اہم خبریں
کورونا وائرس:24ممالک زد میں آگئے

چین کے باہر فلپائن میں پہلی ہلاکت
چین میں اب تک 362 افراد وائرس سے ہلاک،17 ہزار افراد متاثر
سرینگر 3،فروری:کے این ایس / چین کو کورونا وائرس سے نمٹنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اب تک 17 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 24ممالک اسکی زد میں آگئے ہیں۔اتوار کے روز فلپائن میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت واقع ہوئی جو چین سے باہر اس وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت تھی۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق چین میں اب تک362 افراد وائرس سے ہلاک ہوگئے ہیں جو ملک میں 2002 میں سارس وائرس کی وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔چین میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد پیر کو362سے زیادہ ہو گئی جبکہ فلپائن میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا جو اس وائرس سے چین کے باہر دنیا میں پہلی موت ہے۔ مہلک کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں تشویش ہے اور کئی ممالک چین کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحدیں بند اور وہاں رہائش پذیر اپنے شہریوں کو ملک واپس لا رہے ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین میں اموات کے تازہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے ایک بڑے شہر وین زو کو بند کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں۔ وین زو ہیوبے صوبے کے شہر ووہان سے 800 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں سے وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔حکام کے مطابق ہیوبے میں وائرس سے مزید 56 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ملک کے جنوبی مغرب میں واقع بڑے شہر چونگ چنگ میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جس کے بعد وائرس کے نتیجے میں اب تک 362 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اموات کی یہ تعداد ملک میں سارس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ سارس وائرس سے 2002 میں چین میں 349 افراد ہلاک ہوئے تھے۔مشرقی شہر وین زو میں حکام وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ شہر کی سڑکیں بند کر کے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔
پچھلے دسمبر ووہان سے شروع ہونے والی کرونا وائرس کی وبا نے چین بھر میں 17 ہزار دو سو افراد کو متاثر کیا ہے اور یہ24 ملکوں تک پھیل چکا ہے جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ ان تمام ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسرے ملکوں نے ہیوبے میں موجود اپنے سینکڑوں شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے اور چین کے سفر پر پابندی لگا دی ہے۔بیماری کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں:چین، جہاں پچھلے 24 گھنٹے میں وائرس کے دو ہزار آٹھ سو 29نئے کیس سامنے آئے ہیں، اس سے نمٹنے کی سخت کوشش کر رہا ہے، ان کوششوں میں عوامی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی، گھر سے صرف ایک شخص کو محدود کاموں کے لیے نکلنے کی اجازت اور سکولوں میں چھٹیاں بڑھانا شامل ہیں۔
چین نے کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی مکمل کر لیا ہے۔ یہ ہسپتال وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والے وسطی صوبے ہیوبے کے دارالحکومت ووہان میں 10 روز میں مکمل کیا گیا جبکہ1500 بستر کا ایک اور ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے۔چین کی پیپلز لیبریشن آرمی کی ٹیمیں پیر کو نئے ہسپتال میں خدامات سرانجام دینے آتی رہیں تاکہ شہر میں کام کرنے والے طبی عملے پر بوجھ کم ہو سکے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سرکاری چینل سی سی ٹی وی پر جدید طبی آلات اور وینٹیلیشن سسٹم سے آراستہ نئے ہسپتال کے وارڈ دیکھے جاسکتے۔علاج میں پیش رفت؟:خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈاکٹر کرونا وائرس میں مبتلا ایسے نئے مریضوں کے علاج میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کی حالت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان مریضوں کو نزلے اور ایچ آئی وی کی ادویات ملا کر دی گئیں جس کے ابتدائی نتائج کے مطابق مریضوں میں 48گھنٹے میں نمایاں بہتری آئی۔
کورونا وائرس کے مریض، کن کن ممالک میں:آسٹریلیا:اس ملک میں بارہ مریضوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص کی گئی ہے۔ ان مریضوں میں بیشتر چینی صوبے ووہان سے واپس لوٹے تھے۔کمبوڈیا:مشرقی بعید کے اس ملک میں ملکی محکمہ صحت نے صرف ایک مریض میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے۔ یہ وہ ساٹھ سالہ شخص ہے، جو ووہان سے واپس ملک پہنچا تھا۔ہانگ کانگ:چین کے خصوصی انتظام کے حامل علاقے ہانگ کانگ میں چودہ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں اور ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ان کو بقیہ مریضوں سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔بھارت:نئی دہلی سے محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ ایک دوسرے علیل شخص میں بھی کورونا وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق جنوبی ریاست کیرالا میں جس نئے مریض میں وائرس پایا گیا ہے، اْسے فوری طور پر سب سے الگ کر دیا گیا ہے۔جاپان:ٹوکیو سے جاپانی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ پہلی فروری کو تین نئے مریضوں میں چینی وائرس کی تشیخص ہوئی ہے۔ اس طرح جاپان میں اِس وبائی مرض میں مبتلا افراد کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں دو ایسے ہیں جن کو دوسرے انسانوں سے یہ مرض منتقل ہوا ہے۔
میکاؤ:میکاؤ بھی چینی علاقہ ہے لیکن اس کی وجہ سے شہرت وہاں کے جوئے خانے کی انڈسٹری ہے۔ اس علاقے میں آٹھ مریضوں میں نمونیا بیماری کا باعث بننے والا یہ وائرس پایا گیا ہے۔ملائیشیا:مشرق بعید کے ایک اور ملک ملائیشیا میں بھی آٹھ مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام علیل افراد کا تعلق چینی اقلیتی برادری سے ہے۔نیپال:کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ریاست نیپال میں ایسے ایک مریض کو ہسپتال پہنچایا گیا ہے، جو چینی علاقے ووہان سے کھٹمنڈو پہنچا تھا۔ ووہان ہی وہ شہر ہے جہاں پہلی مرتبہ اس وائرس کی دریافت ہوئی تھی۔سنگاپور:شہری ریاست سنگا پور کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے مزید افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کا بتایا ہے۔ اس طرح وہاں اس وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد ڈیڑھ درجن ہو گئی ہے۔جنوبی کوریا:جزیرہ نما کوریا کے اس ملک میں اتوار دو فروری کو مزید دو افراد میں اس وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ ان میں ایک بیس سالہ نوجوان بھی ہے جو ووہان سے ایک چارٹرڈ فلائٹ سے واپس وطن پہنچا تھا۔ جنوبی کوریا میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد پندرہ ہے۔
سری لنکا:اس ملک میں ایک تینتالیس سالہ شخص میں وائرس کی موجودگی کا بتایا گیا ہے۔ یہ سری لنکن سیاح چینی صوبے ہوبائی کی سیاحت کو گیا ہوا تھا کہ اسے وائرس نے اپنی گرفت میں لے لیا۔تائیوان:اس جزیرہ نما ریاست میں وائرس میں مبتلا مریضوں کی کل تعداد دس ہے۔ ان میں دو بزرگ چینی خواتین بھی ہیں جو سیاحت کے لیے ایک گروپ میں شامل ہو کر تائیوان پہنچی تھیں۔تھائی لینڈ:چین کی ہمسایہ ریاست تھائی لینڈ میں اس وائرس کی وجہ سے نمونیا بیماری میں مبتلا مریضوں کی تعداد انیس بتائی گئی ہے۔ ویتنام:ویتنام میں متعدی مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد چھ ہے۔ اتوار کو بھی ایک نیا مریض سامنے آیا ہے۔
چھٹا مریض وسطی صوبے سے ہے اور اس کی عمر پچیس سال ہے۔ یہ ایک ہوٹل کا ملازم ہے۔کینیڈا:شمالی امریکی ملک کینیڈا میں چینی شہر ووہان میں نمودار ہونے والے وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد چار ہے۔امریکا: امریکا کی مختلف ریاستوں میں سات مریضوں میں وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ تین مریض کیلیفورنیا، دو الینوائے، ایک ایک میساچوسٹس اور واشنگٹن ریاستوں میں ہیں۔برطانیہ:لندن حکومت نے بتایا ہے کہ دو مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ جمعے اکتیس جنوری کو ان مریضوں کے حوالے سے اعلان کیا گیا تھا۔ ان میں ایک شخص ووہان کی سیاحت سے لوٹا تھا۔ فرانس:اس یورپی ملک میں کورونا وائرس کے چھ مریض زیر علاج ہیں۔
جرمنی:جرمن حکام نے سات افراد میں نمونیا بیماری کے اس نئے وائرس کی نشاندہی کا بتایا ہے۔اٹلی:اطالوی وزیراعظم جوزپے کونٹو کے مطابق تیس جنوری کو پہلی مرتبہ ایسے دو چینی سیاحوں میں اس وائرس کی نشاندہی ہوئی جو چین سے اٹلی پہنچے تھے۔روس:ماسکو حکومت نے دو افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا بتایا ہے۔سویڈن:اس یورپی ملک میں ایک مریض میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس مریض کی شہریت عام نہیں کی گئی ہے۔اسپین: ہسپانوی جزیرے لا گومیرا میں پہلی مرتبہ ایک مریض میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی موجودگی کا پتہ چلا۔ اس ملک میں طبی حکام نے پانچ افراد کو الگ تھلگ کر رکھا ہے لیکن ان میں ابھی تک وائرس کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان میں ایک جرمن شہری بھی ہے۔متحدہ عرب امارات:خلیجی ریاست نے ایک مریض میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ علیل شخص چینی شہریت کا حامل ہے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چین سے15افراد وارد جموں وکشمیر ہوئے ہیں جن میں 8کا تعلق کشمیر اور7کا تعلق جموں سے بتایا جاتا ہے،تاہم ان میں سے کوئی فرد کرونا وائرس کے مرکز ی علاقہ ووہن سے نہیں آیا۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان6 days agoجموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
دنیا4 days agoٹرمپ اور شی جن پنگ کا آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق
ہندوستان5 days agoبزرگوں، بیواؤں، معذوروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے حکومت : کھرگے
دنیا7 days agoٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
دنیا4 days agoفرانسیسی صدر اور ایرانی اداکارہ سے متعلق نئی کتاب میں چونکا دینے والے دعوے
تازہ ترین7 days agoآبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
دنیا5 days agoایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
ہندوستان6 days agoمغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے سے شہریوں کو آیوشمان بھارت کا فائدہ ملے گا: مودی
دنیا1 week agoسخت حالات میں ساتھ کھڑے ہونے والے دوستوں کو ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا: ایرانی سفیر
ہندوستان4 days agoعالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
دنیا7 days agoٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کی امریکی پیشکش پر ایران کے ردعمل کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیا






































































































