جموں و کشمیر
ٹرمپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں، ہند اور امریکہ کے مابین بصیرت انگیز جامع شراکت داری :مودی

کشیدگی کے بیچ بھارت ،امریکہ تعلقات میں بہتری کے آثار
مودی سے دوستی سدا بہار، ہندامریکہ کے بیچ خصوصی تعلقات،فکر کرنے کی کوئی بات نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
سری نگر: جے کے این ایس : بھارت اور امریکہ کے درمیان’خصوصی تعلقات‘ ہیں اور اس کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ایسے مواقع اور حالات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی دہلی اور واشنگٹن کے بیچ ٹیرف کے تنازع اپنے تازہ ترین ریمارکس میں یہ بات کہی ہے۔اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت امریکہ تعلقات پر دئیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے جذبات اور ہمارے تعلقات کے مثبت جائزے کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں اور ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ڈونالڈٹرمپ نے جمعہ کو اوول آفس میں کہا کہ ”میں ہمیشہ (نریندر) مودی کا دوست رہوں گا، وہ ایک عظیم وزیر اعظم ہیں، وہ بہت اچھے ہیں۔ لیکن اس خاص لمحے میں وہ جو کر رہے ہیں، وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ تاہم بھارت اور امریکہ کے بیچ ایک خاص تعلق ہے، فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے پاس موقعے کی مناسبت سے ایسے لمحات ہیں“۔ٹرمپ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لئےتیار ہیں، کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل خراب ہوتے جا رہے ہیں، ممکنہ طور پر 2 دہائیوں میں اپنے بدترین دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے مذکورہ بالا باتیں کہی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر بہت مایوس ہیں کہ بھارت روس سے اتنا زیادہ تیل خریدے۔انہوںنے کہاکہ بھارت کے روس سے اتنا تیل خریدنے سے مجھے بہت مایوسی ہوئی اور میں نے انہیں بتا دیا، ہم نے بھارت پر بہت بڑا ٹیرف لگایا،50 فیصد ٹیرف۔ٹرمپ نے کہاکہ میں مودی سے بہت اچھی طرح سے ملتا ہوں، وہ بہت اچھے ہیں، وہ چند ماہ قبل یہاں آئے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ نے بھارت اور روس کو چین بھارت کے ہاتھوں کھو دیا۔جمعہ کو ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ٹرمپ نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے بھارت اور روس کو سب سے گہرے تاریک ترین چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا ایک طویل اور خوشحال مستقبل ہو!۔ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی رہنما شی جن پنگ کےساتھ مودی کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی پوسٹ چینی شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں مودی، شی چنگ اور پوتن کے درمیان تعلقات کے چند دن بعد سامنے آئی جس نے عالمی توجہ مبذول کرائی۔ایک سوال کے جواب میں کہ بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی بات چیت کیسے ہو رہی ہے، ٹرمپ نے کہاکہ وہ بہت اچھے جا رہے ہیں، دوسرے ممالک بہت اچھا کر رہے ہیں، ہم ان سب کے ساتھ بہت اچھا کر رہے ہیں۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہم یورپی یونین سے ناراض ہیں کیونکہ نہ صرف گوگل کےساتھ بلکہ ہماری تمام بڑی کمپنیوں کے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔ادھروزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت امریکہ تعلقات پر دیے گئے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کے جذبات اور ہمارے تعلقات کے مثبت جائزے کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں اور ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔وزیر اعظم مودی نے یہ بات سوشل میڈیا ’ایکس‘پر ایک پوسٹ میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان انتہائی مثبت اور بصیرت انگیز جامع اور اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ گذشتہ کچھ دنوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ لیکن اب ٹرمپ کا لہجہ اب نرم پڑ رہا ہے۔
جموں و کشمیر
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سری نگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں تعینات رہے ایک سابق سینئر کلرک کے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں کئی غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا ہے۔
سری نگر کے فردوس آباد بٹمالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ان غیر منقولہ جائیدادوں کی ضبطی سری نگر انسداد بدعنوانی بیورو میں سال 2025 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بھٹ پر اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹمالو میں ایک رہائشی مکان، نمبل نوگام میں ان کی بیوی اور بیٹی کے نام پر تین پلاٹ اور جانچ میں ضبط کیا گیا تقریباً 1266 گرام سونے کے زیورات شامل ہیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، جانچ کے دوران بھٹ کو گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ عدالت کے حکم پر ضمانت پر باہر ہے۔ بیورو نے بتایا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر رکھے تھے۔ مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی قیادت میں دو ٹیموں نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بٹمالو اور نوگام میں ان جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں پر اس سلسلے کے معلوماتی بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور انسداد بدعنوانی بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو نہ تو خریدیں اور نہ ہی ان سے جڑا کوئی مالی لین دین کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا ہندو مذہب – سناتن دھرم کو سب سے پرانے زندہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور یہ ایسا مذہب ہے، جس نے کبھی بھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا اور ہمیشہ تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو بنائے رکھا، جس سے قدیم ہندوستان میں مختلف مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا مسٹر سنہا نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ‘بین المذاہب مذاکرے’ (انٹرفیتھ ڈائیلاگ) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے باہمی احترام میں رچی بسی قدیم تہذیب کے طور پر ہندوستان کے ورثے کو اجاگر کیا، جہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں، پھلتے پھولتے ہیں اور دنیا کو امن کا سبق سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندو مذہب یا سناتن دھرم دنیا کا سب سے پرانا زندہ مذہب، ہندو مذہب – سناتن دھرم، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے تنوع اور بقائے باہمی کو اپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایک ایسی بنیاد رکھی، جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور پارسی مذہب کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔” انہوں نے کہا کہ “تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی دنیا میں، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اصل روح ایک رہنما روشنی کا کام کر سکتی ہے۔ آج بھلے ہی دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہو، لیکن ہندوستانی فکر میں ان دوریوں کو پر کرنے کی منفرد طاقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحرک فکر ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کو ایک خاندان کے طور پر مل کر رہنا چاہئے۔ نوجوان نسل کو اس نقطہ نظر کو آگے بڑھانا چاہئے اور دنیا کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ باہمی احترام کے ذریعے امن ممکن ہے۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ “دانشورانہ، روحانی اور ثقافتی اصطلاحات میں میں اسے ‘ہندوستانیت’ کہتا ہوں، یہ وہ بنیادی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سچائی کی تلاش، تنوع میں اکائی، دنیا کو ایک خاندان ماننے کا تصور اور ایک مشترکہ ثقافتی شعور کا نقطہ نظر دیا۔” انہوں نے کہا کہ “پانچ ہزار سال سے بھی پرانی علمی روایت کے علامت ہمارے قدیم گرنتھ، وید اور اپنشدوں نے ہمیشہ ہم آہنگی سے رہنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مل کر رہنا چاہئے۔ یہی ابدی اصول ہے۔” انہوں نے ذکر کیا کہ جب 12ویں اور 13ویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور کئی صوفی سنت اور اسلامی اسکالرز یہاں آئے۔ انہوں نے محبت، روحانیت، ہمدردی اور برابری میں رچی بسی ایک انوکھی ہندوستانی ثقافت کو پایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ “صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مذہب اور جین مذہب کے نقطہ نظر سے متاثر تھے اور انہوں نے ہندوستانی گرنتھوں سے بقائے باہمی کے اصول سیکھے۔ اس کے علاوہ، سنسکرت علم کے کئی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی سے اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ اپنے عقیدے کو اپنے ساتھ لائیں، اپنی روایتوں کو لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت ہے۔ یہی ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان4 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا6 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا6 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا5 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا6 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
دنیا3 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر4 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
ہندوستان4 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ



































































































