تازہ ترین
‘کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال بند کیا جائے’

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ‘بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں سکیورٹی فورسز کو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن کے استعمال سے پرہیز کرنے کی تاکید کرے۔’
ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ‘پولیس اور نیم فوجی دستوں نے 29 اگست 2020 کو محرم کے موقع پر سرینگر میں شیعہ مسلمانوں کے ایک جلوس کے موقع پر شاٹ گنز کے ساتھ آنسو گیس کے گولے بھی داغے تھے جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔’
پولیس کے مطابق جلوس کے دوران کچھ مظاہرین نے پتھراؤ کیا جس سے 15 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔’ہیومن رائٹس واچ کے جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا کہ ‘بار بار بھارت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے کشمیر میں شاٹ گنز کے استعمال کے نتیجے میں مظاہرین اور راہگیر زخمی ہوتے ہیں۔
بھارتی حکام کو یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ شاٹ گن کا استعمال بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرشدد مظاہرے کے دوران ہمیشہ زیادہ چوٹ کا سبب بنے گا۔’انہوں نے کہا کہ ‘شاٹ گنز سے فائر کئے گئے پیلٹز سے اب تک ہزاروں افراد زخمی ہوگئے جس میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونا بھی شامل ہے۔
پیلٹ گن کا استعمال 2010 میں پرتشدد مظاہروں کے دوران کشمیر میں تقریباً 120 افراد کی ہلاکت کے بعد کیا گیا تھا۔سکیورٹی فورسز عام طور پر 12 گیج پمپ ایکشن گنوں کا استعمال کرتی ہے جو درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے چھوٹے پیلٹز سے بھری ہوتی ہیں جنہیں ‘برڈ شاٹ’ یا “ڈو شاٹ’ کہا جاتا ہے۔ہندوستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘سکیورٹی فورسز پیلٹ گنز کا استعال ضرورت محسوس ہونے اور مظاہرین کے تشدد کے جواب میں کرتی ہے۔’
تاہم بین الاقوامی قانون پرتشدد مظاہرین کے خلاف، طاقت کے کسی بھی استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے جس سے بلا امتیاز یا غیر ضروری نقصان ہوتا ہے۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے کشمیر میں شاٹ گنز کا استعمال ہلاکتوں اور زخمیوں کا بھی سبب ہے۔
اگرچہ شاٹ گن سے چلنے والے پیلٹز سے ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کوئی درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔تاہم وزارت برائے امور داخلہ نے فروری 2018 میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ‘ 2015 سے 2017 کے درمیان پیلٹز سے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ڈاٹا جرنلزم کی ویب سائٹ انڈیا اسپینڈ کے مطابق جولائی 2016 اور فروری 2019 کے درمیان شاٹ گن سے فائر کیے گئے پیلٹ سے 139 افراد نابینا ہوگئے۔’
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی کو بتایا تھا کہ ‘جولائی 2016 اور فروری 2017 کے درمیان 6221 افراد پیلٹ سے زخمی ہوئے تھے اور ان میں سے 782 افراد کو آنکھوں میں چوٹیں آئی تھیں۔
‘اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے کہا ہے کہ ‘شاٹ گن کا استعمال کشمیر میں استعمال کیے جانے والے خطرناک ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور ہجوم پر قابو پانے کے لئے ان کے استعمال کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
‘سنہ 2017 میں جب پیلٹ کے استعمال پر پارلیمنٹ میں سوال کیا گیا تو وزارت داخلہ نے کہا کہ ‘اس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے دیگر غیر مہلک متبادل کی تلاش کی ہے لیکن یہ کہ ‘اگر یہ اقدامات مظاہرین کو منتشر کرنے میں کارگر ثابت نہیں ہوئے تو پیلٹ گنز کا استعمال ہو سکتا ہے۔
سنہ 2016 کے دسمبر میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ‘ان ہتھیاروں کو کشمیر میں ‘اندھا دھند یا بہت زیادہ’ استعمال نہیں کیا جانا چاہئے اور حکام کو ان کا استعمال ضرورت کے وقت ہی کرنا چاہئے۔’
(ای ٹی وی)
دنیا
ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت بھی جنرل قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ کی جانب سے قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران کی قیادت ’’خوش‘‘ تھی کیوں کہ ان کے بقول وہ مبینہ طور پر سلیمانی سے خوف زدہ تھی۔
فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے ’’روڈ ٹو میجورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے 2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی حملے کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کارروائی نے خطے کی سیکیورٹی کی صورت حال کو نئی شکل دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں خامنہ ای اور ایران میں دیگر لوگ بھی اس بات پر خوش تھے کہ میں نے قاسم سلیمانی کو جان سے مارا، کیوں کہ ان کے بقول ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، سلیمانی ایران کی قیادت کے لیے بھی ایک طاقت ور شخصیت بن چکا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے طنز کرتے ہوئے اور آواز کی نقل کرتے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں کہا ایران کی قیادت سنبھالنے کے لیے کوئی تیار نہیں، اب کوئی بھی ایران کا صدر بننا نہیں چاہتا، جب وہاں پوچھا جاتا ہے کہ ایران کا صدر کون بننا چاہے گا؟ سب جواب دیتے ہیں ’’نہیں نہیں، شکریہ!‘‘
قاسم سلیمانی کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں قتل کیا تھا، ٹرمپ نے تعریف بھی کی کہ وہ ایک جینئس تھا، لیکن اس نے ہمارے فوجیوں کو مارا تھا۔ یاد رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی افواج کے ایک ڈرون حملے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
لندن، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل آکر لگا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا۔
ادارے نے مزید بتایا کہ واقعے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے، جبکہ فی الحال کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ یو کے ایم ٹی او کے مطابق متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
آپریشن سندور میں وزیرِ دفاع کے بیان کے تناظر میں کہی جا رہی باتیں گمراہ کن اور غلط: وزارتِ دفاع
نئی دہلی وزارتِ دفاع نے آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے فوجیوں کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کے تعلق سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے تنازع پر ہفتہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں کہی جا رہی باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں۔
آپریشن سندور کے دوران شہید ہوئے چھ فوجیوں کے نام حال ہی میں نیشنل وار میموریل (قومی جنگی یادگار) پر کندہ کیے جانے کے بعد، سوشل میڈیا پر مسٹر سنگھ کے آپریشن سندور میں شہید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے اس معلومات کو چھپایا ہے۔
وزارتِ دفاع نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں وزیرِ دفاع کی طرف سے گزشتہ سال 28 جولائی کو پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک حصے کو جان بوجھ کر چن کر غلط مطلب نکالا گیا ہے، جیسے کہ وزیرِ دفاع نے کہا ہو کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران کسی بھی ہندستانی فوجی کی جان نہیں گئی۔ یہ باتیں جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی اور حقائق کے حساب سے غلط ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے وزیرِ دفاع کی پارلیمانی تقریر کے تعلق سے تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے ان کی باتوں کے وسیع تناظر کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے، “یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کے وقت، میڈیا کے کچھ حصوں اور سوشل میڈیا پر ایک خاص اور زور شور سے پھیلائی جا رہی بات چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘آپریشن سندور’ کے دوران ہندستانی پائلٹ مارے گئے تھے۔ یہ بات پوری طرح سے غلط تھی، پھر بھی اسے جارحانہ طریقے سے پھیلایا جا رہا تھا تاکہ آپریشن کی کامیابی کو کم تر دکھایا جا سکے اور عوام کا حوصلہ توڑا جا سکے۔ وزیرِ دفاع نے اسی خاص اور شرارت آمیز بیانیہ کے جواب میں وہ بیان دیا تھا۔ اس لیے، ان کی باتیں اس وقت خطرناک حد تک پھیل رہی ایک غلط بات کا درست اور تناظر کے ساتھ جواب تھیں۔”
وزارت نے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع کی تقریر کو اس کے پورے اور صحیح تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کا بیان پوری طرح سے ‘آپریشن سندور’ کی شاندار کامیابی کا فخر سے بھرپور اور صحیح احوال تھا۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں ہندستانی دفاعی افواج نے بے مثال درستگی، عزم اور فوجی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ آپریشن کے دوران، 100 سے زیادہ دہشت گردوں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا، ساتھ ہی پاکستانی ایئر بیس اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تعینات ان کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ یہ تقریر ہندستانی دفاعی افواج کے حوصلے اور صلاحیت کے لیے ایک موزوں خراجِ تحسین تھی، اور ان لوگوں کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو ہندستان کا نقصان چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع اور حکومتِ ہند ہندستانی دفاعی افواج کے ہر رکن کے تئیں احترام، شکرگزاری اور عقیدت کا جذبہ رکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ان لوگوں کے تئیں جنہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ان کی قربانی مادرِ وطن کی خدمت کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اور اسے ہمیشہ اس احترام، فخر اور سنجیدگی کے ساتھ یاد کیا جائے گا جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت نے ان کی عظیم قربانی کو عزت دیتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے نام ‘نیشنل وار میموریل’ کی دیواروں پر کندہ کیے جائیں۔ حکومت نے ان بہادروں کے خاندانوں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں رعایتیں دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































