تازہ ترین
پاک صدر نے سمری پردستخط کردیے، جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف مقرر

صدر مملکت عارف علوی نے اہم تعیناتیوں کی سمری پر دستخط کردیے، جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف بن گئے۔
صدر مملکت نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کی سمری پر دستخط کردیے۔
صدر مملکت عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظوری دی۔
ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف تعیناتی کا اطلاق 29 نومبر سے ہوگا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعیناتی کا اطلاق 27 نومبر سے ہوگا۔
صدر مملکت کی جانب سے سمری کی منظوری دیے جانے کے بعد وزیراعظم ہاؤس آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹس چیفس کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی آج ہی وزیراعظم اور صدر مملکت سے ملاقات ہوگی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد مرزا صدر مملکت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
جنرل عاصم منیر نے منگلا میں آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام کے ذریعے پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، اُس وقت کے کمانڈر ٹین کور جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بطور بریگیڈیئر شمالی علاقہ جات فورس کمانڈ کی۔
جنرل عاصم منیر کو 2017ء کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس تعینات کیا گیا۔
اکتوبر 2018 ء میں جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا گیا، تاہم 8 ماہ کی مختصر مدت کے بعد ان کی جگہ جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کر دیا گیا۔
بطور لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر2 سال تک کور کمانڈر گوجرانوالہ رہے جس کے بعد وہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔
جنرل عاصم منیر ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں رہ چکے ہیں، جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا فور اسٹار جنرلز کی تعیناتی کی سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر تھے۔
انہوں نے کیریئر کا آغاز 8 سندھ رجمنٹ سے کیا، 2015 سے 2018 بطور ڈی جی ملٹری آپریشنز خدمات انجام دیں، اکتوبر 2018 میں وائس چیف آف جنرل اسٹاف تعینات ہوئے، 2019 میں چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے، ستمبر 2021 سے کور کمانڈر راولپنڈی تعینات تھے۔
ساحر شمشاد مختصر مدت کیلئے ایڈجوٹنٹ جنرل جی ایچ کیو بھی رہے، بطور لیفٹیننٹ کرنل، بریگیڈیئر اور میجرجنرل ملٹری، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروپوں کےخلاف آپریشنز سپروائز کیے، انٹرا افغان ڈائیلاگ میں بھی متحرک کردار ادا کیا، گلگت بلتستان اصلاحات کمیٹی کا بھی حصہ رہے۔
ساحر شمشاد نے جی او سی 40 انفینٹری ڈویژن اوکاڑہ میں بھی خدمات انجام دیں۔
صدر اور عمران کی آرمی چیف کے تقرر پر مشاورت
اس سے قبل آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کیلئے صدر مملکت عارف علوی کی زمان پارک لاہور میں عمران خان سے ملاقات ہوئی۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملاقات میں آرمی چیف کی تقرری پر آئینی، سیاسی، قانونی امور پر بات ہوئی، تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔
جنرل عاصم منیر کو ’ری ٹین‘ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے جنرل عاصم منیر کو ریٹین کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔
وزارتِ دفاع نے پہلے ہی لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ریٹائرمنٹ کی اجازت نہیں دی تھی، قانون کے مطابق میجر اور اس سے اوپر کے رینک ریٹائرمنٹ کیلئے وزارتِ دفاع سے اجازت لیتے ہیں۔
وزارتِ دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ری ٹین کرنے کی سمری تیار کی تھی۔
صدر نے تقرریوں میں رکاوٹ ڈالی توپلان بی موجود ہے، اسحاق ڈار
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگر صدر نے تقرر میں رکاوٹ ڈالی تو پلان بی موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے دو اہم عہدوں پر تقرریاں 28 نومبر تک ہوجائیں گی، چیئرمین جوائنٹ چیف چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا تقرر 27 نومبر سے پہلے ہوجائے گا، دونوں تقرریاں دو مختلف دنوں میں بھی ہوسکتی ہیں۔
صدر، وزیراعظم سے جنرل ندیم رضا کی الوداعی ملاقات
صدر مملکت اور وزیراعظم سےچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے الوداعی ملاقات کی، صدر مملکت نے ملکی دفاع کیلئے جنرل ندیم رضا کی خدمات کو سراہا اور جنرل ندیم رضا کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے جنرل ندیم رضا کی دفاع وطن کو مزید مضبوط بنانے اور آرمی کیلئے خدمات کو سراہا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے آپ کی خدمات پر فخر ہے۔
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































