تازہ ترین
جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ2019:مرکزی وزارتِ داخلہ کا غیر معمولی فیصلہ

جموں کشمیر کے انتظامی امور چلانے کیلئے قوانین وضع
نوٹیفیکیشن جاری،پبلک آرڈر،پولیس، آل انڈیا سروسز اور انسدادِرشوت بیورو کا کنٹرول براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کو دے دیاگیا
خبراردو:-
سرینگر:جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے تحت مرکزی حکومت نے جمعہ کو ایک غیر معمولی فیصلے کے ذریعے جموں کشمیر کے انتظامی امور چلانے کے حوالے سے قوانین وضع کردیئے۔مرکزی وزارت داخلہ نے اس ضمن میں باضابطہ طور ایک نوٹیفیکیشن جاری کی جسکے تحت پبلک آرڈر،پولیس، آل انڈیا سروسز اور انسدادِرشوت بیورو کو لیفٹیننٹ گورنر کے براہ راست کنٹرول میں دے دیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق مرکزی وزارتِ داخلہ نے جمعہ کے روزجموں کشمیر میں انتظامی امور چلانے کیلئے قوانین جاری کرتے ہوئے پبلک آرڈر، پولیس، آل انڈیا سروسز اور انسدادرشوت بیورو کو لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا کے براہ راست کنٹرول میں دے دیا۔
اس سلسلے میں مرکزی وزارت ِ داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کی۔مرکزی داخلہ سیکریٹری، اجے بھلا نے جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ2019کے تحت نوٹیفیکیشن کے ذریعے قوانین جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی معاملے کو لیکر لیفٹیننٹ گورنر اور وزراء کونسل(جب وہ قائم کی جائے) کے مابین اختلاف پیدا ہو تو وہ معاملہ مرکز کو روانہ کیا جائے گا تاکہ صدر ہندکا موقف حاصل کرکے اْس پر عمل در آمدکیا جائے۔
مرکزی وزارت داخلہ کی نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکز ی زیر انتظام جموں و کشمیر کے39محکمے ہیں جن میں بشمول ایگریکلچر، سکول ایجو کیشن،اعلیٰ تعلم،ہارٹیکلچر،فلوری کلچر، الیکشن،جنرل ایڈمنسٹریشن،داخلہ،مائننگ،پاؤر،پی ڈبلیو ڈی،ٹرانسپورٹ اور قبائیلی امور شامل ہیں۔یاد رہے کہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت5اگست2019کو ختم کرکے خطے کو مرکز کے زیر انتظام 2 خطوں میں تقسیم کیا گیا۔
جموں وکشمیر کو اسمبلی اختیارات کیساتھ مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا جبکہ خطہ لداخ کو اسمبلی اختیارات کے بغیر مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دیا گیا ہے۔بعد ازاں مرکزی زیر انتظام علاقوں نے31اکتوبر2019کوکام کرنا شروع کیا۔جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر جے سی مرمو نے اپنی ذمہ داریوں کا عہدہ سنبھالا تھا،تاہم 9ماہ بعد ہی لیفٹیننٹ گورنر کی تبدیلی میں لاکر15اگست2020کو منوج سنہا کو جموں وکشمیر کا دوسرا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا۔مرکزی وزارت ِ داخلہ کی نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو پولیس، پبلک آرڈر، آل انڈیا سروسز اور انسداد رشوت ستانی بیورو کا براہ راست کنٹرول سونپا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ہی وزیر اعلیٰ کے مشورے پر(جب وہ منتخب ہو) وزرا ء کے قلمدان تقسیم کریں گے اور انہیں مختلف محکموں کے چارج دیں گے۔نوٹفکیشن کے مطابق مرکز کی طرف سے بشمول وزیر اعظم اور دیگر وزراء کی طرف سے حاصل ہونے والی سبھی اطلاعات سیکریٹری کے ذریعے چیف سیکریٹری، انچارج وزیر، چیف منسٹر اور لیفٹیننٹ گورنر تک پہنچنی چاہئے۔نوٹیفیکیشن کے مطا بق چیف سیکریٹری کو چاہئے کہ وہ مرکز اور مرکز ی زیر انتظام جموں کشمیر کی انتظامیہ کے مابین کسی بھی ممکنہ اختلافی معاملے کو جلد ازجلد لفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی نوٹس میں لائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے مابین کسی بھی اختلافی معاملہ کو لیکر دو ہفتوں کے اندر زیر بحث لانے اور اس کو حل کرنے کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر پر عائد ہوگی جبکہ کسی بھی اختلافی معاملہ کو مرکز کے پاس بھی بھیجا جاسکتا ہے تاکہ اْس کے بارے میں صدر ہند کی رائے حاصل کی جاسکے۔
ہندوستان
انتخابات کے بعد مہنگائی بڑھاکر غریبوں کوچوٹ پہنچاتےہیں مودی :کھرگے
نئی دہلی ،کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی پر سیدھا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ الیکشن تک مہنگائی اور قیمتوں سے جڑی حقیقی صورتحال چھپاتے ہیں اور الیکشن ختم ہوتے ہی غریبوں کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ خمیازہ ملک کے غریب اور عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ایکس پر پیر کو لکھا کہ اگر وزیراعظم مودی الیکشن سے پہلے پٹرول و ڈیزل سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھاتے تو بی جے پی کو اس کا بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا۔ اسی وجہ سے حکومت نے الیکشن تک تمام باتوں کو ملک سے چھپا کر رکھا لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت اور مسٹر مودی میں دوراندیشی کی کمی ہے اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل مہنگائی بڑھ رہی ہے، جس سے غریبوں کو وہ ضروری چیزیں بھی نہیں مل پا رہی ہیں، جن کے وہ حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلے کو نمایاں طور پر اٹھائے گی۔
یواین آئی۔ایف اے
دنیا
یو اے ای سمیت خطے کے کسی ملک سے دشمنی نہیں، پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ
تہران، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایران کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے بتایا کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور حالیہ ایرانی تجویز پر ایران اور امریکہ دونوں کی جانب سے اپنے اپنے کمنٹس دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات میں ایران کے بنیادی مطالبات میں بیرونی ممالک میں منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری اور ملک پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتا ہے، اور اب امریکہ بھی یہ حقیقت تسلیم کر چکا ہے کہ وہ کھلی دھمکیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے جائز حقوق کے حصول سے باز نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایران کی تمام تر توجہ جنگ کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید انکشاف کیا کہ ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے ہی عمان میں ایک اہم ملاقات کی ہے، جس کے دوران دونوں ٹیموں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میکنزم کو فعال بنانے کے لیے تہران اس وقت عمان سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
یو اے ای اسرائیلی سازشوں سے دور رہے، بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے: محسن رضائی
تہران، ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے باہمی تعلقات پر انتہائی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران خطے میں ہونی والی تمام اسرائیلی سرگرمیوں کی باریک بینی سے مانیٹرنگ کر رہا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ تہران، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین قائم ہونے والے تعلقات اور ہر قسم کے روابط سے پوری طرح باخبر ہے۔
انہوں نے ابوظبی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ امارات کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں میں الجھنے سے باز رہنا چاہیے، اور یہ حقیقت بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ایران کے صبر کی ایک حد ہے۔ تاہم، ایرانی عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام تر شدید تحفظات کے باوجود تہران نے ابوظبی کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور دوستی کے دروازے مستقل طور پر بند نہیں کیے۔
دوسری جانب، محسن رضائی نے امریکہ کو کڑے لہجے میں متبادل پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرے، ورنہ بحیرۂ عمان امریکی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو براہِ راست ایک جنگی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس جارحیت کا مقابلہ کرنا تہران کا قانونی اور دفاعی حق ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ ایران کی یہ بحری ناکہ بندی جتنی زیادہ طول پکڑے گی، اس کا خمیازہ اور نقصان دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اتنا ہی زیادہ اٹھانا پڑے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ اس وقت ایک طرف جہاں ہماری مسلح افواج کی انگلی ٹریگر پر ہے، تو دوسری طرف اسی کے ساتھ سفارت کاری کا عمل بھی متوازی طور پر جاری ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش





































































































