Connect with us

تازہ ترین

قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچے

Published

on

خبراردو

دُنیا بَھر میں ہر سال صحت سے متعلق مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کے زیرِاہتمام 17نومبر کو ’’ورلڈ پِری میچوریٹی ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ قبل ازوقت پیدایش سے متعلق احتیاطی تدابیر اور دیگر معلومات عام کرکےپِری میچور بچّوں کی پیدایش کی شرح میں کمی لائی جاسکے۔

امسال جو تھیم منتخب کیا گیا ہے،وہ ہے”Born Too Soon: Providing the right care, at the right time, in the right place”۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا بَھر میں 15ملین بچّے وقت سے پہلے تولّد ہوتے ہیں،جب کہ پانچ سال سے کم عُمر بچّوں میں ہونے والی اموات کا ایک بڑا حصّہ قبل ازوقت پیدا ہونے والے یا ایک ماہ سے کم عُمر بچّوں پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ2015ء میں تقریباً ایک ملین بچّوں کی اموات اِسی عُمر میں ہوئیں ۔عالمی سطح پر کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 184مُمالک میں 5سے 8فی صد بچّے پری ٹرم پیدا ہوتے ہیں،ان میں سے دوتہائی بچّوں کی زندگیاں بہتر سہولتوں اور بروقت علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ 2016ء میں یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ،جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ 860,000بچّے قبل از وقت جنم لیتے ہیں،جن میں سے 102,000انتقال کرجاتے ہیں۔

جب کہ گزشتہ برس جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز چھے سو سے زائد نوزائیدہ بچّے قبل از وقت پیدائش یا دیگر پیچیدگیوں کے سبب فوت ہو جاتے ہیں۔اس اعتبار سے پاکستان ایسے دس بڑے مُمالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں قبل از وقت پیدایش کی پیچیدگیوں کے سبب بچّوں کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔

ہر نوع میں حمل کی مدّت مختلف ہوتی ہے۔نوعِ انسانی میںیہ مدّت نو ماہ پر مشتمل ہے،جس کے بعدہی زچگی عمل میں آتی ہے۔ بعض اوقات بچّہ مدّت مکمل کرنے سے قبل پیداہوجاتا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں پِری میچور یا پری ٹرم کہا جاتا ہے۔قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کی ہفتوں کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے،جس کے مطابق 20سے32ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والے بہت زیادہ کم عُمر(very preterm )،32سے 34ہفتوں کے دوران جنم لینے والے درمیانی کم عُمر(moderate preterm) اور34سے37 ہفتوں کے دوران توّلد ہونے والے کم عُمر(late preterm )بچّےکہلاتے ہیں۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں 24ہفتوں کی مدّت میں پیدا ہونے والے بچّوں میں 50فی صد زندہ بچ جاتے ہیں، اس کے برعکس ترقّی پذیر مُمالک میں 28ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے 90فی صد بچّے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

اِن بچّوں میں قوّتِ مدافعت کی کمی کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں، سیکھنے کا عمل، قوّتِ سماعت اور قوّتِ بینائی دیگر بچّوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پِری میچور بچّیوں میں عام لڑکیوں کی نسبت ڈیپریشن اور دماغی ہیجان کے خطرات زیادہ پائے جاتے ہیں،جب کہ پِری میچور بچّوں میں اعتماد اور دوستانہ رویے کی کمی ہوتی ہے۔نیز،بعض اوقات جسم کےکسی اہم عضوکی نشو ونما نہیں ہوپاتی،نتیجتاً وہ جسمانی طورپر کم زورہوتے ہیں یا پھرکوئی معذوری لاحق ہوتی ہے۔

قبل از وقت پیدایش کے کئی محرّکات ہیں۔تاہم بنیادی وجہ ماں کی خرابیٔ صحت ہے۔جیسےحاملہ کااپنی غذاکی جانب توجّہ نہ دینا آئرن اور خون کی کمی کا سبب بنتا ہے،جس کے نتیجے میں بچّے کی نشوونما متاثر ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں،ماں کا کم عُمر ہونا، جڑواں یا اس سے زائد بچّوں کی پیدایش، بُلند فشارِ خون،ذیابطیس،عارضۂ قلب،نشہ آور ادویہ یا تمباکو نوشی کی لَت میں مبتلا ہونا ،سانس،جگر، دِل یا گُردے کی کوئی بیماری، دائمی کھانسی،جوڑوں کے درد کا مرض وغیرہ بھی قبل از وقت زچگی کی وجوہ بن جاتی ہیں۔

بعض کیسز میں بچّہ دانی کی بیماریاں،Fetal distress اور مختلف موروثی عوراض بھی وجہ بن سکتے ہیں۔بعض اوقات مثانے،گُردےیا بچّہ دانی کا انفیکشن یا بچّہ دانی کا منہ ڈھیلا ہونا بھی پری ٹرم پیدایش کا باعث بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں،حمل سے قبل ماں کا وزن 45 کلو گرام سے کم یا 85 کلو گرام سے زیادہ ،قد4 فٹ 11 انچ سے کم اورخون کا گروپ نیگیٹو ہونا بھی قبل از وقت پیدایش کے محرّکات بن سکتے ہیں۔نیز،درج ذیل ممکنہ علامات بہت اہم ہیں،جن سے کوئی بھی حاملہ دوچار ہوسکتی ہے۔مثلاً:

وزن:

حمل کے دوران حاملہ کا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگے یا اس میں اضافہ کی رفتار معمول سے کم ہو۔ عمومی طور پر حاملہ کا وزن حمل کے 12ویں سے14ویں ہفتے کے دوران ایک کلو گرام کے لگ بھگ بڑھتا ہے۔14 ویں سے 28ویں ہفتے کے دوران3تا4کلو گرام اور 28ویں سے40ویں ہفتے تک تقریباً 4سے6کلو گرام کا اضافہ ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر 10سے12کلو گرام وزن بڑھتا ہے۔ اس مناسبت سےوزن میں اضافےکی رفتار معمول کے مطابق نہ ہونا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔

سُوجن:

پائوں یا جسم پر سُوجن کی پہلی علامت بالعموم اس طرح ظاہر ہوتی ہے ،جب انگوٹھی یا چُوڑی پھنسنےلگے، جوتے تنگ محسوس ہوں۔ دورانِ حمل جسم پر سُوجن خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا اس حوالے سے خاص دھیان رکھا جائے۔

سَردرد:

چکرآنے ،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے،اکثر سَربوجھل اوردرد رہنے جیسی علامات عموماً خواتین معمولی جان کر نظرانداز کردیتی ہیں،جو درست نہیں۔کیوں کہ یہ علامات خون کا دباؤ بڑھنے کے سبب بھی ظاہر ہوسکتی ہیں،بہتر تو یہی ہے کہ معالج کو آگاہ کیا جائے۔

خون کا اخراج:

دورانِ حمل کسی بھی مرحلے پراگر زائد مقدار میں رطوبت یا خون خارج ہو، تو گھریلو ٹونے ٹوٹکوں کی بجائےمعالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ یہ کیفیت زیادہ عرصے برقرار رہے، تو زچہ و بچّہ کی زندگی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے اور جان بچانے کے لیے وقت سے پہلے پیدایش ناگزیر ہوجاتی ہے۔

تشنّج:

بعض اوقات حاملہ جھٹکے لگنے کی بیماری میں( جسے طبّی اصطلاح میں تشنّج کہا جاتا ہے) مبتلا ہوجاتی ہے۔یہ حمل کی انتہائی خطرناک علامت ہے،کیوں کہ جھٹکنے لگنے سے بچّہ رحمِ مادر میں انتقال کرسکتا ہے یا پھر جان بچانے کے لیے قبل ازوقت زچگی کروائی جاتی ہے،لہٰذا ایسی صورت میں معالج سے رابطہ ناگزیر ہے کہ معمولی سی کوتاہی یا تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

دردِ زہ جیسا درد:

بعض اوقات حمل کی مدّت (40ہفتے) پورے ہونے سے قبل کسی بھی وقت دردِ زہ جیسی تکلیف شروع ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ علامت قبل ازوقت بچّے کی پیدایش کی ہو۔

شکمِ مادر میں بچّے کی حرکت:

بچّے کی حرکت بالعموم حمل کے چار ماہ مکمل ہونے پر محسوس ہونے لگتی ہے اور ماں جلد ہی معمول کی حرکات سے آشنا ہو جاتی ہے۔ معمول میں تغیر ایک غیر معمولی علامت ہے۔ حرکت معمول سے زیادہ یا کم ہو یا بالکل ختم ہو جائے، توجس قدر جلد ہوسکے ،معالج سے رجوع کیا جائے۔یاد رکھیے، دورانِ حمل باقاعدگی سے چیک اپ صحت مندی کے ساتھ حمل کی مدّت پوری کرنے کے لیےناگزیرہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کے مسائل:

قبل از وقت پیدایش کی وجہ سے عموماًبچّے طبّی مسائل کا شکا ر ہوجاتے ہیں، کیوں کہ قدرتی نظام کے تحت ماں کے پیٹ میں بچّے کو نشوونما کے لیے ایک خاص ماحول ملتا ہے۔40 ہفتے کی مدّت مکمل کرکے بچّہ شکمِ مادر سے باہر کی دُنیا میں خودبخودسانس لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔لہٰذا اگر زچگی قبل از وقت ہوجائے، تو ایسے بچّوں کا دیگر بچّوں کی نسبت خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔

یہ بچّے اپنا جسمانی درجۂ حرارت قائم نہیں رکھ پاتے، کیوں کہ اِن کی جِلد کے نیچے نارمل چربی کی تہہ نہیں ہوتی، اس لیے انہیں سرما میں ٹھنڈ سے اور گرمی کے موسم میں زیادہ درجۂ حرارت سے بچانا بےحد ضروری ہوتا ہے،عموماً پِری میچور بچّوں کو انکیوبیٹرمیں خاص مدّت تک رکھا جاتا ہے۔اگرنومولود کی صحت کے پیشِ نظرمعالج انکیوبیٹر میں رکھنے کا مشورہ نہ دے، تب بھی ایسے بچّوں کابہت خیال رکھا جائے۔ پیدایش کے فوراً بعد خوراک شروع کروانا بہت اہم مرحلہ ہے۔

کوشش کی جائے کہ بچّہ پیدایش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پی لے،کیوں کہ وہ چاہےمقررہ مدّت سے جتنے ہفتے قبل پیدا ہو، اُس کا نظامِ ہضم ماں کا دودھ فوری قبول کرلیتا ہے۔چوں کہ اِن بچّوں کے جسم میں گلوکوز محفوظ نہیں ہوتا، اس لیےوقفے وقفے سے دودھ پلایا جائے۔ماں کا دودھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کیلشیم کی کمی سے بچّے کو جھٹکے لگ سکتے ہیں۔پِری میچور بچّوں میں سانس کا مرض(Idiopathic Respiratory Distress) ایک خطرناک بیماری ہے۔اگر بچّے کی سانس کی رفتار سُست ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوراً اسپتال لےجائیں،تاکہ بروقت تشخیص کے بعد فوری علاج ہوسکے۔

اس مرض میں بچّے کے پھیپھڑوں میں مخصوص دوا داخل کی جاتی ہے،جو پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔کم عُمر بچّے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوا کر 30ڈگری پر لٹایا جائے، سیدھانہ لٹائیں۔کیوں کہ بعض اوقات دودھ اُبکائی کی صورت مُنہ کے راستے ناک میں آجاتا ہے، جس سے سانس رکنے لگتی ہے۔اور اگرپھیپھڑوں میں چلا جائے،تو نمونیا ہوسکتا ہے۔یہ بچّےیرقان سے بھی جلد متاثرہو جاتے ہیں اورتاخیر سے صحت یاب ہوتے ہیں۔یرقان کی صُورت میں معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ بروقت درست علاج ہوسکے۔واضح رہے کہ یہ یرقان ماں کی خوراک کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوتا۔

قبل از وقت جنم لینے والے بچّوں میں پیٹ پُھولنے اور خون کے اخراج کی بیماری، جسے طبّی اصطلاح میں”Necrotizing Enterocolitis”کہا جاتا ہے، ایک عام اور جان لیوا بیماری ہے، مگر مناسب احتیاط اور ماں کا دودھ جلد شروع کروانے سے اس کا علاج ممکن ہے۔پھرپِری ٹرم بچّے قوّتِ مدافعت کی کمی کے سبب انفیکشن کا بھی جلد شکار ہو سکتے ہیں، اس لیےماں اپنے ہاتھوں اوربچّے کی صفائی کا خصوصی خیال رکھے اور اپنا دودھ لازمی پلائے کہ ماں کا دودھ ہی پہلی ویکسین ہوتا ہے،جو قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔اِن بچّوں میں جھٹکےمختلف وجوہ سے لگ سکتے ہیں،لہٰذا ماہرِ امراضِ اطفال سے رجوع کیا جائے۔

زچگی کے لیے کسی قریبی کلینک یا اسپتال کا انتخاب کیا جائے، جو نہ صرف گھر سے قریب ہو، بلکہ تمام طبّی سہولتیں اور 24گھنٹے عملہ بھی دستیاب ہو۔ مزید برآںبچّوں کی نگہداشت کے لیے ضروری آلات جیسے انکیوبیٹر، آکسیجن سلنڈر اور مخصوص مشینیں وغیرہ بھی میسّر ہوں،کیوں کہ ان آلات کے بغیر پِری ٹرم بچّوں کے زندہ رہنے کی اُمید بہت کم ہوتی ہے۔نیز، ایسے بچّوں کو مناسب دیکھ بھال کے لیے انکیو بیٹر میں رکھا جاتا ہے اور زیادہ افراد کو چُھونے بھی نہیں دیا جاتا ،کیوں کہ یہ جراثیم سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔عمومی طور پر حاملہ میںقبل از وقت زچگی کی علامات ظاہر ہوں، تو فوری آپریشن کردیا جاتا ہے، تاکہ ماں اور بچّے کی جان بچائی جا سکے۔

ماں کو اگر قبل از وقت درو شروع ہو جائے،خاص طور پر پیٹ یا کمر کے نچلے حصّے میں تو فوری طور پر بستر پر لٹا دیں، ماں کو تسلّی دیں اور اس دوران معالج سےمشورہ کریں۔ اگر اسپتال لے جانے کی ضرور ت پڑے تو تاخیر کیے بغیر لے جائیں،کیوں کہ ایسی ادویہ اور احتیاطی تدابیر موجود ہیں، جن سے قبل از وقت پیدایش روکی جا سکتی ہے۔حاملہ سے اچھی بات اور اچھی طرح سے بات کریں۔

نیز،پینے کے لیے دودھ یا شربت موسم کے مطابق ضرور دیں۔ پیدایش کے وقت اردگرد کے ماحول کا درجۂ حرارت گرم ہونا چاہیے۔ پیدایش کے فوراً بعدبستر کی چادر تبدیل کر کے خشک چادر میں لیٹائیں،اس دوران ماں کی سانس اور رنگت کا جائزہ لیتے رہیں۔نومولود کو کپڑے پہنا کر ایک گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ ضرور پلوائیں ۔ پھر ہر دو گھنٹے بعد دودھ پلاتے رہیں ،جب کہ نوزائیدہ کا ماہرِ اطفال سے تفصیلی معائنہ کروائیں اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کیا جائے۔

پِری ٹرم بچّوں کے لیے بعض وٹامنز اور منرلز 6سے 8ہفتے تک ضروری ہوتے ہیں،جن کا باقاعدہ استعمال انہیں نارمل وزن تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر پہلی زچگی پِری ٹرم ہو، تو آئندہ حمل میں 17.2فی صد امکان ہوتا ہے کہ دوسرا بچّہ بھی پِری ٹرم پیدا ہوگا۔ اگر پہلے دو بچّے پِری ٹرم ہوں، تو تیسری زچگی میں یہ امکان 28.4فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں بننے والی خواتین اپناطبّی معائنہ اور کسی بھی بیماری کی صُورت میں اس کا علاج لازماًکروائیں ۔ اپنی غذا کا خاص خیال رکھا جائے کہ اگر ماں بیمار اور لاغر ہے، تو اس کے اثرات بچّے پر بھی مرتّب ہوں گے۔

اس ضمن میں نوزائیدہ بچّوں کے انتہائی نگہداشت کے اداروں کا قیام، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں تمام سہولتوں کا موجود ہونا، حکومتی سطح پر صحت کی پالیسی کا تسلسل اور بہتری،نئے اسپتال اور ایم سی ایچ سینٹرز(Maternal And Child Health Care Centers)قائم کرنا، ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکس کا اس شعبے میں تربیت یافتہ ہونا، ہر سطح تک عمومی معلومات فراہم کرنا وغیرہ پِری ٹرم زچگی کو نارمل حمل کی مدّت تک لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیو نیوز

Continue Reading

جموں و کشمیر

کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار

Published

on

بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔

کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔

تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔

تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔

نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔

بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔

سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔

بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔

بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Continue Reading

ہندوستان

مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال

Published

on

نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یہاں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سے گھریلو معیشت پر پڑنے والے اثرات پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


میٹنگ کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے میٹنگ کی صدارت کی۔ ملک میں اقتصادی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی کی ترجیحات سے جڑے کئی موضوعات پر بحث کی۔ ساتھ ہی، اصلاحات کے عمل کو مزید رفتار دینے اور ‘ایز آف لیونگ’ (زندگی کو سہل بنانے) اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (کاروبار کی آسانی) کو یقینی بنانے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔” میٹمگ میں ممتاز ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے ہندوستانی معیشت و سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات پر خاص طور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ جیسے مسائل پر بھی گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔


اس میٹنگ کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک میں اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور وسیع تر اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جمعہ کو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد بڑھانے کے لیے سرکاری سکیورٹیز (جی-سیک) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے ہونے والی سود کی آمدنی یا سرمائے کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سال کی مدت کی سرکاری سکیورٹیز کے نئے ایشوز کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے اہل سکیورٹیز کی مدت کے ساورن گرین بانڈز میں سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔


ریزرو بینک نے کل ہی اپنے دو ماہی اقتصادی جائزے میں عالمی جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مانسون کے خدشات کے درمیان رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے تخمینے کو کم کر کے 6.6 فیصد، اور خردہ افراط زر کے تخمینے کو بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اپریل کے پالیسی جائزے کے وقت آر بی آئی نے رواں مالی سال کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد اور افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔


یواین آئی۔ایف اے

Continue Reading

ہندوستان

جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک

Published

on

نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔


نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔


دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔


اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”


جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔

Continue Reading
Advertisement
جموں و کشمیر23 hours ago

کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار

ہندوستان2 days ago

مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال

ہندوستان2 days ago

جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک

تازہ ترین2 days ago

بارہمولہ میں مبینہ قوم مخالف سرگرمیوں کے الزام میں خاتون پر پی ایس اے نافذ

دنیا2 days ago

جارحیت پسندوں کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں، ایران کا ہمسایہ ممالک سے مطالبہ

دنیا2 days ago

جوہری مقامات پر حملے عالمی جوہری ادارے کی نگرانی منقطع ہونے کا سبب بنے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

دنیا2 days ago

ہم جلد ہی ایران سے نکل جائیں گے:ٹرمپ

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا

ہندوستان2 days ago

کاکروچ جنتا پارٹی پریشان لوگوں کی آواز ہے : ابھجیت دیپکے

جموں و کشمیر2 days ago

محبوبہ مفتی کی صدارت میں پی ڈی پی کا اجلاس، جماعتی امور اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال کا جائزہ

جموں و کشمیر2 days ago

سرینگر پولیس کی منشیات مخالف کارروائی، ساڑھے 3 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ایمس اونتی پورہ دورے پر سیاسی تنازع

دنیا2 days ago

امریکہ اور ایران امن معاہدے کے قریب یا نئی جنگ کے دہانے پر

دنیا2 days ago

ایران معاملے پر زبردست کامیابی مل رہی ہے:ٹرمپ

دنیا2 days ago

ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر کی ملاقات حقیقت پسندانہ نہیں: عباس عراقچی

کھیل2 days ago

پرگنانندھا نے فائنل راؤنڈ میں کلاسیکل جیت کے ساتھ ناروے شطرنج 2026 کا ٹائٹل جیت لیا

دنیا2 days ago

لبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی

دنیا2 days ago

ایران کے طاقتور ہونے کا مغرب کا دیرینہ ڈراؤنا خواب حقیقت بن گیا: علی اکبر ولایتی

دنیا2 days ago

ایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ

دنیا2 days ago

ایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ

دنیا2 days ago

’بات چیت اختتام کو پہنچ چکی، ٹرمپ کو ایرانی اثاثوں کو غیرمنجمد کرنا ہو گا‘

دنیا2 days ago

ایران کو داد دینی چاہیے کہ وہ متحد رہا: روسی صدر

جموں و کشمیر3 days ago

سرینگر: جاوورا گارڈن ترقیاتی کاموں میں بدعنوانی، اینٹی کرپشن بیورو نے کیس درج کیا

ہندوستان3 days ago

‘اسمارٹ بارڈر’ کا کام آخری مرحلے میں، اس کا پائلٹ پروجیکٹ جلد شروع کیا جائے گا: شاہ

دنیا3 days ago

امریکہ ایران جنگ، پاکستانی ثالثی میں جاری مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں: روس

جموں و کشمیر3 days ago

اب سیاحوں، پہاڑی علاقوں اور اضلاع کے لیے الگ الگ موسمی پیش گوئیاں جاری ہوں گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

دنیا3 days ago

یوکرین کے صدر زیلنسکی اور پوتن ملاقات کریں تو بہت اچھا ہوگا: ٹرمپ

دنیا3 days ago

ایرانی وزیرخارجہ کا صدر ٹرمپ کے سپریم لیڈر سے ملاقات پر ردعمل، حقیقی دنیا میں رہتے ہیں

دنیا3 days ago

اسرائیل کے خلاف ہمارے میزائل حملے کے لیے تیار ہیں:ایران

جموں و کشمیر3 days ago

اننت ناگ پولیس نے محفوظ امرناتھ یاترا کے لیے ’پہچان ایپ‘ متعارف کرا دی

جموں و کشمیر3 days ago

سرینگر پولیس نے 4 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لیں، پہلگام میں منشیات کے خلاف چھاپے

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: شوپیاں کے دبجن علاقے میں کار سڑک سے پھسل گئی، 5 افراد زخمی

ہندوستان3 days ago

غیر ملکی زرِ مبادلہ انتظام (غیر قرض جاتی آلات) (تیسری ترمیم) قواعد، 2026 کا نوٹیفکیشن جاری: وزارتِ خزانہ

ہندوستان3 days ago

خوبصورت سیاحتی مقام کو کروڑوں درخت کاٹ کر برباد کیا جا رہا ہے: راہل گاندھی

دنیا3 days ago

امریکہ کا عمان پر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کیلئے شدید دباؤ

دنیا3 days ago

ٹرمپ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ہم شرائط مانیں: محسن رضائی

دنیا3 days ago

حزب اللّٰہ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی معاہدہ مسترد کردیا

دنیا3 days ago

ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: کشتواڑ میں خراب موسم کے باعث مچیل اور مندھل ماتا یاترا معطل

دنیا3 days ago

وزیراعظم مودی میرے اچھے دوست، ہندوستان کے ساتھ جلد ہوگا تجارتی معاہدہ:ٹرمپ

دنیا3 days ago

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کیلئے برطانیہ اور فرانس متحرک

دنیا3 days ago

وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا ایلون مسک پر برطانیہ میں تقسیم کو ہوا دینے کا الزام

دنیا4 days ago

اسرائیلی انخلاء کے بغیر خطے میں امن نہیں ہوگا: پاسداران انقلاب

دنیا4 days ago

اسرائیلی حملے جاری، حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں جنگ بندی منصوبہ مسترد کردیا

جموں و کشمیر4 days ago

سروس پرووائیڈرز سے ٹھگی: گاندربل میں فرضی سرکاری ملازم گرفتار

جموں و کشمیر4 days ago

سرینگر: قبضے کی زمین پر کھڑی 2 کروڑ کی تین منزلہ عمارت مسمار

جموں و کشمیر4 days ago

کثرت میں وحدت اور تنوع ہندوستان کا فطری طرزِ زندگی ہے’: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا

دنیا4 days ago

امریکہ ایران مذاکرات میں رکاوٹ: ایران کا ضبط شدہ فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ

دنیا4 days ago

ایران کی عسکری پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے: عباس عراقچی

دنیا4 days ago

حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، ٹرمپ

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

ہندوستان2 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین3 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین4 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

جموں و کشمیر2 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ6 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

دنیا3 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تازہ ترین4 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

کھیل2 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

کھیل3 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

تازہ ترین4 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

دنیا4 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

دنیا3 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

تازہ ترین4 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

ہندوستان4 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تجزیہ7 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

دنیا3 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

تازہ ترین5 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

دنیا3 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

ہندوستان1 month ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر4 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین7 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

تازہ ترین4 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

دنیا3 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

کھیل4 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین4 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر2 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر3 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر7 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending