تازہ ترین
معاشی پیکیج کی آخری پانچویں اور آخری قسط جاری – محکمہ صحت کے لئے 15 ہزار کروڑ کا اعلان

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اتوار کے روز معاشی پیکیج کی پانچویں اور آخری قسط جاری کر دی۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی راحت پیکیج کے پانچویں اور آخری مرحلے میں ہندوستان کے لئے حکومت کا روڈ میپ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے کہا انسالوینسی پروسینڈگ شروع کرنے کے لئے ایک کروڑ روپے کی کم سے کم حد حد دی جارہی ہے۔ ابھی یہ ایک لاکھ روپے ہیں۔
کوڈ۔19کے سیکشن 240(اے) کے تحت ایم ایس ایم ای کے لئے خصوصی انسالوینسی ریزولوشن فریم ورک کو جلد ہی نوٹیفائی کیا جائے گا۔ انسالوینسی پروسینڈگ کی نئی کارروائی کے سسپینشن کوایک سال کے لئے بڑھایا جارہا ہے۔ اس کا انحصار وبا کی حالت پر ہوگا۔ مرکزی حکومت کو کووڈ۔19 سے متعلق قرضوں کو ڈیفالٹ زمرے سے باہر رکھنے کی طاقت دی جارہی ہے۔ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم پر زور۔ پی ایم ای لرننگ فوری طور پر شروع کی جائے گی۔ ریاست اور مرکزی وسطی علاقوں میں اسکول کی تعلیم کے لئے آغاز پروگرام ہوگا۔ یہ ون نیشن، ون ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہوگا۔ کلاس1 سے 12 تک ہر کلاس کیلئے ایک پہچان والا ٹی وی چینل ہوگا۔ ریڈیو، پوڈ کاسٹ، کمیونٹی ریڈیو کا صحیح استعمال ہوگا۔ مختلف اہلیت رکھنے والوں کے لئے خصوصی مواد بھی تیار کیا جائے گا۔ ٹاپ 100 یونیورسٹیوں کو 30 مئی تک آن لائن کورسز شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔ نفسیاتی مدد کے لئے منا درپن پروگرام شروع کیا جائے گا۔آخری قسط میں بھی مودی حکومت کی طرف سے کیے کاموں کا ہی ذکر زیادہ تھا اور نئے اعلانات کم ہی نظر آئے۔ اس قسط میں وزیر خزانہ نے منریگا، اسکولی تعلیم، صحت، عوامی شعبہ کی کمپنیوں اور چھوٹی صنعتوں سے مععلق کچھ ضوابط کی تبدیلی پر توجہ دی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا ’مرکزی حکومت نے دیہی علاقوں میں روزگار کے لئے اسکیم ’منریگا‘ کے بجٹ میں بہت بڑا اضافہ کیا ہے۔
منریگا بجٹ میں 40 ہزار کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل منریگا کا بجٹ 61 ہزار کروڑ تھا، اب اس میں 40 ہزار کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مہاجر مزدور دیہات میں جانے کے بعد منریگا کے تحت اپنا اندراج کروا سکتے ہیں۔‘وزیر خزانہ سیتارمن نے کہا کہ اسکول لاک ڈاؤن میں بند کر دیئے گئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت آن لائن تعلیم پر زور دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ٹی ایچ میں مزید 12 نئے چینلز شامل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ4 گھنٹے کا مواد فراہم کریں، جسے لائیو چینلوں پر دکھایا جا سکے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ100 اسکولوں کو آن لائن کورسز کی منظوری دی گئی ہے۔ نیز، ’پی ایم ای ودیا‘ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔ معذور (مختلف اہلیت رکھنے والے) بچوں کے لئے بھی آن لائن کورس چلایا جائے گا۔ سیتارمن نے بتایا کہ لاکڈائن میں بچوں پر دباؤ پڑتا ہے، لہذا بچوں کو نفسیاتی طور پر صحت مند رکھنے کے لئے بھی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے چھوٹی صنعتوں کے حوالہ سے بھی اعلان کیا۔ انہوں کہا کہ کمپنی قانون کی بیشتر دفعات کو مجرمانہ زمرے سے باہر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال کے لئے دیوالیہ قرار دینے کے عمل پر روک لگائی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی نہ کر پانے پر ایک سال تک کسی کو دیوالیہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ چھوٹی صنعتوں کے دیوالیہ پن کی حد بھی ایک لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کر دی جائے گی۔وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس کی جھلکیاں:محکمہ صحت کے لئے 15 ہزار کروڑ کا اعلان،جانچ اور لیب کٹس کے لئے 550 کروڑ،صحت کارکنوں کے لئے 50 لاکھ روپے کی انشورنس اسکیم،’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘ کے اگلے مرحلے کے لئے مشن موڈ پر کام جاری،منریگا کے لئے اضافی 40 ہزار کروڑ روپے کا اعلان،مہاجر مزدوروں کو اپنا نام منریگا میں درج کرانے کی چھوٹ،لیب نیٹ ورک کو مستحکم کیے جانے کا اعلان،کلاس1 سے 12 تک کے لئے ون کلاس، ون چینل لانچ کرنے کا اعلان،’مختلف اہلیت‘ رکھنے والے بچوں کے لئے آن لائن کورس،آن لائن کورس کے لئے 100 اسکولوں کو منظوری،بچوں کو نفسیاتی طور پر صحت مند رکھنے کے لئے اسپیشل پروگرام،دیوالیہ قرار دینے کے عمل پر ایک سال کے لئے روک لگانے کا اعلان،کمپنی ایکٹ کے متعدد قواعد مجرمانہ زمرے سے باہر ہوں گے،چھوٹی صنعتوں کے لئے حد ایک لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کی گئی،عوامی شعبے کے لئے نئی پالیسی لائی جائے گی۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































