تازہ ترین
جھارکھنڈ میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان دوسرے مرحلے کے لئے ووٹنگ جاری

رانچی۔ جھارکھنڈ میں اسمبلی کی 81 میں سے دوسرے مرحلے کی 20 نشستوں کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح سات بجے سے پولنگ جاری ہے۔ ریاستی الیکشن آفس ذرائع نے یہاں بتایا کہ دوسرے مرحلہ کے لئے سات اضلاع -مشرقی سنگھ بھوم، مغربی سنگھ بھوم، سرائے کیلا-كھرساواں، رانچی، کھونٹی، گملا اور سمڈیگا کی 20 اسمبلی سیٹوں بهراگوڑا، گھاٹ شلا (ایس یو)، پوٹكا (ایس یو)، جگسلائی (ایس یو )، جمشید پور (وسط)، جمشید پور (مغرب)، سرائے کیلا (ایس یو)، چائباسہ (ایس یو)، مجھگاؤں (ایس یو)، جگن ناتھ پور (ایس یو)، منوهرپور (ایس یو)، چكردھرپور (ایس یو)، كھرساواں (ایس یو)، تماڑ (ایس یو)، تورپا ( ایس یو)، کھونٹی(ایس یو)، مانڈر (ایس یو)، سسئ (ایس یو)، سمڈیگا (ایس یو) اور كولی بیری میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آج صبح سات بجے پولنگ شروع ہو گئی، جو شام تین بجے تک چلے گی۔
ان بیس سیٹوں میں جمشید پور (مشرق) اور جمشید پور (مغرب) نشستوں کے لئے صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ووٹرز اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کر سکیں گے۔ وہیں، باقی 18 اسمبلی سیٹوں کے لئے صبح سات بجے سے شام تین بجے تک پولنگ ہوگی۔ جن اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹنگ کے اختتام کا وقت شام تین اور پانچ بجے تک ہے، وہاں اس وقت تک موجود تمام ووٹر ووٹ دے سکیں گے۔
ووٹنگ کیلئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ تمام پولنگ مراکز میں جوان تعینات کئے گئے ہیں اور مسلسل گشت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرحلہ میں جن اسمبلی سیٹوں کے لیے الیکشن ہو رہا ہے، اس میں سے کئی نکسل متاثرہ ہیں۔ اس کی وجہ سے انتہائی حساس اور حساس ترین مراکز کی حفاظت کے لئے مسلح فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس گشت کو لے کر ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پولنگ مراکز کو نکسل اور غیر نکسل بنیاد پر حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نکسل متاثرہ علاقوں میں 949 انتہائی حساس اور 762 حساس پولنگ اسٹیشن ہیں۔ وہیں، غیر نکسل حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 2005 اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 762 ہے۔ ان کے علاوہ عام پولنگ مراکز کی تعداد 1588 بتائی گئی ہے۔ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں میں مسلح دستوں کے جوان تعینات ہیں۔
ان اسمبلی حلقوں کے انتخابی میدان میں 231 مرد اور 29 خواتین سمیت کل 260 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ کل 6066 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں، جن میں 5050 دیہی علاقے میں اور 1016 شہری علاقوں میں ہیں۔ اس مرحلہ کے لئے 94 سکھی بوتھ اور 337 ماڈل پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ کل 1612 بوتھوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ جمشید پور( مشرق) اور جمشید پور (مغرب) سیٹ سے سب سے زیادہ 20-20 امیدوار تو سرائے کیلا سے سب سے کم سات امیدوار کھڑے ہیں۔ پوٹكا، چائباسہ اور منوهرپور سیٹ سے سب سے زیادہ تین تین خاتون امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
دوسرے مرحلہ کے اسمبلی انتخابات میں جن سرکردہ لیڈروں کی ساکھ داؤ پر لگی ہے ان میں وزیر اعلی رگھوور داس ، اسمبلی اسپیکر دنیش اوراؤں، دیہی ترقیات کے وزیر جے سنگھ منڈا، آبی وسائل کے وزیر رام چندر سهس، سریو رائے، جھارکھنڈ بی جے پی کے صدر لکشمن گلووا، سابق وزیر چمپئی سورین، بنّا گپتا، جوبا مانجھی، سابق داخلہ سکریٹری جے بی توبد، پردیپ کمار بل مچو، کنال شانڈگي، دیپک بروا کے ساتھ خود سپردگی کرنے والے خطرناک نکسلی راجہ پیٹر اور کندن پاهن بھی شامل ہیں۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoاسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان



































































































