ملٹی میڈیا
پرانی یادیں! کیا کشمیر میں سنیما کلچر بحال ہوگا؟

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
ماضی کے جھرونکوں سے یادیں جانکتی رہتی ہیں اور سنیما گھروں میں لگی تصویریں ہمارے ذہن کے پردے پر چلتی رہتی ہے سنیما کے پردے پر زوردار ڈائیلاگوں پر تالیوں کی گونج ابھی بھی کانوں میں رس گھولتی ہے جبکہ سنیما گھر پچھلے تیس سالوں سے بند پڑے ہیں اْن کی یادیں دھندلی تو ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی ۔ اِنہیں ذرا سا چھیڑو جلدی باہر آجاتی ہے ۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/313691929997237/?t=56
۔ 1990 سے پہلے کی نسل سنیما کو بہت پسند کرتی تھی اور سنیما گھروں مےں فل میں دیکھنا بیشتر لوگوں کی تفریح کا واحد زریعہ تھا آج بھی سنیما اور فلموں کی باتیں اْن کے چہروں پر اےک نئی چمک پیدا کرتی ہے اور اْن قصوں کی مٹھاس ابھی بھی باقی ہے سنیما کی رنگین دنےا دیکھنے کے لئے بندہ کسی بھی حد تک جاسکتا تھا ۔
دن کا تھکا ہارا شخص جب سنیما گھر میں داخل ہوجاتا توتازہ دم ہوکر باہر نکلتا اور گھر جاکر چین کی نیند سو جاتا تھا ۔ فلم میں جب ہیرو گنڈوں کی دْھلائی کرتا تو عام آدمی کو اس مےں اپنے مسائل کی دْھلائی نظر آتی ۔ سنیما کا چسکہ اچھے اچھوں کو ناکارہ بنا دیتا ۔ 80 کی دہائی مےں کشمیر میں 15 سنیما گھر بڑے آب و تاب کے ساتھ موجود تھے جن میں سرینگر میں نو سنیما گھر لوگوں کی تفریح ِ طبع کا سامان کرتے ۔
دن میں پانچ شو لگتے ۔ لوگ تھریڈ،سٹال ،ڈریس، اور بالکنی کے حساب سے ٹکٹیں لیتے ۔ سنیما ہالوں کے باہر بڑے بڑے بینروں پر فلمی ستاروں کی قد آور تصاویر لگی رہتی اور یہ دیکھ کر لوگوں کا آتشِ شوق اور بڑھک اْٹھتا ۔ آخری شو کا ایک الگ ہی مزہ ہوتا تھالیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی ہوتے تھے مثلا اگر گھر والوں کی نیند کھل جاتی تو وہ حال کیا جاتا جو کچھ دیر پہلے ویلن کا دیکھ کے آئے تھے اور اگر رات کو کتے آپ کے پیچھے پڑ گئے تو آپ کاخدا ہی حافظ تھالیکن آخری شو کے کچھ فائدے بھی تھے اندرون شہر کے رہنے والے مظفر خان اْن دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 89 سے پہلے شادیوں میں دلہا دیر رات گئے بارات لے کے جاتے تھے دلہے کی دعوت کے وقت کئی بار ہم بھی چپکے سے بارات میں گھس گئے اور مفت دعوت کا مزہ لیاسنیما کی وجہ سے دن کی بھاگ دوڈ کی تھکن اور پریشانی کافی حد تک کم ہو جاتی تھی فلموں میں آخر میں سچائی کی جیت ہوتی تھی اس سے مسائل سے لڑنے کی قوت آجاتی ۔
89 سے پہلے ہر اخبار کے آخری صفحے پر چوکھٹوں میں چھپا ہوتا تھا کہ کس سنیما ہال میں کونسی فلم لگی ہوئی ہے اس فلم کی اسٹار کاسٹ ،فلم دکھانے کے اوقات درج ہوتے تاکہ لوگوں کو فلم چننے میں آسانی رہے فلم کے پہلے دن لائن میں کھڑے ہوکر ٹکٹ لینا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔
ہمارے گھروں کے بڑے بوڑھے اس وقت کو یاد کرکے آہیں بھرتے ہےں اور ان کے لبوں پر سنیما کی کوئی نہ کئی کہانی ضرور ہوتی ہے کشمیر میں سنیما گھر 31 دسمبر1989کو بندکردئے گئے جب اللہ ٹایءگرس نامی گروپ نے انہیں ’’بے حیائی کے اڈوں ‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے بند کرنے کی دھمکی دی ۔ اگرچہ 1999 میں پھر سے کچھ سنیما گھر کْھل گئے تھے لیکن حالات بدل چکے تھے اور سنیما گھر زیادہ دیر تک کھلے نہ رہ سکے ۔ اور آج اِن میں سے کچھ کھنڈرات بن چکے ہیں کچھ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ویران پڑے ہیں جبکہ کچھ سنیما گھروں کو ڈھاکر اْن کی جگہ نئی عمارتیں کھڑی کر دی گئی ۔
پچھلے کچھ وقت سے سرکار یہاں پر سنیما کے کلچر کو پھر سے شروع کرنا چاہتی ہے اور یہاں پر پہلا ’’ملٹی پلکس‘‘بنانے کی تیاری بھی ہورہی ہے سوال یہ ہے کہ کیا ماضی پھر سے لوٹ کے آئے گا اور سنیما کے دیوانے اپنی فیملی کے ساتھ ایک بار پھر سنیما گھروں کا رخ کریں گے یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا ۔
جموں و کشمیر
جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟
جموں و کشمیر
“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

تازہ ترین6 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان3 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا6 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
دنیا5 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا4 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا2 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین6 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر5 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت




































































































