دنیا
افغانستان میں تباہ کن زلزلہ، کم ازکم 812 افراد جاں بحق، 2700 سے زائد زخمی

ابل، افغانستان میں رات گئے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 812 افراد جاں بحق اور 2700 سے زائد زخمی ہوگئے، صرف صوبہ کنڑ میں 800 افراد جاں بحق ہوئے اور کئی گاؤں مٹی تلے دب گئے، صوبہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی نقصان ہوا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ طاقتور زلزلے کے نتیجے میں بیشتر جانی نقصان صوبہ کنڑ میں ہوا جہاں 800 سے زائد افراد جاں بحق اور 2500 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ صوبہ ننگرہار میں 12 افراد جاں بحق اور 255 زخمی ہوئے۔
زلزلے کے جھٹکے کابل سے لے کر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے، کنڑ صوبے میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں سیکڑوں مکانات تباہ ہو گئے۔
طالبان حکام اور اقوامِ متحدہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’افغانستان میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے پر ہم گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، ہماری ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی امداد اور جان بچانے والی سہولیات فراہم کر رہی ہیں‘۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ننگرہار صوبے کے شہر جلال آباد سے 27 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اس کی گہرائی صرف 8کلومیٹر تھی، ماہرین کے مطابق کم گہرائی والے زلزلے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں، رات بھر کم ازکم 5 آفٹر شاکس بھی آئے، جن میں ایک 5.2 شدت کا طاقتور جھٹکا شامل تھا۔
زلزلے نے مٹی اور پتھروں سے بنے دیہات کو زمین بوس کر دیا، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو گئے جبکہ مواصلاتی نظام کی خرابی نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا۔
ترک نشریاتی ادارے انادولو کے مطابق افغان حکام نے کہا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد حتمی نہیں ہے کیونکہ حکام اب بھی کئی دور دراز علاقوں کے مقامی باشندوں سے رابطے میں ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات کی جانب روانہ ہیں۔
حکام کے مطابق ضلع سواکئی کے علاقے دیوہ گل اور ضلع نورگل کے علاقے مزار درہ جانے والی سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہیں، جس سے امدادی ٹیموں کے لیے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔
مقامی باشندوں نے اس زلزلے کو ملک میں آنے والے سب سے طاقتور زلزلوں میں سے ایک قرار دیا ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے سے جانی نقصان ہوا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مقامی حکام اور عوام امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ مرکزی اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں علاقے کی جانب روانہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’تمام دستیاب وسائل انسانی جانیں بچانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے‘۔
افغانستان میں زلزلے معمول کی بات ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں، جہاں یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں، ننگرہار صوبے میں ہفتے کی رات کو شدید بارش اور سیلاب نے بھی پانچ افراد کی جان لے لی تھی اور کھیتوں و املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔
جون 2022 میں بھی مشرقی سرحدی صوبے پکتیکا میں 5.9 شدت کے زلزلے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے، افغانستان، جو چار دہائیوں کی جنگ سے تباہ حال ہے، پہلے ہی انسانی بحران سے دوچار ہے، طالبان کی واپسی کے بعد غیر ملکی امداد میں بڑی کمی آئی ہے جس نے ملک کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
2015 میں بھی 7.5 شدت کے طاقتور زلزلے نے پاکستان اور افغانستان کو لرزا دیا تھا، جس میں 380 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، اس حادثے میں افغانستان کی ایک اسکول کی 12 بچیاں بھگدڑ میں کچلی جانے سے جاں بحق ہو گئی تھیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے رقم وصول کرنے کا عندیہ
مسقط، امریکہ اور خلیجی ممالک کی مخالفت کے باوجود عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنےوالے جہازوں سے رقم وصول کرنے کا عندیہ دے دیا۔
امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق عمان نے یورپی حکام سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آلودگی سے بچانے اور جہازوں کو راہداری میں مدد دینے کے عوض فیس وصول کی جا سکتی ہے۔
عمانی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اب جنگ سے پہلے کے حالات تک لے جایا نہیں جا سکتا۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی ہمیشہ پابندی کریں گے لیکن آبنائے ہرمز کو آلودگی سے پاک رکھنے اور جہازوں کو راہداری میں مدد دینے کی خدمات کے لیے کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔
قطر نے بھی آبنائے ہرمز فیس پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ قطر نے پہلے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر سمندری راستوں پر آنے والے خرچ سے متعلق بات کرے گا۔
واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل کے آبنائے ہرمز میں ٹول لگانے کی مخالفت سے متعلق اعلامیے پر عمان اور قطر دونوں نے ہی دستخط کیے تھے۔ دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوئی فیس نہيں ہوگی ، کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز سے ٹیکس وصول نہيں کرسکتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































