تازہ ترین
بارہمولہ میں باپ نے بیٹی کو قتل کرنے کے بعد جنگل میں دفنایا

خبراردو: شمالی کشمیر کے بارہمولہ علاقے میں ایک دل دہلانے والے واقعے میں باپ نے بیٹی کو جنگل میں قتل کرنے کے بعد وہی دفنا دیا۔ اس دوران پولیس نے انسانیت کو شرمسار کرنے والے باپ کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے اور معاملے کی نسبت مزیدتحقیقات شروع کردی ہے۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے تحت آنے والے کوہاربالہ علاقے ایک باپ نے اپنی ہی بیٹی کو قتل کر کے اسے وہیں دفا دیا. پولیس بیان کے مطابق جاوید احمد خان ولد رحمت ا للہ خان ساکنہ لرہ ڈورہ نامی اس شخص نے جنگلی علاقے میں اپنی بیٹی کا قتل کیا اور بعد میں اس کی لاش کو جنگل میں ہی ٹھکانے لگایا۔
اس دوران پولیس نے واقعے سے متعلق چندوسہ بارہمولہ میں ایک کیس درج کر کے ملزم کو گرفتار کر کے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر لیا ہے۔پولیس کی جانب سے موصولہ بیان میں بتایا کہ تفتیش کے دوران تحقیقاتی آفیسران کو معلوم ہوا ہے کہ جاوید خان نے اپنی بیٹی کو نزدیکی جنگل پہنچایا اور وہاں باپ بیٹی کے درمیان شادی طے کرنے کے معاملے پر بحث و تکرار ہوئی اور اس معاملے پر اتفاق نہ ہونے کے باعث والد نے طیش میں آکر اپنی بیٹی کا بے دردی کے ساتھ قتل کرنے کے علاوہ جبکہ ملزم نے اپنی بیٹی کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے کے بعد جنگل میں ہی دفناددیا تھا
اس دوران پولیس نے واقعے کے تحقیقات میں تیزی لا کر ملزم سفاک باپ کی گرفتاری عمل میں لا کر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا گیا ہے۔جبکہ قتل کے اس واردات کو باریک بینی سے تحقیقات کے لئے فارینسک ماہرین نے جائے واردات کا معائنہ کیا ہے اور وہاں سے ثبوت وشواہد اکھٹے کئے ہیں۔اس دوران پولیس نے معاملے کے حوالے سے پہلے ہی ایک درج کر لیا ہے۔
دنیا
دشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
تہران، ایران کی نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی بھی قسم کی مس کیلکولیشن کا شکار نہیں ہوناچاہیے، امن و استحکام کا راستہ داخلی محاذ کی مضبوطی اور جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔
ابراہیم رضائی نے کہا کہ آپ دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے تو جنگ آپ کے دروازے پر دستک دے گی، جنگ بندی کے بعد ایرانی افواج نے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ، نقصانات کا ازالہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 9 مارچ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گے جب تک دشمن ندامت محسوس نہ کرے، اس وقت تک خاموش نہیں رہیں گےجب تک دشمن اپنی سوچ، حکمتِ عملی میں تبدیلی نہ لے آئے۔
خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ روز سے ایک دوسرے پر متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹیلی فون کر کے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو امریکہ اسرائیل کا ساتھ نہیں دیگا لیکن صیہونی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے فون کے کچھ ہی گھنٹے پر ایران پر میزائل حملوں کی بارش کردی، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی بھرپور جوابی حملے کیے جارہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
تہران، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکا کےساتھ مکمل ہم آہنگی کے بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے۔ امریکہ کی جانب سےجنگ بندی کی خلاف ورزی واضح ہے، ہم جنگ بندی کے پابند تھے اور وہی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سفارت کاری اور میدان ایک ساتھ ہیں اور ملک کے اعلیٰ ترین مفادات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جانبدارانہ اور غیر تکنیکی مؤقف اپنایا، امریکہ اور صہیونی ادارے دوبارہ کشیدگی کا بنیادی عنصر تھے، لیکن آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ جنگ بندی معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے، سفارتی کوششوں اور فوجی مشقوں کا مقصد ہمارے قومی مفادات کو محفوظ بنانا ہے، ہم حالات کے مطابق دونوں راستے استعمال کریں گے۔
ان کا کہنا تھا امریکا کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل ہو جائے گی، صیہونی ادارے کسی ایسے سفارتی راستے کا احترام نہیں کرسکتے جو ہمارے خطے میں استحکام کا باعث ہو۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ
تہران، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطے میں تازہ صورت حال پر گفتگو ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور ایران کے جوابی اقدامات کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ، جس کے باعث عالمی سطح پر ہنگامی سفارت کاری تیز ہو گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت دنیا بھر کے وزرائے خارجہ سے رابطے کئے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عباس عراقچی نے ترکیہ، برطانیہ، عراق، سعودی عرب، قطر اور فرانس کے وزرائے خارجہ سے بھی ہنگامی ٹیلیفونک رابطے کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے تمام ہم منصبوں کو اسرائیلی کارروائیوں اور ان کے جواب میں ایران کے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران خطے کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
گذشتہ روز پاکستانی وفاقِی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا خصوصی خط ایرانی قیادت اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیا۔ ملاقات کے دوران امریکہ ایران مذاکراتی عمل، خطے کی نازک صورتحال اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی مخلصانہ کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ کا یہ شدید بحران جلد ختم ہو جائے گا۔
ایران کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ باقر قالیباف نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوج کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، وہ نہ جنگ بندی کو مانتے ہیں اور نہ بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔ لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری ناکہ بندی اس کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف بحری ناکہ بندی اور صیہونی حکومت کے لیے امریکی گرین سگنل نے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کو ایران کے جائز اہداف میں تبدیل کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا6 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
دنیا2 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی
دنیا5 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران




































































































