دنیا
طویل عرصے بعد کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں کیا کچھ دلچسپ ہوا؟

19ویں صدی کے آخر میں جب ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ہوا تو محدود ٹیمیں ہونے کی وجہ سے پورے سال بمشکل چند روز ہی بین الاقوامی کرکٹ کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔
پھر جب ہوائی سفر کی سہولت میسر نہیں تھی یا بہت کم میسر تھی تو ان دنوں میں ٹیموں کو ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنے کے لیے بحری جہاز پر سفر کرنا پڑتا تھا اور یہ مشکل سفری حالات بھی کرکٹ کے مقابلوں کے مسلسل انعقاد میں رکاوٹ تھے۔
لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف اس کھیل میں شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی گئی بلکہ سہولیات میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور یوں اس کھیل کی مصروفیات بڑھتی گئیں۔
غرض ان 3 فارمیٹ اور درجن بھر ٹیموں کی موجودگی میں سال بھر کا کرکٹ شیڈول مصروف ترین ہوگیا۔ سال میں شاید ہی کوئی ایسا حصہ ہوتا تھا جب کہیں کوئی سیریز نہیں کھیلی جارہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ شائقین و ناظرین کی عادت اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ بقول شخصے میچ دیکھے بغیر تو ان کا کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا تھا۔
اس صورتحال میں کرکٹ کے مقابلوں کی 117 دن تک بندش کرکٹ کے چاہنے والوں کے لیے کس قدر مشکل اور تکلیف دہ عمل ہوگا اس کا بیان کم از کم الفاظ میں تو ممکن نہیں۔اس لیے اب امید یہی ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے بعد جلد ہی ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ بھی واپس آجائے گی۔میچ شروع ہونے سے قبل انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ میں شامل افراد نے ایک گھٹنے پر بیٹھ کر Black Lives Matter مہم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ساؤتھ ہیمپٹن ٹیسٹ میں ٹاس کے بعد ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے جب انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس سے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو بین اسٹوکس کچھ جھینپ سے گئے اور انہوں نے مصافحہ کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھانے کے بجائے اپنی کہنی جیسن ہولڈر کی طرف کردی۔عام حالات میں تو بین اسٹوکس کی یہ حرکت خاصی معیوب سمجھی جاتی لیکن اس وقت دنیا ایسے حالات کا شکار ہے جہاں مصافحہ کرنے کی ہر مقام پر حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔
اس ٹیسٹ میچ کے لیے طے کیے گئے قواعد و ضوابط میں یہ بات شامل تھی کہ ٹاس کے بعد کپتان مصافحہ نہیں کریں گے۔ شاید جیسن ہولڈر یہ بات بھول گئے تھے جس کے سبب ٹاس کے بعد یہ دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی۔نگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی جانے والی موجودہ ٹیسٹ سیریز کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ اس ٹیسٹ سیریز کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑی ٹریننگ سیشن کے دوران استعمال ہونے والی اپنی قمیضوں پر ان ڈاکٹروں، نرسوں اور اساتذہ کے نام لکھوا کر میچ کھیلیں گے جنہوں نے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ویسٹ انذیز کے کھلاڑی جان کیمپ بیل نے جب ایک رن لے کر ویسٹ انڈیز کو اس تاریخی ٹیسٹ میچ میں فتح سے ہمکنار کیا تو دوسرے اینڈ پر موجود ان کے کپتان نے دُور دُور سے ہی جیت کا جشن منانے پر اکتفا کیا۔اگر حالات درست ہوتے تو ہولڈر یقینی طور پر والہانہ انداز سے کیمپ بیل گو گلے لگا لیتے لیکن موجودہ حالات میں کھلاڑی جیت کا جشن منانے میں بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ ایسے ہی مناظر ویسٹ انڈیز کے ڈریسنگ روم میں بھی دیکھے گئے جہاں کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ بہت احتیاط کے ساتھ اور سماجی فاصلے کی پابندی کو مدِنظر رکھتے ہوئے جیت کی خوشی منار ہے تھے۔ایک طویل عرصے بعد کرکٹ کے شائقین نے ایسا ٹیسٹ میچ دیکھا جس میں دونوں امپائرز اور میچ ریفری کا تعلق میزبان ٹیم سے تھا۔ لیکن مہمان ٹیم کو کسی بھی ممکنہ جانبداری سے بچانے کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اس ٹیسٹ سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کو ایک ایک اضافی ریویو دیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے اس سہولت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف دیے گئے 5 فیصلوں کو اپنے حق میں تبدیل کروالیا۔
کھیلوں خصوصاََ کرکٹ کی واپسی شائقین کے لیے ایک خوش آئند امر ہے۔ امید ہے طویل تعطل کے بعد شروع ہونے والے کرکٹ کے مقابلے اب بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گے۔
دنیا
ایران آبنائے ہرمز میں شپنگ کنٹرول سسٹم کا اعلان کرے گا: رکن پارلیمنٹ
تہران، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کرے گا۔
علاقائی کشیدگی اور سمندری سلامتی سے متعلق جاری تنازعات کے درمیان، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ معلومات مشترک کی ہیں۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ‘ایکس’ پر لکھا، “ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارتی سلامتی کی ضمانت کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے سے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کر لیا ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف انہی تجارتی جہازوں اور فریقین کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت ہوگی جو ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے فیس (ٹیکس) بھی نافذ کرے گا۔
یواین آئی۔م س
دنیا
نیدرلینڈز میں مودی کا خطاب: ہندوستان مواقع کی سرزمین، ہندوستانی برادری سے سرمایہ کاری اور تعاون کی اپیل
دی ہیگ، وزیر اعظم نریندر مودی نے 21ویں صدی کے ہندوستان کو مواقع کی سرزمین قرار دیتے ہوئے نیدرلینڈز میں مقیم ہندوستانی برادری سے ہندوستان میں سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘وکست بھارت’ (ترقی یافتہ ہندوستان) کے سفر میں عالمی ہندوستانی برادری کا ایک بڑا کردار ہوگا۔
پانچ ممالک کے دورے کے دوسرے مرحلے میں دو روزہ دورے پر جمعہ کی رات یہاں پہنچنے والے مسٹر مودی نے ہفتہ کے روز ہندوستانی برادری کے لوگوں سے ملاقات کی۔ ہندوستانی تارکینِ وطن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان لوگوں کو دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل طاقت اور ایک متحرک پل قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے سورینامی ہندوستانی برادری کے لیے او سی آئی (او سی آئی) کارڈ کی اہلیت چوتھی نسل سے بڑھا کر چھٹی نسل تک کر دی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کی اقتصادی، تکنیکی اور جمہوری کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے نیدرلینڈز میں مقیم ہندوستانیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج “لا محدود خواہشات” اور “بے پناہ کوششوں” کے ساتھ دنیا کی صفِ اول کی معیشت بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیدرلینڈز کے رہنماؤں نے ہمیشہ ہندوستانی تارکینِ وطن کی تعریف کی ہے اور یہاں مقیم ہندوستانی ڈچ معاشرے کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے ہندوستانی تارکینِ وطن کی ثقافتی جڑوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ نسلیں بدلنے اور ممالک کی سرحدیں تبدیل ہونے کے باوجود ہندوستانیوں نے اپنی زبان، ثقافت، تہواروں اور روایات کو زندہ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی برادری محض ہجرت کی داستان نہیں بلکہ جدوجہد، ثقافت اور ترقی کی ایک زندہ مثال ہے۔
ہندوستان کے ترقیاتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں ہندوستان میں صرف چار یونیکورن تھے جبکہ آج یہ تعداد تقریباً 125 تک پہنچ گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت ، دفاع، خلائی اور سیمی کنڈکٹر کے شعبوں میں ہندوستانی اسٹارٹ اپس عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اب موبائل فون مینوفیکچرنگ میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور ملک میں 12 سیمی کنڈکٹر پلانٹس پر کام چل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں اب “ڈیزائنڈ ان انڈیا” اور “میڈ ان انڈیا” چپس کی پیداوار شروع ہو رہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر تیار کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ ہندوستان میں 20 ارب سے زیادہ یو پی آئی لین دین ہو رہے ہیں، جو عالمی ڈیجیٹل لین دین کے نصف سے زیادہ ہے۔
عالمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی امراض، جنگوں اور توانائی کے بحران کے درمیان دنیا ایک قابلِ اعتماد سپلائی چین کی تلاش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور نیدرلینڈز مل کر ایک “قابلِ اعتماد، شفاف اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق” سپلائی چین تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے گرین ہائیڈروجن، آبی تحفظ اور تجارتی تعاون کو دونوں ممالک کے تعلقات کی اہم بنیاد بتایا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے تاریخی تجارتی معاہدے سے ہندوستان-نیدرلینڈز شراکت داری مزید مضبوط ہوگی اور ہندوستانی کاروباروں کے لیے یورپ میں داخلے کا قدرتی راستہ نیدرلینڈز بنے گا۔
کھیلوں کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کرکٹ میں ہندوستانی نژاد کھلاڑیوں نے نیدرلینڈز کی ٹیم کو مضبوط کیا ہے جبکہ ہندوستان کی ہاکی ٹیم کو ڈچ کوچز سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہاکی ورلڈ کپ میں جیت کسی کی بھی ہو، لیکن ہندوستان اور نیدرلینڈز کی دوستی کی جیت ہمیشہ رہے گی۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران اب بھی سفارتی حل کیلئے پرعزم ہے : مسعود پزشکیان
تہران، مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال جارحانہ اور غیر قانونی حملوں کا نتیجہ ہے، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کیلئے پرعزم ہے۔
ایرانی صدر نے پوپ لیو چہاردہم کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ سمندری گزرگاہ میں بحری آمدورفت اسی وقت معمول پر واپس آئے گی جب موجودہ غیر یقینی اور عدم تحفظ کی صورتحال ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے مطابق صورتحال کی نگرانی اور جائزہ لیتا رہے گا۔
مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں کہا کہ تہران بدستور سفارت کاری اور پرامن حل کا حامی ہے اور اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات میں دیانتداری کے ساتھ شریک رہا ہے۔
ایرانی صدر نے پوپ کے حالیہ مؤقف کو سراہتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حقیقت پسندانہ اور منصفانہ رویہ اختیار کرے اور ان امریکی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہو جنہیں تہران غیر قانونی اور خطرناک قرار دیتا ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان7 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا





































































































