جموں و کشمیر
کپواڑہ فدائین حملہ2003 کیس:عدالت کا22سال بعد غیرمعمولی فیصلہ

پولیس کاسابقSHOمجرم قرار ،تاحیات قید کی سزا
نچلی عدالت کے فیصلے کو جموں وکشمیرہائی کورٹ کے ڈبل بینچ نے دیا کالعدم قرار
سری نگر: جے کے این ایس : ایک اہم فیصلے میں، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے2003 میں کپواڑہ میں ایک مہلک فدائین حملے کے معاملے میں نچلی عدالت کے بری کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ عدالت عالیہ نے اس وقت کے پولیس اسٹیشن سوگام کے اسٹیشن ہاو ¿س آفیسر (SHO) غلام رسول وانی کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس حملے میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے2جوان ہلاک اور 5 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق جسٹس سنجے پریہار اور جسٹس سنجیو کمار پرمشتمل ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے اپنے30 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ اسوقت کے ایس ایچ اﺅ غلام رسول وانی نے پاکستانی دہشت گرد محمد ابراہیم عرف خلیل اللہ کےساتھ مل کر سازش کی جو جیش محمد کا رکن تھا،12 مئی2003 کو، سابق پولیس افسر نے ملزمین کےساتھ مل کر کپواڑہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ پر حملہ کرنے کی سازش کی۔ عدالت عالیہ نے غلام رسول وانی کو مجرم قرار دیا کیونکہ اس نے حملہ کے مقام پر دہشت گرد کو پولیس کی گاڑی سے اُتار دیا تھا اور اس کے فوراً بعد دہشت گرد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس میں2سی آر پی ایف جوان ہلاک اور5 زخمی ہو گئے۔عدالت عالیہ نے کہا کہ2011 میں ٹرائل کورٹ نے گواہوں (کانسٹیبل ایاز احمد، کانسٹیبل ریاض احمد اور ڈرائیور علی محمد میر) کے مضبوط شواہد کو نظر انداز کیا اور صرف2گواہوں (گلزمان خان اور فاروق احمد) کے بیانات پر فیصلہ دیا جو غلط تھا۔
جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ٹرائل کورٹ کے استدلال کو مکمل طور پر غلط قرار دیا کیونکہ اس نے استغاثہ کے تمام شواہد کو درست نقطہ نظر سے نہیں دیکھا۔بنچ نے کہا کہ غلام رسول وانی نے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا اور جان بوجھ کر دہشت گرد کی سرگرمیوں کی حمایت کی۔ عدالت عالیہ نے کہا،کہ سابق پولیس افسر غلام رسول وانی ،محمد ابراہیم عرف خلیل اللہ کی دہشت گرد کی شناخت اور اس کے عزائم سے پوری طرح واقف تھا۔ اس کے باوجود، اس نے خاموشی سے دہشت گرد کی سرگرمیوں پر رضامندی ظاہر کی اور پولیس کی وردی میں ہونے کے باوجود اس کی حمایت کی۔ اسے لوگوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت کرنی تھی، لیکن وہ ان کےلئے خطرہ بن گیا۔ تاہم عدالت عالیہ نے اس وقت کے تھانے کے کلرک عبدالاحد راتھر کو بری کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا کیونکہ ان کےخلاف سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ مجرمانہ سازش کے لئے 2 یا 2 سے زیادہ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کسی غیر قانونی فعل کے ارتکاب پر راضی ہوں۔ محض معلومات یا بحث کافی نہیں ہے۔عدالت عالیہ نے سابق پولیس افسر غلام رسول وانی کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ باضابطہ طور پر سزا کا حکم تیار کرے گی اور اسے عمر قید کےلئے تحویل میں دے گی۔
واقعہ کی تفصیلات:12 مئی 2003 کو کپواڑہ کے مرکزی چوک میں افراتفری پھیل گئی جب پولیس کی وردی میں ملبوس جیش محمد کے ایک دہشت گرد نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی برانچ کے قریب فدائین حملہ کیا۔ صبح11 بجے کے قریب پولیس کی ایک بلٹ پروف گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں سکیورٹی اہلکار تھے۔ قریب ہی کھڑی سی آر پی ایف کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی۔ دہشت گرد محمد ابراہیم عرفخلیل اللہ نے اندھا دھند فائرنگ کی اور گرینیڈ پھینکا جس سے سی آر پی ایف کی113ویں بٹالین کے کانسٹیبل بی پرساد اور بی رمایا سنگھ ہلاک ہلاک ہوگئے۔ اور کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔دہشت گرد، جو پاکستانی شہری تھا، انکاو ¿نٹر میں مارا گیا۔ اس کے پاس سے ایک اے کے47 رائفل،6 میگزین، 43 گولیاں اور 4گرینیڈ برآمد ہوئے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس نے پولیس بیلٹ نمبر1260-KP اور چوری شدہ پولیس کوارٹرز کی جنگی پتلونیں پہن رکھی تھیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے دوران لوگ ادھر ادھر بھاگے اور ایک دستی بم تاروں سے ٹکرانے کے بعد واپس اچھل پڑا، دھماکے میں دہشت گرد مارا گیا۔ بینک میں تعینات سیکورٹی اہلکار خود کو بچانے کے لیے اندر گھس گئے اور چھپ گئے۔
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
جموں و کشمیر
کانگریس کا بڑا اعلان: 5 جولائی سے جموں و کشمیر میں عوامی مہم کا آغاز
جموں، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والی 5 جولائی سے پورے مرکز زیرِ انتظام علاقے میں ایک وسیع عوامی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ مہم طلبا، نوجوانوں، کسانوں اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے ملک بھر میں چلائے جانے والے احتجاجی پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ فیصلہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی سکریٹری دیویا مدیرنا اور جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا کی صدارت میں منعقدہ شہری اور دیہی کانگریس کمیٹیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں لیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں ضلع کانگریس کمیٹی (دیہی جموں) کے صدر نیرج کندن، پی سی سی ہیڈکوارٹر انچارج وید مہاجن سمیت بلاک صدور اور سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔
اس عوامی مہم کی سب سے اہم خصوصیت ‘طلبا کی گونج’ پروگرام ہے، جو نوجوانوں اور طلبا کے مسائل کو اٹھانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر کوششوں کا حصہ ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ کانگریس کی سکریٹری دیویا مدیرنا نے کہا”کانگریس ان لاکھوں طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جن کا مستقبل امتحانی تنازعات کی وجہ سے داؤ پر لگ گیا ہے۔ نیٹ پیپر لیک ملک کے نوجوانوں کی امیدوں کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ ہے اور ہماری یہ مہم بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرے گی۔”
اس موقع پر جے کے پی سی سی کے ورکنگ پریسیڈنٹ رمن بھلا نے جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کو دہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) انتظامیہ اور منتخب حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ (دوہری حکمرانی) نے جوابدہی کو ختم کر دیا ہے اور عوامی فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اس وقت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں، کسانوں کی بدحالی اور بے روزگاری جیسے سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہیں، اور 5 جولائی کی مہم حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے ایک مضبوط جمہوری پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر نیرج کندن نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے نوجوان نسل کا بھروسہ توڑا ہے اور کانگریس انصاف کے حصول تک پرامن اور جمہوری طریقے سے آواز اٹھاتی رہے گی۔ پارٹی قیادت نے تمام سطحوں کے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ زمینی سطح پر عوام کو متحرک کریں اور 5 جولائی کے احتجاجی پروگرام میں زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنائیں۔
یواین آئی۔م اع
جموں و کشمیر
امرناتھ یاترا: جموں ایس او جی اور این ایس جی کی مشترکہ ‘موک ڈرل’
جموں، امرناتھ کی سالانہ یاترا کے لیے کیے گئے وسیع حفاظتی انتظامات کے تحت، جموں کے ‘اسپیشل آپریشنز گروپ’ نے ‘نیشنل سیکیورٹی گارڈز’ کے ساتھ مل کر یہاں کے تاریخی رگھوناتھ مندر میں دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ ‘موک ڈرل’ (مستعدی کی مشق) کا انعقاد کیا۔ امرناتھ جی کی سالانہ یاترا تین جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، جہاں عقیدت مندوں کے پہلے قافلے کو بھگوتی نگر میں واقع یاتری نواس سے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جائے گا۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ اس مشترکہ موک ڈرل کے دوران ایک انتہائی حساس اور فرضی دہشت گردانہ حملے کا منظرنامہ تیار کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق، اس مشق کا اہم مقصد ‘اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز’ کی جانچ کرنا اور کسی بھی ناگہانی سیکیورٹی ایمرجنسی کی صورت میں ایجنسیوں کے درمیان فوری اور مربوط کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔یہ ڈرل ان مشترکہ حفاظتی تیاریوں کا حصہ ہے جو جموں بھر کے تمام اہم سرکاری اداروں، تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔ اس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا اور ممکنہ خطرات کے خلاف حفاظتی نظام کو مزید فول پروف بنانا ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
تازہ ترین1 week agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان6 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
دنیا1 week agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا5 days agoہوسکتا ہے کہ میں جلد ہی ایسی خبر دوں کہ ترکیہ خوش ہو جائے:ٹرمپ
تازہ ترین1 week agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ
جموں و کشمیر1 week agoگاندربل کے تلمولہ مندر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
دنیا1 week agoپاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
دنیا6 days agoایران کبھی بھی دھمکیوں یا دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا: باقر قالیباف
ہندوستان6 days agoمان کی ویڈیو کو چھپانے کی کوشش بے نقاب، اب استعفیٰ ہی واحد متبادل : آر پی سنگھ
جموں و کشمیر5 days agoکٹھوعہ میں زائرین کی بس کھائی میں جا گری؛ کم از کم 20 عقیدت مند زخمی
دنیا1 week agoامریکہ ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی






































































































