تازہ ترین
حفاظتی دائر ے کورونا وائرس سے نمٹنے کا حل

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے 24 اور25 مارچ کی درمیانی رات سے21 دن تک لاک ڈاؤن شروع کردیا گیا، اس سے قبل ملک میں 22 مارچ کو14 گھنٹوں کا کرفیو نافذ کیا گیا تھا جب کہ 23 مارچ کو80 اضلاع میں کرفیو لگایا گیا تھا۔تاہم بعد ازاں حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کرتے ہوئے تمام کاروباری مراکز، عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ کو بند رکھنے کا حکم دیا، تاہم اس دوران لازمی خدمات کے دکانات کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی۔لازمی خدمات کی دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت ملنے کے بعد خدشہ تھاکہ دکانوں پر لوگوں کی بھیڑ ہوگی، اس لیے دکانوں،اے ٹی ایم مشینوں اور دیگر لازمی خدمات کے مراکز پر حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے لوگوں میں فاصلہ رکھنے کا حل نکال لیا گیا۔
جموں وکشمیر کیساتھ ساتھ ملک کے کئی شہروں سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی دکانداروں،پولیس اور متعلقہ انتظامی افسران نے لوگوں میں فاصلہ رکھنے کا توڑ نکالتے ہوئے دکانوں کے باہر’سرکل‘ یعنی دائرے بنائے اور ان سرکلز(دائروں) میں 3سے 4 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا۔سرینگر،کولگام،پلوامہ،گاندر بل اور جموں کے علاقوں سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دکان اور دیگر لازمی مزاکز کے باہر لوگوں میں فاصلہ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے دائرے بنا رکھے ہیں۔اسی طرح مرکزی حکومت کے ماتحت علاقے پدوچیری اور ریاست گجرات سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دکانداروں نے دکان کے باہر لوگوں میں فاصلہ رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے سرکل(دائرے) بنا رکھے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راشن اور دودھ کے دکانوں سمیت دیگر دکانوں کے باہر3 سے 4 فٹ کے فاصلے پر سرکل (دائرے) بنائے گئے ہیں، جہاں لوگوں کو کھڑا ہوکر اپنی باری کا انتظار کرنے کا کہا گیا۔تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اشیائے ضرورت خریدنے کے لیے آنے والے لوگ ایک دوسرے سے فاصلے پر بنائے گئے مذکورہ دائروں میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور دکانوں میں اندر رش بھی نہیں ہو رہا اور لوگ حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے ایک دوسرے سے فاصلے پر بھی ہیں۔مختلف شہروں میں دکانداروں کی جانب سے لوگوں میں فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے دائروں کے عمل کی سوشل میڈیا پر تعریف کی جا رہی ہے اور دیگر شہروں کے دکانداروں سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی اس عمل کی پیروی کریں۔ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ کم سے کم ایک ارب 20 کروڑ لوگ گھروں تک محدود رہیں گے اور یہ عمل آئندہ 21 تک جاری رہے گا۔
تاہم اس دوران بھارت میں کھانے پینے کے اشیا کی قلت سمیت دیگر مسائل کے پیدا ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور اندازے کے مطابق حکومت کو 10 لاکھ کروڑ روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔لاک ڈاؤن کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ، فضائی سفر، ریلوے بھی بند رہے گی جب کہ عوامی مقامات سمیت مذہبی مقامات کو بھی بند رکھا جائے۔تعلیمی ادارے پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں جب کہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی محض 5 فیصد حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی ہیں، ساتھ ہی نجی اداروں نے بھی دفاتر بند کردیے ہیں۔ملک میں 25 مارچ کی صبح تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر500 سے زائد ہو چکی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 11 تک جا پہنچی تھی۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان4 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































