ہندوستان
مودی نے سانند میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا افتتاح کیا؛ کہا یہ ’آتم نربھر بھارت‘ کی طرف بڑا قدم ہے
احمد آباد، وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز یہاں سانند میں ‘کینس ٹیکنالوجی’ کے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا افتتاح کیا اور کہا کہ یہ ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم ہے جو ہندوستان کے خود انحصاری (آتم نربھرتا) کے سفر کو تقویت دیتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ فخر کی بات ہے کہ ایک ہندوستانی کمپنی نے سیمی کنڈکٹر چپ بنانے کے شعبے میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنی اب عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا حصہ بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا “یہ ایک شاندار شروعات ہے۔
آنے والے دنوں میں، کئی ہندوستانی کمپنیاں عالمی تعاون کے ذریعے دنیا کو مضبوط سیمی کنڈکٹر سپلائی چین فراہم کریں گی۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ آج کی یہ کامیابی دراصل ‘میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ’ (ہندوستان میں بناؤ، دنیا کے لیے بناؤ) کے منتر کو شرمندہ تعبیر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پلانٹ کیلیفورنیا میں قائم ایک کمپنی کو ‘انٹیلیجنٹ پاور ماڈیولز’ سپلائی کر رہا ہے اور اس کی پیداوار کا بڑا حصہ پہلے ہی برآمد کے لیے بک ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سانند اور سلیکون ویلی کے درمیان اصل میں یہ ایک نیا پل بن گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سانند میں بنے یہ ماڈیولز امریکی کمپنیوں تک پہنچیں گے اور وہاں سے پوری دنیا کو توانائی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان اور دنیا، دونوں جگہ الیکٹرک وہیکل ایکو سسٹم اور بھاری صنعتوں کو مضبوط کریں گے۔ وزیراعظم نے ایسی عالمی شراکت داریوں کو دنیا کے بہتر مستقبل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا “یہ صرف ایک پروڈکٹ کی بات نہیں ہے، یہ عالمی مارکیٹ میں ہندوستان کے ایک قابل اعتماد سیمی کنڈکٹر سپلائر بننے کی بات ہے۔”
مسٹر مودی نے وبائی امراض سے لے کر جغرافیائی سیاسی تنازعات تک اس دہائی میں آنے والے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سپلائی چین، خاص طور پر چپس، نایاب معدنیات اور توانائی کے شعبے میں، سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رکاوٹیں پوری انسانیت کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کا اس سمت میں آگے بڑھنا پوری دنیا کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیمی کنڈکٹر میں خود انحصاری کا اثر اے آئی ، الیکٹرک گاڑیوں، صاف توانائی، دفاع اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں بھی خود انحصاری کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشن صرف ایک صنعتی پالیسی نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستان کے خود اعتمادی کا اعلان ہے۔
جاری ۔ یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے
نئی دہلی ، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی پیر کو بالترتیب مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے مسٹر کھڑگے مغربی بنگال کے کوچ بہار اور سلی گوڑی میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے جبکہ تمل ناڈو میں ، راہل گاندھی کنیا کماری میں لکشمی پورم ، ترونیل ویلی میں نونگولیری اور تھوتھکوڈی میں سری وینکٹم میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے ریزولوشن پلانز کی منظوری میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ، نئی دہلی اور انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر مشتمل جامع ملک گیر ڈیٹا فراہم کریں۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی تھی جہاں ایک منصوبہ تقریباً دو سال سے زیر التواء تھا۔ یہ تنازع دیوالیہ پن کی کارروائی سے پیدا ہوا تھا، جس میں آئی آئی ایف ایل کے 85 کروڑ روپے کے دعوے کو شروع میں 2020 میں ریزولوشن پروفیشنل نے مسترد کر دیا تھا، جسے بعد میں این سی ایل ٹی نے منظور کیا اور 2023 میں این سی ایل اے ٹی نے برقرار رکھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔
عدالت نے اشارہ دیا کہ جب ریزولوشن پلان پیش کیا جاتا ہے تو این سی ایل ٹی کے لیے اسے بروقت منظور کرنا لازمی ہے، ورنہ آئی بی سی کا وقت کے پابند کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پراسیس (سی آئی آرپی ) مکمل کرنے کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔
عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد یہ معلومات فراہم کرے کہ منظوری کے لیے کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں اور یہ درخواستیں کتنے عرصے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے ان وجوہات کی بھی وضاحت طلب کی ہے جن کی بنا پر منظوری کی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا1 week agoایران مخلص ہے تو ہم بھی کھلے دل سے بات کریں گے: جے ڈی وینس
جموں و کشمیر1 week agoبخاری نے 100 روزہ ’نشہ مکت‘ مہم کی حمایت کی، جموں و کشمیر میں عوامی تعاون کی اپیل
دنیا3 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا7 days agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
جموں و کشمیر3 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا







































































































