ہندوستان
ایران کے بعد کسی دوسرے ملک پر بھی حملہ کر سکتے ہیں ٹرمپ: سابق ڈبلیو پی ایف سیکریٹری جنرل
نئی دہلی، مشرقِ وسطیٰ میں ایران کو لے کر بڑھتے تناؤ کے درمیان ورلڈ پیس فورم (ڈبلیو پی ایف) کے سابق سیکریٹری جنرل یین شوئی تونگ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت مستقبل میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی تصادم کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا مسٹر شوئی تونگ نے یواین آئی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حالیہ واقعات عالمی سیاست میں ایک تشویشناک رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کسی ممکنہ امریکی حملے سے بچاؤ کے لیے کسی بیرونی طاقت پر انحصار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ 12 ماہ میں سات ممالک پر حملے کیے اور اب ایران کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد کسی دوسرے ملک کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے نئے ادارہ جاتی ڈھانچوں اور اصولوں کی ضرورت ہے جو خودمختاری کے تحفظ کو صرف نظریاتی نہ رکھ کر عملی بنا سکیں۔ ان کے مطابق اس سمت میں علاقائی تعاون سب سے حقیقت پسندانہ ابتدائی قدم ہو سکتا ہے۔
مسٹر شوئی تونگ نے مزید کہا کہ امریکہ مختلف ممالک پر معاشی دباؤ اور پابندیوں کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ وینیزویلا اور ایران کے معاملات میں دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق معاشی دباؤ اور جغرافیائی سیاسی حکمتِ عملی کا یہ امتزاج عالمی سطح پر مزید تصادم پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ “اصل سوال صرف ایران کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی بھی ملک کی خودمختاری کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر کہتا ہے کہ رکن ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے، لیکن یہ ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ جب خلاف ورزی کرنے والا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہو تو اسے کیسے نافذ کیا جائے۔”
عالمی طاقت کے توازن پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کی موجودگی امریکہ کی فوجی کارروائیوں پر ایک قسم کا توازن قائم کرتی تھی، لیکن موجودہ وقت میں کوئی بھی ملک اس سطح کی فوجی صلاحیت نہیں رکھتا جو امریکہ کی یکطرفہ کارروائیوں کو مؤثر طریقے سے محدود کر سکے۔
ایران کے جوہری پروگرام کو لے کر بڑھتے تناؤ پر انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ شاید اس تنازع کا اصل سبب نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی ملک واقعی جوہری ہتھیار بنانا چاہے تو وہ تقریباً دو سال میں ایسا کر سکتا ہے۔ ایران مسلسل کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ مسٹر شوئی تونگ کا ماننا ہے کہ طویل عرصے سے جاری تنازع اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جوہری مسئلہ اصل تنازع کا بنیادی سبب نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اسرائیل کی مؤثر لابنگ کے باعث لگائی گئی پابندیوں اور دباؤ کا سب سے زیادہ نقصان عام ایرانی شہریوں کو ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بڑے فوجی حملے کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں اور اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ کی استحکام متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تحفظ پسندی، جغرافیائی سیاسی مقابلے اور تکنیکی تبدیلی کے دور میں عالمی برادری کو انسانی زندگی اور قومی خودمختاری کے تحفظ پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
کیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو تاریخ کا سب سے شوقین شخص قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اپنی نئی رہائش گاہ بھی ’شیش محل‘ جیسی بنا لی ہے۔
دہلی حکومت کے سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی لیڈر پرویش صاحب سنگھ نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’عآپ‘ کا مطلب ’عالیشان آدمی پارٹی‘ ہے۔ اس دوران انہوں نے مسٹر کیجریوال کی نئی رہائش گاہ کی تصویر جاری کرتے ہوئے ان کا موازنہ فلم ’دھورندھر‘ کے ’رحمان ڈکیت‘ سے کیا اور کہا کہ انہوں نے اب یہاں دوسرا ’شیش محل‘ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی انتخاب ہارنے کے بعد مسٹر کیجریوال پنجاب چلے گئے تھے۔ وہاں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی سرکاری رہائش گاہ کے آس پاس چار گھروں پر مسٹر کیجریوال اور عآپ لیڈروں ستیندر جین، منیش سسودیا اور سنجے سنگھ نے قبضہ کر لیا تھا۔ مسٹر بھگونت مان بھی اس وجہ سے ان سے پریشان تھے۔
قابل ذکر ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد مرکزی حکومت نے مسٹر کیجریوال کو دہلی میں 95، لودھی اسٹیٹ میں واقع سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی تھی، جس میں وہ جمعہ کو خاندان کے ساتھ منتقل ہو گئے۔ مسٹر سنگھ نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی مرمت پر ہونے والے اخراجات کے تعلق سے ان پر حملہ بولا۔ انہوں نے مسٹر کیجریوال کی اس رہائش گاہ کی تصاویر دکھا کر حیرت کا اظہار کیا اور کہا، “وہاں بھی انہوں نے خوب پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ سرکاری رہائش گاہ ہے، لیکن اس میں سرکاری پیسہ نہیں لگا ہے۔” انہوں نے کہا کہ پہلے ’شیش محل‘ (6، فلیگ اسٹاف روڈ، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ) پر بھاری اخراجات کے حوالے سے جب سوالات اٹھے تو مسٹر کیجریوال نے دعویٰ کیا تھا کہ سجاوٹ کا فیصلہ پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر نے کیا تھا اور انہیں اخراجات کا علم نہیں تھا۔ اب نئی رہائش گاہ کے بارے میں وہ ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جو لیڈر کبھی عام بنگلہ بھی نہ لینے کی بات کرتے تھے، آج خود ’شیش محل‘ میں رہ رہے ہیں۔ دہلی میں کورونا کی وبا، پانی اور بجلی کی قلت کے وقت بھی مسٹر کیجریوال غائب ہو کر ’شیش محل‘ بنانے میں لگے رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’شیش محل‘ مسٹر کیجریوال کی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ کی تنخواہ سے ایسی آلیشان رہائش گاہ نہیں بن سکتی۔ انہیں بتانا چاہیے کہ اس پر شراب گھپلے کا پیسہ لگایا گیا ہے یا نہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کے اندر ’شیش محل‘ بس چکا ہے۔ اس وجہ سے انہیں دہلی اور پنجاب کی عوام کا دکھ دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کارکن پوری زندگی محنت کریں، تب بھی رہائش گاہ کو ایسا نہیں بنا سکتے۔ اس دوران انہوں نے سوال کیا کہ مسٹر کیجریوال بتائیں کہ لودھی روڈ والے بنگلے میں کتنا پیسہ لگا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کس کا ہے؟ کیا عآپ کی عیاشی کی وجہ سے آپ کے کارکن آپ کو چھوڑ رہے ہیں؟ بار بار عالیشان شیش محل بنانے کی انہیں کیا ضرورت پڑ رہی ہے؟ پہلے شیش محل میں شراب کا پیسہ لگا تھا، اس بار کس کا پیسہ لگا ہے”
انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسٹر کیجریوال سب سے شوقین شخص ہیں۔ نام عام آدمی پارٹی رکھا، لیکن کام راجہ مہاراجاؤں والا ہے۔ پارٹی کا نام ’ عام عالیشان پارٹی‘ ہونا چاہیے۔ پارٹی سے سات راجیہ سبھا ارکان کے استعفیٰ اور بی جے پی میں شمولیت کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ایماندار کارکن اب مسٹر کیجریوال کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
بنگال اور تمل ناڈو میں دوبارہ پولنگ کی کوئی سفارش نہیں کی گئی:الیکشن کمیشن
نئی دہلی،
الیکشن کمیشن کے حکام نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے 23 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے حوالے سے کسی بھی مقام پر دوبارہ ووٹنگ کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔
ریاست کی 294 رکنی اسمبلی کے پہلے مرحلے کے تحت 152 نشستوں کے لیے اس ہفتے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے۔ ان نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 44,376 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔ چند مقامات پر اکا دکا واقعات کے علاوہ ووٹنگ کا عمل پرامن رہا۔
تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں انتخابات مکمل کر لیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ریاست بھر میں 75,064 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، دونوں ریاستوں میں رائے دہندگان کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا اور پولنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ کسی بھی مرکز سے دھاندلی یا سنگین بے ضابطگی کی شکایت موصول نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ پولنگ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
بی جے پی کے دورِ حکومت میں اب متاثرہ کو ہراساں کرنے کا نیا نظام بن گیا ہے: پرینکا گاندھی
نئی دہلی،
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتر پردیش میں ایک لڑکی کے قتل سے پہلے اس کی شکایت درج کرنے میں تامل برتنے اور پھر بدمعاشوں کی جانب سے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالنے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ اقتدار میں اب یہ ایک نیا نظام بن گیا ہے۔
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں محترمہ واڈرا نے لکھا: “اتر پردیش کے غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں آنا کانی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں ملنا اور بدمعاشوں کے ذریعے لاقانونیت پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف مظالم انتہا پر ہیں۔”
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی راج میں اب یہ ایک “غیر اعلانیہ قانون” بن گیا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو الٹا متاثرہ شخص کو ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے بارے میں وزیراعظم کی بڑی بڑی باتیں محض دکھاوا ہیں۔
انہوں نے اناؤ، ہاتھرس، پریاگ راج اور اب غازی پور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ ظالم کے حق میں اور مظلوم کے خلاف کھڑی ہو گئی۔
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ملک بھر کی خواتین یہ “اندھیر نگری” دیکھ رہی ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دنیا7 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ







































































































