Connect with us

تجزیہ

عالمی یوم خواتین:خواتین کے تئیں نظریہ بدلنے کی ضرورت

Published

on

عالمی یوم خواتین پر خاص:عابد انور

پوری دنیا میں آٹھ مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، سیمینار، مباحثے، مذاکرے، ورکشاپ دیگر پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی صورت حال پیش کی جاتی ہے، خواتین کے حقوق کی باتیں زور و شور کی جاتی ہیں، ان کے وقار، ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا جاتاہے،اس کے بعد پھرایک برس تک خواتین کے ساتھ نہ صرف نازیبا سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے تن سے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں، برہنہ پریڈ کرایاجاتا ہے اورعزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے طرح طرح کے بدترین سلوک کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود کہلانے والا مہذب معاشرہ خواتین کے تئیں حساس نہیں ہوتا۔ خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمینار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن نے بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔آج خواتین نہ صرف حکمراں ہیں بلکہ سائنس، تکنالوجی، صنعت وتجارت اورسیاست ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ 8مارچ دنیا میں خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی علامت بن چکاہے۔ یہ1914سے اس دن کے منانے کی شروعات ہوئی۔ آٹھ مارچ 1907کو نیویارک کے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ چندخواتین نے تنخواہوں میں اضافہ اوربہترحالات کیلئے یہ جدوجہدشروع کی تھی۔نیویارک کی ان خواتین نے مطالبہ کیاتھاکہ دس گھنٹے کے کام کے عوض انہیں اس کے مطابق زیادہ تنخواہیں دی جائیں۔ان عورتوں پرگھوڑسوارپولیس نے لاٹھی چارج کیااورا ن زخمی عورتوں کوگھوڑوں کے پیچھے باندکر گھسیٹاگیا۔اس کے بعدسوئی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں نے اپنے ووٹ کے حق اوربچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف1908 میں مظاہرہ کیا۔ایک سماجی کارکن کلارازٹیکسن نے1910ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سفارش کی کہ1907 اور1908میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنیوالی عورتوں کی آوازمیں دنیابھرکی عورتوں کی آوازکوشامل کرنے کیلئے8مارچ کوعورتوں کاعالمی دن قراردیاجائے اوریہ دن ہرسال دنیابھرمیں منایاجائے۔ 1956ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کے خلاف جنوبی افریقہ کی20ہزارعورتوں نے پیری کوریامیں زبردست مظاہرہ کیاجسکے بعدعورتوں کی آوازمیں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔جس کااثریہ ہواکہ8مارچ کو اقوام متحدہ نے بھی خواتیں کے عالمی دن کے طورپرتسلیم کرلیا۔

اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر15سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔برطانیہ میں یہ شرح8.7فیصدفی لاکھ اورجنوبی افریقہ میں 129عورتیں فی لاکھ ہے جودنیابھرمیں سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیابھرمیں 20فیصدخواتین مردوں کے تشددوزیادتی کا شکار ہیں امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ کی عورتیں بدترین تشددمیں مبتلاہیں۔ہندوستان میں سالانہ6500سے7000خواتین کومحض اس لئے قتل کردیاجاتاہے کہ ان کے سسرال ان کو ملنے والے جہیزکوناکافی تصورکرتے ہیں۔ اس وقت دنیابھرمیں تقریباً4کروڑنوجوان خواتین کوفیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ ہرسال15سے 49 سال تک کی عمرکی تقریباً6لاکھ خواتین زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ہرسال پانچ کروڑعورتوں میں سے اسقاط حمل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے 78ہزارعورتیں انتقال کرجاتی ہیں۔جبکہ 40لاکھ خواتین اورلڑکیوں کوہرسال دنیابھرمیں عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیاجاتاہے۔ دنیابھرمیں عورتوں کوکام کرنے کامعاوضہ بہت کم دیاجاتاہے۔

دنیابھرمیں 7کروڑ سے زائدخواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں جن میں صرف انتہائی پسماندہ ممالک شامل نہیں ہیں۔ہرسال 80 لاکھ سے زائد عورتیں انسانوں کی خریدوفروخت کاشکارہوتی ہیں ان میں سے زیادہ ترکوکاروبار کے لئے عصمت فروشی کے لئے مجبورکیاجاتاہے۔

کسی بھی ملک نے مرد اور عورت کے درمیان قانونی خلا کو پر نہیں کیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مردوں کو حاصل قانونی حقوق کا صرف 64 فیصد خواتین کو حاصل ہے۔ زندگی کے بنیادی شعبوں میں، بشمول کام، پیسہ، حفاظت، خاندان، جائیداد، نقل و حرکت، کاروبار اور ریٹائرمنٹ – قانون منظم طریقے سے خواتین کو نقصان پہنچاتا ہے۔2026 کے خواتین کا عالمی دن، تھیم کے تحت، ‘حقوق، انصاف، کارروائی ہے۔ یہ تھیم تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے’، مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات اور نقصان دہ طرز عمل اور معاشرتی اصول جو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔

تنازعات اور بحران کی وجہ سے رجعت پسندی کے خطرات کے ساتھ۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود، خواتین کو مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، جس میں مردوں کے لیے 80 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد افرادی قوت کی شرکت کی شرح، تشدد کی اعلیٰ سطح (3 میں سے 1) اور بہت سے ملکوں میں محدود قانونی حقوق شامل ہیں۔

عالمی سطح پر صنفی مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس قت کم کرنے کی رفتار ہے اور یہی صورت حال رہی تو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً 123 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب خواتین اور لڑکیوں کو کسی بھی قسم کی سماجی تحفظ (Social Protection) کی سہولت حاصل نہیں۔اندازہ ہے کہ 2030 تک 351 ملین (35 کروڑ) خواتین اور لڑکیاں شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔خواتین عالمی آمدنی کا صرف تقریباً 28 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27.2فیصد ہے۔بہت سے ممالک میں ابھی تک کبھی بھی خاتون سربراہِ مملکت یا خواتین کی حکومت نہیں بنی۔اس کے علاوہ خواتین کے تئیں جرائم پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔230 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں Female (خواتین کا ختنہ)Genital Mutilation جیسے نقصان دہ رواج کا شکار ہو چکی ہیں۔ تنازعات کے علاقوں میں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، 5 میں سے 1 خاتون پناہ گزین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی کے ساتھ دنیا میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 19فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں۔دنیا میں امن کا دعوی کے باوجود دنیا میں 676 ملین خواتین اور لڑکیاں جنگی علاقوں کے قریب رہ رہی ہیں۔دنیا میں 2024 میں مردوں کے مقابلے میں 64 ملین زیادہ خواتین خوراک کی کمی کا شکار تھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک 158 ملین مزید خواتین شدید غربت میں جا سکتی ہیں۔

کچھ پیشرفت کے باوجود، بہت سے شعبوں میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 25فیصد سے کم ہے اور کابینہ میں خواتین وزیر صرف 22فیصدہیں۔

ڈبلیو پی ایس انڈیکس 2025/26 ڈنمارک، آئس لینڈ اور ناروے کو خواتین کے لیے بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، جبکہ دیگر خطوں کو حقوق کے حوالے سے سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔خواتین کے تعلق سے افغانستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ویمن پیس اینڈ سیکیورٹی انڈیکس (WPS انڈیکس) خواتین کی فلاح و بہبود پر 181 ممالک کا اسکور اور درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ 13 اشارے استعمال کرتا ہے جو 0 (بدترین) سے 1 (بہترین) تک اسکور بنانے کے لیے خواتین کی شمولیت، انصاف اور سلامتی پر محیط ہے۔ رینکنگ میں ڈنمارک بدستور سرفہرست ہے جب کہ افغانستان کی کارکردگی بدترین ہے۔ڈبلیو پی ایس انڈیکس کے پانچویں ایڈیشن سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت پر پیش رفت رک رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات سے متاثرہ مقامات سے بہتری آسکتی ہے۔

اگرچہ خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ کامیابیاں مکمل طور پر معاشی مواقع میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ خواتین کے انسانی سرمائے کو کم استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ نگہداشت کی بلا معاوضہ ذمہ داریاں، پابندی والے سماجی اصول اور فنانس اور ڈیجیٹل ٹولز تک محدود رسائی جیسی رکاوٹیں افرادی قوت اور وسیع تر معیشت میں ان کی شرکت کو روکتی رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 1990 سے اب تک 53 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ مردوں کے لیے 80 افیصد کے مقابلے۔ 710 ملین سے زیادہ خواتین کو خاندانی نگہداشت کے فرائض کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔

پورے ہندوستان میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں غیر مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں اور جب کہ اس کا اثر دونوں جنسوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق لڑکیاں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔

عالمی سطح پر لڑکیوں کی پیدائش کے وقت زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہے، ترقی کے راستے پر چلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور بالکل اسی طرح پری اسکول میں حصہ لینے کا امکان ہے، لیکن ہندوستان واحد بڑا ملک ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ مرتی ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا بھی زیادہ خدشہ ہے۔

ہندوستان میں لڑکیاں اور لڑکے نوجوانی کا تجربہ مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ جبکہ لڑکے زیادہ آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، لڑکیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور ان کے کام، تعلیم، شادی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر وسیع پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے صنفی رکاوٹیں بڑھتی رہتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں جہاں ہم صرف ایک چوتھائی خواتین کو رسمی کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی خواندگی کی شرح تقریباً 70.3 فیصدجبکہ مردوں کی 84.7فیصد ہے۔اس طرح مرد و خواتین کی خواندگی میں تقریباً 14–17 فیصد کا فرق موجود ہے۔خواتین کی اوسط عمر تقریباً 76 سال جبکہ مردوں کی 73 سال ہے۔زچگی کے دوران اموات کی شرح 122 (2015-17) سے کم ہو کر 97 (2018-20) ہوگئی۔خواتین میں خون کی کمی (Anaemia) تقریباً 50فیصدکے قریب ہے۔ہندوستانی پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب تقریباً 13–14فیصد ہے۔وزارتی عہدوں میں خواتین کی شرح صرف 5–6 فیصد کے قریب ہے۔عالمی صنفی مساوات کے اشاریہ میں ہندوستان کا درجہ 131واں ہے۔

ہندوستان میں معاشی معاملے میں بھی خواتین کافی پسماندہ ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن 2017-18 میں 23.3فیصد تھی جو بڑھ کر 41.7فیصد (2023-24) ہوگئی۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین کی معاشی شرکت میں ہندوستان کا درجہ بہت کم ہے (142/146)۔اکثر خواتین غیر رسمی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں اور مرد کے مقابلے خواتین کو 22-25فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ گھریلو تشدد قوانین کے باوجود خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد میں بہت کمی نہیں آئی ہے۔ تقریباً 31–32فیصد شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔2022 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,45,000 سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔خواتین تقریباً 78فیصدغیر محفوظ یا کم معیار کی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں۔جو خواتین ملازمت نہیں کرتیں ان میں سے تقریباً 53 فیصدگھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں۔ جب کہ مردوں میں یہ شرح صرف 1فیصد کے قریب ہے۔

کچھ ہندوستانی خواتین عالمی رہنما ہیں اور متنوع شعبوں میں طاقتور آوازیں ہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں پدرانہ نظریات، اصولوں، روایات اور ڈھانچے کی وجہ سے اپنے بہت سے حقوق سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتی ہیں۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

ہندوستان موسمیاتی بحران کی زد میں: ایک جانب سیلاب، دوسری جانب جان لیوا گرمی

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔

اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ‘کلائمیٹ وِپ لیش’ یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔

ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔

مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔

2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔

کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔

شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔

شدید گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ، کسان اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

گرمی کی لہروں کے دوران بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ سسٹمز کے استعمال سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔

ماضی میں موسم نسبتاً قابلِ پیش گوئی تھا۔ گرمی کے بعد بارش آتی تھی اور بارش کا ایک متعین دورانیہ ہوتا تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ کہیں بارش حد سے زیادہ ہے، کہیں بالکل نہیں۔ کہیں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہے، تو کہیں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج کر رہی ہیں۔

یہ تبدیلیاں عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو شدید بارشوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار گرمی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔

ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندوستان کے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں شدید بارش کے دوران سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔

شہری منصوبہ بندی میں آبی گزرگاہوں، نالوں اور قدرتی ذخائر کو نظر انداز کرنے کے باعث بارش کا پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی لہروں کے دوران شہروں میں ‘ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ’ پیدا ہوتا ہے، جہاں کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت مزید بڑھا دیتے ہیں۔

موسمیاتی شدت کے صحت پر اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ گرمی کی لہروں سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب اور بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

بچوں، بزرگوں اور کمزور معاشی طبقوں کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہوگی۔

سیلاب، گرمی اور موسمیاتی بے ترتیبی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ فصلوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں کمی ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

موجودہ صورتحال حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

آبی ذخائر کا بہتر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی مزاحم فصلوں کی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔

2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی علاقوں میں سیلاب اور شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسم کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔

اگرچہ ہندوستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن آبادی، زراعت اور معیشت کے اعتبار سے ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ماہرین، صنعت اور عوام مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی کم کر سکیں۔

موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

گلوبل ہیٹنگ اور حج: بڑھتی گرمی کے سائے میں مقدس سفر کا مستقبل

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

پوری دنیا کے مسلمان ہر سال جس روحانی سفر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں وہ حج ہے، مکہ مکرمہ میں ادا کی جانے والی یہ اہم عبادت محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایمان، قربانی، صبر، مساوات اور بندگی کا عظیم مظہر سمجھی جاتی ہے, لاکھوں مسلمان نسل، رنگ، زبان، قومیت اور معاشی تفاوت سے بالاتر ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور ایک ایسی فضا میں عبادت کرتے ہیں جہاں روحانیت کا ایک منفرد احساس جنم لیتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویش ناک حقیقت اس مقدس عبادت کے ساتھ جڑتی جا رہی ہے اور وہ ہے بڑھتی ہوئی عالمی گرمی یا گلوبل ہیٹنگ۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس اور موسمیاتی تجزیوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ مکہ مکرمہ کے موسم کو خطرناک حد تک تبدیل کر رہا ہے۔ شدید گرمی اب صرف گرمیوں کے چند مہینوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سال کے نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے اوقات میں بھی حجاج کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صدی کے اختتام تک حج تقریباً پورا سال شدید اور جان لیوا گرمی کے ماحول میں ادا کرنا پڑے گا۔

ایک تازہ تجزیے کے مطابق مکہ مکرمہ کی آب و ہوا میں بنیادی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ جہاں ماضی میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت صرف جون، جولائی یا اگست جیسے مہینوں میں دیکھا جاتا تھا، وہاں اب مئی جیسے نسبتاً ٹھنڈے تصور کیے جانے والے مہینے میں بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت باقاعدگی سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیول یعنی جیواشم ایندھن کا بے تحاشہ استعمال ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کیا۔

حج چونکہ اسلامی قمری کیلنڈر کے مطابق ادا کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال تقریباً دس دن پہلے آتی ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج مختلف موسموں میں گردش کرتا رہے گا، کبھی سردیوں میں، کبھی بہار میں اور کبھی گرمیوں میں۔ لیکن اب موسمیاتی تبدیلیوں نے اس قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاہے حج موسمِ بہار میں ہو یا خزاں میں، عالمی حدت کے باعث شدید گرمی ایک مستقل خطرے کے طور پر موجود رہے گی۔

2024 میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس خطرے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔ جون میں ادا کیے گئے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی کے باعث 1300 سے زائد حجاج جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہزاروں افراد کو ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

حج بنیادی طور پر جسمانی مشقت پر مشتمل عبادت ہے۔ لاکھوں عازمین حج کو کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے، مختلف مقامات کے درمیان مسلسل نقل و حرکت کرنا ہوتی ہے اور کھلے آسمان تلے عبادات انجام دینی پڑتی ہیں۔ میدانِ عرفات میں قیام، منیٰ میں قیام، جمرات پر رمی اور طواف جیسی عبادات جسمانی برداشت کا تقاضا کرتی ہیں۔ شدید گرمی ان تمام مراحل کو نہایت مشکل اور بعض اوقات خطرناک بنا دیتی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق مئی کے مہینے کا اوسط درجہ حرارت اب ماضی کے مقابلے میں تقریباً 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں چند ڈگری کا فرق انسانی صحت، پانی کی دستیابی، جسمانی برداشت اور موسمی توازن پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بار بار متنبہ کر رہے ہیں کہ موسمیاتی بحران صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، عبادات، معیشت اور عالمی استحکام کا مسئلہ بھی بن چکا ہے۔

اس صورتحال میں سعودی عرب نے کئی عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حجاج کی سہولت کے لیے سایہ دار راستے تعمیر کیے گئے ہیں، کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، مسٹنگ سسٹمز لگائے گئے ہیں جو پانی کی باریک پھوار کے ذریعے درجہ حرارت کا احساس کم کرتے ہیں، جبکہ طبی خدمات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کی تعداد بڑھائی گئی تاکہ گرمی سے متاثر افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی اور حفاظتی نوعیت کے ہیں۔ اصل مسئلہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اگر زمین مسلسل گرم ہوتی رہی تو حفاظتی انتظامات کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب درجہ حرارت انسانی برداشت کی حد سے تجاوز کر جائے، اور محض ٹھنڈا پانی یا سایہ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کافی نہ رہے۔

یہ صورتحال ایک اہم اخلاقی اور سیاسی سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی معیشت بڑی حد تک تیل کی صنعت پر منحصر ہے۔ دوسری طرف موسمیاتی سائنسدان مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوسل فیول کے استعمال میں کمی لائی جائے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں؟

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ حج میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد مختلف ممالک اور موسمی حالات سے تعلق رکھتے ہیں۔

بعض حجاج نسبتاً سرد خطوں سے آتے ہیں جہاں 20 یا 25 ڈگری درجہ حرارت بھی گرمی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے 45 یا 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بوڑھے افراد، دل کے مریض، شوگر کے مریض اور جسمانی کمزوری کے شکار افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

عالمی حدت صرف حج ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ شدید گرمی پانی کے بحران کو جنم دے رہی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک میں انسانی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ ان خطوں میں شامل ہے جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار نسبتاً زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جائے، قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دیا جائے اور تیل و گیس پر انحصار کم کیا جائے تو صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والی نسلوں کے لیے حج سمیت بہت سی مذہبی اور سماجی سرگرمیاں شدید موسمی خطرات سے جڑی رہیں گی۔

اس تناظر میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر کیسے دیکھا جائے۔ اسلام میں اسراف، وسائل کے ضیاع اور زمین میں فساد سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماحولیاتی تحفظ کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر لیا جائے تو نہ صرف ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے عبادات کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

حج ہمیشہ اتحاد، قربانی اور روحانی پاکیزگی کی علامت رہا ہے، مگر اب اس مقدس عبادت کے سامنے ایک نیا چیلنج موجود ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، مذہبی آزادی اور عالمی ذمہ داری کا سوال بنتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے بروقت اقدامات نہ کیے تو وہ دن دور نہیں جب حج کا یہ روحانی سفر لاکھوں لوگوں کے لیے شدید جسمانی آزمائش میں تبدیل ہو جائے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ چیلنج ہے۔ اگر انسان نے اپنے طرزِ زندگی، صنعتی ترجیحات اور توانائی کے ذرائع پر نظرثانی نہ کی تو اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے، حتیٰ کہ عبادت گاہیں اور مقدس مقامات بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

موسمیاتی تبدیلی او ر ہندوستانی زراعت کا نیا ماڈل

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

ہندوستان ایک زرعی ملک ہے جہاں زراعت صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ سماجی استحکام، غذائی تحفظ، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے اگرچہ صنعتی ترقی، شہری توسیع اور خدمات کے شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے معیشت کی ساخت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم زراعت آج بھی ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا تصور زرعی شعبے کی مضبوطی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن موجودہ صدی میں ہندوستانی زراعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں روایتی زرعی طریقے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور غیر متوقع موسمی حالات جیسے مسائل کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب زراعت کا انحصار موسمی اندازوں، مقامی تجربات اور روایتی مہارتوں پر تھا، لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب اور مٹی کی مسلسل خرابی نے زرعی پیداوار کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے میں صرف زرعی قرضے، منڈی تک رسائی یا سپلائی چین کی بہتری کافی نہیں رہی بلکہ اب ایک نئے زرعی وژن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس میں ٹیکنالوجی، پائیداری اور آب و ہوا سے مطابقت بنیادی ستون ہوں۔

اسی تناظر میں ہندوستان کے ایگری ٹیک (Agri Tech) ایکو سسٹم کے اندر“کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر”یعنی آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت اور“سسٹین ایبل فارمنگ”یعنی پائیدار کاشتکاری سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سرمایہ کار، حکومتیں، اسٹارٹ اپس، تحقیقی ادارے اور ترقیاتی تنظیمیں اس بات کو سمجھنے لگی ہیں کہ مستقبل کی زراعت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ زیادہ پائیدار، زیادہ محفوظ اور زیادہ لچکدار نظام پر مبنی ہوگی۔

ہندوستانی زراعت اس وقت ایک پیچیدہ بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات ہیں اور دوسری طرف قدرتی وسائل تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً چار فیصد میٹھے پانی پر ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بذاتِ خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے ساتھ مٹی کی نامیاتی ساخت میں کمی، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال اور بدلتے موسمی پیٹرن نے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

زرعی زمینیں مسلسل نامیاتی مادے سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں زمین کی زرخیزی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال نے اگرچہ وقتی طور پر پیداوار میں اضافہ کیا، لیکن طویل مدت میں اس نے مٹی کی صحت کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں کسان زیادہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود کم پیداوار حاصل کرنے لگے ہیں۔

اسی دوران مون سون کی روایتی ترتیب بھی متاثر ہوئی ہے۔ پہلے بارش کا ایک متوازن نظام موجود تھا، لیکن اب یا تو بارش تاخیر سے آتی ہے، یا بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، یا چند دنوں میں انتہائی شدت سے برس کر سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اس تبدیلی نے کسانوں کی منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فصلوں کے وقت بیجوں کے انتخاب، پانی کی دستیابی اور زرعی لاگت سب غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریاتی بحث نہیں رہی بلکہ ایک معاشی اور سماجی حقیقت بن چکی ہے۔ شدید موسمی واقعات میں اضافے نے زراعت کے استحکام کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ گرمی کی شدید لہریں، غیر معمولی بارشیں، ژالہ باری، خشک سالی اور سیلاب فصلوں کی تباہی، مویشیوں کی ہلاکت اور کسانوں کی آمدنی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔

غیر مستحکم زرعی آمدنی کا مسئلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی پالیسی مباحث میں قیمت اور آمدنی کی ضمانت جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر کھیتوں کی آمدنی میں درمیانی مدت میں 15 سے 25 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں غذائی تحفظ اور دیہی معیشت دونوں خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ریاضیاتی بحران ہے۔ اگر آبادی بڑھتی رہے، پانی کم ہوتا جائے، زمین کی صحت گرتی رہے اور موسم غیر یقینی ہو جائے تو روایتی زراعت کے ذریعے اس مساوات کو حل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایگری ٹیک سرمایہ کاری اور پائیدار زراعت ایک نئی امید کے طور پر سامنے آتی ہے۔

ایگری ٹیک ایکو سسٹم دراصل زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل حل اور سائنسی جدت کے امتزاج کا نام ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز، ڈرونز، موسمی پیش گوئی کے نظام، سیٹلائٹ امیجنگ، آبی انتظام، اسمارٹ آبپاشی، بائیوٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

پہلے ایگری ٹیک سرمایہ کاری کا زور بنیادی طور پر منڈی تک رسائی، سپلائی چین، زرعی قرضوں اور لاجسٹکس پر تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کی توجہ ان حلوں پر منتقل ہو رہی ہے جو موسمیاتی خطرات کو کم کر سکیں۔ یعنی ایسے نظام جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں، مٹی کی صحت بہتر بنائیں، کاربن اخراج کم کریں اور کسانوں کو موسمی جھٹکوں کے خلاف زیادہ مضبوط بنائیں۔

یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب زراعت کو محض ایک کاروباری موقع کے طور پر نہیں بلکہ ایک وجودی مسئلے کے حل کے میدان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

آب و ہوا کے لیے لچکدار زراعت کا بنیادی مقصد ایسے زرعی نظام پیدا کرنا ہے جو موسمی جھٹکوں کو برداشت کر سکیں، کم وسائل میں مؤثر پیداوار دیں اور ماحولیات پر منفی اثرات کو کم کریں۔

اس تصور میں فصلوں کی تنوع، پانی کا مؤثر استعمال، موسمی پیش گوئی پر مبنی کاشتکاری، خشک سالی برداشت کرنے والے بیج، مٹی کی بحالی، نامیاتی مواد میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فیصلہ سازی شامل ہے۔

مثلاً اگر کسی علاقے میں بارش غیر یقینی ہے تو وہاں ڈرپ ایریگیشن، مائیکرو آبپاشی، بارش کے پانی کا ذخیرہ اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہو تو ایسی اقسام متعارف کرائی جا سکتی ہیں جو گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ پائیدار زراعت اب محض ماحولیاتی کارکنوں کا نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔پائیدار کاشتکاری کا مقصد قدرتی وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے طویل مدت تک زرعی پیداوار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس میں مٹی کی صحت، پانی کی حفاظت، حیاتیاتی تنوع اور کم کیمیائی استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔

روایتی زرعی ماڈل نے زیادہ پیداوار تو دی، لیکن اس کی قیمت زمین اور پانی نے ادا کی۔ زیر زمین پانی تیزی سے کم ہوا، مٹی میں نامیاتی مادہ گھٹا اور کیمیائی آلودگی بڑھی۔ اگر یہی ماڈل جاری رہا تو آنے والے عشروں میں زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔پائیدار کاشتکاری اس بحران کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس میں فصلوں کی گردش، نامیاتی کھاد، مربوط غذائی انتظام، بائیولوجیکل کیڑوں کا کنٹرول اور قدرتی وسائل کا تحفظ شامل ہے۔

سرمایہ کار اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف خطرہ نہیں بلکہ ایک بڑی اقتصادی تبدیلی بھی ہے۔ وہ کمپنیاں جو پانی بچانے، مٹی بہتر بنانے، موسمی پیش گوئی، ڈیجیٹل زراعت، کاربن کریڈٹ اور زرعی رسک مینجمنٹ کے حل فراہم کر رہی ہیں، مستقبل میں انتہائی اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس ایسے ماڈلز پیش کر رہے ہیں جو کسانوں کو درست وقت پر معلومات، بہتر بیج، مؤثر آبپاشی اور بیماریوں کی پیشگی شناخت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Advertisement
جموں و کشمیر33 minutes ago

تازہ بارش کے بعد کشمیر میں بہار جیسا موسم

دنیا2 hours ago

ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی

دنیا2 hours ago

شہید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کی تاریخ کا اعلان

دنیا2 hours ago

امریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ

پاکستان2 hours ago

آئندہ 24 گھنٹے میں امریکہ ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع : وزیراعظم شہباز شریف

دنیا2 hours ago

ہم لبنان میں حزب اللّٰہ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے: عراقچی

دنیا6 hours ago

معاہدے کے 14 نکات، ایران کا ایٹمی معاملہ ملتوی کر دیا گیا ہے: عباس عراقچی

جموں و کشمیر6 hours ago

شمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار

ہندوستان7 hours ago

فضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید

دنیا7 hours ago

امریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا

دنیا7 hours ago

واشنگٹن-تہران بات چیت میں “امید” اور “احتیاط” ایک ساتھ جاری

دنیا9 hours ago

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ گئی: ایران

جموں و کشمیر9 hours ago

این سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد

جموں و کشمیر9 hours ago

ای او ڈبلیو کشمیر کی تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کے مقدمے میں ڈی سی ایم او شوپیاں کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپہ

ہندوستان11 hours ago

مودی فرانس، سلوواکیہ کے چھ روزہ دورے پر روانہ، عالمی رہنماؤں سے کریں گے ملاقات

جموں و کشمیر1 day ago

میرواعظ عمر فاروق کی قوم سے دردمندانہ اپیل “سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اجتماعی خود احتسابی ضروری

دنیا1 day ago

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان آنے کا امکان

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر پولیس کی امرناتھ یاترا سے قبل ننون بیس کیمپ میں موک ڈرل، سیکیورٹی تیاریوں کا جائزہ

دنیا1 day ago

امریکہ اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن: ذرائع ایرانی وزارت خارجہ

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر سے افسپا ہٹایا جائے: وزیر سکینہ ایتو

دنیا1 day ago

ٹرمپ نے ایران پر طے شدہ حملے روک دیے، معاہدے کے قریب پہنچنے کا دعویٰ

ہندوستان1 day ago

بچوں کا پھر مزدوری میں لوٹنا تشویشناک: کھرگے

ہندوستان1 day ago

سونے اور چاندی کی درآمدی محصولات کی قیمت میں کمی

ہندوستان1 day ago

پٹرول پمپ پر ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل ملے گا، نیا حکم نامہ جاری

دنیا1 day ago

ایرانی سپریم لیڈر سے معاہدے کی منظوری مل چکی، ٹرمپ کا دعویٰ

دنیا1 day ago

ایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا

دنیا1 day ago

ایران نے امریکہ سے مفاہمتی معاہدے کی منظوری نہیں دی

جموں و کشمیر2 days ago

وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات

دنیا2 days ago

امریکہ آج رات ایران پر انتہائی شدید کاری ضرب لگانے جا رہا ہے: ٹرمپ

دنیا2 days ago

ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، سینٹکام نے آبنائے بندش کا دعویٰ مسترد کر دیا، خام تیل مہنگا

دنیا2 days ago

شام اور لبنان پر اسرائیلی حملوں سے ترکیہ کو خطرہ محسوس ہونے لگا

دنیا2 days ago

امریکی ہلاکتوں کی تعداد ٹرمپ کی تصدیق سے کہیں زیادہ ہے، مزید بڑھے گی: ایران

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: اگر آپ کی آر سی معطل ہے تو شہر کی سڑکوں پر گاڑی چلانے کی جرات نہ کریں، جموں ٹریفک پولیس کی کڑی نظر

جموں و کشمیر2 days ago

اسکول کے میدانوں سے قومی سطح تک: جموں و کشمیر نوجوان کھیلوں کے ٹیلنٹ کی پرورش پر توجہ دے رہا ہے: منوج سنہا

دنیا2 days ago

پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

دنیا2 days ago

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کا ہندوستان میں آپریشن بند کرنے کا اعلان، 250 ملازمین متاثر

دنیا2 days ago

امریکی حملوں اور فوجی جھڑپوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے تمام جہاز وں کی آمدورفت بند کردی

ہندوستان2 days ago

اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کے خلاف لڑنے کی ضرورت: کھرگے

ہندوستان2 days ago

وزیراعظم مودی نے کسانوں پر مرکوز 12 سال کی اصلاحات پر روشنی ڈالی، کہا انّ داتاوں کی فلاح و بہبود اولین ترجیح رہے گی

دنیا2 days ago

مشرقِ وسطیٰ کو سنگین بحران میں دھکیلا جا رہا ہے: انتونیو گوتریس

جموں و کشمیر2 days ago

فاروق عبداللہ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی سے پی او کے کی صورتحال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا

جموں و کشمیر2 days ago

سی بی آئی نے بانڈی پورہ میں پی ایم ای جی پی قرض گھوٹالے میں 19 افراد اور نامعلوم افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا

دنیا2 days ago

صدر ٹرمپ نے ڈیل میں تاخیر سے مایوس ہوکر ایران پر دوبارہ حملے کا حکم دیا: امریکی ویب سائٹ

دنیا2 days ago

امریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر

دنیا2 days ago

آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی

دنیا2 days ago

امریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ

دنیا2 days ago

ایران میں پیٹروکیمیکل کارخانے پر امریکی بمباری، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر ایرانی کا جوابی میزائل حملہ

دنیا2 days ago

ایران پر بمباری جلد رک جائے گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا2 days ago

امریکہ نے ایران میں کئی ٹھکانوں نئے حملے کیے

دنیا2 days ago

ایران نے مغربی ایشیا میں 18 امریکی اڈوں پر حملے کیے: آئی آر جی سی

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

ہندوستان2 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر2 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین4 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ6 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

دنیا4 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تازہ ترین4 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

کھیل2 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین4 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

کھیل4 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

دنیا4 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

ہندوستان1 month ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

دنیا3 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

تازہ ترین4 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

ہندوستان4 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تجزیہ7 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

دنیا3 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

تازہ ترین5 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

دنیا3 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

جموں و کشمیر4 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین7 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

دنیا3 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

تازہ ترین4 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین4 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین4 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر3 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر8 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending