اہم خبریں
بجٹ اجلاس:سی سی اے،دہلی فائرنگ واقعات پرہنگامہ آرائی

دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی
گولی سے لوگوں کی بولی بند کر رہی ہے مودی حکومت:اپوزیشن کا الزام
سرینگر 3،فروری:کے این ایس / پار لیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران سو موار کو دونوں ایوانوں میں شہریت ترمیمی قانون،دہلی میں فائرنگ کے واقعات اور بی جے پی کے مرکزی وزراء کے متنازعہ بیانات پر ہنگامہ آرائی، شور شرابہ اور احتجاج ہوا، جس دوران اپوزیشن کے اراکین پار لیمان نے ’گولی مار نا بند کرو،دیش کو توڑ نا بند کرو‘ کے نعرے بلند کئے۔لوک سبھا (ایوان زیریں) کے اسپیکر اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے چیئرمین نے اجلاس کی کارروائی ملتو ی کردی۔ کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق پار لیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران سوموار کو معمول کی کارروائی کے دوران ایوان بالا (راجیہ سبھا) اور ایوان زیریں (لوک سبھا) میں شہریت ترمیمی قانون،دہلی میں فائرنگ کے واقعات اور بی جے پی کے مرکزی وزراء کے متنازعہ بیانات پراپوزیشن اراکین نے زبردست ہنگامہ آرائی،شورشرابہ اور احتجاج کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے کیساتھ ہی اپوزیشن اراکین نے حکومت کو شہریت ترمیمی قانون اور دیگر معاملات پر حکومت کو گھیر ا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہو رہے مظاہرہ کو لے کر کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ایوان زیریں (لوک سبھا)میں مدا اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت گولی سے عام لوگوں کی بولی بند نہیں کرا سکتی ہے، یہ جعلی ہندو ہیں، اصلی نہیں ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ’یہ حکومت لوگوں کے ساتھ بربریت کر رہی ہے‘۔ وہیں اے آئی ایم آئی ایم کے صدر، اسد الدین اویسی نے کہا کہ جامعہ کے بچوں پر مودی حکومت ظلم کر رہی ہے، ہنگامے کے چلتے لوک سبھا کی کارروائی دوپہرڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ادھر ایوان بالا (راجیہ سبھا)میں چیئرمین ایم وینکئیا نائیڈو نے شہریت ترمیمی قانو(سی اے اے)اور قومی شہریت رجسٹر(این آئی سی)کے مسئلے پر راجیہ سبھا میں بحث کرانے کے اپوزیشن کے مطالبے کو ٹھکرا دیا اور ایوان کی کارروائی12بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔قانونی دستاویز ایوان کے میز پر رکھے جانے کے بعد مسٹر نائیڈو نے کہا کہ انہیں قانونی کام کاج روک کر سی اے اے اور این آر سی کے مسئلوں پر اصول نمبر 267کے تحت بحث کرانے کے نوٹس ملے ہیں۔
یہ نوٹس غلام نبی آزاد،آنند شرما،ستیش چندر مشرا،ڈیرک اوبرائن اور کیکے راگیش وغیرہ رہنماؤں نے دئے ہیں۔اس کے علاوہ سبرمنیم سوامی اور آر کے سنہا نے بھی انہی مسئلوں پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز کا نوٹس دیا ہے۔ نائیڈو نے کہاکہ انہوں نے سبھی نوٹسوں پر غور کرنے کے بعد انہیں نامنظور کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ان مسئلوں پر الگ سے بحث کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رکن صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تجویز میں بحث کے دوران اپنی پارٹی کا نظریہ اور اپنے ان مسئلوں کو رکھ سکتے ہیں۔خطاب میں ان مسئلوں کا ذکر ہے اور اراکین اس وقت اپنی تشویش بھی ظاہر کرسکتے ہیں۔
مشرا نے اس پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کچھ کہنا چاہا۔اسی دوران برائن اور کانگریس کے کچھ لیڈر بھی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پرسہولت دیدی ہے اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بھی بات ہوئی تھی کہ شکریہ کی تجویز میں رکن اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔اپوزیشن اراکین کے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوتے ہی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی12بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔اس سے پہلے نائڈو نے کہاکہ شکریہ تجویز اور بجٹ پر بحث کیلئے12، 12گھنٹے کا وقت مقرر کیاگیاہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اراکین نے شہریت ترمیمی قانون،دہلی میں فائرنگ کے واقعات اور بی جے پی کے مرکزی وزراء کے متنازعہ بیانات پر احتجاج کے دوران ’گولی مار نا بند کرو،دیش کو توڑ نا بند کرو‘ کے نعرے بلند کئے۔جامعہ میں پھر فائرنگ، ایف آئی آ ر درج:فائرنگ کے پہلے واقعہ کے تین دن بعد کل آدھی رات کے وقت جامعہ میں بیٹھے مظاہرین کے قریب پھر فائرنگ ہوئی جس کی ایف آئی آر درج ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کل آدھی رات کے قریب اسکوٹی پر دو شخص آئے اور انہوں نے جامعہ میں فائرنگ کی، وہاں موجود لوگوں کے مطابق لال رنگ کی اسکوٹی پر آئے ان لوگوں نے ہوا میں فائرنگ کی اور بھاگ گئے، بھیڑ نے ان کی اسکوٹی کا نمبر نوٹ کر لیا اور پولیس میں ایف آئی آر درج کرا دی ہے۔ یہ واقعہ جامعہ کے گیٹ نمبر 5 اور گیٹ نمبر7 کے درمیان پیش آیا۔ واضح رہے جامعہ میں گیٹ نمبر7 کے باہر طلباء اوردیگر لوگ شہریت ترمیمی قانون اور جامعہ میں ہوئی پولیس فائرنگ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ تین روز قبل بھی گریٹر نوئیڈا میں جیور کے رہنے والے ایک نوجوان نے گولی چلائی تھی جس کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد شاہین باغ میں بھی کمل گوجر نام کے ایک شخص نے مظاہرہ گاہ کے پیچھے فائرنگ کی تھی اور پولیس نے اس کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ہفتہ کو ہی دہلی کی جامع مسجد میں بھی بھیڑ نے دو لوگوں کو مشتبہ حالت میں پکڑا تھا جن کو پولیس کے حوالہ کر دیا گیا تھا۔دہلی کے شاہین باغ علاقہ میں خواتین شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ 50 روز سے رات دن احتجاج پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرہ نہ صرف عالمی شہرت حاصل کر چکا ہے بلکہ ملک کے کئی حصوں میں شاہین باغ بن چکے ہیں،جہاں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اس کو مرکزی انتخابی مدا بھی بنا لیا ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا7 days agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا






































































































