تازہ ترین
چیف سیکر یٹری کے مبینہ سیاسی بیان پر مین اسٹریم سیخ پا

بیان ذہنی اختراع:این سی،مین اسٹریم کو تباہ کرنے کی کوشش:پی ڈی پی
غیر سیاسی رہیں:اپنی پارٹی،اپنے کام پر توجہ دیں:پیپلز کانفرنس،بیان قابل مذمت:سی پی آئی ایم
خبراردو:-
سرینگر:جموں کشمیر کے چیف سیکریٹری کے مبینہ سیاسی بیان پر مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے سیخ پا ہو کر کہا ہے کہ موصوف چیف سیکریٹری بھاجپا کے مشن کی آبپاری کررہے ہیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس نے چیف سکریٹری بی وی آر سبرامنیم کے الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور ذہنی اختراع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کے بیان کے پیچھے گندی سیاست کارفرما ہے جس کا مقصد جموں وکشمیر میں انتظامیہ کی ہر سطح پر ناکامی اور زمینی حقائق سے توجہ ہٹانا ہے۔
پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ہے جہاں ایک سرکاری ملازم ملازمت میں رہتے ہوئے اپنے عہدے کا استعمال کرکے کھلے عام سیاست بازی اور کسی پر کیچڑ اُچھالتا ہو۔ ”اگر موصوف کو سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں وہ ملازمت کو خیر باد کہہ کر سیاست میں کود پڑیں“۔
ترجمان نے کہا کہ جس طرح سے موصوف نے 5اگست کے بعد جموں وکشمیر کی صورتحال کے بارے میں تبصرہ کیا ہے اُس سے جموں و کشمیر میں اعلیٰ عہدے پر فائز اس بیوروکریٹ کے سیاسی وابستگی بھی بالآخر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھاجپا کے سیاست دانوں اور چیف سکریٹری کی بولی ایک جیسی ہونا کوئی اتفاق کی بات نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم کی طرف سے اس قسم کے سخت الزامات نے موصوف کی پیشہ وارانہ صلاحیت اور غیر جانبداری پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
”یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ 20جون 2018سے اپنی مسلسل ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ایک بیوروکریٹ ملازمت میں رہتے ہوئے پورے مین سٹریم کیخلاف زہر اُگل رہا ہے“۔ادھر جموں وکشمیر اپنی پارٹی سنیئرلیڈر اور سابقہ وزیر غلام حسن میر نے مرکزی زیرِ انتظام جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری بی وی آر سبرامنیم کی طرف سے کئے گئے سیاسی تبصرے پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
ایک بیان میں میر نے کہاکہ چیف سیکریٹری کی طرف سے کیاگیا تبصرہ سروس رولز کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور یہ قانونی واخلاقی طور پر غیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”تمام سرکاری ملازمین بشمول بیوروکریٹس کو غیرسیاسی طور پر رہ کر لوگوں کو منصفانہ انتظامیہ فراہم کرنا ہوتا ہے جس کی پورے جموں وکشمیر میں کمی ہے“۔ انہوں نے کہاکہ چیف سیکریٹری درجے کا ایک افسر لگتا ہے کہ سروس کنڈیکٹ رولز بول گیا ہے جس کے تحت ملازمین کو سیاسی معاملات پر بات چیت نہیں کرنی چاہئے اور بجائے اِس کے زمینی سطح پر انتظامیہ کے اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔
پی ڈی پی نے کہا ہے کہ چیف سکریٹری مرکزی دھارے کو ختم کرنے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔پارٹی ترجمان نے کہا افسردہ ریاست کے چیف سیکر یٹری جو اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں،مرکزی دھار ے کی جماعتوں کو ختم کرنے اور بدنام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں‘۔پیپلز کانفرنس کے جنرل سیکریٹری عمران رضا انصاری نے چیف سیکریٹری کو نشانہ بناتے کہا کہ اپنے آپ سے کام رکھیں،سیاست میں دخل اندازی سے دور رہیں۔انہوں نے کہا ’مسٹر سی ایس،اب کو یہاں دو سال ہو جائیں،اور اب آپ یہاں کے باس ہوگئے، اگر آپ کو گرفتار کرلیا گیا تو کتنے لوگ رونے لگیں گے،امید ہے کہ آپ سیاست میں بیان بازی کرنے کی بجائے آپ اپنی ملازمت پر توجہ دیں گے، خدا کی خاطر اپنا کام کریں،میٹنگ کیلئے نئی تاریخ کا فیصلہ کریں‘۔
اس دوران سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ چیف سیکریٹری کا مین اسٹریم سیاستدانوں پر کورپشن کا بیان قابل مذمت ہے۔ان کا کہناتھا کہ سیاستدانوں پر بغیر کسی قابل اعتماد ثبوت کے بے بنیاد الزامات لگانا سنگین نتائج سے بھرا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری نے اپنی ناکامیوں کو عوامی نمائندوں کے سر تھوپنے کی کوشش کرتے ہوئے خود کی جگ ہنسائی کروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف سکریٹری کی طرف سے سیاسی جماعتوں پر لگائے گئے الزامات کو سرسری طور پر نہیں لیا جانا چاہئے، اس کا مقصد جموں و کشمیر میں پہلے ہی ختم کی گئی جمہوریت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا ہے اور یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہوگا کہ اعلیٰ انتظامی عہدیدوں پر فائز افسران کی طرف سے آنے والے اس طرح کے بیانات جموں وکشمیر میں غیر جمہوری، غیر ذمہ دارانہ اورغیر نمائندہ حکمرانی کو جواز بخشنا ہے۔
دنیا
“بوشہر” جوہری پلانٹ پر کوئی پابندی نہیں، یہ صرف روس اور ایران کا معاملہ ہے؛ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف کا واضح اعلان
ماسکو، امریکہ اور ایران کے درمیان بیک ڈور مذاکرات کے تسلسل کے درمیان، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے دوٹوک الفاظ میں تصدیق کی ہے کہ ایران کے “بوشہر” جوہری پلانٹ پر کسی قسم کی کوئی بین الاقوامی پابندیاں عائد نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس پلانٹ کے آپریشن اور کام کاج سے متعلق تمام امور خالصتاً روس اور ایران کے مابین ہیں اور ان کا کسی بھی دوسرے تیسرے فریق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی “تاس” کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے آج پیر کے روز استوائی گنی کے وزیرِ خارجہ سیمیون اویونو ایسونو انگوی کے ساتھ اہم مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “جہاں تک بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کا تعلق ہے، تو یہ تنصیب کسی بھی قسم کی پابندیوں کے ماتحت نہیں ہے۔ اسے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے سال 2015 کے تاریخی معاہدے کے دوران بھی تمام پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، اس لیے یہ معاملہ روس اور ایران کے علاوہ دنیا کے کسی اور ملک سے متعلق نہیں ہے”۔ انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ ماسکو اس وقت ایرانی اور امریکی فریقین کے مابین جاری نازک مذاکرات میں کسی قسم کی مداخلت کی کوشش نہیں کر رہا، بلکہ وہ ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور امید کا اظہار کرتا ہے۔
دوسری طرف، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے رکھی گئی پانچ کڑی شرائط—جن میں ایران کے اندر صرف ایک مخصوص جوہری تنصیب کو برقرار رکھنے کی شق بھی شامل ہے—کے بارے میں میڈیا رپورٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سرگئی لاؤروف کا کہنا تھا کہ “میں نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ اس سلسلے میں واشنگٹن اور تہران کے مابین پاکستانی ثالثوں یا دیگر سفارتی ذرائع سے خط و کتابت کا تبادلہ جاری ہے.. لیکن میں ذاتی طور پر ان معلومات کی صد فیصد صحت کی تصدیق نہیں کر سکتا”۔ انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم نے اب تک ایسی کوئی تجاویز سرکاری طور پر نہیں دیکھیں اور ہم اس جاری سفارتی عمل میں دخل اندازی کی کوئی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی ایران میں واقع بوشہر پاور پلانٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے پورے ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین جوہری پلانٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پلانٹ روس کی سرکاری جوہری کمپنی “روساٹوم” کے تکنیکی تعاون سے چلایا جاتا ہے، جو ایران کو جوہری ایندھن کی فراہمی اور متعلقہ عملے کی پیشہ ورانہ تربیت کی بنیادی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ دونوں دوست ممالک نے مستقبل میں دو اضافی نیوکلیئر ری ایکٹرز “بوشہر 2” اور “بوشہر 3” کی تعمیر کے ایک بڑے توسیعی معاہدے پر بھی دستخط کر رکھے ہیں۔ یہ پوری تنصیب باقاعدہ طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے قوانین اور کڑی نگرانی کے دائرے میں کام کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی روسی حمایت، یورینیم کی منتقلی کے لیے ولادیمیر پوتن کی پیشکش، امریکی مؤقف پر تنقید
ماسکو، روس نے ایک بار پھر ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی کھل کر حمایت کر دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ایران کو پُرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا پورا حق حاصل ہے۔ سرگئی لاوروف نے زور دے کر کہا کہ تہران کو وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو این پی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک کو حاصل ہیں، اور عالمی برادری کی جانب سے ایران سے کوئی بھی اضافی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل ہی روس نے ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو اپنے ہاں منتقل کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی باقاعدہ پیشکش بھی کی تھی۔ ماسکو میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس نے سال 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے دوران بھی ایران سے افزودہ یورینیم کامیابی سے منتقل کیا تھا، اور اب وہ موجودہ بحران کے حل کے لیے اسی تجربے کو دوبارہ دہرانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران تنازع جلد ختم نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں تمام فریقین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تنازع کے تمام فریقین اصولی طور پر یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے پر متفق ہو چکے تھے، لیکن پھر اچانک امریکہ نے اپنی پوزیشن سخت کر دی اور اس افزودہ یورینیم کو براہِ راست امریکی سرزمین تک پہنچانے کا سخت مطالبہ داغ دیا، جس کے ردِعمل میں ایرانی مؤقف بھی مزید سخت ہو گیا۔
پوتن کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ تنازع ہے جو اس وقت روس کو بھی ایک مشکل صورتِ حال میں ڈال رہا ہے، کیونکہ ایک طرف ایران تو دوسری طرف خلیجِ فارس کے عرب ممالک سے روس کے یکساں برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں۔
روسی صدر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں کوئی بھی فریق اس عسکری و سفارتی تنازع کو طویل عرصے تک جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، اس لیے توقع ہے کہ ایران تنازع جلد کسی منطقی انجام تک پہنچ کر ختم ہو جائے گا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
صدر ٹرمپ کا ایرانی مذاکراتی رویے پر شدید غصہ، تہران کو سنگین نتائج کی وارننگ، کہا: “کیا یہ لوگ پاگل ہیں”
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ طے کرنے کے لیے شدید بے چین ہے اور کسی بھی طرح ڈیل سائن کرنے کے لیے مرا جا رہا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مذاکرات کے دوران تہران کے رویے اور بار بار شرائط بدلنے کی حکمتِ عملی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایک معروف امریکی میگزین کو دیے گئے اپنے حالیہ خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکراتی انداز پر کڑی تنقید کی۔ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ایک طرف تو معاہدہ طے پانے کے قریب ہوتا ہے، لیکن پھر اچانک ایران کی جانب سے مختلف (ترمیم شدہ) دستاویزات اور تجاویز ھیج دی جاتی ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ لوگ پاگل ہیں”
اس سے قبل بھی امریکی صدر نے تہران کو کڑے الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے لیے وقت اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اس لیے اسے مزید تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انہوں نے ایران کو سنگین نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے لکھا کہ “ایران کو اب فوری اور حتمی قدم اٹھانا ہوگا، ورنہ (اگر یہ وقت نکل گیا تو) پھر ان کے پاس بچانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا، اس وقت ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے!”
یواین آئی۔ م س
ہندوستان1 week agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین1 week agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
جموں و کشمیر1 week agoشاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا1 week agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان7 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا
ہندوستان1 week agoمتحدہ عرب امارات سے ہندوستانی شہریوں کے انخلا کے حوالے سے کسی معاہدے پر بات نہیں ہوئی : وزارت خارجہ






































































































