تازہ ترین
امرناتھ یاتریوں پر حملے کابنایا گیا ہے منصو بہ

جنوبی کشمیر میں 100جنگجوسرگرم،30غیر مقامی عسکر یت پسند بھی شامل :فوج
خبراردو:-
سرینگر: فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس بات کی خفیہ اطلاع ملی ہے کہ جنگجو امر ناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کی غرض سے سرینگر جموں شاہراہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ فوج کی9آر آر کے سیکٹر کمانڈر، برگیڈئر وی ایس ٹھاکر نے بتایا جنوبی کشمیر میں 100جنگجو سرگرم ہیں جن میں 25سے30غیرمقامی بھی شامل ہیں ۔
فوجی افسر نے بتایا کولگام جھڑپ فورسز کے لئے ایک چیلنج تھی کیوں کہ جنگجوؤں کی کمین گاہ تک پہنچنے کے لئے صرف ایک ہی راستہ تھا ۔ انہوں نے مذکورہ جھڑپ کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔
کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق فوج کی9آر آرکے سیکٹر کمانڈر، برگیڈئر وی ایس ٹھاکر نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں اس بات کی مصدقہ خفیہ اطلاعات ہیں کہ جنگجو 21جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ امر ناتھ یاتراپر سرینگر ۔
جموں شاہراہ پر حملہ کر سکتے ہیں ،جس کا وہ منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہائی وے انتہائی حساس ہے ۔ انہوں نے کہا ’ہم 21جولائی سے یاترا شروع کر رہے ہیں اورجنگجوءوں کے اس منصوبے کو مکمل طور ناکام بنانے اور پر امن یاترا کے انعقاد کے لئے تیار ہیں ‘ ۔ وے ایس ٹھاکر نے بتایا جنوبی کشمیر میں 100جنگجو سرگرم ہیں ، جن میں 25سے30غیر مقامی بھی شامل ہیں ۔
فوجی افسر کا کہنا تھا کہ یہاں اس قسم کے بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ نوجوان لاپتہ ہو ئے ہیں جبکہ پاکستان اس طرف جنگجوءوں کو دھکیل رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا’ آپ مذکورہ تعداد میں تھوڑا ضافہ کر سکتے ہیں ۔ کولگام آپریشن سے متعلق مذکورہ افسر نے بتایاکہ کارروائی چیلنجوں سے بھری ہوئی تھی ۔ انہوں نے بتایا انہیں آئی آئی جی جنوبی کشمیر کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ وہاں دو سے تین جنگجو موجود گی کے حوالے سے اطلاع دی ہے جس کے بعد فورسز نے علاقے میں 4بجکر30منٹ پر یہاں پہنچ کر آپریشن شروع کیا ۔
انہوں نے بتایا یہ آپریشن میں پہلا چیلنج یہ تھا کہ اس مکان تک سڑک کی ایک ہی رسائی تھی جہاں عسکریت پسند چھپے ہوئے تھے اور قریب ترین اڈہ 10 سے 12 کلو میٹر دور تھا ۔ جبکہ دوسرا چلینج یہ تھا جس گھر میں جنگجوءوں نے پناہ لی تھی ،اُس میں عام شہری بھی موجود تھے ۔ فوجی افسر نے بتایا شہریوں کو گھر خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہادو عسکریت پسندوں نے چھوٹے ہتھیاروں سے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی اور’یو بی جی ایل‘کے ساتھ دستی بموں سے بھی حملہ کیا ۔
انہوں نے بتایا اس جھڑپ میں دونوں جنگجوؤں کو بنا کسی شہری یا مکان کے نقصان کے مارا گیا ہے ۔ ٹھاکر نے بتایا جب مکین مکان سے باہر آ رہے تھے اس دوران ایک جنگجو فرن پہن کر یہاں باہر آنے کی کوشش کر رہا تھا جس کو روکنے کی کوشش کی گئی ، تو اس نے ہتھیار چلانا شروع کیا جس کے ساتھ ہی فوج اور جنگجوؤں کے ساتھ تصادم آرائی شروع ہوئی ہے جس کو بعد میں مارا گیا ہے ،جس کی شناخت پاکستانی ولید کے طور کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا اس جھڑپ میں باری تعداد میں اسلحہ اور گولی بارود کو ضبط کیا گیا ہے ۔
جموں و کشمیر
ریٹائرڈ انجینئر کے خلاف تاریخِ پیدائش میں رد و بدل اور ثبوت مٹانے کے الزام میں چارج شیٹ داخل
سری نگر، جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کر کے نامناسب فائدہ اٹھانے اور ثبوت مٹانے کے معاملے میں جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اُس وقت کے اور ریٹائرڈ انچارج سپرنٹنڈنٹ انجینئر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ حکام نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
سپرنٹنڈنگ انجینئر کے خلاف سال 2015 میں دفعہ 420، 467، 468، 471 اور 201 رنویر پینل کوڈ (آر پی سی) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
ای او ڈبلیو حکام کے مطابق جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اُس وقت کے آئی / سی سپرنٹنڈنگ انجینئر کے سروس ریکارڈ میں تاریخِ پیدائش میں رد و بدل کے الزامات پر مشتمل ایک تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس اسٹیشن کرائم برانچ کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ میں تحقیقات شروع کی گئی تھی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزم نے ناجائز سروس فوائد حاصل کرنے کے لیے 28-10-1955 سے 28-10-1958 تک سرکاری سروس ریکارڈ میں اپنی تاریخِ پیدائش میں دھوکہ دہی سے ہیرا پھیری کی۔ حکام نے بتایا کہ ملزم نے ثبوت چھپانے کے لیے اپنی اصل سروس بک بھی تباہ کر دی، جس کے باعث دفعہ 201 آر پی سی کا اطلاق ہوا۔ جانچ میں الزامات درست پائے گئے، جس کے بعد عدالتی فیصلے کے لیے چارج شیٹ عدالت میں جمع کی گئی۔
یوین آئی۔الف الف
دنیا
نیتن یاہو کا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خاتمے کا دعویٰ، غزہ کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول کا اعلان
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ نیتن یاہو کا یہ مؤقف اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں حماس کے عسکری ونگ، عز الدین القسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف عز الدین الحداد کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔حکومت کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں اور یرغمالیوں کے اغوا کے پیچھے موجود ہر ماسٹر مائنڈ کو چن چن کر ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اسرائیلی افواج موجودہ وقت میں غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر اپنے آپریشنز کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں اسرائیلی فوج کی ایک نئی نام نہاد “اورنج لائن” کی جانب پیش قدمی کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس اب ان کی گرفت میں ہے اور ان کا اصل ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ مستقبل میں کبھی اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، جس میں فرانس پریس ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق اسرائیل میں 1221 افراد ہلاک ہوئے تھے، نیتن یاہو نے اس کے ذمہ داروں کے تعاقب کا عزم کیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر ایک شدید اور ہولناک جنگ مسلط کی، جس کے نتیجے میں پٹی کے صحت کے حکام کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک تقریباً 72,763 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اس سے باہر حماس کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں حماس کے متعدد قائدین کا تعاقب کر کے انہیں جاں بحق کیا، جن میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ یحییٰ السنوار اور ان کے بھائی محمد السنوار تھے (جنہوں نے محمد الضیف کے بعد القسام بریگیڈز کی کمان سنبھالی تھی)۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران کے دورے کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، امریکی ثالثی کے تحت طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جو گزشتہ 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں نام نہاد “ییلو لائن” تک پیچھے ہٹ جائیں۔ اس معاہدے کی رو سے بھی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیل کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم، امریکی سرپرستی میں ہونے والے اس معاہدے کے باوجود غزہ میں پُرتشدد کارروائیاں تھم نہیں سکیں اور پٹی کے صحت کے حکام کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 871 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے بھی اپنے 5 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکانات میں اضافہ، اسرائیل کو صدر ٹرمپ کے ’گرین سگنل‘ کا انتظار
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے مابین جاری مذاکرات میں تعطل کے بعد، گزشتہ دو روز کے دوران اس بات کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں کہ امریکہ ایک بار پھر ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا متبادل راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق، اسی تناظر میں حال ہی میں امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے اور گولہ بارود کی اضافی فراہمی کے عمل میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب، ایک اور اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کی منتظر ہے تاکہ دوبارہ حملوں کا آغاز کیا جا سکے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اہلکار کا کہنا ہے کہ جیسے ہی واشنگٹن سے اجازت نامہ حاصل ہوگا، اسرائیل اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران کے خلاف فوجی مہم شروع کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ممکنہ اہداف کی جو فہرست تیار کی گئی ہے، اس میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہے؛ جبکہ اس کے برعکس، وائٹ ہاؤس نے 28 فروری کو شروع ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران ان تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کی سخت ہدایت جاری کی تھی۔
اسی دوران، متعدد امریکی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ فوجی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان رپورٹوں کے مطابق، اگر صدر دوبارہ جنگ کی طرف لوٹنے کا حتمی فیصلہ کرتے ہیں، تو پینٹاگون نے اس کے لیے ممکنہ اہداف کی فہرست اور عسکری منصوبے پہلے سے ہی مکمل کر رکھے ہیں۔ یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایرانی معاملے پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
معروف امریکی ویب سائٹ ”اکسیوس” کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا ہے جو آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ اس گفتگو میں خاص طور پر ایران کے معاملے اور ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری طرف، پاکستان بھی اس بحران کو ٹالنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسلام آباد گزشتہ کئی ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطے بحال کرانے کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ دونوں ممالک کو دوبارہ میز پر لا کر جنگ کے مستقل خاتمے کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
جموں و کشمیر7 days agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر







































































































