تازہ ترین
قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچے

خبراردو
دُنیا بَھر میں ہر سال صحت سے متعلق مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کے زیرِاہتمام 17نومبر کو ’’ورلڈ پِری میچوریٹی ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ قبل ازوقت پیدایش سے متعلق احتیاطی تدابیر اور دیگر معلومات عام کرکےپِری میچور بچّوں کی پیدایش کی شرح میں کمی لائی جاسکے۔
امسال جو تھیم منتخب کیا گیا ہے،وہ ہے”Born Too Soon: Providing the right care, at the right time, in the right place”۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا بَھر میں 15ملین بچّے وقت سے پہلے تولّد ہوتے ہیں،جب کہ پانچ سال سے کم عُمر بچّوں میں ہونے والی اموات کا ایک بڑا حصّہ قبل ازوقت پیدا ہونے والے یا ایک ماہ سے کم عُمر بچّوں پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ2015ء میں تقریباً ایک ملین بچّوں کی اموات اِسی عُمر میں ہوئیں ۔عالمی سطح پر کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 184مُمالک میں 5سے 8فی صد بچّے پری ٹرم پیدا ہوتے ہیں،ان میں سے دوتہائی بچّوں کی زندگیاں بہتر سہولتوں اور بروقت علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ 2016ء میں یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ،جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ 860,000بچّے قبل از وقت جنم لیتے ہیں،جن میں سے 102,000انتقال کرجاتے ہیں۔
جب کہ گزشتہ برس جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز چھے سو سے زائد نوزائیدہ بچّے قبل از وقت پیدائش یا دیگر پیچیدگیوں کے سبب فوت ہو جاتے ہیں۔اس اعتبار سے پاکستان ایسے دس بڑے مُمالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں قبل از وقت پیدایش کی پیچیدگیوں کے سبب بچّوں کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔
ہر نوع میں حمل کی مدّت مختلف ہوتی ہے۔نوعِ انسانی میںیہ مدّت نو ماہ پر مشتمل ہے،جس کے بعدہی زچگی عمل میں آتی ہے۔ بعض اوقات بچّہ مدّت مکمل کرنے سے قبل پیداہوجاتا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں پِری میچور یا پری ٹرم کہا جاتا ہے۔قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کی ہفتوں کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے،جس کے مطابق 20سے32ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والے بہت زیادہ کم عُمر(very preterm )،32سے 34ہفتوں کے دوران جنم لینے والے درمیانی کم عُمر(moderate preterm) اور34سے37 ہفتوں کے دوران توّلد ہونے والے کم عُمر(late preterm )بچّےکہلاتے ہیں۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں 24ہفتوں کی مدّت میں پیدا ہونے والے بچّوں میں 50فی صد زندہ بچ جاتے ہیں، اس کے برعکس ترقّی پذیر مُمالک میں 28ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے 90فی صد بچّے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اِن بچّوں میں قوّتِ مدافعت کی کمی کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں، سیکھنے کا عمل، قوّتِ سماعت اور قوّتِ بینائی دیگر بچّوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پِری میچور بچّیوں میں عام لڑکیوں کی نسبت ڈیپریشن اور دماغی ہیجان کے خطرات زیادہ پائے جاتے ہیں،جب کہ پِری میچور بچّوں میں اعتماد اور دوستانہ رویے کی کمی ہوتی ہے۔نیز،بعض اوقات جسم کےکسی اہم عضوکی نشو ونما نہیں ہوپاتی،نتیجتاً وہ جسمانی طورپر کم زورہوتے ہیں یا پھرکوئی معذوری لاحق ہوتی ہے۔
قبل از وقت پیدایش کے کئی محرّکات ہیں۔تاہم بنیادی وجہ ماں کی خرابیٔ صحت ہے۔جیسےحاملہ کااپنی غذاکی جانب توجّہ نہ دینا آئرن اور خون کی کمی کا سبب بنتا ہے،جس کے نتیجے میں بچّے کی نشوونما متاثر ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں،ماں کا کم عُمر ہونا، جڑواں یا اس سے زائد بچّوں کی پیدایش، بُلند فشارِ خون،ذیابطیس،عارضۂ قلب،نشہ آور ادویہ یا تمباکو نوشی کی لَت میں مبتلا ہونا ،سانس،جگر، دِل یا گُردے کی کوئی بیماری، دائمی کھانسی،جوڑوں کے درد کا مرض وغیرہ بھی قبل از وقت زچگی کی وجوہ بن جاتی ہیں۔
بعض کیسز میں بچّہ دانی کی بیماریاں،Fetal distress اور مختلف موروثی عوراض بھی وجہ بن سکتے ہیں۔بعض اوقات مثانے،گُردےیا بچّہ دانی کا انفیکشن یا بچّہ دانی کا منہ ڈھیلا ہونا بھی پری ٹرم پیدایش کا باعث بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں،حمل سے قبل ماں کا وزن 45 کلو گرام سے کم یا 85 کلو گرام سے زیادہ ،قد4 فٹ 11 انچ سے کم اورخون کا گروپ نیگیٹو ہونا بھی قبل از وقت پیدایش کے محرّکات بن سکتے ہیں۔نیز،درج ذیل ممکنہ علامات بہت اہم ہیں،جن سے کوئی بھی حاملہ دوچار ہوسکتی ہے۔مثلاً:
وزن:
حمل کے دوران حاملہ کا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگے یا اس میں اضافہ کی رفتار معمول سے کم ہو۔ عمومی طور پر حاملہ کا وزن حمل کے 12ویں سے14ویں ہفتے کے دوران ایک کلو گرام کے لگ بھگ بڑھتا ہے۔14 ویں سے 28ویں ہفتے کے دوران3تا4کلو گرام اور 28ویں سے40ویں ہفتے تک تقریباً 4سے6کلو گرام کا اضافہ ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر 10سے12کلو گرام وزن بڑھتا ہے۔ اس مناسبت سےوزن میں اضافےکی رفتار معمول کے مطابق نہ ہونا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔
سُوجن:
پائوں یا جسم پر سُوجن کی پہلی علامت بالعموم اس طرح ظاہر ہوتی ہے ،جب انگوٹھی یا چُوڑی پھنسنےلگے، جوتے تنگ محسوس ہوں۔ دورانِ حمل جسم پر سُوجن خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا اس حوالے سے خاص دھیان رکھا جائے۔
سَردرد:
چکرآنے ،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے،اکثر سَربوجھل اوردرد رہنے جیسی علامات عموماً خواتین معمولی جان کر نظرانداز کردیتی ہیں،جو درست نہیں۔کیوں کہ یہ علامات خون کا دباؤ بڑھنے کے سبب بھی ظاہر ہوسکتی ہیں،بہتر تو یہی ہے کہ معالج کو آگاہ کیا جائے۔
خون کا اخراج:
دورانِ حمل کسی بھی مرحلے پراگر زائد مقدار میں رطوبت یا خون خارج ہو، تو گھریلو ٹونے ٹوٹکوں کی بجائےمعالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ یہ کیفیت زیادہ عرصے برقرار رہے، تو زچہ و بچّہ کی زندگی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے اور جان بچانے کے لیے وقت سے پہلے پیدایش ناگزیر ہوجاتی ہے۔
تشنّج:
بعض اوقات حاملہ جھٹکے لگنے کی بیماری میں( جسے طبّی اصطلاح میں تشنّج کہا جاتا ہے) مبتلا ہوجاتی ہے۔یہ حمل کی انتہائی خطرناک علامت ہے،کیوں کہ جھٹکنے لگنے سے بچّہ رحمِ مادر میں انتقال کرسکتا ہے یا پھر جان بچانے کے لیے قبل ازوقت زچگی کروائی جاتی ہے،لہٰذا ایسی صورت میں معالج سے رابطہ ناگزیر ہے کہ معمولی سی کوتاہی یا تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دردِ زہ جیسا درد:
بعض اوقات حمل کی مدّت (40ہفتے) پورے ہونے سے قبل کسی بھی وقت دردِ زہ جیسی تکلیف شروع ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ علامت قبل ازوقت بچّے کی پیدایش کی ہو۔
شکمِ مادر میں بچّے کی حرکت:
بچّے کی حرکت بالعموم حمل کے چار ماہ مکمل ہونے پر محسوس ہونے لگتی ہے اور ماں جلد ہی معمول کی حرکات سے آشنا ہو جاتی ہے۔ معمول میں تغیر ایک غیر معمولی علامت ہے۔ حرکت معمول سے زیادہ یا کم ہو یا بالکل ختم ہو جائے، توجس قدر جلد ہوسکے ،معالج سے رجوع کیا جائے۔یاد رکھیے، دورانِ حمل باقاعدگی سے چیک اپ صحت مندی کے ساتھ حمل کی مدّت پوری کرنے کے لیےناگزیرہے۔
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کے مسائل:
قبل از وقت پیدایش کی وجہ سے عموماًبچّے طبّی مسائل کا شکا ر ہوجاتے ہیں، کیوں کہ قدرتی نظام کے تحت ماں کے پیٹ میں بچّے کو نشوونما کے لیے ایک خاص ماحول ملتا ہے۔40 ہفتے کی مدّت مکمل کرکے بچّہ شکمِ مادر سے باہر کی دُنیا میں خودبخودسانس لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔لہٰذا اگر زچگی قبل از وقت ہوجائے، تو ایسے بچّوں کا دیگر بچّوں کی نسبت خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔
یہ بچّے اپنا جسمانی درجۂ حرارت قائم نہیں رکھ پاتے، کیوں کہ اِن کی جِلد کے نیچے نارمل چربی کی تہہ نہیں ہوتی، اس لیے انہیں سرما میں ٹھنڈ سے اور گرمی کے موسم میں زیادہ درجۂ حرارت سے بچانا بےحد ضروری ہوتا ہے،عموماً پِری میچور بچّوں کو انکیوبیٹرمیں خاص مدّت تک رکھا جاتا ہے۔اگرنومولود کی صحت کے پیشِ نظرمعالج انکیوبیٹر میں رکھنے کا مشورہ نہ دے، تب بھی ایسے بچّوں کابہت خیال رکھا جائے۔ پیدایش کے فوراً بعد خوراک شروع کروانا بہت اہم مرحلہ ہے۔
کوشش کی جائے کہ بچّہ پیدایش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پی لے،کیوں کہ وہ چاہےمقررہ مدّت سے جتنے ہفتے قبل پیدا ہو، اُس کا نظامِ ہضم ماں کا دودھ فوری قبول کرلیتا ہے۔چوں کہ اِن بچّوں کے جسم میں گلوکوز محفوظ نہیں ہوتا، اس لیےوقفے وقفے سے دودھ پلایا جائے۔ماں کا دودھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کیلشیم کی کمی سے بچّے کو جھٹکے لگ سکتے ہیں۔پِری میچور بچّوں میں سانس کا مرض(Idiopathic Respiratory Distress) ایک خطرناک بیماری ہے۔اگر بچّے کی سانس کی رفتار سُست ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوراً اسپتال لےجائیں،تاکہ بروقت تشخیص کے بعد فوری علاج ہوسکے۔
اس مرض میں بچّے کے پھیپھڑوں میں مخصوص دوا داخل کی جاتی ہے،جو پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔کم عُمر بچّے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوا کر 30ڈگری پر لٹایا جائے، سیدھانہ لٹائیں۔کیوں کہ بعض اوقات دودھ اُبکائی کی صورت مُنہ کے راستے ناک میں آجاتا ہے، جس سے سانس رکنے لگتی ہے۔اور اگرپھیپھڑوں میں چلا جائے،تو نمونیا ہوسکتا ہے۔یہ بچّےیرقان سے بھی جلد متاثرہو جاتے ہیں اورتاخیر سے صحت یاب ہوتے ہیں۔یرقان کی صُورت میں معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ بروقت درست علاج ہوسکے۔واضح رہے کہ یہ یرقان ماں کی خوراک کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوتا۔
قبل از وقت جنم لینے والے بچّوں میں پیٹ پُھولنے اور خون کے اخراج کی بیماری، جسے طبّی اصطلاح میں”Necrotizing Enterocolitis”کہا جاتا ہے، ایک عام اور جان لیوا بیماری ہے، مگر مناسب احتیاط اور ماں کا دودھ جلد شروع کروانے سے اس کا علاج ممکن ہے۔پھرپِری ٹرم بچّے قوّتِ مدافعت کی کمی کے سبب انفیکشن کا بھی جلد شکار ہو سکتے ہیں، اس لیےماں اپنے ہاتھوں اوربچّے کی صفائی کا خصوصی خیال رکھے اور اپنا دودھ لازمی پلائے کہ ماں کا دودھ ہی پہلی ویکسین ہوتا ہے،جو قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔اِن بچّوں میں جھٹکےمختلف وجوہ سے لگ سکتے ہیں،لہٰذا ماہرِ امراضِ اطفال سے رجوع کیا جائے۔
زچگی کے لیے کسی قریبی کلینک یا اسپتال کا انتخاب کیا جائے، جو نہ صرف گھر سے قریب ہو، بلکہ تمام طبّی سہولتیں اور 24گھنٹے عملہ بھی دستیاب ہو۔ مزید برآںبچّوں کی نگہداشت کے لیے ضروری آلات جیسے انکیوبیٹر، آکسیجن سلنڈر اور مخصوص مشینیں وغیرہ بھی میسّر ہوں،کیوں کہ ان آلات کے بغیر پِری ٹرم بچّوں کے زندہ رہنے کی اُمید بہت کم ہوتی ہے۔نیز، ایسے بچّوں کو مناسب دیکھ بھال کے لیے انکیو بیٹر میں رکھا جاتا ہے اور زیادہ افراد کو چُھونے بھی نہیں دیا جاتا ،کیوں کہ یہ جراثیم سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔عمومی طور پر حاملہ میںقبل از وقت زچگی کی علامات ظاہر ہوں، تو فوری آپریشن کردیا جاتا ہے، تاکہ ماں اور بچّے کی جان بچائی جا سکے۔
ماں کو اگر قبل از وقت درو شروع ہو جائے،خاص طور پر پیٹ یا کمر کے نچلے حصّے میں تو فوری طور پر بستر پر لٹا دیں، ماں کو تسلّی دیں اور اس دوران معالج سےمشورہ کریں۔ اگر اسپتال لے جانے کی ضرور ت پڑے تو تاخیر کیے بغیر لے جائیں،کیوں کہ ایسی ادویہ اور احتیاطی تدابیر موجود ہیں، جن سے قبل از وقت پیدایش روکی جا سکتی ہے۔حاملہ سے اچھی بات اور اچھی طرح سے بات کریں۔
نیز،پینے کے لیے دودھ یا شربت موسم کے مطابق ضرور دیں۔ پیدایش کے وقت اردگرد کے ماحول کا درجۂ حرارت گرم ہونا چاہیے۔ پیدایش کے فوراً بعدبستر کی چادر تبدیل کر کے خشک چادر میں لیٹائیں،اس دوران ماں کی سانس اور رنگت کا جائزہ لیتے رہیں۔نومولود کو کپڑے پہنا کر ایک گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ ضرور پلوائیں ۔ پھر ہر دو گھنٹے بعد دودھ پلاتے رہیں ،جب کہ نوزائیدہ کا ماہرِ اطفال سے تفصیلی معائنہ کروائیں اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کیا جائے۔
پِری ٹرم بچّوں کے لیے بعض وٹامنز اور منرلز 6سے 8ہفتے تک ضروری ہوتے ہیں،جن کا باقاعدہ استعمال انہیں نارمل وزن تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر پہلی زچگی پِری ٹرم ہو، تو آئندہ حمل میں 17.2فی صد امکان ہوتا ہے کہ دوسرا بچّہ بھی پِری ٹرم پیدا ہوگا۔ اگر پہلے دو بچّے پِری ٹرم ہوں، تو تیسری زچگی میں یہ امکان 28.4فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں بننے والی خواتین اپناطبّی معائنہ اور کسی بھی بیماری کی صُورت میں اس کا علاج لازماًکروائیں ۔ اپنی غذا کا خاص خیال رکھا جائے کہ اگر ماں بیمار اور لاغر ہے، تو اس کے اثرات بچّے پر بھی مرتّب ہوں گے۔
اس ضمن میں نوزائیدہ بچّوں کے انتہائی نگہداشت کے اداروں کا قیام، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں تمام سہولتوں کا موجود ہونا، حکومتی سطح پر صحت کی پالیسی کا تسلسل اور بہتری،نئے اسپتال اور ایم سی ایچ سینٹرز(Maternal And Child Health Care Centers)قائم کرنا، ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکس کا اس شعبے میں تربیت یافتہ ہونا، ہر سطح تک عمومی معلومات فراہم کرنا وغیرہ پِری ٹرم زچگی کو نارمل حمل کی مدّت تک لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیو نیوز
جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
ہندوستان
مودی کی صدارت میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ ، ملک کی اقتصادی صورتحال پر گہرائی سے تبادلہ خیال
نئی دہلی، مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یہاں اقتصادی مشاورتی کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا کے بحران سے گھریلو معیشت پر پڑنے والے اثرات پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
میٹنگ کے بعد مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے میٹنگ کی صدارت کی۔ ملک میں اقتصادی تبدیلی اور طویل مدتی ترقی کی ترجیحات سے جڑے کئی موضوعات پر بحث کی۔ ساتھ ہی، اصلاحات کے عمل کو مزید رفتار دینے اور ‘ایز آف لیونگ’ (زندگی کو سہل بنانے) اور ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ (کاروبار کی آسانی) کو یقینی بنانے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔” میٹمگ میں ممتاز ماہرین اقتصادیات اور پالیسی ماہرین نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے ہندوستانی معیشت و سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات پر خاص طور پر بات چیت کی۔ اس کے علاوہ عالمی توانائی کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹ جیسے مسائل پر بھی گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔
اس میٹنگ کا بنیادی مقصد عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملک میں اقتصادی ترقی کو رفتار دینا اور وسیع تر اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے جمعہ کو ہی ملک میں غیر ملکی سرمائے کی آمد بڑھانے کے لیے سرکاری سکیورٹیز (جی-سیک) میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری پر لاگو ٹیکس کے نظام میں بڑی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے ہونے والی سود کی آمدنی یا سرمائے کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سال کی مدت کی سرکاری سکیورٹیز کے نئے ایشوز کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے اہل سکیورٹیز کی مدت کے ساورن گرین بانڈز میں سرمایہ کاری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ریزرو بینک نے کل ہی اپنے دو ماہی اقتصادی جائزے میں عالمی جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ اور مانسون کے خدشات کے درمیان رواں مالی سال 2026-27 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کے تخمینے کو کم کر کے 6.6 فیصد، اور خردہ افراط زر کے تخمینے کو بڑھا کر 5.1 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اپریل کے پالیسی جائزے کے وقت آر بی آئی نے رواں مالی سال کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.9 فیصد اور افراط زر 4.6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج پرامن طریقے سے مکمل، وزیر کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات: وانگچوک
نئی دہلی، ماحولیاتی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگچوک نے ہفتہ کے روز ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ محض شروعات ہے اور اصل مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔
نیٹ، سی یو ای ٹی، سی بی ایس ای اور ایس ایس سی جی ڈی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے پیش نظر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کے جنتّر منتر پر سی جے پی کا احتجاج ہفتہ کو پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں سینکڑوں حامیوں نے حصہ لیا، جن میں طلباء اور نوجوان ملازمت پیشہ افراد بھی شامل تھے۔ یہاں کچھ لوگوں نے سی جے پی کے مظاہرے کی مخالفت میں نعرے بازی بھی کی، تاہم دہلی پولیس نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
دہلی پولیس نے اس احتجاج کے لیے جنتّر منتر پر ایک بار کے لیے جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔ پوری راجدھانی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کئی مقامات پر بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (عوامی ہنگامہ، ممکنہ خطرات، یا عوامی تحفظ و امن کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے فوری اور عارضی احکامات) نافذ کی گئی تھی۔
اس احتجاج میں حمایت دینے کے لیے شامل ہوئے مسٹر وانگچوک نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے اپنی حمایت جاری رکھتے ہوئے اگلے ہفتے کے آخر میں دوبارہ جنتّر منتر آئیں گے۔ احتجاجی مقام پر “سونم وانگچوک کو وزیر تعلیم بننا چاہیے” کے نعرے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ “استعفے کا مطالبہ تو بس شروعات ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہے۔ امتحان میں گڑبڑی اور پیپر لیک تو دراصل ایک بہت بڑے مسئلہ کی علامتیں ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سب کے لیے اچھی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پورے نظام میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
دنیا1 week agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
دنیا1 week agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا1 week agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے ایک ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے ضبط کر لیے
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
جموں و کشمیر5 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
دنیا1 week agoایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع
ہندوستان4 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا3 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا6 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب




































































































