحال کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
اس میں دو امریکی عہدیداروں اور دو دیگر ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے—جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے—جنہیں اس معاملے کی معلومات دی گئی تھیں۔ ان ذرائع کے مطابق یادداشت میں شامل کئی شرائط حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد ہی نافذ ہوں گی۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا جاری رکھا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ نے تہران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس پر ایران نے شدید ناراضی ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی اور امریکی افواج نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ گزشتہ ماہ اس جنگ میں جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔
سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا، “میں اسرائیلی فوج کے لیے امریکی مالی امداد کو صفر تک کم کرنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے کہا، “ہمیں ہر سال 3.8 ارب ڈالر ملتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم باقی فوجی امداد سے بھی خود کو الگ کر لیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آئیے ابھی سے اس کا آغاز کریں اور اگلی دہائی میں اسے مکمل کریں۔”
یواین آئی۔الف الف
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی ایران پر بڑے حملے کی دھمکی “مضحکہ خیز” قرار
تہران، ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی بڑے حملے کی دھمکی کو “مضحکہ خیز” قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسماعیل بقائی نے لکھا کہ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ وہ (ٹرمپ) ایک طرف دنیا میں امن کی تلاش اور جوہری بحران کو روکنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس کا حل “ایک بڑے دھماکے” یا حملے کی صورت میں تجویز کر رہے ہیں۔ ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ امن کے دعوے اور حملے کی دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں اور یہ امریکی پالیسی کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کو واضح کرنے کے لیے ایک امریکی فلم کا کلپ بھی شیئر کیا، جس کی کہانی سوویت یونین پر ایک “حادثاتی حملے” کے گرد گھومتی ہے۔
فلمی کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ امریکہ اس حادثاتی حملے کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ اس کلپ کو شیئر کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ جنگ کی دھمکیاں یا “ایڈونچر” ایسے نتائج پیدا کرسکتے ہیں جو پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتے۔ یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے حوالے سے سخت بیانات دیے تھے، جس میں انہوں نے کسی بھی ممکنہ صورتحال میں “بڑے حملے” کا اشارہ دیا تھا۔
ایران کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر جوہری حملے کی حالیہ دھمکی کو مضاحکہ خیز قرار دیا۔۔اسماعیل بقائی نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا یہ ایک عجیب بات ہے کہ دشمن امن کی تلاش اور جوہری بحران کو روکنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔۔لیکن جو ان کی تجویزکردہ حل وہ جوہری حملہ ہے۔ انہوں نے امریکی فلم کا کلپ بھی شئیر کیا۔۔جس کی کہانی سوویت یونین پر حادثاتی طور پر جوہری حملے کی تھی جسے امریکہ روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر7 days agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
دنیا1 week agoایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی: وائٹ ہاؤس
دنیا7 days agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
دنیا1 week agoامریکی نیوی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کیلئے ’بحری قزاقوں‘ جیسا کردار ادا کر رہی ہے: ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا










































































































