دنیا
امریکی سینٹکام پیر سے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا
نیویارک،
امریکہ کی مرکزی فوجی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روزہندستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے ایران کی سمندری ناکہ بندی شروع کرے گی۔
سینٹکام کے بیان کے مطابق، “امریکی افواج صدر کے اعلان کے مطابق 13 اپریل کو امریکی وقت صبح 10 بجے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی تمام بحری آمد و رفت کو روکنے کے لیے کارروائی شروع کریں گی۔”
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ناکہ بندی بلا امتیاز ہوگی، یعنی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی جو ایران کی بندرگاہوں یا اس کے ساحلی علاقوں، بشمول خلیج فارس اور خلیج عمان کی بندرگاہوں، میں آتے جاتے ہیں۔
تاہم، سینٹکام نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں کے علاوہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے لیے جا رہے ہوں۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان تمام جہازوں کی نگرانی اور روک تھام کرے گا جو ایران کو راستہ استعمال کرنے کے لیے ادائیگی کرتے ہیں۔
یو این آئی اسپوتنک، ایم جے
دنیا
امریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ گزشتہ ماہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو روک دیا۔
امریکی نشریاتی ادرے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سینیئر ترین افسر جنرل ڈین کین نے گزشتہ ماہ خفیہ اور ہنگامی بنیادوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے فلوریڈا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہیں ایران میں زمینی فوج بھیج کر اس کے جوہری پروگرام کے اہم ترین جزو یعنی انتہائی افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ بریفنگ اتنی حساس اور فوری نوعیت کی تھی کہ جنرل ڈین کین کو برسلز میں نیٹو حکام کے اجلاس سے فوری طور پر واپس آنا پڑا۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس انتہائی حساس نوعیت کی کارروائی کی منظوری دینے کے قریب تھی۔ بعد ازاں جنرل ڈین کین نے اس آپریشن کے مختلف آپشنز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی تاہم ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اس کارروائی روک دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ بھاری جانی نقصان پر بھی تشویش تھی جس کے باعث انہوں نے فوج کو گرین سگنل دینے سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
واشنگٹن-تہران بات چیت میں “امید” اور “احتیاط” ایک ساتھ جاری
واشنگٹن، تہران، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل سے جاری “تناؤ اور مذاکرات” کے چکر میں ایک تاریخی موڑ آ گیا ہے۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان “معاہدہ متن تیار ہے” کے بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “ہم نے ایک شاندار معاہدہ کیا ہے” کے اشاروں سے تیزی پکڑنے والے اس عمل کے دوران، میز پر موجود شرائط اور متفقہ “اسلام آباد معاہدہ” کی تفصیلات واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
تہران کے نمائندے ہارون آئکاچ اور واشنگٹن کے رپورٹر تونا شانلی کی طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے “متفقہ ضابطے” کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جوہری مواد کے تلف کیے جانے اور ایران کے اندر سیاسی نقطہ نظر کے اختلافات “حتمی دستخط” سے قبل صورتحال کو نازک رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے اس مسودے کے حوالے سے جسے وہ “اسلام آباد معاہدہ” کہتے ہیں، تہران کی جانب سے آنے والی معلومات ایران کی حکمتِ عملی اور سرخ لکیروں کو واضح کرتی ہیں۔ ہارون آئکاچ کے بیان کے مطابق؛ تہران انتظامیہ نے سب سے نازک مسئلے یعنی جوہری معاملے کو “دوسرے مرحلے” میں رکھنے کی پیشکش قبول کی ہے۔
ایران نے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر واضح طور پر اعتراض کیا ہے اور اس کی جگہ اس ذخیرے کی “شرح افزودگی” میں تحفیف لانے کی تجویزپیش کی ہے۔ آبنائے ہرمز کو تجارتی نقل و حمل کے لیے کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے؛ تاہم سیکیورٹی کا سابقہ درجہ بحال نہیں ہوگا اور اسے ایران اور عمان کے کنٹرول میں رکھے جانے کی شرط رکھی گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان میں حملوں سمیت علاقے کے تمام محاذوں پر جنگ بندی یقینی بنانا تہران کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس عمل کے دوران ایران کے بین الاقوامی نظام میں موجود مالی اثاثوں کی واپسی کا بھی ہدف رکھا گیا ہے۔
تونا شانلی کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ذرائع اور ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کی بنیاد پر سامنے آنے والا “پانچ نکاتی منصوبہ” مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہے:
– جوہری مواد کی منتقلی: امریکہ جوہری ذخیرے کے تلف یا ایران سے باہر منتقل کیے جانے پر مُصر ہے۔
– جوہری پروگرام کا خاتمہ: پروگرام کے مکمل طور پر ختم کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
– مطابقت شرطی واپسی: منجمد فنڈز کو آزاد کرنے کے لیے ‘معاہدے کی مکمل پابندی’ شرط رکھی گئی ہے۔
– آبنائے ہرمز: محاصرہ ختم کیا جائے اور آبنا کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
– دہشت گردی کی مالی معاونت: علاقائی گروپوں کو فراہم کردہ مالی امداد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ
طے پا گیا تو ایران کی بین الاقوامی نظام میں مکمل شمولیت کا راستہ کھولنے کا منصوبہ ہے۔ اس تناظر میں ایک وسیع اقتصادی پیکیج زیرِ غور ہے جو حتیٰ کہ امریکی کمپنیوں کو بھی ایران کے تیل تک رسائی فراہم کرے گا۔ فریقین کے اسی ہفتے کے آخر میں جنیوا میں ملاقات کے امکان کے پیشِ نظر، سفارتی ذرائع اس عمل کو ‘امید افزا مگر محتاط’ انداز میں چلانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ گئی: ایران
تہران، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے معاہدے کی تکمیل پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے لہذا حتمی شکل دیے جانے تک میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔
عباس عراقچی نے بیان میں کہا کہ معاہدے کے مندرجات سے متعلق غیرمصدقہ خبروں پر تبصرہ مناسب نہیں، ذمہ دار اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی، معاہدے کی حتمی منظوری کے بعد مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاری کی گئی ممکنہ نکات کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا فیس کے دوبارہ کھول دیا جائے۔ اس کے بدلے ایران پر پابندیوں میں نرمی یا ریلیف دیا جائے۔ جنگ بندی ڈیل میں ساٹھ دن کی توسیع ہو گی، جس کا اطلاق لبنان میں بھی ہوگا۔ اس عرصے کے دوران جوہری مذاکرات جاری رہیں گے۔
معاہدے کے مطابق ایران یہ وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، اور اپنے افزودہ یورینیم کے معاملے پر جاری تنازع کو حل کرے گا۔
سمندری تجارت اور جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آ جائے گی۔ اس کے بدلے میں امریکا بھی اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ ایران کو عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ وہ ساٹھ دن تک اپنا تیل فروخت کر سکے۔ ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران منجمد اثاثوں کی فوری ادائیگی چاہتا ہے جبکہ امریکا مرحلہ وار اور شرائط پوری ہونے پر دینے کا خواہاں ہے۔
نیوزویب سائیٹ کے مطابق امریکہ اور ایران معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر چکے ہیں، لیکن معاہدے کے نافذ ہونے سے پہلے دونوں جانب سے آخری منظوری ابھی باقی ہے۔ صدر ٹرمپ کے امریکا ایران ڈیل کے اعلان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں اس پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
ہندوستان5 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
دنیا1 week agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا5 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی
ہندوستان1 week agoخوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی
ہندوستان7 days agoکاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک
دنیا2 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ









































































































