تجزیہ
عالمی یوم خواتین:خواتین کے تئیں نظریہ بدلنے کی ضرورت
عالمی یوم خواتین پر خاص:عابد انور
پوری دنیا میں آٹھ مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، سیمینار، مباحثے، مذاکرے، ورکشاپ دیگر پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی صورت حال پیش کی جاتی ہے، خواتین کے حقوق کی باتیں زور و شور کی جاتی ہیں، ان کے وقار، ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا جاتاہے،اس کے بعد پھرایک برس تک خواتین کے ساتھ نہ صرف نازیبا سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے تن سے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں، برہنہ پریڈ کرایاجاتا ہے اورعزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے طرح طرح کے بدترین سلوک کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود کہلانے والا مہذب معاشرہ خواتین کے تئیں حساس نہیں ہوتا۔ خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمینار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن نے بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔آج خواتین نہ صرف حکمراں ہیں بلکہ سائنس، تکنالوجی، صنعت وتجارت اورسیاست ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ 8مارچ دنیا میں خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی علامت بن چکاہے۔ یہ1914سے اس دن کے منانے کی شروعات ہوئی۔ آٹھ مارچ 1907کو نیویارک کے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ چندخواتین نے تنخواہوں میں اضافہ اوربہترحالات کیلئے یہ جدوجہدشروع کی تھی۔نیویارک کی ان خواتین نے مطالبہ کیاتھاکہ دس گھنٹے کے کام کے عوض انہیں اس کے مطابق زیادہ تنخواہیں دی جائیں۔ان عورتوں پرگھوڑسوارپولیس نے لاٹھی چارج کیااورا ن زخمی عورتوں کوگھوڑوں کے پیچھے باندکر گھسیٹاگیا۔اس کے بعدسوئی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں نے اپنے ووٹ کے حق اوربچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف1908 میں مظاہرہ کیا۔ایک سماجی کارکن کلارازٹیکسن نے1910ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سفارش کی کہ1907 اور1908میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنیوالی عورتوں کی آوازمیں دنیابھرکی عورتوں کی آوازکوشامل کرنے کیلئے8مارچ کوعورتوں کاعالمی دن قراردیاجائے اوریہ دن ہرسال دنیابھرمیں منایاجائے۔ 1956ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کے خلاف جنوبی افریقہ کی20ہزارعورتوں نے پیری کوریامیں زبردست مظاہرہ کیاجسکے بعدعورتوں کی آوازمیں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔جس کااثریہ ہواکہ8مارچ کو اقوام متحدہ نے بھی خواتیں کے عالمی دن کے طورپرتسلیم کرلیا۔
اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر15سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔برطانیہ میں یہ شرح8.7فیصدفی لاکھ اورجنوبی افریقہ میں 129عورتیں فی لاکھ ہے جودنیابھرمیں سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیابھرمیں 20فیصدخواتین مردوں کے تشددوزیادتی کا شکار ہیں امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ کی عورتیں بدترین تشددمیں مبتلاہیں۔ہندوستان میں سالانہ6500سے7000خواتین کومحض اس لئے قتل کردیاجاتاہے کہ ان کے سسرال ان کو ملنے والے جہیزکوناکافی تصورکرتے ہیں۔ اس وقت دنیابھرمیں تقریباً4کروڑنوجوان خواتین کوفیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ ہرسال15سے 49 سال تک کی عمرکی تقریباً6لاکھ خواتین زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ہرسال پانچ کروڑعورتوں میں سے اسقاط حمل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے 78ہزارعورتیں انتقال کرجاتی ہیں۔جبکہ 40لاکھ خواتین اورلڑکیوں کوہرسال دنیابھرمیں عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیاجاتاہے۔ دنیابھرمیں عورتوں کوکام کرنے کامعاوضہ بہت کم دیاجاتاہے۔
دنیابھرمیں 7کروڑ سے زائدخواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں جن میں صرف انتہائی پسماندہ ممالک شامل نہیں ہیں۔ہرسال 80 لاکھ سے زائد عورتیں انسانوں کی خریدوفروخت کاشکارہوتی ہیں ان میں سے زیادہ ترکوکاروبار کے لئے عصمت فروشی کے لئے مجبورکیاجاتاہے۔
کسی بھی ملک نے مرد اور عورت کے درمیان قانونی خلا کو پر نہیں کیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مردوں کو حاصل قانونی حقوق کا صرف 64 فیصد خواتین کو حاصل ہے۔ زندگی کے بنیادی شعبوں میں، بشمول کام، پیسہ، حفاظت، خاندان، جائیداد، نقل و حرکت، کاروبار اور ریٹائرمنٹ – قانون منظم طریقے سے خواتین کو نقصان پہنچاتا ہے۔2026 کے خواتین کا عالمی دن، تھیم کے تحت، ‘حقوق، انصاف، کارروائی ہے۔ یہ تھیم تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے’، مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات اور نقصان دہ طرز عمل اور معاشرتی اصول جو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔
تنازعات اور بحران کی وجہ سے رجعت پسندی کے خطرات کے ساتھ۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود، خواتین کو مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، جس میں مردوں کے لیے 80 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد افرادی قوت کی شرکت کی شرح، تشدد کی اعلیٰ سطح (3 میں سے 1) اور بہت سے ملکوں میں محدود قانونی حقوق شامل ہیں۔
عالمی سطح پر صنفی مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس قت کم کرنے کی رفتار ہے اور یہی صورت حال رہی تو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً 123 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب خواتین اور لڑکیوں کو کسی بھی قسم کی سماجی تحفظ (Social Protection) کی سہولت حاصل نہیں۔اندازہ ہے کہ 2030 تک 351 ملین (35 کروڑ) خواتین اور لڑکیاں شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔خواتین عالمی آمدنی کا صرف تقریباً 28 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27.2فیصد ہے۔بہت سے ممالک میں ابھی تک کبھی بھی خاتون سربراہِ مملکت یا خواتین کی حکومت نہیں بنی۔اس کے علاوہ خواتین کے تئیں جرائم پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔230 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں Female (خواتین کا ختنہ)Genital Mutilation جیسے نقصان دہ رواج کا شکار ہو چکی ہیں۔ تنازعات کے علاقوں میں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، 5 میں سے 1 خاتون پناہ گزین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی کے ساتھ دنیا میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 19فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں۔دنیا میں امن کا دعوی کے باوجود دنیا میں 676 ملین خواتین اور لڑکیاں جنگی علاقوں کے قریب رہ رہی ہیں۔دنیا میں 2024 میں مردوں کے مقابلے میں 64 ملین زیادہ خواتین خوراک کی کمی کا شکار تھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک 158 ملین مزید خواتین شدید غربت میں جا سکتی ہیں۔
کچھ پیشرفت کے باوجود، بہت سے شعبوں میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 25فیصد سے کم ہے اور کابینہ میں خواتین وزیر صرف 22فیصدہیں۔
ڈبلیو پی ایس انڈیکس 2025/26 ڈنمارک، آئس لینڈ اور ناروے کو خواتین کے لیے بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، جبکہ دیگر خطوں کو حقوق کے حوالے سے سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔خواتین کے تعلق سے افغانستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ویمن پیس اینڈ سیکیورٹی انڈیکس (WPS انڈیکس) خواتین کی فلاح و بہبود پر 181 ممالک کا اسکور اور درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ 13 اشارے استعمال کرتا ہے جو 0 (بدترین) سے 1 (بہترین) تک اسکور بنانے کے لیے خواتین کی شمولیت، انصاف اور سلامتی پر محیط ہے۔ رینکنگ میں ڈنمارک بدستور سرفہرست ہے جب کہ افغانستان کی کارکردگی بدترین ہے۔ڈبلیو پی ایس انڈیکس کے پانچویں ایڈیشن سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت پر پیش رفت رک رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات سے متاثرہ مقامات سے بہتری آسکتی ہے۔
اگرچہ خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ کامیابیاں مکمل طور پر معاشی مواقع میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ خواتین کے انسانی سرمائے کو کم استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ نگہداشت کی بلا معاوضہ ذمہ داریاں، پابندی والے سماجی اصول اور فنانس اور ڈیجیٹل ٹولز تک محدود رسائی جیسی رکاوٹیں افرادی قوت اور وسیع تر معیشت میں ان کی شرکت کو روکتی رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 1990 سے اب تک 53 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ مردوں کے لیے 80 افیصد کے مقابلے۔ 710 ملین سے زیادہ خواتین کو خاندانی نگہداشت کے فرائض کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔
پورے ہندوستان میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں غیر مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں اور جب کہ اس کا اثر دونوں جنسوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق لڑکیاں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔
عالمی سطح پر لڑکیوں کی پیدائش کے وقت زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہے، ترقی کے راستے پر چلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور بالکل اسی طرح پری اسکول میں حصہ لینے کا امکان ہے، لیکن ہندوستان واحد بڑا ملک ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ مرتی ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا بھی زیادہ خدشہ ہے۔
ہندوستان میں لڑکیاں اور لڑکے نوجوانی کا تجربہ مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ جبکہ لڑکے زیادہ آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، لڑکیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور ان کے کام، تعلیم، شادی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر وسیع پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے صنفی رکاوٹیں بڑھتی رہتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں جہاں ہم صرف ایک چوتھائی خواتین کو رسمی کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی خواندگی کی شرح تقریباً 70.3 فیصدجبکہ مردوں کی 84.7فیصد ہے۔اس طرح مرد و خواتین کی خواندگی میں تقریباً 14–17 فیصد کا فرق موجود ہے۔خواتین کی اوسط عمر تقریباً 76 سال جبکہ مردوں کی 73 سال ہے۔زچگی کے دوران اموات کی شرح 122 (2015-17) سے کم ہو کر 97 (2018-20) ہوگئی۔خواتین میں خون کی کمی (Anaemia) تقریباً 50فیصدکے قریب ہے۔ہندوستانی پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب تقریباً 13–14فیصد ہے۔وزارتی عہدوں میں خواتین کی شرح صرف 5–6 فیصد کے قریب ہے۔عالمی صنفی مساوات کے اشاریہ میں ہندوستان کا درجہ 131واں ہے۔
ہندوستان میں معاشی معاملے میں بھی خواتین کافی پسماندہ ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن 2017-18 میں 23.3فیصد تھی جو بڑھ کر 41.7فیصد (2023-24) ہوگئی۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین کی معاشی شرکت میں ہندوستان کا درجہ بہت کم ہے (142/146)۔اکثر خواتین غیر رسمی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں اور مرد کے مقابلے خواتین کو 22-25فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ گھریلو تشدد قوانین کے باوجود خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد میں بہت کمی نہیں آئی ہے۔ تقریباً 31–32فیصد شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔2022 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,45,000 سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔خواتین تقریباً 78فیصدغیر محفوظ یا کم معیار کی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں۔جو خواتین ملازمت نہیں کرتیں ان میں سے تقریباً 53 فیصدگھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں۔ جب کہ مردوں میں یہ شرح صرف 1فیصد کے قریب ہے۔
کچھ ہندوستانی خواتین عالمی رہنما ہیں اور متنوع شعبوں میں طاقتور آوازیں ہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں پدرانہ نظریات، اصولوں، روایات اور ڈھانچے کی وجہ سے اپنے بہت سے حقوق سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
گوہر پیرزادہ
اپریل 2025 کے بائیسرن حملے کے بعد سیاحت میں نمایاں کمی
پہلگام، 23 اپریل — وادی کشمیر کا خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام، جو عام طور پر موسمِ بہار میں سیاحوں سے بھرا رہتاΩ تھا، اس سال ایک غیر معمولی خاموشی کا شکار ہے۔ 22 اپریل 2025 کو یہاں کے مشہور سیاحتی مقام بائیسرن میں ہونے والے حملے کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث سڑکیں سنسان، ہوٹل آدھے خالی، اور سیاحت پر انحصار کرنے والے سیکڑوں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد جان بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر غیر مقامی سیاح شامل تھے۔
پہلگام کے دورے کے دوران مقامی سیاحتی شعبے کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی۔ وہ پرکشش سڑکیں، جو عام طور پر سیاحوں کی گاڑیوں اور ہلچل سے بھرے بازاروں سے جانی جاتی تھیں، اب بڑی حد تک ویران اور مایوس کن نظر آ رہی تھیں۔ ہوٹل مالکان نے نہ ہونے کے برابر بکنگ کی اطلاع دی، ٹیکسی اڈوں پر زیادہ تر گاڑیاں خالی کھڑی تھیں، جبکہ گھوڑوں کے مالکان اور چلانے والے بے چینی سے گاہکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
بہت سے مقامی افراد کے لیے سیاحت محض ایک موسمی کاروبار نہیں بلکہ ان کی زندگی کا سہارا ہے۔
انہی میں گھوڑا بان عبداللہ بھی شامل ہے، جو گھوڑا اڈے کے قریب خاموشی سے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا، مگر کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بڑے خاندان کی کفالت اور شادی کی عمر کو پہنچتی بیٹیوں کے باعث وہ شدید فکرمند دکھائی دیا۔
“اس موسم میں سیاح بہت کم ہیں۔ ہم انہی چند مہینوں میں کام کر کے سال بھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم شادیوں، تعلیم اور گھریلو اخراجات کیسے چلائیں گے؟” اس نے سوال اٹھایا۔

اس کی پریشانی وادی میں پیدا ہونے والے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
گاڑی چلانے والے محمد شفیع اور غلام محمد بھی دیگر ڈرائیوروں کی طرح اڈے پر بے بسی سے انتظار کرتے نظر آئے۔ ان کی گاڑیاں کئی دنوں سے بغیر کسی بکنگ کے کھڑی ہیں۔
محمد شفیع نے کہا، “ہمارے ذمے قرضے اور ماہانہ قسطیں ہیں۔ سیاحوں کے بغیر ہر گزرتا دن ہمارے لیے مزید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات معمول پر ہیں، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔”
غلام محمد نے بھی اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ڈرائیور اب ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
مایوس کن ماحول کے باوجود چند سیاح بھی نظر آئے۔ ایک چھوٹے گروپ کو گھوڑوں کی سواری سے لطف اندوز ہوتے دیکھا گیا، جو امید کی ایک جھلک پیش کر رہا تھا۔
کیرالہ سے آئے ایک سیاح نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ کشمیر میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
“ہم یہاں محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ حفاظتی انتظامات اچھے ہیں اور مقامی لوگ خوش آمدید کہتے ہیں۔ تاہم اس بار موسم کافی سخت رہا ہے۔ اپریل میں غیر معمولی بارش اور سردی ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔
ان کی اہلیہ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ اگرچہ حفاظتی خدشات قابو میں ہیں، لیکن غیر موسمی بارش نے ان کے سفری منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
سیاحت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ صرف حفاظتی خدشات ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی سیاحوں کی کم آمد کا سبب بنے ہیں۔
ایک مقامی ہوٹل مالک گورپریہ کور نے بتایا کہ حکومت نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے سرمائی اور بیساکھی تہواروں کا انعقاد کیا، تاہم ان کا اثر محدود رہا۔
انہوں نے کہا، “تہوار توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں، مگر ایسے واقعات کے بعد لوگ سفر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، جو ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیے گئے۔
“ہماری آب و ہوا اور قدرتی خوبصورتی کے ساتھ، اگر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے تو کشمیر صحت مند سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں سیاحت کے شعبے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا۔

ہوٹل مالک گورپریہ کور
مقامی دکاندار عبدالمجید نے بائیسرن اور چندن واری جیسے اہم مقامات کی بندش کو سیاحوں کی کمی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
“جب اہم سیاحتی مقامات بند ہوں تو لوگ کم ہی آتے ہیں۔ دکانوں میں گاہک نہیں ہوتے، رہنماؤں کے پاس کام نہیں ہوتا، اور گھوڑا مالکان بیکار بیٹھے رہتے ہیں—یعنی ہر کوئی متاثر ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حفاظتی جائزے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولا جائے۔
“ہم حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، مگر مکمل بندش سے سب سے زیادہ نقصان غریب لوگوں کو ہوتا ہے۔ حکومت کو متوازن حل تلاش کرنا چاہیے۔”

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول پر اور قابو میں ہیں۔ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور سیاحوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
تاہم، پہلگام کی زمینی حقیقت ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت، خاص طور پر پہلگام جیسے علاقوں میں، نہایت حساس شعبہ ہے۔ ایک واقعہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے طویل معاشی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
یہاں کے لوگوں کے لیے سیاحت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اسکول فیس، شادی کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور روزمرہ ضروریات سے جڑی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے سیاحتی موسم آگے بڑھ رہا ہے، مقامی لوگ امید کر رہے ہیں کہ سیاح دوبارہ واپس آئیں گے۔
لیکن فی الحال پہلگام میں خاموشی کسی بھی سرکاری یقین دہانی سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دے رہی ہے۔
جب تک اعتماد مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، خالی سڑکیں اور پریشان چہرے اس جنتِ بے نظیر میں بگڑتے ہوئے حالات کی اصل قیمت بیان کرتے رہیں گے۔
تجزیہ
اگر حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا تو بل کیوں پیش کیا گیا؟

اگر وزیرِاعظم Narendra Modi کی حکومت کو، جیسا کہ قائدِ حزبِ اختلاف Rahul Gandhi نے دعویٰ کیا، یہ علم تھا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ناکام ہو جائے گا، تو پھر اسے پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک “ناکام ہونے والا” بل بھی قانون بننے سے آگے کئی مقاصد پورے کر سکتا ہے—جیسے ایجنڈا طے کرنا، عوامی بحث کا رخ موڑنا، اہم مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانا، اور وقت کے ساتھ پالیسی خیالات کو معمول کا حصہ بنانا۔ مبصرین کے مطابق، ایسے بل کو متعارف کرانے کے کئی عملی اور سیاسی محرکات ہوتے ہیں، چاہے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں۔
سب سے پہلے نیت کا پہلو سامنے آتا ہے۔ بل پیش کرکے حکومت نے اپنے حامیوں—خصوصاً خواتین، جو وزیرِاعظم مودی کا ایک مضبوط ووٹ بینک سمجھی جاتی ہیں—کو یہ پیغام دیا کہ بی جے پی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ حتیٰ کہ مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود، یہ قدم انتخابی مہمات میں عوامی رائے ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا پہلو اپوزیشن پر دباؤ ڈالنا ہے۔ پارلیمان میں باضابطہ بحث نے تمام جماعتوں کو اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور کیا، جس سے حکمران جماعت کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع ملا کہ اس نے اصلاحات کی کوشش کی مگر مخالفین نے اسے ناکام بنایا۔ بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے اپوزیشن کو “خواتین مخالف” قرار دیتے ہوئے اسی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
آئین (131ویں ترمیم) بل کی ناکامی کے بعد، جس کا مقصد 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر 2029 کے انتخابات تک خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنا تھا، پارلیمانی امور کے وزیر Kiren Rijiju نے دو متعلقہ بل—یونین ٹیریٹوریز لاز (ترمیمی) بل 2026 اور ڈیلیمیٹیشن بل 2026—بھی واپس لے لیے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ اس نے خواتین کے حقوق کی حمایت کا ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج بھی کیا اور اپوزیشن کے خلاف بیانات دیے۔
بی جے پی نے اس شکست کو محض عددی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مسئلہ بنا کر پیش کیا، اور خود کو وزیرِاعظم مودی کی قیادت میں خواتین کو بااختیار بنانے والی جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کانگریس، راہل گاندھی اور دیگر جماعتوں جیسے سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کو صنفی مساوات کی اصلاحات کی مخالفت کرنے والا دکھایا گیا۔ بحث کے دوران وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ Amit Shah نے کہا کہ “ملک کی خواتین انہیں معاف نہیں کریں گی” — ایک ایسا پیغام جو آئندہ سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک اور امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عمل نے مستقبل میں مذاکرات اور ترامیم کی گنجائش پیدا کی ہو۔ اس سے حکومت کو پارلیمانی اعداد و شمار اور مختلف جماعتوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کے مؤقف کا اندازہ لگانے کا موقع ملا ہوگا، جس کی بنیاد پر آئندہ قانون سازی کی حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے—اگرچہ بعض مبصرین کے نزدیک بی جے پی قیادت کی حکمتِ عملی کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کمزور دکھائی دیتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، این ڈی اے کو بل کے حق میں 298 ووٹ ملے جبکہ انڈیا اتحاد نے 230 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بل کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔ کیا حکومت کو اس کا علم نہیں تھا؟ یہ بعید از قیاس لگتا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی یہی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے سے زیادہ ایک سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا—خاص طور پر حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشے میں تبدیلی لانا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کے حقوق کو متاثر کرنا، جبکہ ہندی بیلٹ کو فائدہ پہنچانا، جو بی جے پی کا اہم ووٹ بینک ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق، اس اقدام کے دو بنیادی مقاصد تھے: “پہلا، بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنا، اور دوسرا، وزیرِاعظم کو خواتین دوست رہنما کے طور پر پیش کرنا۔”
تجزیہ
کاربن کے اخراج، درخت کاری اور حیاتیاتی تنوع: موسمیاتی حکمتِ عملی کے درمیان توازن کی تلاش
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف واضح ہو چکے ہیں بلکہ تیزی سے شدت اختیار کر رہے ہیں، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ اور حیاتیاتی تنوع کا زوال یہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ انسان کو اپنی ترقی کے ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اس جدوجہد کا بنیادی جزو ہے، لیکن موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ ہمیں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو نکالنے کے مؤثر طریقے بھی اپنانے ہوں گے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کاربن کو ہٹانے کے لیے درخت لگانا ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یا یہ بعض حالات میں ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق اس پیچیدہ سوال کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، خاص طور پر جب بات حیاتیاتی تنوع (biodiversity) کی ہو۔
دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 42 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو رہی ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ جیواشم ایندھن (fossil fuels) جیسے کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال سے آتا ہے، جبکہ زمین کے استعمال میں تبدیلی—جیسے جنگلات کی کٹائی—بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگرچہ مختلف ممالک نے اخراج کم کرنے کے وعدے کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر اخراج میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف اخراج کو کم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں ‘نیٹ زیرو’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کاربن کو فضا سے نکالنا بھی ہوگا۔
پیرس معاہدہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کو نہ صرف اخراج میں بڑی حد تک کمی لانی ہوگی بلکہ کاربن ہٹانے کی ٹیکنالوجیز اور حکمت عملیوں کو بھی بڑے پیمانے پر اپنانا ہوگا۔
لیکن یہاں ایک چیلنج ہے۔کاربن کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے طریقے خود ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں بغیر منصوبہ بندی کے اپنایا جائے۔
کاربن کو ہٹانے کے کئی طریقے زیرِ غور ہیں، جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
(اول) درخت لگانا: درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور اسے اپنے اندر ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس لیے درخت کاری کو سب سے قدرتی اور سستا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
(دوم) توانائی کی فصلیں (Bioenergy Crops): ایسی فصلیں اگائی جاتی ہیں جنہیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور پھر ان کے جلنے سے پیدا ہونے والے کاربن کو پکڑ کر ذخیرہ کیا جائے۔
(سوم) کاربن کیپچر اور اسٹوریج (CCS): صنعتی ذرائع سے نکلنے والے کاربن کو پکڑ کر زمین کے اندر محفوظ کرنا۔
(چہارم) ڈائریکٹ ایئر کیپچر (DAC): جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا سے براہِ راست کاربن کو نکالنا۔
ان میں سے سب سے زیادہ زیرِ بحث طریقہ درخت لگانا ہے، کیونکہ یہ فطری اور نسبتاً آسان ہے۔ لیکن اس کے بھی کئی پیچیدہ پہلو ہیں۔
بظاہر درخت لگانا ایک بہترین حل معلوم ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف کاربن کو جذب کرتا ہے بلکہ مٹی کو محفوظ رکھتا ہے، پانی کے چکر کو بہتر بناتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو مستحکم کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بڑے پیمانے پر نافذ کیا جاتا ہے، تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
بڑے پیمانے پر درخت لگانے کے لیے لاکھوں مربع کلومیٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ زمین کہاں سے آئے گی؟ اکثر یہ زرعی زمین یا قدرتی گھاس کے میدان (grasslands) ہوتی ہے، جو خود بھی اہم ماحولیاتی نظام ہیں۔
اگر ایک ہی قسم کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جائیں (monoculture plantations)، تو یہ مقامی پودوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کم ہو جاتا ہے۔
کچھ درخت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں، جس سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی سے مقامی لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر کسانوں اور چرواہوں کی۔
حالیہ مطالعات میں سائنسدانوں نے مختلف موسمیاتی منظرناموں کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کاربن ہٹانے کی حکمت عملیوں کا حیاتیاتی تنوع پر کیا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے عالمی نقشوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ مستقبل میں کہاں درخت لگائے جائیں گے یا توانائی کی فصلیں اگائی جائیں گی، اور یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے کتنے حساس ہیں۔
بہت سے ایسے علاقے جہاں درخت لگانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں۔ اگر ان علاقوں میں غیر مقامی درخت لگائے جائیں، تو مقامی ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔کچھ علاقوں میں درخت لگانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر جہاں پہلے جنگلات موجود تھے اور انہیں بحال کیا جا سکتا ہے۔
کاربن ہٹانے اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان تعلق کو دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔درخت لگانے سے کاربن تو کم ہو سکتا ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتا ہے۔ زرعی زمین کو جنگل میں تبدیل کرنے سے خوراک کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
مقامی انواع کے درخت لگانے سے دونوں اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی (restoration) سے کاربن ذخیرہ بھی ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بڑھتا ہے۔
ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ماہرین درج ذیل حکمت عملی تجویزکرتے ہیں۔
درخت لگاتے وقت مقامی پودوں کو ترجیح دی جائے۔حساس ماحولیاتی علاقوں کو محفوظ رکھا جائے۔مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ صرف درخت لگانے پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مختلف طریقوں کو یکجا کیا جائے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی مسئلہ ہے۔ کاربن کو ہٹانا اس کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اسے اکیلے حل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ہمیں ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا جس میں: کاربن کا اخراج (removal)، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، سماجی و اقتصادی انصاف سب کو یکجا کیا جائے۔
درخت لگانا ایک بہتر حل ہو سکتا ہے، لیکن یہ کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔ اگر اسے بغیر سوچے سمجھے اپنایا جائے تو یہ ماحول کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سائنسی شواہد کی بنیاد پر فیصلے کریں اور ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف کاربن کو کم کریں بلکہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو بھی محفوظ رکھیں۔مستقبل کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں —ایسا توازن جو انسان اور فطرت دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر3 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا6 days agoمیناب اسکول کے شہید بچوں کے والدین کا پوپ لیو کو خط
دنیا5 days agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر5 days agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
دنیا1 week agoکویت ایئرویز کا ڈھاکہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ادھم پور میں سڑک حادثے میں 16 افراد ہلاک، متعدد زخمی
دنیا6 days agoایرانی پولیس کی بڑی کارروائی: 100 سے زائد دہشت گرد گرفتار، ہزاروں ہتھیار برآمد
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا دو تین روز میں ہمارا کام تمام کر دیں گے:ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا خوش آئند ہے: آسٹریلوی وزیراعظم
دنیا1 week agoایران کی بحریہ دشمنوں کو نئی اور تلخ شکست دینے کیلئے مکمل تیار: مجتبیٰ خامنہ ای
دنیا1 week agoمثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا5 days agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ







































































































