تازہ ترین
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بارشوں نے حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی

خبر اردو :
کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بارشوں نے حکومت کے بلند بانگ دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی۔ ادھر شہر سرینگر میں ناکارہ ڈرینج سسٹم کے نتیجے میں بارشوں کا پانی جمع ہونے کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلع سرینگر میں صرف 37فیصدی حصے میں ڈرینیج سسٹم کارگر ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ شہر سرینگر میں 500ڈرینیج کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا تھا تاہم رقومات کی کمی کے باعث ان اسکیموں پر مکمل نہ کیا جاسکا، کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بارشوں نے حکومت اور انتظامیہ کے بلند بانگ دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے جس دوران شہر سرینگر کے بیشتر علاقے ناکارہ ڈرینج سسٹم کے نتیجے میں زیر آب آگئے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو عبورومرور میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کے این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق منگلوار کی صبح سے جاری بارشوں کے نتیجے میں شہر سرینگر کے متعددعلاقے زیر آب آگئے ہیں جس کے نتیجے میں شہر کے گلی، کوچے اور اندرون رابطہ سڑکیں سمندر کا منظر بیان کررہی ہیں۔ نمائندے نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی بارشوں نے انتظامیہ کے بلند بانگ دعوؤں کی پول کھول دی جس دوران شہر کے قلب لعل چوک، ایم اے روڑ، ریذیڈنسی روڑ، گھونی کھن میں عام راہ گیروں کو چلنے پھرنے کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ناکارہ ڈرینج سسٹم کی وجہ سے ان علاقوں میں سڑکیں سمندری منظر بیان کررہے تھے جس دوران یہاں منگلوار کو گھنٹوں تک ٹریفک جام کے مناظر دیکھے گئے۔ نمائندے نے بتایا کہ شہر میں پانی کی ناقص نکاسی کے ہوتے ہوئے منگلوار کو سڑکوں پر چھوٹی گاڑیاں کم ہی دیکھی گئی تاہم متعدد علاقوں میں سڑک کو پار کرنے کی غرض سے راہ گیروں نے آٹو رکشھاؤں کی خدمات حاصل کیں۔ شہر کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال کی اصل وجہ یہاں کی ناقص ڈرینیج سسٹم ہے جسے غیر تجربہ کار افراد کے ذریعے عملایا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق منگلوار دن بھر شہر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، نور باغ، ایم اے روڑ، ریذیڈنسی روڑ، مگرمل باغ، گھنٹہ گھر، سمندر باغ علاقوں میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر بیان کررہی تھی جس دوران یہاں راہ گیروں کو سخت ذہنی کوفت اُٹھانی پڑی۔
سرینگر میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ اہلکار نے کشمیرنیوز سروس کو نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ تھوڑی سی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہونے کی بنیادی وجہ شہر میں ناقص ڈرینج سسٹم کا ہونا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہر کے متعدد علاقوں میں تھوڑی سے جہاں سیلابی صورتحال درپیش رہتی ہے کی بنیادی وجہ ناقص ڈرینیج سسٹم اور غیر منصوبہ بند طریقے سے تعمیرات کا ہونا ہے۔ایس ایم سی اہلکار نے بتایا کہ ضلع سرینگر میں صرف 37فیصد حصے میں ڈرنیج سسٹم کارگر ہیں جہاں کبھی بھی اس قسم کا خطرہ لاحق نہیں رہتا تاہم انہوں نے بتایا کہ محکمہ سے وابستہ اہلکار کام پر لگے ہوئے ہیں جو جمع ہوئے پانی کو علاقوں سے منتقل کرنے میں لگی ہوئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ برسوں سے مختلف ڈرینیج اسکیموں کو دردست لیا تاہم ان میں سے بیشتر رقومات کی کمی اور محکمہ جات کے آپسی تال میل کی بنیاد پر مکمل نہ کیا جاسکا۔ انہوں نے بتایا کہ آر اینڈ بی محکمہ مختلف علاقوں میں تعمیرات کا کام کررہی ہے تاہم محکمہ تعمیرات کے دوران ڈرینیج سسٹم کی یقینی کو بالکل نظر انداز کردیتی ہے جس کا خمیازہ بعد میں عام لوگوں کو اُٹھانا پڑتا ہے۔یاد رہے 2014کے تباہ کن سیلاب نے شہر سرینگر کا ڈرینیج سسٹم مکمل طور پر ناکارہ بنادیا تھا تاہم مکانات و شہری ترقی کا محکمہ شہر کے ڈرینیج سسٹم کو بحال کرنے میں ناکام ہو ا۔ ادھر عالمی بنک نے 2014کے سیلاب سے متاثر ڈرینیج سسٹم کو بحال کرنے میں اپنامالی تعاون پیش کرنے کی حامی بھر لی تھی۔ ادھر محکمہ مکانات و شہری ترقی کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ شہر سرینگر میں عالمی بنک نے 42پانی کے نکاسی کے اسٹیشن کی تعمیر پر تخمینہ رقم کو واگزار کرنے میں حامی بھری تھی۔
انہوں نے بتا یا گزشتہ برسوں کے دوران شہر سرینگر میں 500ڈرینیج کی تعمیر کا کام ہاتھ میں لیا گیا تھا تاہم رقومات کی کمی کے باعث ان اسکیموں پر مکمل نہ کیا جاسکا۔ KNS
دنیا
ایران آبنائے ہرمز میں شپنگ کنٹرول سسٹم کا اعلان کرے گا: رکن پارلیمنٹ
تہران، ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) میں سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کرے گا۔
علاقائی کشیدگی اور سمندری سلامتی سے متعلق جاری تنازعات کے درمیان، سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ معلومات مشترک کی ہیں۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ‘ایکس’ پر لکھا، “ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارتی سلامتی کی ضمانت کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک طے شدہ راستے سے ٹریفک مینجمنٹ کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام تیار کر لیا ہے، جس کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف انہی تجارتی جہازوں اور فریقین کو آبنائے ہرمز پار کرنے کی اجازت ہوگی جو ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایران اس اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی خصوصی خدمات کے لیے فیس (ٹیکس) بھی نافذ کرے گا۔
یواین آئی۔م س
جموں و کشمیر
پہلگام سڑک حادثے میں گجرات کے دو سیاح ہلاک، تین زخمی
سری نگر، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے میں آرو ویلی روڈ پر ہفتہ کے روز ایک سیاحتی ٹیکسی حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں دو سیاح ہلاک جبکہ ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق سیاحتی ٹیکسی بے قابو ہو کر سڑک سے پھسل کر ایک گہری کھائی میں جا گری۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت باوِن بھاوسر اور نینا کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں گجرات کے رہائشی تھے۔
زخمیوں میں اوِن بھاوسر، اشوک نینا، دونوں ساکنان گجرات اور ڈرائیور رئیس احمد بٹ، ساکن رنگورڈ پہلگام شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن پہلگام میں ایف آئی آر نمبر 41/2026 درج کر لی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے 72 کروڑ روپے کے گندے پانی کے منصوبوں کی منظوری دے دی
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے بارہمولہ اور راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی تخمینی لاگت بالترتیب 37.96 کروڑ روپے اور 34.43 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد دونوں شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور گندے پانی کے انتظام کے مسائل سے نمٹنا ہے۔ یہ بات ایک سرکاری ترجمان نے ہفتہ کو بتائی۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ان منصوبوں سے سیوریج کے سائنسی طریقے سے ٹھیک کرنے کو یقینی بنایا جائے گا، آبی ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے گا اور بارہمولہ و راجوری کے رہائشیوں کی صحت، صفائی اور مجموعی معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے سوچھ بھارت مشن (اربن) 2.0 کے کیپیکس جزو کے تحت میونسپل کونسل بارہمولہ اور میونسپل کونسل راجوری کے لیے استعمال شدہ پانی کے انتظام کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) تیار کی ہیں۔
ان ڈی پی آرز کا تکنیکی جائزہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سری نگر نے لیا ہے۔ ان منصوبوں پر سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، جو ایک ہی مرحلے میں حیاتیاتی طریقے سے گندے پانی کے مؤثر علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
یہ منصوبے بارہمولہ اور راجوری میں صفائی کی سہولیات کو بہتر بنانے اور پائیدار گندے پانی کے علاج کے نظام قائم کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے ہیں۔ دونوں منصوبوں کو 18 ماہ کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا3 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
دنیا6 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا3 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
ہندوستان4 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
تازہ ترین6 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا4 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان5 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان3 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
تازہ ترین5 days agoایران کی توجہ اب بھی پائیدار امن پر مرکوز لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار : فاطمہ مہاجرانی






































































































