جموں و کشمیر
کشمیر وادی میں حکام کی ناک کے نیچے:برسوں تک بغیر کولڈ سٹوریج ڈریسڈ گوشت اورمرغ و چکن کا دھندہ !،ابتدائی کارروائی میں انکشاف

منجمد گوشت ومرغ کی درآمد اور ترسیل ،2مقامی تاجروں کے لائسنس منسوخ
2بیرونی لیبارٹریوں میں بھیجے گئے گوشت، مرغ اور مچھلی کے نمونوں کے معیارسے متعلق جانچ رپورٹ کاانتظار ،عوام ہنوز تذبذب کاشکار
سرینگر : جے کے این ایس : جموں کشمیر میں ڈریسڈ گوشت، مرغ اورمچھلی کاروباریوں کیخلاف حکومتی کریک ڈاون کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کاروباری بغیر لائسنس اور مناسب کولڈ اسٹوریج سہولیات کے کام کر رہے ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر خاص کرکشمیر وادی میں گلے سڑے گوشت کی بڑی مقدار میں ضبطی کے بعد جہاں فوڈ سیفٹی محکمہ کافی متحرت ہو چکا ہے، وہیں ڈریسڈ چکن اور گوشت کی برآمدگی، خرید و فروخت کے حوالے سے حکومت نے بڑی کارروائیاں انجام دیں جبکہ جمعرات کو FSSAIیعنی فوڈسیفٹی اینڈ اسٹنڈرڈزاتھارٹی آف انڈیا کے قوانین پرسختی کیساتھ عمل کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔قریب80کوئنٹل سڑے گوشت کی ضبطی کے بعد جہاں لوگ درآمد کئے جا رہے منجمد گوشت اورمرغ پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں حکومتی ادارے بھی متحرک ہوئے اور چھاپہ مار کارروائیوں کےساتھ ساتھ غیر لیبل شدہ پیکڈ فوڈ مصنوعات کی فروخت پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جبکہ لائسنس حاصل کرنے والے افراد مناسب کولڈ اسٹوریج سہولیات ہونے کے بعد ہی یہ کاروبار انجام دے سکتے ہیں تاہم حکومتی معائنے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یہاں گوشت اورمرغ کاکاروبار کرنے والے تاجران بغیر لائسنس اور مناسب اسٹوریج سہولیات کے ہی کاروبار کر رہے ہیں۔جموں و کشمیر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی کمشنر، سمیتا سیٹھی کا کہنا ہے کہ منجمد گوشت کو پروڈکشن سے لیکر فروخت تک ہر مرحلے میں منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم درجہ حرارت پر اسٹور کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”فوری یعنی2سے4روز تک استعمال ہونے والے گوشت کو ہی 4 ڈگری سینٹی گریڈ والے اسٹوریج میں رکھنے کی اجازت ہے جبکہ منفی18ڈگری سینٹی گریڈ تک اسٹور کیے گئے گوشت کو بارہ مہینوں کے اندر اندر استعمال کرنا ضروری ہے۔“محکمہ فوڈ سیفٹی کے ایک اعلیٰ افسر نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ چھاپوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کسی بھی تاجر کے پاس کولڈ سٹوریج کا انتظام نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس اس کے لیے درکار لائسنس تھی۔ ان کے مطابق ”یہ تاجر اشیاءکی فروخت کے لئے لائسنس رکھتے تھے، لیکن وہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر منجمد گوشت کی درآمد اور ترسیل میں ملوث تھے۔“کشمیر میں فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر ہلال احمد میر نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ سرینگر کے2بڑے تاجر اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث پائے گئے، جن کے لائسنس فی الحال منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔ پولیس نے ان تاجروں، زکورہ کے رہائشی عبدالحمید کوچھے (سن شائن فوڈز) اور باغات، برزلہ کے رہائشی عارف احمد شاہ کےخلاف بھارتیہ نیایہ سنہیتا (بی این ایس )کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ کمشنر نے مزید بتایا ہے کہ ان سبھی تاجروں اور ڈسٹری بیوٹرز کے لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں جو سڑا ہوا گوشت اور مرغ فروخت کرتے ہوئے پائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی گوشت، مرغ اور مچھلی کے نمونے 2بیرونی لیبارٹریوں میں بھیجے گئے ہیں تاکہ ان کے معیار اور اصل کی جانچ کی جا سکے۔افسران کا مزید کہنا ہے کہ یہ کاروباری غیر منظور شدہ طریقوں پر دہلی اور اس کے ملحقہ علاقوں سے ڈریسڈ چکن، گوشت درآمد کرتے ہیں۔ عوامی غم و غصے کے بعد، فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 2006 کے فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز ایکٹ اور 2020 کے پیکیجنگ اینڈ لیبلنگ ریگولیشنز کی مکمل تعمیل کو یقینی بنائیں۔دریں اثنا، وادی کی سب سے بڑی تجارتی تنظیم، کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) نے درآمد شدہ منجمد گوشت پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید احمد ٹینگہ نے کہا ہے کہ ”ملزمان کی شناخت اور انہیں سزا دینے کےلئے ایک فاسٹ ٹریک تحقیقات ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں ایسی کوتاہیوں سے بچا جا سکے۔“
جموں و کشمیر
آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: انسداد بدعنوانی بیورو نے سابق ایڈمنسٹریٹو کلرک کے اثاثے کئے ضبط
سری نگر، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کو سری نگر کے ڈپٹی کمشنر آفس میں تعینات رہے ایک سابق سینئر کلرک کے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں کئی غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا ہے۔
سری نگر کے فردوس آباد بٹمالو کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی ان غیر منقولہ جائیدادوں کی ضبطی سری نگر انسداد بدعنوانی بیورو میں سال 2025 میں درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ یہ معاملہ ایک جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بھٹ پر اپنی آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی۔ ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹمالو میں ایک رہائشی مکان، نمبل نوگام میں ان کی بیوی اور بیٹی کے نام پر تین پلاٹ اور جانچ میں ضبط کیا گیا تقریباً 1266 گرام سونے کے زیورات شامل ہیں۔
انسداد بدعنوانی بیورو کے مطابق، جانچ کے دوران بھٹ کو گرفتار کیا گیا اور فی الحال وہ عدالت کے حکم پر ضمانت پر باہر ہے۔ بیورو نے بتایا کہ جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر رکھے تھے۔ مجاز اتھارٹی سے منظوری ملنے کے بعد، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کی قیادت میں دو ٹیموں نے قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بٹمالو اور نوگام میں ان جائیدادوں کو ضبط کر لیا۔
ضبط کی گئی جائیدادوں پر اس سلسلے کے معلوماتی بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور انسداد بدعنوانی بیورو نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان جائیدادوں کو نہ تو خریدیں اور نہ ہی ان سے جڑا کوئی مالی لین دین کریں۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
ہندو مذہب نے کبھی خود کو کسی پر نہیں تھوپا : منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا ہندو مذہب – سناتن دھرم کو سب سے پرانے زندہ مذہب کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور یہ ایسا مذہب ہے، جس نے کبھی بھی خود کو دوسروں پر مسلط نہیں کیا اور ہمیشہ تنوع، بقائے باہمی اور باہمی احترام کی اقدار کو بنائے رکھا، جس سے قدیم ہندوستان میں مختلف مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا مسٹر سنہا نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ‘بین المذاہب مذاکرے’ (انٹرفیتھ ڈائیلاگ) سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے باہمی احترام میں رچی بسی قدیم تہذیب کے طور پر ہندوستان کے ورثے کو اجاگر کیا، جہاں مختلف مذاہب ایک ساتھ رہتے ہیں، پھلتے پھولتے ہیں اور دنیا کو امن کا سبق سکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہندو مذہب یا سناتن دھرم دنیا کا سب سے پرانا زندہ مذہب، ہندو مذہب – سناتن دھرم، نے کبھی خود کو کسی پر مسلط نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے تنوع اور بقائے باہمی کو اپنایا۔ قدیم ہندوستان نے احترام کی ایک ایسی بنیاد رکھی، جس نے عیسائیت، اسلام، یہودیت اور پارسی مذہب کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔” انہوں نے کہا کہ “تنازعات اور عدم برداشت کا سامنا کر رہی دنیا میں، سناتن دھرم اور ہندوستانی فلسفے کی اصل روح ایک رہنما روشنی کا کام کر سکتی ہے۔ آج بھلے ہی دنیا مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر تقسیم ہو، لیکن ہندوستانی فکر میں ان دوریوں کو پر کرنے کی منفرد طاقت ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک متحرک فکر ہے جو یہ اعلان کرتا ہے کہ انسانیت کو ایک خاندان کے طور پر مل کر رہنا چاہئے۔ نوجوان نسل کو اس نقطہ نظر کو آگے بڑھانا چاہئے اور دنیا کو یہ یاد دلانا چاہئے کہ باہمی احترام کے ذریعے امن ممکن ہے۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ “دانشورانہ، روحانی اور ثقافتی اصطلاحات میں میں اسے ‘ہندوستانیت’ کہتا ہوں، یہ وہ بنیادی روح ہے جس نے دنیا کو تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سچائی کی تلاش، تنوع میں اکائی، دنیا کو ایک خاندان ماننے کا تصور اور ایک مشترکہ ثقافتی شعور کا نقطہ نظر دیا۔” انہوں نے کہا کہ “پانچ ہزار سال سے بھی پرانی علمی روایت کے علامت ہمارے قدیم گرنتھ، وید اور اپنشدوں نے ہمیشہ ہم آہنگی سے رہنے کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انسانیت کو سکھایا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے مل کر رہنا چاہئے۔ یہی ابدی اصول ہے۔” انہوں نے ذکر کیا کہ جب 12ویں اور 13ویں صدی میں اسلام ہندوستان آیا اور کئی صوفی سنت اور اسلامی اسکالرز یہاں آئے۔ انہوں نے محبت، روحانیت، ہمدردی اور برابری میں رچی بسی ایک انوکھی ہندوستانی ثقافت کو پایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ “صوفی سنت ویدوں، اپنشدوں، بدھ مذہب اور جین مذہب کے نقطہ نظر سے متاثر تھے اور انہوں نے ہندوستانی گرنتھوں سے بقائے باہمی کے اصول سیکھے۔ اس کے علاوہ، سنسکرت علم کے کئی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستان اور اس کے قدیم فلسفے نے کبھی کسی سے اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ لوگوں سے کہا ہے کہ آپ اپنے عقیدے کو اپنے ساتھ لائیں، اپنی روایتوں کو لائیں اور ہمارے ساتھ ہم آہنگی سے رہیں۔ یہی ہندوستان کی انفرادیت ہے۔ یہی ہندوستانی روحانی روایت کی عظمت ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے : کرن سنگھ
سری نگر، جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست کرن سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے “بھیک نہیں مانگنی چاہئے”، کیونکہ مرکز کی حکومت پہلے ہی اس کی بحالی کا وعدہ کر چکی ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب مذاکرے کے پروگرام کے علاوہ نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ “میں اس وقت ریاست کا سربراہ تھا۔ اس وقت مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسا کوئی نظام نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل ریاست تھا۔” انہوں نے ریاست کا درجہ بحال کیے جانے کی اہمیت کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ “میرا ماننا ہے کہ ریاست کا درجہ بحال ہونا چاہئے۔ حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ وہ اسے بحال کرے گی۔ ہم ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے۔ ہمیں اس کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہئے۔ انہیں یہ دینا ہی ہوگا۔ وہ اسے کب دیتے ہیں، یہ ان پر منحصر ہے۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے۔”
واضح رہے کہ کرن سنگھ نے ریاست کے سربراہ کے طور پر سال 1957 میں جموں و کشمیر کے آئین پر دستخط کئے تھے۔
مسٹر سنگھ نے امن اور اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے اور جموں و کشمیر کے خطوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “میرا پیغام ہے کہ ہم آہنگی بنائے رکھیں۔ جموں اور کشمیر کے درمیان جو تعلقات کبھی کبھی نازک ہو جاتے ہیں، انہیں مضبوط بنائے رکھنا چاہئے، تاکہ ہماری ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے سامنے ایک مثال پیش کرے۔”
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بین المذاہب مذاکرہ ہندوستان کا اتحاد بنائے رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسے جموں و کشمیر میں بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل صرف جموں و کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کے لیے اہم ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ “یہ پورے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔ تمام مذاہب کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہئے۔ اگر فرقہ واریت اور تقسیم بڑھے گی تو ملک بھی تقسیم ہوگا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔”
بین المذاہب مذاکرے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات اور عقائد کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ “اس بین المذاہب مذاکرے کا مقصد یہی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایسا جموں و کشمیر میں بھی ہونا چاہئے۔”
یو این آئی۔ این یو۔
تازہ ترین7 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان5 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا7 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا7 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تازہ ترین7 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
دنیا7 days agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
دنیا7 days agoتیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
ہندوستان5 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
دنیا4 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
جموں و کشمیر7 days agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی



































































































