تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے دفاع کے لئے بھاجپا میں اختلافات سا منے آئے ، پارٹی کے مزید 7ممبران ریاست کی خصوصی پوزیشن کے تحفظ کی خاطر کمر بستہ ہوگئے

خبر اردو :
آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حوالے سے بی جے پی میں اختلافات سامنے آنے شروع ہوئے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ پارٹی کے 7مزید ممبران ریاست کی خصوصی پوزیشن کے تحفظ کی خاطر کمر بستہ ہوچکے ہیں۔مخلوط حکومت کے ٹوٹنے کے بعد جہاں پی ڈی پی میں ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے خلفشار عیاں ہوگیا وہیں آئین ہند میں ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35Aکے حوالے بی جے پی میں بھی مختلف مؤقف سامنے آنے لگے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے راجیش گپتا اور گگن بھگت کے بعد پارٹی میں مزید 7ایم ایل اے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو لے کر مذکورہ بالا ممبران کا ساتھ دینے کے لیے کمر بستہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ فی الوقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر 9ممبران ایسے ہیں جنہوں نے آرٹیکل 35Aسے متعلق پارٹی سے الگ مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان ممبران نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف رچی جارہی سازشوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے کا من بنالیا ہے۔
کے این ایس کے ساتھ پارٹی میں الگ رائے رکھنے والے سینئر لیڈر نے بتایا کہ بی جے پی نے حکومت میں رہ کر نہ ہی ریاست جموں وکشمیر میں امن کی بحالی کو لے کر کوئی قدم اُٹھایا اور نہ ہی جموی عوام کے مفادات کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام اٹھایا بلکہ انہوں نے صرف ریاست کو خصوصی شناخت فراہم کرنے والی دفعہ 35Aکو زک پہنچانے کی کوشش کی جس سے یہاں پشتینی باشندوں کے لیے زمین تنگ ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ فی الوقت ہم 9ممبران اسمبلی ہیں اور ہم نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ریاست کی خصوصی پوزیشن کے خلاف اُٹھائے جارہے اقدامات کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے۔یاد رہے گزشتہ دنوں صوبہ جموں کے آر
ایس پورا سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے گگن بھگت نے عوامی جلسے سے خطاب کے دوران بتایا کہ بی جے پی نے جموی عوام کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے دھوکے میں رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی تو اس کا نقصان کشمیر سے زیادہ جموی عوام کو ہوگا۔ ایم ایل اے نے بتایا کہ اگر آرٹیکل35Aکے ساتھ چھیڑ ا گیا تو جموی عوام اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہتھیار بھی اُٹھائیں گے۔KNS
دنیا
ایران آبنائے ہرمز میں شپنگ کنٹرول سسٹم کا اعلان کرے گا: رکن پارلیمنٹ
تہران، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کرے گا۔
علاقائی کشیدگی اور سمندری سلامتی سے متعلق جاری تنازعات کے درمیان، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ معلومات مشترک کی ہیں۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ‘ایکس’ پر لکھا، “ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارتی سلامتی کی ضمانت کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے سے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کر لیا ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف انہی تجارتی جہازوں اور فریقین کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت ہوگی جو ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے فیس (ٹیکس) بھی نافذ کرے گا۔
یواین آئی۔م س
جموں و کشمیر
پہلگام سڑک حادثے میں گجرات کے دو سیاح ہلاک، تین زخمی
سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے میں آرو ویلی روڈ پر ہفتہ کے روز ایک سیاحتی ٹیکسی حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو سیاح ہلاک جبکہ ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق سیاحتی ٹیکسی بے قابو ہو کر سڑک سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت باوِن بھاوسر اور نینا کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں گجرات کے رہائشی تھے۔
زخمیوں میں اوِن بھاوسر، اشوک نینا، دونوں ساکنان گجرات اور ڈرائیور رئیس احمد بٹ، ساکن رنگورڈ پہلگام شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہلگام میں ایف آئی آر نمبر 41/2026 درج کر لی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے 72 کروڑ روپے کے گندے پانی کے منصوبوں کی منظوری دے دی
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی تخمینی لاگت بالترتیب 37.96 کروڑ روپے اور 34.43 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دونوں شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گندے پانی کے انتظام کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ یہ بات ایک سرکاری ترجمان نے ہفتہ کو بتائی۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ان منصوبوں سے سیوریج کے سائنسی طریقے سے ٹھیک کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، آبی ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے گا اور بارہمولہ و راجوری کے رہائشیوں کی صحت، صفائی اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے سوچھ بھارت مشن (اربن) 2.0 کے کیپیکس جزو کے تحت میونسپل کونسل بارہمولہ اور میونسپل کونسل راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) تیار کی ہیں۔
ان ڈی پی آرز کا تکنیکی جائزہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر نے لیا ہے۔ ان منصوبوں پر سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، جو ایک ہی مرحلے میں حیاتیاتی طریقے سے گندے پانی کے مؤثر علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
یہ منصوبے بارہمولہ اور راجوری میں صفائی کی سہولیات کو بہتر بنانے اور پائیدار گندے پانی کے علاج کے نظام قائم کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے ہیں۔ دونوں منصوبوں کو 18 ماہ کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا3 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا3 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا6 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان4 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین6 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا4 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان5 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان3 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
تازہ ترین5 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی






































































































