دنیا
امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھانے پر عالمی رہنماؤں نے انہیں مبارکباد پیش کی

واشنگٹن، جرمنی، اسپین، برازیل اور جنوبی افریقہ سمیت دنیا بھر کے سربراہان مملکت اور سرکردہ رہنماؤں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ کے صدر کا حلف اٹھانے پر مبارکباد دی ہے ان رہنماؤں میں یوکرین کے صدر والادی میر زیلنسکی، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان،جرمن چانسلر اولاف شلز برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر ،کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو،سویڈن کے وزیر اعظم ،اولف کرسٹرسن: فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب شامل ہیں۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ،” کیوں کہ مسٹر ٹرمپ نے بارہا کہا کہ وہ روس۔ یوکرین جنگ کو ختم کر دیں گے، اس لیے ہم بطور ترکیہ اس سلسلے میں جو بھی ضروری ہو گا کریں گے۔ ہمیں اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر ٹرمپ کے ساتھ ہماری بات چیت کے دوران یہ مسئلہ ہمارے ایجنڈے پر ہوگا۔ ٹرمپ، اور ہم اس کے مطابق اپنے اقدامات کریں گے، میری خواہش ہے کہ مسٹر ٹرمپ کا دوسرا دور پوری انسانیت کے لیے اچھا ثابت ہو۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوئم نے بھی ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے مبارکباد دی ہے کہ ، ’’ ہم امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت داری کی بہت قدر کرتے ہیں اور ہم اپ کے ساتھ ایک زیادہ خوشحال اور پر امن دنیا کے لیے کام کرنے سے وابستہ ہیں ‘‘
یوکرین کے صدرولو دیمیر زیلینسکی نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ “صدر ٹرمپ ہمیشہ فیصلہ کن ہوتے ہیں، اور انہوں نے مضبوط پالیسی کے ذریعے جس امن کا اعلان کیا وہ امریکی قیادت کو مضبوط کرنے اور پائدار اور منصفانہامن کے حصول کا موقع فراہم کرتا ہے، جو اولین ترجیح ہے۔”
بکنگھم پیلس کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو ان کی حلف برداری پر مبارکباد کا ذاتی پیغام بھیجا ہے، جو برطانیہ اور امریکہ کے درمیان پائیدار خصوصی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
جرمن چانسلر اولاف شولز ” نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منصب سنبھالا ہے۔ مبارک ہو! امریکہ ہمارا قریبی اتحادی ہے اور ہماری پالیسی کا مقصد ہمیشہ اٹلانٹک خطے کے ملکوں کےدرمیان ایک اچھے رشتے کا قیام رہا ہے۔ یورپی یونین اپنے 27 ملکی ارکان اور 400 ملین سے زیادہ افراد کے ساتھ، ایک مضبوط یونین ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ” کینیڈا اور امریکہ کے درمیان دنیا کی سب سے کامیاب اقتصادی شراکت داری ہے۔ ہمارے پاس ایک بار پھر ، اپنے دونوں ملکوں کے لیے مزید روزگار اور خوشحالی پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا موقع فراہم ہوا ہے ۔”
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ ’’صدیوں سے، ہماری دونوں قوموں کے درمیان اجتماعی اشتراک ، تعاون اور پائیدار شراکت داری کے تعلقات رہے ہیں… ہم نے مل کر دنیا کو ظلم سے بچایا ہے اور اپنی باہمی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کام کیا ہے۔”برطانیہ کے ساتھ “صدر ٹرمپ کے دیرینہ لگاؤ اور تاریخی تعلقات کے پیش نظر، میں جانتا ہوں کہ مضبوط دوستی کا سلسلہ جاری رہے گا۔”
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لین نے کہا کہ “امریکہ کے 47 ویں صدر کے طور پر آپ کی مدت ملازمت کے لیے نیک خواہشات۔ یورپی یونین عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیےآپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منتظر ہے۔ ایک ساتھ مل کر،ہمارے معاشرے زیادہ خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی مشترکہ سلامتی کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ “صدر ٹرمپ کی منصب پر واپسی کے ساتھ ہی ہم دفاعی اخراجات اور پروڈکشن میں تیزی سے اضافہ کریں گے ۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے صدر کا منصب سنبھالنے پر ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں انہیں اپنی دلی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امریکہ ہمارا اہم اسٹریٹجک پارٹنر اور اتحادی ہے۔ میں آپ کی مدت صدارت کے دوران قریبی تعاون کا منتظر ہوں۔”
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو
تل ابیب،اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے ہوجانے کے باوجود لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے صاف انکار کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ معاہدے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے شہروں میں امن اور خوشحالی کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہم شمالی شہروں میں سیکیورٹی اور خوشحالی بحال کریں گے اس کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنا ضروری ہے اور جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا ہم وہاں سے نہیں جائیں گے۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ جارحانہ قرار دیا تھا اور یہ محاذ شامی صدر احمد الشرح کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی۔
دریں اثنا ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی معاہدے میں جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کو ایک بنیادی شرط قرار دیا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ روز دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی لبنان سمیت تمام جنگی محاذ بند کرنے کی شق شامل ہے تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ خود کو اس کی شرائط کا پابند نہیں سمجھتا۔
یواین آئی ۔م ا ع
دنیا
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تصویر شیئر کردی
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کےلیے طے پانے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور ایران کا پیغام ہے کہ امن باہمی احترام کے سائے میں حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے معاہدے کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط بھی موجود ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے معاہدے پر دستخط کردیے، وزیراعظم شہباز شریف کے بھی بطور ثالث معاہدے پر دستخط موجود ہیں، پاکستان نے بطور ثالث معاہدے کی توثیق کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد ثابت ہوگا، پیش رفت ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام آگے بڑھانے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنت نہایت اہم رہی۔
وزیراعظم نے معاہدے پر صدر ٹرمپ ، سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی صدر کو مبارک باد بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو امریکہ دوبارہ کارروائی کیلئے تیار ہو گا: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ کی مضبوط اور طاقتور پوزیشن کے نتیجے میں ممکن ہوا، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی میں تبدیلی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔
برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے بعد پیٹ ہیگستھ نے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر ایران نے اپنی ذمے داریاں اور وعدے پورے نہ کیے تو امریکہ دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہو گا۔
اُنہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ایک بار پھر سخت اور مؤثر بحری ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔
امریکی وزیرِ جنگ کا کہنا ہے کہ یورپ کے بعض ممالک آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور بحری آپریشنز میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ یہاں کسی قسم کی رعایت یا یک طرفہ فائدہ نہیں دیا جا رہا، مذاکرات کے پیچھے امریکا کی مضبوط فوجی طاقت اور دباؤ موجود رہے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا



































































































